شکیلہ بانو بھوپالی برصغیر کی ان منفرد فن کار خواتین میں شمار ہوتی ہیں جن کی شخصیت کو کسی ایک فن یا ایک صنف کے دائرے میں محدود کرنا ممکن نہیں۔ وہ قوال بھی تھیں، شاعرہ بھی، گلوکارہ بھی، موسیقار بھی، فلمی نغمہ نگار بھی اور اداکارہ بھی۔ ۹ مئی ۱۹۴۲ء کو بھوپال میں پیدا ہونے والی شکیلہ بانو نے ایسے زمانے میں قوالی کے میدان میں قدم رکھا جب یہ فن تقریباً مکمل طور پر مردوں کی آواز اور مردانہ جماعت سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔ ریختہ کے مطابق ان کا تخلص ’’بانو‘‘ تھا اور ان کی وفات ۱۶ دسمبر ۲۰۰۲ء کو ممبئی میں ہوئی۔
قوالی کی تاریخ میں شکیلہ بانو کا ظہور محض ایک نئے فن کار کے سامنے آنے کا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی صنفی رکاوٹ کے ٹوٹنے کی علامت بھی ہے جو صدیوں سے اس صنف کے گرد قائم تھی۔ اکمل حیدرآبادی کی کتاب ’’قوالی: امیر خسرو سے شکیلا بانو تک‘‘ اسی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب ۱۹۸۲ء میں شائع ہوئی اور ۴۶۲ صفحات پر مشتمل ہے؛ ریختہ پر اس کا مکمل تعارف اور ای-کتاب موجود ہے۔ خود اکمل حیدرآبادی نے اسی کتاب سے ماخوذ اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ خواتین کی قوالی میں ابتدا بیسویں صدی کے وسط میں ہوئی اور ۱۹۵۶ء میں شکیلہ بانو نے اس میدان میں قدم رکھا۔ ان کے مطابق شکیلہ بانو سے پہلے قوالی کی تاریخ میں کسی خاتون کا نمایاں نام نہیں ملتا، جب کہ ان کے بعد متعدد خواتین اس فن کی طرف آئیں۔ شکیلہ بانو کے فن قوالی کی ابتدا کا تعلق ۱۹۵۶ء کے بھوپال سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں بی۔آر۔ چوپڑا اپنی فلم ’’نیا دور‘‘ کی شوٹنگ کے لیے فلمی یونٹ کے ساتھ بھوپال آئے ہوئے تھے۔ ایک محفل میں شکیلہ بانو نے قوالی پیش کی۔ روایت کے مطابق دلیپ کمار ان کی پیش کش سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں بمبئی آنے اور فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کی دعوت دی۔ رشید انجم نے بھی شکیلہ بانو کے حالات پر اپنے مضمون میں اسی واقعے کو ان کے فلمی سفر کے آغاز کا اہم موڑ قرار دیا ہے۔اس واقعے کی تفصیلات کو سوانحی روایت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھوپال سے بمبئی تک کا سفر شکیلہ بانو کے لیے ہندوستانی فلم اور قوالی کی دنیا میں غیر معمولی شناخت کا باعث بنا۔
بمبئی میں شکیلہ بانو نے قوالی کو محض خانقاہی یا نجی محفل کی صنف کے طور پر نہیں برتا بلکہ اسے فلمی ثقافت اور عوامی تفریح کے وسیع منظرنامے میں داخل کیا۔ ان کی مخصوص ادائیگی، اندازِ گفتگو، حرکات و سکنات اور محفل کو اپنے گرد مجتمع کر لینے کی صلاحیت نے انہیں عام قوالوں سے الگ شناخت عطا کی۔ اسی وجہ سے انہیں ’’قوالی کوئین‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا گیا۔ ان کی قوالیاں اور قوال کے کردار مختلف فلموں کا حصہ بنے۔ ’’استادوں کے استاد‘‘، ’’دستک‘‘، ’’ہمراہی‘‘، ’’بدشاہ‘‘ اور دوسری فلموں میں ان کی موجودگی نے اس بات کو نمایاں کیا کہ ایک خاتون قوال بھی فلمی پردے پر قوالی کی نمائندہ شخصیت بن سکتی ہے۔ ’’بدشاہ‘‘ کے دستیاب فلمی ریکارڈ میں بھی شکیلہ بانو کو قوالی گلوکارہ کے کردار میں درج کیا گیا ہے۔
