آج کے پرآشوب دور میں انسان کو ہنسنے اور مسکرانے کی جتنی ضرورت ہے۔ پہلے کبھی نہیں تھی۔ ہر شخص بقا اور روزگار کی جدوجہد میں سرگرداں ہے اوراس سرگرانی نے اسے خوش رہنے سے محروم کردیا ہے۔ ہنسی اس کے ہونٹوں سے چھن گئی ہے۔ مسکرانا بھول چکا ہے۔ ایسے میں مزاح نگارکی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ احمد حاطب صدیقی عرف ابونثر نے کیا خوب لکھا ہے۔
’’اس دورِ پُردرد میں خواہ گاؤں کے چوپال ہوں یا شہروں کے کلب، دفاترکی میزوں کے گرد برپا ہونے والی محفلیں ہوں یا محافلِ ادب، بازار ہوں، گھر ہوں کہ شادی بیاہ کی تقاریبِ طرب، سرسری نگاہ سے نہیں، ذرا غور سے دیکھیں کہ مردوں کے دہن ہی نہیں خود خواتین کے لب بھی اب مسکراہٹ سے عاری ہوگئے ہیں۔ عجیب دورِگریہ آن لگاہے کہ ہرشخص بندر سا منہ بنائے اپنی اپنی دیوارِ گریہ تلے کھڑا، بیٹھا یا لیٹا گریہ کیے جارہا ہے۔ جسے دیکھیے وہ کسی نہ کسی بات کا رونا روتا نظر آتا ہے۔ ملک بھر میں فی مربع میل مسکراہٹوں کی پیداوار کا سخت قحط ہے۔ منہ بسورنے میں کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی۔ مسکرانے کے لیے آج کل اپنے اعضائے تبسم کے رگ پٹھوں پر خاصا زور دینا پڑتا ہے اور اظہر عزمی کے سے عزم و ارادے سے لیس ہو کر جدوجہد کی جاتی ہے تب جا کر ایک ہلکا سا زہرخند طلوع ہوتا ہے۔‘‘
لیکن اردو طنزومزاح کے بڑے نام اب رخصت ہوگئے ہیں۔ نثر میں مشتاق احمد یوسفی، شفیق الرحمٰن، محمد خالد اختر، بریگیڈئر صدیق سالک، کرنل محمد خان اور شاعری میں سید محمد جعفری، دلاور فگار، عبیر ابوذری، مسٹر دہلوی، پروفیسرعنایت رخصت ہوئے۔ سید ضمیرجعفری بھی نظم ونثرکے غنچے کھلا کر قصہ ماضی بن گئے۔ نثر میں عطاالحق قاسمی، کرنل اشفاق حسین، اشفاق احمد ورک، انور احمدعلوی اور صولت رضا اور نظم میں انور مسعود اورسلمان گیلانی کی عمر خضر کے لیے ہر کوئی دعاگو ہے۔
ایسے میں شگفتگی کی کوئی نئی آوازانتہائی خوش آئند محسوس ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محسن مگھیانہ نے ہنستی کھلکھلاتی آپ بیتی ’’انوکھا لاڈلا‘‘ سے شاندار انداز سے طنزومزاح کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کی کئی اورتصنیفات بھی سامنے آئیں۔ لیکن ڈاکٹر محسن مگھیانہ کی کتب عام طور پر دستیاب ہی نہیں ہیں۔ محمدعثمان جامعی نے بھی نظم و نثر میں کافی شگوفے کھلائے لیکن ان کا میدان مزاح سے زیادہ طنزہے۔ عسکری مزاحیہ ادب میں دو توانا آوازیں بریگیڈئر نعمان الحق فرخ ’’زندہ لمحات‘‘ اور سہیل پرواز ’’ادھر ڈوبے ادھرنکلے‘‘ کی صورت میں سامنے آچکی ہیں۔ سہیل پرواز تو ناول ’’ڈھاکا میں آؤں گا‘‘ اور آپ بیتی ’’جو تنہا کرگئی مجھ کو‘‘ دو کتب میں سنجیدہ ادب میں بھی جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ مزاح کی دنیا میں ان دونوں میں کتنا دم خم ہے۔ اس کا علم تو دوسری کتاب سے ہوسکے گا۔ حسین احمد شیرازی ’’بابونگر‘‘، ’’دعوت شیراز‘‘ اور ’’آٹھواں عجوبہ‘‘ تین کتب اور ظہیر احمد ’’حد ادب‘‘ سے قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کرچکے ہیں۔ حسین احمد شیرازی نے سرکاری محکموں اور ان کے اہلکاروں کو فکایہ انداز میں بیان کرنے کا منفرد اسلوب اختیار کیا ہے۔ تسلسل سے لکھنے اور تین کتابیں دینے کے بعد ان سے زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔
