تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

غریب کا احتجاج : صبا فہیم

by ویب ڈیسک 05/06/2017
written by ویب ڈیسک 05/06/2017
92

یوں تو روز ایسے بہت سے اندوہناک خبریں ہماری نظروں سے گزرتی ہیں لیکن اس خبر نے ہر شخص کومغموم کر دیا۔ پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ محمداقبال جو وزارت داخلہ میں نائب قاصد تھا ہر وقت بیمار رہتا تھا اور اس کوایک ہی فکر تھی کہ اگر وہ مر گیا تو اسکی اولاد کا کیا بنے گا اس مشکل دور میں اس کی اولاد کہاں جائے گی۔ یہی فکر لے کر وہ اپنے افسران کے پاس گیا اوراپنی جگہ پر اپنے بیٹے کی ملازمت کی درخواست کی مگر اس کے افسران نے اس کو بتایا کہ بچہ باپ کی جگہ ملازمت صرف اس شرط پر حاصل کر سکتا ہے اگر اس کا باپ دوران ملازمت فوت ہوجائے۔محمد اقبال ہر صورت اپنی اولاد کے چھت کو محفوظ بنانا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر اس کے مرنے سے بیٹے کو نوکری مل سکتی ہے تو اس میں دیر کیوں اس نے بلاک کی چھت سے چھلانگ لگا دی اور اپنی جان سے گزر گیا۔

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ اسنے منت مانی تھی کہ اگر اسکا کام ہو گیا تو وہ کعبہ کی زیارت کرے گا، اب کام تو ہو گیا لیکن اسکے پاس زاد راہ نہیں ہے، تو رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارا باپ زندہ ہے تو اسکی پیشانی کو بوسہ دے لو تمہاری منت پوری ہو جاے گی۔ ہائے افسوس محمد اقبال نائب قاصد کے بچے اپنے باپ کی پیشانی کیسے چوم سکیں گے؟

کیا حکومت کو اپنی عوام کے حالت کا علم نہیں؟اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے پالیسیاں بنانا اور روزگار فراہم کرنا توہر ملک میں حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے جتنا روپیہ پیسہ اور طاقت ہماری حکومت اپنے کارناموں کے قصیدوں کی مارکیٹینگ کیلئے صرف کرتی ہے اگر اسکا آدھا بھی عوام کی فلاح انکے روزگار اور دیگر مسائل پر لگائیں تو کسی باپ کو اس نہج پر سوچنے کی بھی ضرورت نہ ہو. بجائے اس کےکہ جان سے گزرنا پڑے۔
رواں سال کے بجٹ پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو غریب کی بڑھائی ہوئی تنخواہ عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے گزشتہ سال 12 ہزار کا علان ہوا تھا لیکن 90 فیصد لوگوں کو 8 تا 10 ہزار سے اوپر تنخواہ نہیں ملی جب 12 نہیں ملی تو 15 کہاں سے ملے گی؟

سوچیے کہ اس شخص نے تیسری منزل سے چھلانگ لگانے سے پہلے کیا کیا کچھ نہیں کیا ہو گا ؟ کس کس در پہ دستک نہیں دی ہو گی اور کیا کیا جتن نہیں کئے ہونگے ؟ جب اسے ہر طرف سے اندھیرا نظر آیا ہو گا اور امید کی کوئی آخری کرن بھی اسے نظر نہ آسکی تو اس نے اس تمام معاشرے کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔ ہمارے ملک میں روز ایسے واقعات ہونا کچھ اچنبھا نہیں۔ کچھ لوگ جن کا اپنا ذہنی توازن درست نہیں ہے وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ روزگار مکان کی چھت اور بچوں کے بہتر مستقبل کی خواہش کس کو نہیں اور اگر یہ خواہش رکھنا پاگل پن ہے تو پھر یقینا یہ دنیا پاگلوں کا مسکن ہے۔ کیا اولاد کی فکر ذہنی بگاڑ ہوتی ہے؟۔ وہ تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق اپنی جان دے کر اپنی کوشش کر گزرا۔ سوال یہ ہے کہ معاشرے نے اسکے فعل سے کیا اخذکیا ؟ کیا جس مسئلےکی وجہ سے وہ اپنی جان سے گیا۔۔۔ اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی کوشش کی گئی؟

ایک چپڑاسی جسے نیا نام نائب قاصد دیا گیا تھا وہ بھی میاں شریف کی طرح باپ تھا عمران خان جیسا باپ اور زرداری جیسا باپ۔ لیکن ایک بات جو میں جانتی ہوں کہ اس کی موت کے ہم سب ذمہ دار ہیں ۔اور سب سے بڑے ذمہ دار اس ملک کے حکمران جنہوں نے پاکستان کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر پی لیا ہے اور وہ اشرافیہ جو پاکستان کو لوٹ چکی ہے اور وہ سیاست دان جنہوں نے غریب کا نہیں سوچا۔جس ملک میں کروڑوں لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہوں اور حکومت عربوں کو تلور کے شکار کے لئے اجازت دینا ناگزیر سمجھتی ہو وہاں کیونکر بہتری کی راہ نکل سکتی ہے؟ 

موت کا مزہ تو سب نے چکھنا ہے میں نے بھی آپ نے بھی مگر اپنے ہاتھوں کو ذرا غور سے دیکھئے کہ اس ملک کے کتنے باپ اپنے بچوں کی چند ہزار کی نوکری کی تلاش میں مر کھپ گئے ہیں۔ کتنے لوگ بے نام راہوں پر مارے گئے ۔ہمارے معاشرے میں آج کے دور میں صرف موت ہی تو سستی ہے۔۔ شائد اب اس کے بیٹے کو نوکری مل جائے گی مجھے تو اب بھی ڈر ہے کہ نہیں ملے گی۔

آپ کیا کہتے ہیں؟؟؟

Facebook Comments Box
بے روزگاریخودکشی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
معاشی ترقی اور پاکستانی بجٹ کے چند مثبت پہلو
next post
کنزیومر رائٹس یعنی صارف کے حقوق ۔۔۔ ریاض خٹک

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.