(کلیدی خطبہ: پاکستان میں مادری زبانوں کا ادبی میلہ 2025)
خواتین و حضرات!
سب سے پہلے مجھے انڈس کلچرل فورم کے منتظمین کو پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ اس قدر شاندار طریقے سے منانے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے پر مبارکباد دینا ہے اور شکریہ بھی ادا کرنا ہے کہ انہوں نے مجھے اس شاندار علمی، ادبی، لسانی اور ثقافتی سرگرمی کا حصہ بنایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لسانی تنوع کے ساتھ ساتھ اس ثقافتی تنوع کا جشن بھی ہے جس سے قدرت نے پاکستان کا دامن مالامال کر رکھا ہے اسی تنوع کو تسلیم کرکے اور اس ثقافتی رنگا رنگی کو تہذیبی عطا سمجھ کر اس سے ہم قومی سطح پرسماج کو متحرک کرنے اور تخلیقی سطح پر کچھ نیا کر گزرنے کی قوت بھی کشید کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی مادری زبانوں کے اس برس کے ادبی میلے کے اختتامی اجلاس میں مجھے جس عنوان کے تحت کلیدی خطبے کا کہا گیا ہے، وہ ہے: "ادب، مادری زبانیں اور ادیب کا کردار”۔ یہ عنوان بہت اہم ہے اور مجھے یوں لگتا ہے کہ چوں کہ میں ادیب ہوں، فکشن لکھتا ہوں اور لسانیاتی ماہر نہیں ہوں، لہذا اس میلے کے کارپردازان نے میری اسی حیثیت کو سامنے رکھ کر میرے لیےیہ موضوع تراشا ہوگا۔ مجھے ان کی دانشن مندانہ طرز عمل کو داد دینی ہے یقینا وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی لگ بھگ چوہتر زبانوں میں سے ایک تہائی زبانیں جنہیں معدومی کا خطرہ لاحق ہے ان میں ادب تخلیق نہیں ہو رہا۔ خیر، مجھے کہنا یہ ہے کہ جومیرے لیے موضوع چنا گیا وہ تین حصوں میں لخت لخت ہے۔ پہلا حصہ: ادب یعنی لٹریچر۔۔۔۔ دوسرا: مادری زبانیں۔ جبکہ تیسرا: ادیب کا کردار۔۔۔ اور جب تک یہ تینوں حصے کسی ایک مقام پر جڑیں گے نہیں ہم اُس انتشار اور بے عملی کی جڑ کو نہ پاسکیں گے جس کے شکنجے میں ہمارا سماجی وجود جکڑا ہوا ہے۔
لٹریچر ہی کو لیجئے؛ آپ جانتے ہیں کہ لٹریچر کا لفظ لاطینی سے انگریزی میں آیا جس کے معنی لفظوں کے استعمال کے سوا اور کچھ نہیں ہیں ؛ گویا ہر لکھا ہوا لفظ لٹریچر ہے عربوں کے ہاں سے ہمیں جو اس کا متبادل ملا وہ "ادب ” ہے اور لطف یہ ہے کہ خود عربی میں اول اول یہ لفظ شائستگی، احترام، ضیافت اور مہمانداری کے معنیٰ رکھتا تھا ؛ اسی میں خوش بیانی کو بھی شامل کر لیجئے؛ شائستگی اور خوش بیانی جذبے میں آمیز ہو کر جب تحریر میں آئی تو وہی ادب ہوا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ادب یا لٹریچر کے اس بھیدوں بھرے علاقے کو ڈھنگ سے سے نہیں آنکا جاسکتا ہے جب تک اس کے مآخذ کو نگاہ میں نہ رکھا جائے۔ اس کے کم از کم چار معلوم اور بیسیوں بھید بھرے مآخذ ہیں۔ ہم معلوم مآخذ ہی کی بات کر سکتے ہیں:
1۔ وراثت میں ملی ہوئی یادداشت کا خزینہ
2۔ زندگی کے مشاہدات اور تجربات۔
3۔ فرد کا ذہنی میلان اور اس کا ہرا بھرا تخیل
4۔ مطالعہ، ہمہ جہت مطالعہ اور مسلسل مطالعہ