اظہر حسین عزمی طنزومزاح کی تحریروں سے لبریز پہلی کتاب ’’کیفے عزمی‘‘ کے ساتھ ادب کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے سیدھے سادھے انداز میں روزمرہ اور عام آدمی کی زندگی کے مضحکہ خیز پہلوؤں کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ ان کے بیان کردہ واقعات قاری کو قہقہہ لگانے پر مجبورنہیں کرتے۔ لیکن ایک بے ساختہ مسکراہٹ مطالعے کے دوران اور تادیر اس کے ہونٹوں کی زینت بنتی ہے۔ اظہر حسین عزمی ایک علمی وادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد کوثرسلطان پوری رثائی ادب میں اردو اور ہندی کے معروف شاعر تھے۔ ’’خاندان ہے تو پاندان ہے‘‘ سے اظہر حسین عزمی کو فکاہیہ ادب میں شناخت ملی۔ ان کی دومزید کتابیں زیر ترتیب ہیں۔ جس کے بعدطنزیہ ومزاحیہ ادب میں ان کے مقام کا تعین کیا جاسکے گا۔
ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی ’’کیفے عزمی‘‘ کے بارے میں رائے ہے۔
’’ میں نے اظہر عزمی صاحب کی تحریروں کا جستہ جستہ مطالعہ کیا۔ وہ ہنسی ظرافت کے جادے پرزندہ دلی اور شرارت کی حرارت کے ساتھ گامزن ہیں۔ لفظوں اور رشتوں سے چھیڑ چھاڑ ان کے دل پسند مشغلے ہیں۔ وہ ایسے فرہاد ہیں جوان سنگلاخ اور روایتی موضوعات سے بھی دودھ کی نہ سہی، ظرافت کی نہر کھودنے کے کام میں کامران ٹھہرتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں خصوصی دلچسپی نے ان کی شخصیت اور تحریر کو دھاردار بنادیا ہے۔ ان کی کتاب ’’کیفے عزمی‘‘ اپنے اردگرد بستی ایسی ہی ہستیوں سے محبت کا قلمی اور قلبی اظہار ہے جسے وہ لطافت و ظرافت کے پردے میں سلیقے سے بیان کرتے ہیں کہ وہی عام سے موضوعات بہتر ادبی روپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔‘‘
انوراحمدعلی کا کہنا ہے۔
’’ کیفے عزمی کی زبان سادہ ہے۔ موضوعات اور تشبیہات عام فہم ہیں۔ کسی بناوٹ اور تصنع سے پاک، مختصر الفاظ میں حکمت و دانش کی ایسی بات کہہ دینا کہ ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جائے، آسان کام نہیں۔ طنزیہ و مزاحیہ ادب میں مختصر نویسی کے حوالے سے عزمی کی آمد ایک نیک شگون ہے۔ ٹاک شو دنگل اور ڈراما جنگل کے زمانے میں کسی ہلکی پھلکی کتاب کا آجانا کسی نعمت سے کم نہیں، جس کے لیے اظہر عزمی مبارک باد کے مستحق ہیں۔‘‘
اظہرحسین عزمی اپنے اور کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں۔
’’طنز و مزاح لکھنا گویا سرکس میں اونچائی پربندھی رسی پر ایک بانس (قلم) سے توازن برقرار رکھتے ہوئے چلنے جیسا ہے۔ کہیں کوئی جملہ یاکسی لفظ کی توڑ مروڑ حدود شائستگی سے گری تو آپ دھڑام سے نیچے آگریں گے اور کوئی اٹھائی گیری بھی نہیں کرے گا۔ میرے سان وگمان میں بھی نہ تھاکہ میری کوئی کتاب وہ بھی طنزومزاح پر مبنی شائع ہوگی۔ بہرحال واقعہ ہو گیاہے۔ میں عام طور پر کردار و واقعات سے طنزومزاح کشیدکرتا ہوں جس کے گواہ کیفے عزمی میں شامل ہیں۔‘‘