یہاں شکیلہ بانو کے فن کا ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ فلمی پردے پر ان کی شخصیت قوال کے طور پر استعمال ہوتی رہی مگر ہر جگہ ان کی اپنی آواز استعمال نہیں ہوئی۔ فلمی قوالی میں اداکارہ اور گلوکارہ کے کردار الگ الگ ہوجاتے تھے۔ یوسف سعید نے برصغیر کی فلمی قوالی پر اپنے مطالعے میں نشان دہی کی ہے کہ’’استادوں کے استاد‘‘، ’’دستک‘‘ اور بعض دوسری فلموں میں شکیلہ بانو کی اسکرین پر موجودگی کے باوجود قوالی کی آواز کسی اور پلے بیک گلوکارہ خصوصاً آشا بھوسلے یا لتا منگیشکر کی تھی۔ اس سے فلمی صنعت کے اس رویے کا بھی اندازہ ہوتا ہے جس میں قوال کی شخصیت، ادا اور اسٹیج پر یزنس کو ایک طرف اور پلے بیک آواز کو دوسری طرف رکھا جاتا تھا۔ یوں شکیلہ بانو کی اصل فن کارانہ شناخت اور فلمی پردے پر ان کی تشکیل شدہ شناخت کے درمیان ایک دلچسپ فرق پیدا ہوتا ہے۔
شکیلہ بانو کی شخصیت کا دوسرا اہم پہلو ان کی شاعری ہے۔ وہ محض قوالی گانے والی فن کارہ نہیں تھیں بلکہ صاحبِ دیوان شاعرہ بھی تھیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’ایک غزل اور‘‘ ۱۹۹۴ء میں شائع ہوا، جس میں غزلیں، نظمیں، گیت اور متفرق اشعار شامل ہیں۔ ریختہ پر یہ مجموعہ موجود ہے اور اسے خواتین کی اردو شاعری کے ضمن میں بھی درج کیا گیا ہے۔رشید انجم کے مطابق اس مجموعے میں ۱۰۳ غزلیں شامل ہیں، جب کہ مجموعے کے ابتدائی صفحات میں کرشن چندر، عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس اور دیگر اہل قلم کی آرا بھی شامل ہیں۔
شکیلہ بانو کی شاعری کا مزاج بھی ان کی شخصیت کی طرح متنوع ہے۔ اس میں عشق، ہجر، تنہائی، زمانے کی بے ثباتی اور داخلی کرب کے ساتھ ساتھ زندگی کے اجتماعی تجربات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان کا ایک شعر ہے:
میری راتوں میں سیاہی کے سوا کچھ بھی نہیں
شہر میں کیسے نکلتے ہیں ستارے لکھنا
اور ایک جگہ وہ کہتی ہیں:
ہم سے اچھے تو پرندے ہیں کہ پر رکھتے ہیں
ہوں قفس میں بھی تو اڑنے کا ہنر رکھتے ہیں‘
یہاں قوالی کی محفلوں میں نظر آنے والی وہی عورت ایک شاعرہ کے روپ میں اپنے باطن کی آزادی، قید اور بے قراری کو شعری پیکر عطا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ہاں رومانیت محض محبوب کی یاد تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تجربے، محرومی اور زمانے کے احساس سے بھی جڑ جاتی ہے۔ ان کی شاعری کے بارے میں ملک زادہ منظور احمد کی رائے بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے کلام میں ’’غمِ جاناں‘‘ اور ’’غمِ دوراں‘‘ کا امتزاج ملتا ہے۔
شکیلہ بانو کی فنی شخصیت کا ایک اور کم معروف پہلو موسیقی اور نغمہ نگاری ہے۔ دستیاب مواد کے مطابق انہوں نے بعض فلموں کے لیے نغمے بھی لکھے اور موسیقی بھی ترتیب دی۔ فلم ’’ہمراہی‘‘میں ان کی قوال کی حیثیت سے شرکت نمایاں ہے جب کہ ’’مزے لے لو‘‘ کے لیے بھی انہیں موسیقاروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ رشید انجم کے مطابق ’’مزے لے لو‘‘ میں چھ گانوں میں سے دو کی دھنیں شکیلہ بانو نے مرتب کی تھیں۔ اس طرح وہ محض کسی دوسرے موسیقار کی دھن پر گانے والی فن کارہ نہیں رہتیں بلکہ تخلیقِ موسیقی کے عمل میں بھی شریک نظر آتی ہیں۔