خواتین و حضرات! گنوانے کو میں نے ادب کے تخلیقی عمل کی چار مبادیات یا منابع بنوا دیے ہیں لیکن غور کریں گے کہ یہ ایک دوسرے میں تحلیل ہوتے چلے جائیں گے۔ وراثت میں ملی ہوئی یادداشتیں یا رفتگاں کی زندگیوں کے تجربات ہم تک اس علاقے کی مادری زبان ہی کے ذریعے پہنچتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ہماری اپنی زندگیوں کے وہ تجربات ادب کا غالب حصہ ہو جاتے ہیں جو عمر کی پہلی دوتین دہائیوں کا حاصل ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر اس ماحول سے اخذ شدہ ہوتے ہیں جس میں لکھنے والی کی مادری زبان کا چلن ہوتا ہے۔ بعض اوقات لکھنے والوں کا مقدر نقل مکانی یا ہجرت بھی ہو جاتی ہے۔ ایسے لکھنے والوں کی تخلیقات کا اگر گہرائی سے مطالعہ کریں گے تو آپ جان جائیں گے کہ وہ اپنی گزشتہ زندگیوں کے تجربات یا ناسٹیلجیا کو نئے علاقوں میں ساتھ لے کر جاتے ہیں؛ یہ پہلے دومنابع ہوئے۔ تیسرا نقطہ ذہنی میلان اور ہرے بھرے تخیل کا ہے۔ اور اس بابت میرا کہنا یہ ہے کہ ذہنی میلان کے پیچھے سماجی اور ثقافتی تجربات کام کر رہے ہوتے ہیں اور تخیل کا لانچنگ پیڈ لکھنے والے کا اب تک بن چکا وجود ہی ہوتا ہے۔ ادب کا آخری وسیلہ مطالعہ اور ہمہ جہت مطالعے کا ہے جو لکھنے کے مختلف قرینوں کے تجربات سامنے لا کر رکھ دیتا ہے اور تخلیق کار کو یہ سجھاتا ہے کہ اس کا تجربہ اور احساس ان سب قرینوں سے کہاں کہاں سے مختلف ہوا ہے اور یہیں سے وہ اپنے لیے الگ راستہ نکالتا ہے۔
یہیں مجھے بہ اصرار کہنا ہے کہ یہ مختلف راستہ صرف اور صرف جن وسائل کو کام میں لاکر اختیار کیا جاسکتا ہے وہ، احساس کی وہ سطحیں ہیں جو اس کےاہلے گہلے لوگوں کے تعلق اور مادری زبان کی عطا ہوتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ دنیا بھر کے وہ ادیب جن کے فن کو عظیم مانا گیا انہوں نے (کچھ مستثنیات کے ساتھ) اپنے تخلیقی عمل کواس زبان میں تحریک دی جو ان کی اپنی تھی۔ ان کے وسیب میں بولی جانے والی۔ ماں کی گود سے ملنے والی اور وہ زبان جس میں وہ خواب دیکھتے تھے۔
لیجئے یہیں ہم اپنے موضوع کے دوسرے نقطے کی طرف بڑھتے ہیں یعنی؛ مادری زبانیں ؛۔ اس موضوع پر اس میلے میں کئی سیشن ہو چکے ہیں۔ درست یانا درست یہ دعویٰ کیا جاتا ہے ملک عزیز کے آٹھ کروڑ انناویں لاکھ افراد پنجابی، دو کروڑ اٹھاسی لاکھ افراد سرائیکی، پچپن لاکھ نوے ہزار افراد ہندکو، تین کروڑ چوالیس لاکھ افراد سندھی، چار کروڑ چھتیس لاکھ افراد پشتو، اکاسی لاکھ سترہ ہزار افراد بلوچی، ستائیس لاکھ اٹھتر ہزار افراد براہوی، دو لاکھ چوہتر ہزار افراد کشمیری بولتے ہیں۔ شینا، بلتی، میواتی، کیلاشی، کوہستانی، پوٹھوہاری اور دوسری زبانوں کے بھی اعداد و شمار سامنے رکھ لیجئے؛ مگر میری گزارش ہے کہ جو اعداد و شمار میں نے ایک ہی سانس میں گنوا دیے ہیں، انہیں محض اعداد و شمار کے خانے میں مت رکھیے کہ یہ زندہ وجود ہیں۔ ایک خاص فضا میں سانس لیتے وجود۔ ذرا تصور باندھیے کہ ایک صبح آپ بیدار ہوتے ہیں اور آپ سے وہ زبان چھن جاتی ہے جس میں آپ اپنی بچوں سے باتیں کیا کرتے تھے آپ کو ایک اور زبان عطا ہو گئی ہے؛ ایک اجنبی زبان جو اس گھر میں صرف آپ کو جانتے ہیں ؛ تو کہیئے آپ کے بچوں پر کیا گزرے گی۔ مجھے بچپن میں سنا ایک پنجابی محاورہ یاد آتا ہے۔ تب فارسی پڑھنا بڑائی کی علامت تھا اور شہر کے مدرسوں سے پڑھ کر آنے والے اسی کے الفاظ گفتگو کا حصہ بنا کر اپنی بڑائی جتانے کے یوں جتن کرتے تھے۔ جیسے آج کل گفتگو میں انگریزی کے لفظوں کے پیوند لگائے جاتے ہیں۔ تب ہماری بڑی بوڑھیوں نے یہ محاورہ ایجاد کیا تھا؛۔ آب آب کر مویوں بچڑا، تیریاں فارسیاں گھرپٹیا۔ تو ہمارا المیہ یہ ہے کہ مادری زبانیں جو ہمارے بچے سمجھ سکتے تھے اور ان کی تخلیقی صلاحتیں جس سے جلا پاسکتی تھیں وہ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں ذریعہ تعلیم نہ ہو سکی۔ کہنے کو اردو قومی زبان ہوئی حالاں کہ اس ملک کی سب مادری زبانیں جن کا پاکستان میں کوئی نہ کوئی علاقہ بھی ہے؛قومی زبانیں ہیں مگر اردو کو بھی انگریزی نے پچھاڑ رکھا ہے کہ جو ہم پر حکمرانی کرتے ہیں ان حکمرانوں کےاندر سے خوئے غلامی نہیں نکلتی۔ تو یوں ہے کہ یہ ادیبوں کی بلکہ اس ملک کے ہر پڑھے لکھے فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاں بھی بن پڑے مقتدر قوتوں کو اس اہم مسئلے کی طرف متوجہ کرے اور نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کے قتل عام کے اس سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کرے۔
لیجئے ہم خود بہ خود اپنے موضوع کے آخری حصے کی طرف آگئے ہیں؛ یعنی ادیبوں کی ذمے داری کی طرف ؛ ایک ذمے داری تو میں نے گنوا دی۔ لکھنا ادیب کی بنیادی ذمہ داری ہے اور کیا ہی اچھا ہو کہ اس کا قلم مادری زبان میں بھی تخلیقیت کے جوہر دکھائے کہ اسی وسیلے سے ہم اس زبان کا حق ادا کر سکتے ہیں جس سے ہمیں محبت ہے۔ یقین کیجئے یہ عمل ہی اسے معدومیت سے بچائے گا۔ ایک اور بات جس کی طرف رہ رہ کر میرا دھیان جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم دنیا بھر کے ادب سے واقف ہیں اور ایسا بالعموم انگریزی سے اردو تراجم کے ذریعے ہوتا ہے لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے ادب کی خبر رکھنے والوں تک اپنے ملک کی دیگر مادری زبانوں میں لکھنے والوں کی خبر نہیں پہنچتی ہمیں اس طرف بھی توجہ دینا ہوگی اور اس احساس کمتری کو جھٹکناجو ہماری ماں بولیوں کے باب میں غلامی کے عہد سے ہمارے پرکھوں کی روحوں کو گھن کی طرح چاٹ جانے والارہا اور اگلی نسلوں کو منتقل ہو رہا ہے اور جسےہم نے اس اختراعی ذہانت کے جدید ترعہد میں بھی اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے جب کہ جو ں جوں وقت گزر رہا ہے رابطے کے لیے کسی ایک زبان کو اختیار کرنا ضروری نہیں رہا آپ ایک گیجٹ ہاتھ میں رکھ کر مخاطب کا کہا سمجھ سکتے ہیں چاہے وہ کسی زبان میں بول رہا ہو۔
آخر میں ایک مرتبہ پھر میں انڈس کلچرل فورم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ یہ میلہ محض پاکستان کی مادری زبانوں کا میلہ ہی نہیں، ایک قومی خدمت ہے اور اس امر کا احساس بیدار کرنے کا وسیلہ بھی کہ ہم زبانوں کے تنوع اور ثقافتوں کی رنگارنگی کو تخلیقی قوت میں بدل کر ایک رودار اور بہتر قوم بن سکتے ہیں۔