’’کیفے عزمی‘‘ میں تینتالیس فکاہیہ مضامین شامل ہیں۔ جن کے عنوانات سے بھی ان کے لطیف پہلوؤں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ابتدامیں ایک سرسری سے نظران عنوانات پر ڈال لیتے ہیں۔ جیسے ’’ساس اورسوس‘‘، ’’نہاری کا دولھا‘‘، ’’ بیاہ لوجی کی ٹیوٹر‘‘، ’’مر، مرد، مردہ‘‘، ’’شادی کرلیجو مگر۔۔‘‘، ’’زندگی میں آرام کتنا‘‘، ’’سلسلہ بیڈیہ آرامیہ‘‘، ’’کتے کاانکل‘‘، ’’چھمن گل افشانی سے ایک انٹرویو‘‘، ’’ادب میں پہلوٹھی کی کتاب‘‘، ’’بہنوئی، پھوپھا اور خالو‘‘ ایک ناغہء روزگار شخص‘‘، ’’لینگویج گلوبل، ایشوزلوکل‘‘، ’’ شوہروں کی کانپ بیتی‘‘، ’’قیمہ گھوٹالہ‘‘، ’’ایک سین کا ہیرو‘‘، ’’ریاح کاری پڑی بھاری‘‘ اور’’جھیلیسیمیا، جوجھیلے وہ جانے‘‘۔
ان عنوانات سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ اظہر حسین عزمی روایتی خاندانی رشتوں کے مضحکہ خیز پہلوؤں، میاں بیوی، ساس سسر اور سالی سے لطیف چھیڑ چھاڑ اور زندگی کے روزمرہ واقعات پرلطف اور شگفتہ زبان میں بیان کرتے ہیں اور اسی میں پھلجھڑیاں چھوڑتے اور اپنے مشاہدے کی دھاک بٹھاتے چلے جاتے ہیں۔
کسی زمانے میں گھرکی بڑی بوڑھیوں کی گھریلو سیاست ان کے پان دان کے گرد گھومتی تھی، روایتی ساس بہو کی تکرار بھی پان دان کے گرد ہوتی تھی۔ دونوں کا اندازہ ’’خاندان تھے تو پان دان تھے‘‘ کے اقتباس سے کریں۔ ’’ ساس کی باچھیں اس وقت کھل جاتیں جب محلے کی کوئی آگ لگاوا عورت ان کے پاس آبیٹھتی۔ سمجھیں اپنی یا محلے کی کوئی نہ کوئی بہو زیرعتاب آئی ہی آئی۔ وہ وہ پینڈورا بکس کھلتے کہ مارے حیرت کے انگلیاں دبانے کو منہ چھوٹا پڑجاتا۔ بہوئیں ادھر پیچ و تاب کھا رہی ہوتیں اور ادھر ان دونوں کے منہ میں چھالیہ کی کتر کتر الگ مزہ دے رہی ہوتی۔ دوپہرکو برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ شروع ہوتے ہی آگ لگاوا عورت جانے کا کہتی۔ ساس فوراً ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیتی۔ ایسے تونہ جانے دوں گی۔ اب آئی ہو تو کھانا کھا کرجانا۔ ادھر بہوؤں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہوتے کہ اتنا سارا باربی کیو (یعنی غیبت کاسیشن) کرنے کے بعد بھی پیٹ بھرانہیں۔ مگراب یہ زمانے لدگئے ہیں۔ جس طرح دنیامیں چھوٹی چھوٹی اسٹیٹس کا تصور ابھر رہا ہے یا ابھارا جا رہا ہے۔ اب اس کے اثرات ہمارے گھروں تک پہنچے ہیں۔ پہلے خاندان بڑے بڑے ہوتے ہوا کرتے تھے۔ الگ تھلگ زندگی گزارنے اور بچوں کی اعلٰی تعلیم کے نام پر فیملیز چھوٹے چھوٹے یونٹ میں بٹ رہی ہیں۔ جہاں پان دان تو دور کی بات ہے، ماں باپ کے لیے رہنے کے لیے جگہ نہیں بن رہی ہے۔ واقعی خاندان تھے تو پاندان تھے۔ ‘‘
کس دلکش انداز میں مصنف نے شگفتگی کے پیرائے میں چند لفظوں میں خاندانوں کے بجھڑنے کے ایک معاشرتی مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ بات سے بات نکالنا اور اس سے مزاح کا اظہار اظہرحسین عزمی کا اختصاص ہے۔ مضمون’’ساس اورSauce‘‘ کا یہ اقتباس دیکھیں اور تادیر اس کے معنی سمجھتے ہوئے لطف لیتے جائیں۔