اسی طرح نغمہ نگاری میں بھی ان کا نام ملتا ہے۔ رشید انجم نے ان کی فلمی خدمات میں ’’ہمراہی‘‘ کے علاوہ ’پریم سندیش‘‘ اور ’’بندیا اور بندوق‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ تاہم یہاں فلموں کی ریلیز اور شکیلہ بانو کی وفات کے درمیان موجود زمانی اختلافات کے باعث ان فلمی کریڈٹس کو اصل فلمی کریڈٹ ریکارڈ سے الگ الگ جانچنا ضروری ہے اس لیے ان فلموں کے حوالے سے حتمی فہرست مرتب کرتے وقت محتاط تحقیق کی ضرورت ہے۔شکیلہ بانو کی زندگی کا المیہ بھی ان کی شہرت کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ ۱۹۸۴ء کے بھوپال گیس سانحے کے بعد ان کی آواز متاثر ہونے کا ذکر متعدد سوانحی ماخذوں میں ملتا ہے۔ ریختہ بھی ان کے تعارف میں لکھتا ہے کہ بھوپال سانحے میں ان کی آواز چلی گئی تھی۔ ایک فن کار کے لیے جس کی پوری شناخت آواز، قوالی اور موسیقی سے وابستہ ہو، آواز کا چھن جانا محض جسمانی نقصان نہیں بلکہ اس کے فن کارانہ وجود پر ایک گہرا ضرب بھی تھا۔ اس کے باوجود شکیلہ بانو کا نام قوالی کی تاریخ میں محفوظ رہا اور ان کی سابقہ شہرت نے انہیں ایک یادگار شخصیت بنا دیا۔
شکیلہ بانو کی اہمیت کو صرف اس جملے میں سمیٹ دینا کہ وہ ’’ہندوستان کی پہلی خاتون قوال‘‘ تھیں دراصل ان کے فن کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے قوالی، فلم، شاعری اور موسیقی کے درمیان ایک ایسا راستہ بنایا جس پر بعد میں آنے والی خواتین کے لیے گنجائش پیدا ہوئی۔ اکمل حیدرآبادی کی کتاب ’’قوالی: امیر خسرو سے شکیلا بانو تک‘‘ کا عنوان بھی اسی تاریخی تسلسل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ امیر خسرو سے شروع ہونے والی قوالی کی روایت صدیوں کے سفر کے بعد ایک ایسی خاتون فن کارہ تک پہنچتی ہے جو اس مردانہ روایت کے اندر اپنی مستقل شناخت قائم کرتی ہے۔ کتاب کی اہمیت صرف شکیلہ بانو کے تذکرے میں نہیں بلکہ قوالی کی تاریخی تشکیل، اس کے فن کاروں اور اس صنف کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں بھی ہے۔
ریختہ پر موجود مواد بھی شکیلہ بانو کی ادبی حیثیت کو محفوظ کرتا ہے وہاں ان کی اپنی کتاب ’’ایک غزل اور‘‘ کے ساتھ ان پر لکھی گئی کتاب ’’قوالی: امیر خسرو سے شکیلا بانو تک‘‘بھی درج ہے۔ اس طرح شکیلہ بانو ایک طرف قوالی کی تاریخ کا موضوع بنتی ہیں اور دوسری طرف خود اپنی شاعری کے ذریعے اپنے عہد کی ترجمان بھی۔ ان کے چند اشعار آج بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ محفل کی روشنیوں، فلمی پردے کی چکاچوند اور شہرت کے شور کے پیچھے ایک ایسی عورت موجود تھی جو تنہائی، محبت، محرومی اور آزادی کے سوالات سے بھی نبرد آزما تھی۔
شکیلہ بانو بھوپالی کی داستان اس اعتبار سے برصغیر کی تہذیبی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے کہ اس میں روایت اور جدت، صوفیانہ موسیقی اور فلمی ثقافت، شاعری اور گائیکی، عورت اور عوامی اسٹیج، سب ایک ہی شخصیت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ وہ قوالی کے اس سفر میں ایک ایسا سنگِ میل ہیں جہاں صدیوں پرانی مردانہ روایت کے سامنے پہلی مرتبہ ایک عورت پوری خود اعتمادی کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ ان کی آواز آج شاید پہلے جیسی سماعت میں نہ ہومگر ان کا نام قوالی کی تاریخ، اردو شاعری اور ہندوستانی فلمی موسیقی کے ان صفحات میں موجود ہے جہاں غیر معمولی فن کار اپنے عہد سے آگے نکل کر روایت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
