مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی حالیہ جارحانہ پریس کانفرنس نے ملکی سیاست اور صحافت کی نسبتاً ساکت جھیل میں ایک ایسا کنکر پھینکا ہے جس سے مختلف سمتوں میں لہروں اور دائروں کا ایک سلسلہ وجود میں آ گیا ہے۔ پرو اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ صحافی، دانشور اور سیاست دان سب اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس واقعے کی تشریح کر رہے ہیں اور یوں ہر فریق اپنی پسندیدہ تعبیر کو تقویت دینے میں مصروف ہے۔
اس ساری ہنگامہ آرائی میں سب سے زیادہ الجھن عام شہری کے حصے میں آئی ہے، جو پہلے ہی سیاسی تقسیم، اطلاعاتی انتشار اور بیانیوں کی جنگ کا شکار ہے۔ اب اس کے سامنے ایک اور سوال کھڑا کر دیا گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور اسے لکیر کے کس طرف کھڑا ہونا چاہیے۔
قبلہ آیاز امیر سمیت بہت سے اہلِ قلم نے اس معاملے پر اپنے اپنے زاویے سے اظہارِ خیال کیا ہے۔ کچھ ایسے افراد بھی، جو ماضی میں خود اسٹیبلشمنٹ کے طرزِ عمل سے شاکی رہے ہیں، اس موقع کو اپنے مؤقف کی تجدید یا اپنی سیاسی و فکری معنویت ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف مولانا کے حامی بھی ان کے الفاظ کی ایسی تاویلیں پیش کر رہے ہیں جو اصل بحث کو مزید الجھا رہی ہیں۔
بدقسمتی سے اس شور میں وہ متوازن، اصولی اور قومی نقطۂ نظر کم دکھائی دیتا ہے جو شخصیات یا اداروں کی حمایت و مخالفت سے بالاتر ہو کر یہ سوال اٹھائے کہ ایک مضبوط ریاست کے لیے اداروں کا باہمی توازن، آئینی حدود کی پاسداری اور قومی ترجیحات کا درست تعین کیوں اور کیسے ممکن بنایا جائے۔
لوگ ہمارے سیاسی حالات اور فوج کے کردار کا موازنہ کر رہے ہیں۔ میں غلط ہو سکتا ہوں تاہم میرا خیال ہے کہ ہر ملک کے اپنے تاریخی، جغرافیائی، سیاسی اور سلامتی سے متعلق معروضی حالات ہوتے ہیں، اسی لیے اس کے انتظامی، سیاسی اور دفاعی ڈھانچے بھی انہی ضروریات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ اس لیے مختلف ممالک کا براہِ راست تقابل ہمیشہ درست نتیجہ نہیں دیتا۔
تاہم ایک اصول تقریباً ہر کامیاب ریاست میں مشترک نظر آتا ہے: ادارے اپنی آئینی اور پیشہ ورانہ حدود میں رہ کر کام کریں، قومی ترجیحات متوازن ہوں، اور ہر ادارے کا ڈومین واضح اور محترم ہو۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ کسی ایک ادارے یا ایک شخصیت سے زیادہ ادارہ جاتی عدم توازن (Institutional Imbalance) ہے۔ آزادی کے بعد ہماری سلامتی کو درپیش حقیقی خطرات نے دفاعی اداروں کو غیر معمولی اہمیت دی۔ وقت کے ساتھ یہ ضرورت ایک ایسے عدم توازن میں تبدیل ہوتی گئی جہاں دفاعی تقاضے ریاست کی دیگر بنیادی ذمہ داریوں پر غالب آ گئے۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، معیشت، مقامی حکومت، عدالتی اصلاحات اور سیاسی اداروں کی مضبوطی وہ توجہ حاصل نہ کر سکے جس کے وہ مستحق تھے۔
اس کا خمیازہ پوری ریاست نے بھگتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ صرف دوسرے ادارے ہی کمزور نہیں بلکہ جس ادارے پر غیر معمولی ذمہ داریاں ڈال دی گئیں یا انہوں نے از خود سر لے لیں، وہ بھی اپنی اصل پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے بڑھ کر بوجھ اٹھا رہا ہے۔ جب ایک ادارے سے وہ کام بھی لیے جائیں جو دوسرے اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں تو اس کے اپنے بنیادی فرائض بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔
اسی لیے مسئلے کا حل کسی ادارے کی تحقیر یا تقدیس میں نہیں، بلکہ ادارہ جاتی توازن کی بحالی میں ہے۔ فوج کا احترام اپنی جگہ، لیکن اسی کے ساتھ سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، عدلیہ، سول سروس، پولیس، تعلیمی اداروں اور معاشی اداروں کو بھی اپنے اپنے آئینی کردار کے مطابق مضبوط کرنا ہوگا۔ ایک صحت مند ریاست وہی ہوتی ہے جہاں کوئی ادارہ کمزور نہ ہو، لیکن کوئی ادارہ اتنا طاقتور بھی نہ ہو کہ باقی سب اس کے سائے میں دب جائیں۔
ریاستیں جذبات سے نہیں بلکہ مضبوط، متوازن اور آئینی اداروں سے مستحکم ہوتی ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی سمت بڑھنے کی ضرورت ہے۔
