سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام اور ٹک ٹاک نے دنیا کے ہر پہلو کو متاثر کیا ہے، اور مذہب کی سماجی حیثیت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ پہلے وقتوں میں ثقافتی اور تفریحی مواد بڑی اسکرین یا تھیٹر کے ذریعے پیش کیا جاتا تھا۔ ایسے مواد تک رسائی کے لیے وقت، مقام، اور سماجی کنٹرول کی کچھ حدود تھیں۔ تاہم، موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی آسان دستیابی نے اس عمل کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب ہر شخص کسی بھی وقت اپنی جیب میں موجود اسکرین پر وہ مواد دیکھ سکتا ہے جو پہلے مخصوص اور محدود ذرائع کے ذریعے دستیاب ہوتا تھا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف سماجی اقدار کو متاثر کیا بلکہ مذہب کی اجتماعی اور انفرادی اہمیت کو بھی کم کر دیا ہے۔ موبائل اسکرین کے ذریعے تفریحی مواد کی ہمہ وقت دستیابی نے مذہبی اقدار اور عبادات کو کم ترجیحی حیثیت دے دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر گزرنے والے وقت میں صرف کرتے ہیں، جہاں مختصر ویڈیوز فوری تسکین فراہم کرتی ہیں۔ یہ فوری تسکین کا رجحان انسان کی روحانی اور اخلاقی زندگی کے برعکس ہے، جو غور و فکر، صبر، اور عبادات کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ ان پلیٹ فارمز نے مذہبی تعلیمات اور اخلاقیات کی بجائے ایک سطحی طرز زندگی کو فروغ دیا ہے، جہاں ظاہری مظاہر اور تفریحی پہلو غالب آ چکے ہیں۔
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مذہب کا ظاہری اظہار بھی دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں لوگ اپنی مذہبی سرگرمیوں کو بھی ایک "کانٹینٹ” کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حج، عمرہ، یا نماز جیسی مقدس عبادات کو بعض اوقات ویڈیوز اور تصاویر کی شکل میں دکھایا جاتا ہے، جو مذہب کی روحانی اہمیت کو ایک شوکیس میں بدل دیتا ہے۔ یہ عمل مذہب کے مقصد اور اس کی اصل روح سے انحراف کا سبب بن سکتا ہے، جہاں عبادات کا مقصد خدا سے قربت کی بجائے لوگوں کی توجہ حاصل کرنا بن جاتا ہے۔ لوئر مڈل کلاس کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، جو زندگی میں بہتر مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کے جھوٹے وعدوں اور چمک دمک کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس عام طور پر وسائل کی کمی ہوتی ہے، لیکن موبائل فون اور سستے انٹرنیٹ پیکجز نے انہیں سوشل میڈیا تک رسائی فراہم کر دی ہے۔ یہ طبقہ عموماً اعلیٰ تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع سے محروم رہتا ہے، اور سوشل میڈیا ان کے لیے ایک ایسی دنیا بناتا ہے جہاں وہ مقبولیت حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔
ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسی ایپس پر مشہور ہونے کے لیے اکثر نوجوان غیر اخلاقی یا غیر ضروری طور پر بولڈ مواد تیار کرتے ہیں، جس سے ان کی زندگی میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لڑکیاں خوبصورتی اور ظاہری بناوٹ کے غیر حقیقی معیار کے پیچھے بھاگتی ہیں، جبکہ لڑکے طاقت، دولت، اور ماچو کلچر کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ اپنی اصل زندگی کے مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ایسے شارٹ کٹس اختیار کرتے ہیں جو اکثر انہیں غلط راستے پر لے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اثرات صرف مذہب تک محدود نہیں ہیں۔ اس کے سبب نوجوان نسل میں جنسی کجروی اور بے راہ روی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر جسمانی اظہار، بناوٹ اور نمائش کو مقبولیت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، اپنی پسندیدگی اور "لائکس” بڑھانے کے لیے، غیر اخلاقی حرکات کی حد تک جا رہے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ان کے کردار کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کے ذہنی سکون کو بھی برباد کر دیتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کی تعریف کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
جنسی کجروی اور بے راہ روی کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں محنت اور عظمت کا فقدان بھی نمایاں ہو چکا ہے۔ انٹرنیٹ نے ایک ایسی دنیا پیش کی ہے جہاں محنت کی جگہ شارٹ کٹس نے لے لی ہے۔ نوجوان ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے مشہور ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس دوران وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی مسلسل محنت اور کردار کی مضبوطی سے حاصل ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر شارٹ کٹس کے ذریعے مقبولیت کا حصول ایک فریب ہے جو نوجوان نسل کو محنت سے دور کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے نوجوان نسل کو مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ مسلسل تفریحی مواد دیکھتے رہنے سے ان کے لیے زندگی کے سنجیدہ پہلو ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہیں مستقبل کی منصوبہ بندی، تعلیم، یا پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانے کی بجائے وقتی یا فوری لذت Instant Gratification Temporary or اور تفریح Entertainment کی زیادہ فکر رہتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا پاتے ہیں اور نہ ہی اپنی زندگی کے طویل مدتی مقاصد کا تعین کر پاتے ہیں۔
یہ سب صرف فرد کی سطح پر نہیں ہو رہا بلکہ اجتماعی طور پر معاشرتی ڈھانچے کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ پہلے مذہب کو سماجی زندگی کا مرکزی حصہ سمجھا جاتا تھا، اور عوامی اور ذاتی زندگی میں مذہبی اخلاقیات کا غلبہ تھا۔ لیکن اب مذہب کی جگہ تفریحی مواد اور ذاتی خواہشات نے لے لی ہے۔ موبائل فونز کی ہر وقت دستیابی نے غیر اخلاقی مواد کو ایک عام رجحان بنا دیا ہے، جو مذہب کی اجتماعی حیثیت کے لیے چیلنج ہے۔ ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ مذہب کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے اور نوجوان نسل کو مذہب کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔ مذہبی تعلیمات کو ایسے انداز میں پیش کرنا چاہیے جو نوجوانوں کے لیے قابل فہم اور دلکش ہو، تاکہ وہ مذہب کے روحانی پہلو سے جڑ سکیں۔ اس کے علاوہ، حکومتی اور سماجی سطح پر مواد کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ غیر اخلاقی مواد کی جگہ تعلیمی اور اخلاقی مواد کو فروغ دیا جا سکے۔
مجموعی طور پر، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے مذہب کی سماجی حیثیت کو نہایت گہرے انداز میں متاثر کیا ہے۔ مذہب کی گرفت معاشرتی زندگی پر کمزور ہو رہی ہے، اور اس کی جگہ ایک سطحی اور تفریحی طرز زندگی نے لے لی ہے۔ نوجوان نسل میں جنسی کجروی، محنت کے فقدان، اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال جیسے مسائل نے معاشرتی اور دینی اقدار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس صورتحال میں ایک نئے طرز فکر کی ضرورت ہے، جو مذہب اور جدید زندگی کے درمیان توازن قائم کر سکے اور نوجوانوں کو ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن کرے۔