’’اردو میں اب زیر زبر پیش لگانے کارواج ختم ہوتا جارہا ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اب ہم انگریزی الفاظ کو بھی اردو میں ہی لکھ دیتے ہیں۔ ایسے میں کبھی کبھی بہت دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے اور ہمارا چلبلا ذہن چل پڑتا ہے۔ گذشتہ دنوں گھر والوں نے سامان منگایا تو اردو میں چلی ساس لکھ دیا۔ میں نے کہاکہ مرچوں والی ساس کہاں ملتی ہے ؟ جواب آیا یہ انگریزی والا سوس ہے۔ لیکن اردو میں س پرپیش لگائے بغیر پڑھیں تو اردو والی ساس بنتی ہے جس کے آگے ہر بہو کو پیش ہونا ہوتا ہے۔ آپ کو اردو والی ساس کی خاص بات بتاؤں۔ اس میں کوئی زیر نہیں ہوتا۔ تین حرفوں سے بنی ساس کو آگے پیچھے جہاں سے بھی پڑھیں ساس ہی بنتا ہے۔ یہ بہوؤں کے لیے ایک ایسا الف ہے جس کے آگے بھی س ہے اور پیچھے بھی س ہے۔ اب آپ خود جانتے ہیں س کے بل سے کیا کیا پھنکارتا ہوا نکلتا ہے۔ اردو والی ساس کے معاملے میں ماہر نفسیات اور سائنسدان ہنوزتحقیق، تفتیش، تشخیص اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ جس طرح ہرشخص کے انگوٹھے کا فنگر پرنٹ مختلف ہوتا ہے، اسی طرح ہر ساس اپنی ذات میں یگانہ، جداگانہ و چنگیزانہ ہوتی ہے۔ مسدوداتِ سازشات کی ڈگری ہر ساس کو اپنے پہلے بچے یا بچی کے نکاح نامے کے ساتھ تفویض کردی جاتی ہے۔‘‘
اب ساس کی اس سے بہتر پرلطف تعبیر اور تعریف کیونکر بیان ہوسکتی ہے۔ گویا دریا کو کوزے میں بند کرکے پیش کر دیا ہے۔ جتنی بار پڑھیں ایک نئے معنی اور نیا لطف کشید کرسکیں گے۔ اردو میں مریض اور تیمارداری پر بہت دلچسپ تحریریں موجود ہیں۔ اظہرعزمی نے بھی اس موضوع کو بہت خوب صورتی سے ’’باز آئے ایسی عیادت سے‘‘ میں برتا ہے۔
’’ ہمارے ہاں کسی بیمارکی عیادت اور اس سے ہمدردی میں ہم وہ کچھ کرجاتے ہیں کہ مریض کی رہی سہی جان بھی نکال دیتے ہیں۔ گفتگو سے لگتا ہے کہ مزاج پرسی کے بجائے پرسے کے لیے آئے ہیں۔ مریض کو ’قریب القبر‘ کی خبر دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتے ہیں۔ اسے اس درجہ آمادہ موت کرتے ہیں کہ مرض سے نہ مرے تو کم ازکم خودکشی کو ’خود خوشی‘ جانتے ہوئے ایک چانس تولے ہی لے۔‘‘
تیمارداری کے لیے آئی دو خواتین کی گفتگو ملاحظہ کریں۔
’’ریاض بھائی، حد ہوگئی غیریت کی۔ کسی نے بتایا ہی نہیں، آپ کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ ہسپتال کی نوبت آگئی۔ کل ثریا سے بات ہوئی تو اس نے کہا منی باجی دیکھ آؤ ورنہ کہنے کی بات رہ جائے گی۔ جانے والا چلا جائے گا۔ مجھے لگا جیسے ریاض کے ماتھے پر قبر کی جھریاں نمودار ہو رہی ہیں۔ راشدہ بولی۔ ریاض بھائی! میں نے جیسے ہی سنا، آپ ہسپتال میں ہیں، میرا دل وہیں بیٹھ گیا۔ حرام ہے جو لقمہ حلق سے اترا ہو۔ کل اپنی شادی کی تصویریں دیکھ رہی تھی، آپ منصور پھوپھا مرحوم اور دلشاد بھائی مرحوم کے بیچ بیٹھے تھے۔ میں نے سوچا یہ دونوں تو اٹھ گئے، ریاض بھائی کی خدا خیر کرے۔ ہسپتال میں ہیں۔ آپ تھوڑی دیر آرام کریں۔ آگے کی منزلیں اتنی آسان کہاں ہوتی ہیں۔‘‘
کسی مریض کے سرہانے بیٹھ کر یہ قبرآموز گفتگو اس کا کیا حال کرتی ہے اور اس پر کیا گزرتی ہے۔ نہ پوچھو۔ پھر اظہرعزمی کا انداز بیان سونے پر سہاگہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب کا ایک دلچسپ مضمون’’مر، مرد، مرُدہ‘‘ ہے۔ مصنف لکھتے ہیں۔
’’دنیا کے سارے مردایک طرح کے ہوتے ہیں لیکن خواتین کے ساتھ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ قدرت نے عورت کو عجب صلاحیت سے نوازا ہے۔ ہر عورت دوسری عورت سے اور طرح کی ہوتی ہے۔ اس لیے آپ عورت کو ’اورت‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ عورت اتنی ہمہ جہت اور وسیع الکار ہے کہ ایک کمرے میں سو عورتوں کو جھاڑو دینے کا کہیں تو ہر عورت مختلف جگہ سے جھاڑو دینا شروع کرے گی اور ثابت کردے گی کہ جھاڑو صرف اس نے دی ہے، باقی نے جھاڑو پھیری ہے۔ ہر عورت انڈے ابالنے کے اتنے طریقے بتا سکتی ہے جتنے مرغی کے پاس دینے کے نہیں ہوتے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے مرد ہی مرا اور دفنایا گیا۔ اس کے بعد مردوں نے اس روایت کو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھایا۔ اردو زبان نے تو اس کا برملا اظہار کیا اور مر میں ایک ایک حرف کے اضافے سے ثابت بھی کردیا۔ م سے مر، مرد اور مرُدہ کہا جاتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ مرنا مرد کے لیے ہے۔ اسی لیے قبرستان کو شہرِ خموشاں کہا جاتا ہے۔ چند ایک عورتیں آتی بھی ہیں تو ستانے اور دیکھنے کے لیے کہ ہمارے مرد مرنے کے بعد کیا کر رہے ہیں۔‘‘
کس شگفتگی سے عورت اورمردکے درمیان ایک منفرد تفریق بیان کی ہے۔ یہ سب صرف گہرے مشاہدے سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اردو مزاح نگاری میں شوکت تھانوی کا بڑا نام ہے۔ وہ زبان کے چٹخارے اور واقعات سے مزاح پیدا کرتے ہیں۔ اس قسم کے مزاح میں قاری قہقہہ لگاتا نظر نہیں آتا۔ بلکہ تادیرمسکراہٹ اس کے ہونٹوں کی زینت بنی رہتی ہے۔ بلکہ اکثراچانک کسی فقرے کا مفہوم سمجھ آنے پر بے ساختہ جھلک اٹھتی ہے۔ اظہرحسین عزمی بھی ایسا مزاح پیش کرتے ہیں۔ جو قاری کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے واقعات ہی اس کی بنیاد بنتے ہیں۔ ایک عام سا واقعہ کس طرح شگفتی کا باعث بنتا ہے۔
مضمون کا نام ’’داماد کی ت۔۔لاش‘‘ ہی بے ساختہ ہنسی چہرے پر بکھیر دیتا ہے، پھر ایک عام سے واقعے کا بیان دیکھیں۔
’’سسر ظاہری طور پر لڑکے کاقصائی کی طرح معائنہ کرتا ہے۔ لگتا ہے کہ بکرا منڈی آیا ہے۔ بس نہیں چلتا کہ دانت یہاں تک نتھنوں کے بال تک چیک کرلے۔ گھر والے لڑکے کی وہ وہ خوبیاں اور اس کا سیدھا پن گنوائیں گے کہ لڑکا خود سوچے کہ یہ ساری خصوصیات تو گلی کے سب سے احمق فیروز بھائی کی ہیں۔ ساس اوپر سے نیچے تک اسکین کرلیتی ہے۔ کوشش تو سائیکلوجیکل اور فزیکل ایم آر آئی کرنے کی ہوتی ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ دل اور دماغ کیساہے اوران میں کیاچل رہاہے۔ لڑکے کی فائل اور پروفائل اوکے ہو تو لڑکے کی جان مصیبت میں آجاتی ہے۔ اس کی تصویر خاندان، محلے اور جاننے والوں میں جمعہ کی نمازکے بعد تقسیم ہونے والے تلاش گمشدہ کے اشتہار کی طرح بانٹ دی جاتی ہے۔ بس نہیں چلتا اسے متعلقہ تھانے میں بلوا کر سب کچھ اگلوا لیاجائے۔ پولیس کی اسپیشل سیل سے زیادہ لڑکے کی کڑی نگرانی کی جارہی ہوتی ہے۔ لگتاہے کہ داماد نہیں کسی بڑے خونی مجرم کی تلاش ہوجس کی واحد سزا عمر قید سے کم نہ ہوگی۔ ہر طرف سے انویسٹی گیشن کے سادہ کپڑوں میں ملبوس ہرکارے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ شادی سے پہلے اتنی انفارمیشن لے لی جاتی ہے کہ اگر بندہ کبھی کسی الزام میں پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو کسی سسرالی سے ملادیں، سارا کچا چٹھا کھول دے گا اور یہ گارنٹی ہے کہ پھر بندہ ملزم ہو کہ نہ ہو اندر ہی ملے گا۔‘‘
بردکھوا اور اس کے بعد رشتے کی منظوری کے یہ مراحل ہر شادی شدہ مرد کی زندگی میں پیش آتے ہیں۔ اب ان کی اس تحریر سے مناسبت ہنسی کا باعث نہ ہو تو کیا ہو۔ بیویوں کا شوہر پر شک کرنا بھی ہمارے روزمرہ کا معمول ہے۔ اس حقیقت کا بیان ذرا اظہرعزمی کی زبانی سنیے۔
’’جو بیوی شوہر پر شک نہ کرے سمجھ لیں پھر وہ کسی دوسری کے شوہرکی بات کررہی ہے۔ ویسے شوہر اور شک دونوں ش سے شروع ہوتے ہیں۔ شوہر کیفے عزمی ’ر‘ پر ختم ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کہ رعایت ہے۔ شک ’ک‘ پر ختم جس سے مراد ہے کیوں؟ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ جب تک آپ کی بیوی آپ پر شک کرتی رہے، سمجھیں آپ جوان ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بوڑھے سے بوڑھا شوہر بھی بھری جوانی میں مرتاہے۔ بیوی مرتے دم تک شوہر کو جوان سمجھتی ہے۔ کچھ بیویاں تو اتنی شکی ہوتی ہیں کہ مرنے کے بعددائیں بائیں کی قبروں کے کتبے تک پڑھ لیتی ہیں اور دل ہی دل میں کہتی ہیں دائیں بائیں دیکھ کر مرے ہو۔ مرتے مرگئے مگر لچھن نہ گئے۔‘‘
اظہرحسین عزمی نے اپنی پہلی ہی کتاب میں شگفتہ بیانی اور طنزومزاح کی پھلجھڑیاں چلائی ہیں۔ جس کے لیے بھرپور مبارک باد پیش ہے۔ پڑھنے والا کتاب شروع کر کے مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑ سکتا۔ عمدہ سرورق، بہترین کتابت اور جلد بندی، سفید کاغذ، پروف ریڈنگ کی بہت کم غلطیاں۔ اس عمدہ اشاعت پر پبلشر مبارکباد کا مستحق ہے۔ اردو کے صف اول کے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے بھی ابتدا مضامین کے دو مجموعوں، ’’چراغ تلے‘‘ اور ’’خاکم بدہن‘‘ سے کی تھی۔ اس کے بعدیوسفی صاحب کے شاہکار ’’زرگزشت‘‘ آپ بیتی اور ’’آب گم‘‘ ناول نما خاکوں کا مجموعہ منظر عام پر آیا۔ عزمی صاحب کے ’’کیفے عزمی‘‘ نے ان کی اگلی کتاب کا منتظر بنا دیا ہے۔ جس سے ان کے مقام کا تعین ہوسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آتے ہیں عیب سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی
