تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسفرنامہعلم و ادب

کمراٹ میں قدرت آدمی سےکلام کرتی ہے! — محمد حمید شاہد

by دانش ڈیسک 22/07/2024
written by دانش ڈیسک 22/07/2024
382

انسانی وجود پر کبھی کبھی ایسی افتاد آ پڑتی ہے کہ کچھ بن نہیں پڑتا۔ فارسی والے ایسے ہی مواقع پر کہتے ہیں؛ ‘نَہ پائے رَفتَن، نَہ جائے ماندَن’۔ آگے جانے کا راستہ نکلتا ہے نہ دم سادھ کر بیٹھ رہنے میں سکون ملتا ہے۔ جب مجھ پر یہ وقت آکر ٹھہر جاتا ہے تو جی چاہتاہے کسی طرح یکسانیت کی سنگلاخ چٹان پر چوٹ پڑے اور وہ ٹوٹ گرے۔ یاسمین سے ایک روز باتوں باتوں میں، میں نے کچھ ایسا ہی کہا تھا اور بھول گیا تھا۔ عید سے چند روز پہلے یاسمین نے شوخی سے ہنستے ہوئے بتایا تھا کہ بچوں نے کمراٹ جانے کا پروگرام بنالیا ہے آپ کی یکسانیت توڑنے کے لیے۔ میں اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ سعد بیٹا ایک بار وہاں سے ہو آیا تھا کہنے لگا ؛ بابا آپ کو وہاں جاکر اچھا لگے گا کہ کمراٹ کی وادی میں قدرت آدمی سے کلام کرتی ہے۔ چھوٹے بڑے کل مل ملا کر ہم بار ہ افراد تھے جو کمراٹ کے لیے محض عید سے چار دن پہلے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ان میں سب سے بڑا یہ خاکسار تھا 67 سال کا بوڑھا اور سب سے چھوٹی اڑھائی برس کی میری پوتی زرجان ؛جو اس سے بے نیاز تھی کہ اس مہم میں آگے چل کر کیا کیا مشکلات پیش آ سکتی تھی۔

مجھے سروائیکل اسپونڈائلوسس اور کمر کے آخری مہروں سے اٹھ کر پاؤں کی انگلیوں تک لپکنے والے شیاٹیکا کے درد اپنی محبت جگانے کو باری باری آلیتے تھے۔مسکن ادویات کے ساتھ اس کا انتظام یہ ہوا کہ گردن کو سہارا دینے والا کالر اور کمر کسنے کو بیلٹ فراہم کر دی گئیں۔ میں نے اپنی تکالیف کا ذکرہمدردی سمیٹنے کو نہیں کیا، ان سب بزرگوں کے لیے احتیاطی تدابیر ااختیار کرنے کی تحریک کے لیے کیا ہے جو اپنی پیری کی تکالیف کے باوجود اس جنت جیسی وادی کی سیاحت کا تجربہ اپنی زندگی کا ناقابل فراموش حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد سے ہم پشاور موٹروے پر نکل کھڑے ہوئے اور کرنل شیر خان انٹرچینج سے سوات موٹر وے کی طرف مڑ گئے۔ یہ سارا سفر شاندار تھا۔ سوات موٹروے پر چکدرہ تک گئے ؛ کہہ لیجئے ڈرائیور گاڑی چلا نہیں رہا تھا، اڑا رہا تھا۔ اس راستے میں آنے والی سرنگوں سے گزرنا اور بچوں کا شور مچانا بھی یاد رہے گا۔ دیر پائیں کے ضلعے میں داخل ہو چکے تو سڑک پر اگر چہ کوئی رکاوٹ نہ تھی تاہم ہر آبادی کے بازار کی بھیڑ میں سے بچ بچا کےگزرنا پڑتا تھا۔ سرسبز پہاڑوں، دیودار کے درختوں، پہاڑوں کے بغلی حصوں میں ٹیریس بنا کرنکالی گئی ہموار زمین پر کام کرتے کسانوں اور دریائے پنجکوڑہ کے پرلطف شور کے تسلسل نے کچھ ایسا سماں باندھا کہ یہ سفر کبھی راحت کا سامان ہو گیا تھا۔ جگہ جگہ پانی کی آبشاریں پہاڑوں سے اتر کر دریا کی سمت جارہی تھیں۔ کہیں کہیں لینڈ سلائیڈ نگ سے سڑک گم ہو گئی تھی اور پہاڑوں کی بغل کھود کر اس قدر راستہ بنا لیا گیا تھا کہ گاڑی جھومتی جھولتی بچ بچا کروہاں سے گزر جائے۔ تیمر گرہ سے گزر کرہم اپر دیر پہنچے تھے۔

Kumrat Valley Tour Guide - Pakrism Travel Platformکہا جاتا ہے کہ یہ علاقہ قدیم زمانے میں بدھ مت کے زیر اثر رہا۔ "دِیر” اصلی نہیں، بگڑا ہوا نام ہے۔ ورنہ بدھ مت تہذیب کی خانقاہوں کی نسبت سے یہ”دَیر” (یعنی خانقاہ) تھا۔ یہ خانقاہیں دریائے پنجکوڑہ کے دونوں طرف تھیں اور کہیں کہیں ان کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ مورخین نے دیر میں دراوڑ اور آریائی قبائل کے آباد رہنے کے دعوے بھی کیے ہیں۔میرا اس طرف دھیان تب گیا جب اسی سڑک پر آگے چل کر میں نے ایک گاؤں کے نام کی تختی پر’داروڑہ‘ لکھا دیکھا تھا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ نام بھی دراوڑوں سے نسبت رکھتا ہے۔ تیمر گرہ نام کے بارے میں بھی دلچسپ دعویٰ ملتا ہے۔ یہی کہ منگول حکمران تیمور نے دیر پر دوسرے علاقوں کے ساتھ 1369ء تک حکمرانی کی تھی اور تیمور نے اسی مقام پر دریاکے کنارے قیام کیا تھا۔ اسی کے نام پر یہ تیمور گڑھ ہو ا، جو بگڑ کرتیمر گرہ ہوگیا۔ اس علاقے کے تاریخی احوال لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ خوب صورت دیر کا یہ سارا پہاڑی علاقہ لگ بھگ پندرہ تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ موجودہ پشتون تہذیب یوسفزئی قبیلے کے اس علاقے پر قبضے سے وجود میں آئی اور یہ بھی کہ محمود غزنوی کے زمانے میں یہاں اسلام پھیلا تھا۔

تاریخ کے نام پر موجودمختلف دعووں پر یقین کرنے، اور ٹوٹی ہوئی کڑیاں ملانے کےلیے بہت حوصلہ چاہیے تاہم یہ تو کل ہی کی بات لگتی ہے کہ برطانوی راج میں یہ علاقہ سوات اور چترال کی طرح نوابی ریاست تھا اور انگریزوں کے چلے جانے پر ریاست دیر نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ایوب خان کی صدارت کے زمانے میں مالاکنڈ ڈویژن کی ان ریاستوں کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خواہ) کا باقاعدہ حصہ بنالیا گیا تھا۔ ایسا ایک معاہدے کے تحت ہوا تھا جس کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کو 2060ء تک تمام ٹیکسوں سے چھوٹ دے دی گئی تھی۔جب ہم جیپوں پر کمراٹ سے آگے جا رہے تھے اور انتہائی خطرناک پتھریلے راستے پر ہماری جیپ کے ٹائر زمین پر اچھالی جانے والی گیند کی طرح اچھل رہے تھے تو میں نے ڈرائیور سے کہا تھا ؛”حکومتیں ٹیکس لیتی ہیں اور سڑکیں کیوں نہیں بناتیں۔” وہ ہنسا اور کہا: "ہم ٹیکس نہیں دیتے۔” اس نے بہت سہولت سے ایک اندھا موڑ موڑتے ہوئے جیپ ایک شور مچا کر اترتی آبشار کے پانی میں ڈالی اور ذرا زور دے کر کہا؛ "ہم ٹیکس کیوں دیں ہم تو پاکستان سے پہلے بھی آزاد تھے۔” جب وہ یہ کہہ چکا تو ہماری جیپ آسمان کو چھوتے دیودار کے جھنڈ کے اندر پہنچ چکی تھی اور یخ ہوا ہمارے چہرے چوم رہی تھی۔

خیر، کمراٹ کا احوال مجھے آگے چل کر کہنا ہے۔ دیربالا میں ہم باب کمراٹ سے داخل ہوئے تھے۔ شرینگل تک راستہ زیادہ خراب نہ تھا۔ یہیں بینظیر بھٹو یونیورسٹی دیکھ کر جی خوش ہوا۔ یونیورسٹی کی خوب صورت عمارت اس وادی میں دور تک چلی گئی تھی۔ شرینگل سےپاتراک، بیاڑ، بریکوٹ سے ہوتے ہوئے تھل پہنچنے کا سفربہت تھکا دینے والا تھا۔ اونچے سرسبز پہاڑوں کے اندر دریائے پنجکوڑہ کے بہتے پانی اور دور دور تک پھل دار درخت اور چھوٹے چھوٹے کھیت کے ٹکڑے، پتھروں سے تعمیر کیے گئےگھروں کے ارد گر دیودار کی پھٹیوں کوباہم جوڑ کرکی گئی حدبندیاں، برف سے ڈھکے پہاڑ کی چوٹیوں سے اترتا اور راستے پر دور تک پھیل کر دوسری طرف کے کھیتوں یا پیجکوڑہ میں شامل ہوتا صاف شفاف اور برفیلا پانی؛ غرض دیکھنے کو اتنا کچھ تھا کہ ہم تھک کر بھی یہ سب کچھ دیکھتے اور محسوس کرتے ہوئے نہ تھکتے تھے۔ لگ بھگ ہم سات آٹھ گھنٹے کا سفر کر چکے تو ثنا، ناعمہ، سمیعہ یا ان کے بچے جب جب پوچھتے تھے کہ "کمراٹ پہنچنے میں اور کتنا وقت لگے گا” تو بیٹے سعد کا جواب ہوتا: "چار گھنٹے تھل تک لگیں گے پھر جیپوں پر آگے جانا ہوگا۔” یہ چار گھنٹے ختم ہونے میں نہ آتے تھے کہ ہماری گاڑی کٹی پھٹی سڑک پر رینگ رینگ کر چل رہی تھی۔ جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ نے راستہ اور بھی دشوار گزار بنا دیا تھا۔ جب یہ فاصلہ طے ہی نہیں ہو پارہا تھا تو بچوں نے "چار گھنٹے” والی بات کو ہی ایک چھیڑ بنالیا۔ اب بچوں میں سے جوکوئی پوچھتا کہ” کتنا وقت اور لگے گا” تو یوں قہقہہ بلند ہوتا جیسے کوئی لطیفہ سنایا گیا ہو۔ سعد، سائق یا شعیب کا مستقل ایک ہی جواب تھا؛ "صرف چار گھنٹے”۔ گاڑی یوں رینگ رینگ کر چل رہی تھی کہ یہ چار گھنٹےختم ہونے ہی میں نہ آتے تھے۔ خدا خدا کرکے یہ مرحلہ تمام ہوا تو ہم تھل بازار میں تھے جہاں دو جیپیں ہماری منتظر تھیں۔

دریائے پنجکوڑہ تھل بازار کے اندر سے گزر رہا ہے۔ دونوں طرف کی آبادی کو ملانے کے لیے لکڑی کی گیلیاں ڈال کر پل بنالیے گئے تھے۔ اسی بازار میں چوبی تختوں سے بنائی گئی خوب صورت مسجد توجہ کا مرکز ہوئی۔ اس قدیم مسجد کو جن کاریگروں نے بنایا تھا لگتا ہے اپنی کامل صلاحیتیں کام میں لاکر علاقائی ثقافت کا مظہر بنالینے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ لکڑی کے تختوں ہی سے نہر، نالی یا پاڑچھے کا کام لیا گیا تھا جو پنجکوڑہ کے پانیوں کو کھیتوں تک پہنچانے کا وسیلہ ہو رہے تھے۔ یہیں میں نے جگہ جگہ ٹربائنیں نصب دیکھیں جو پوری شدت سے بہتے پانی کا رخ موڑ کر بجلی پیدا کر رہی تھیں۔ یہ سب یہاں کے مقامی لوگوں کے انتظامات تھے۔ انہیں انتظامات میں گندم اور مکئی پیسنے والی آبی چکیوں کو بھی شامل کر لیجئے جو پنجکوڑہ کے کنارےپر ہم نے یہاں وہاں دیکھیں۔ جگہ جگہ راستہ پانیوں میں ڈوبا ہوا ملتا رہا گویا ہم دریا کے اندر چل رہے تھے اور جب جیپ شفاف پانی کے اندر سے چھینٹے اڑاتی ہوئی گزرتی تو یوں لگتا تھا جیسے فضا میں کانچ کے بڑے بڑے ٹکڑےاچھل رہے ہوں۔ یہاں پہنچ کرہم سڑک نامی سہولت کو مکمل طور پر بھول چکے تھے۔ہم جیپ کے اندر کسی بے جان گڈے کی طرح جھول رہے تھے مگر یہاں قدرتی مناظر اتنے حسین، دلکش اور تازہ تھے کہ ہم اپنی ساری تکالیف بھول چکے تھے ۔

Camping in Kumrat Valley : r/pakistan جیپ پر کمراٹ کے ماؤنٹین لاج ریزورٹ تک کا فاصلہ کچھ زیادہ نہ تھا تاہم جیپ کے اندر لگنے والے دھچکے کندھے توڑ ڈالنے والے تھے۔ میں جان گیا تھا کہ پتھریلے دشوار گزار راستے پر اچھلتی کودتی جیپ میں حفاظتی بیلٹ باندھ کر بھی ان دھچکوں سے بچا نہ جا سکتا تھا مگر پہلو بدل بدل کر اس رُخ پر بیٹھنے کی کوشش میں رہا کہ کم سے کم دھچکے لگیں اور ہر بار ناکام رہا۔ اپنے پہلو میں موجود جیپ کے ہینڈل میں ہاتھ پھنسا کر اور دوسری طرف سیٹ کے نیچے ہاتھ اڑس کر سارا بدن اکڑا لیتا تو جیسے بدن تن کر اینٹھن اگلنے لگتا تھا ۔ جسم ڈھیلا چھوڑتا تو کندھے دائیں بائیں ٹکرا ٹکڑا کے درد فوارے چھوڑنے لگتے اور کمر سے بھی چاہنگیں نکلتی تھیں۔ مگر جب ہم ماؤنٹین لاج پہنچ کر جیپوں سے اترے تو وادی کا حسن بانہیں پھیلا ئے ہمیں اپنے سینے سے لگا کر وجود کے سارے درد سمیٹ چکا تھا۔ ہم کمراٹ کے جنگل کے درمیان تھے اور دور دور تک سفیدی مائل پتھروں کے ڈھیر تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ کچھ برس پہلے کے شدید سیلاب نے پہاڑوں کے اوپر سے پتھر لڑھکا کر اس بانڈے میں بکھیر دیے تھے۔ لاج میں رہنے کو چوبی تختوں سے بنے رہائشی کمرے ہمارے منتظر تھے۔ لکڑی کی دیواروں اور چھت کو باہر سے لوہے کی چادروں کے غلاف چڑھا کر برف اور بارش سے محفوظ کر لیا گیا تھا۔ ہر کمرے کی عقبی دیوار شیشے کی تھی جسے ایک جانب سرکا کر کھولا جاسکتا تھا۔ جونہی میں نے یہ دیوار کھسکائی اچھلتا کودتا، شور مچاتا اور موتیوں کے سے چھینٹے اڑاتا دریائے پنجکوڑہ میرے سامنے تھا۔ دریا کے دوسری طرف دیودار کے درختوں کا جھنڈ دور تک چلا گیا تھا۔ آسمان کو چھوتی پہاڑ کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔ میں وہاں دریا کے کنارے بیٹھ گیا اور تب مجھے لگا تھا جیسے میرے اندر موجود یکسانیت کی چٹان ٹوٹ گئی تھی۔ پانی کی لہریں پتھروں پر مسلسل سر پٹختی رہیں اور میں انہیں یوں ہی دیر تک دیکھتا رہا اور اپنے ہاں ایک نئی توانائی کے سوتے پھوٹتے محسوس کر رہا تھا۔ میں نے گرم کپڑے لے رکھے تھے مگر جون کے مہینے میں بھی سردی سے بدن کپکپا رہا تھا۔ ہلکی پھوار پڑنے لگی تو میں وہاں سے اٹھ آیا تھا مگر بچوں کو تو جیسے اس بھیگنے میں ہی مزا آرہا تھا۔

 رات جب میں اپنے چوبی کمرے میں بستر پر دراز تھا تو سوچ رہا تھا کہ مجھ پر جمود، بوریت یا کسلمندی کی کیفیت تین جہتوں سے حملہ آور ہوتی رہی ہے:

۔۔۔ پہلی جہت سے تب، جب کرنے کو ڈھنگ کا کوئی کام نہیں ہوتا اور مصروف رہنے کو کچھ نہ کچھ کیے جاتا ہوں تو شدید نوعیت کاخالی پن، مجھے کسلمندی اور اکتاہٹ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

۔۔۔ دوسری جہت سے تب، جب کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے اور دل بھی مطمئن ہوتا ہے کہ جو وقت اور محنت اس کام میں صرف کر رہا ہوں اس کی بالآخر قدر قائم ہوگی مگر کام کہاں سے آغاز ہو، اس کا سرا ہی نہ مل پاتا۔ اس بے بسی میں گرفتار کرنے والا ذہنی تناؤ میرے ہاں بیزاری اور بوریت کا سبب ہوجاتا ہے۔

۔۔۔ تیسری جہت سے وار تب ہوتا ہے جب میں اپنی دلچسپی کے کام میں مگن ہوتا ہوں۔ کام کے مسلسل دباؤ اور میری حد سےبڑھ چکی دلچسپی سے ذہنی تھکاوٹ اور اعصابی فرسودگی میرے ہاں چپکے سے نقب لگالیتی ہے۔ مجھے اس واردات کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ‘برن آؤٹ’ ہو چکتا ہے؛ موٹروے پر پوری رفتار سےبھاگتی اس موٹرکار کی طرح جو اچانک دھواں چھوڑ جاتی ہے۔ ایسے میں اعصابی تناؤ اور ذہنی تھکن کا حملہ اچانک اور زیادہ شدید ہوتا ہے؛ یوں جیسے لمبی دوڑ دوڑنے والے کے گھٹنے سے اچانک چاہنگ اٹھے، اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جائے اور اس اندھیرے میں ترمرے سے ناچنے لگیں۔

 تاہم یہاں کمراٹ پہنچتے ہی ان میں سے کوئی کیفیت نہ تھی اور مجھے الگ نوع کی توانائی سرشار کیے دیتی تھی۔ ایک پرسکون نیند لینے کے بعد اگلی صبح میں پنجکوڑہ کے پانیوں کے اُس شور سے اٹھا تھا جو چوبی دیواروں سے رس رس کر اندر آرہا تھا۔ میں نے جھٹ عقبی شیشے کی دیوار کو سرکالیا۔ صبح کا جو جادوئی منظر میرے سامنے تھا اس نے مجھے جوش ملیح آبادی کا کہا یاد دلا دیا۔ جی وہی شعر جسے سن کر ہمارے ہاں ایک طبقے نے بہت شور مچایا تھا:

 ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے
اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی

مجھے اس شعر کا جو مفہوم اس خوب صورت صبح سوجھا اس میں جمود زدہ معاشروں میں زندگی کی لہر دوڑانے کے لیے انبیا کی آمد بھی صبح جیسی تھی۔ایک سیاہ رات کے بعد روشن صبح جیسی۔ کمراٹ کی وہ صبح کچھ ایسی جادو اثر تھی کہ میرا پورا وجود اس میں دھل کر تازہ ہو گیا تھا۔

ناشتے کے بعد ہم پھر سے جیپوں میں جا بیٹھے۔ وہی پتھروں پر اچھلنا، بہتے پانیوں کو چیر کر گزرنا، گھنے جنگلوں میں درختوں کے اندر سے راستہ بناتے ہوئے نکلنا، وہی پنجکوڑہ کے پانیوں کا چٹانوں سے سر پٹخنا، پہاڑ کی چوٹیوں کا آسمان کو چھونا اور گلیشر کا پھسل پھسل کر نیچے دامن تک چلے آنا ؛ یہ سب کچھ تھا مگریوں لگتا تھا جیسے ہر آنے والے لمحے میں منظر بدل رہا تھا، پہلے سے مختلف اور اس سے بھی کہیں نیا، تازہ اور دلکش۔ ہر بانڈہ اور ہر بانال بالکل الگ طرح کا۔ بانڈہ کوہستانی زبان میں چراگاہ کو کہتے ہیں اور بانال پہاڑوں کے اندر گھرے چند گھروں کو۔ یہاں راستے میں جو جنگل پڑے ان میں مقامی لوگوں کو مویشی چراتے پایا۔ ابھی ہم نے تھوڑا فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ سعد بیٹے نے ایک جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہاں ایک خوب صورت آبشار ہے مگر وہاں جیپ نہیں جاسکتی، چل کر جانا ہوگا۔” ڈرائیور نے یہ سن کر کہا؛ "فکر نہ کریں، واپسی پر کچھ قریب لے جاؤں گا۔”

ہمارا آج کا پہلا پڑاؤ تورے اوبہ تھا برفیلے پہاڑوں کے اندر بہلتے دریا کے قدرے وسیع پاٹ کے کنارے ہماری جیپیں رک گئیں۔یخ ہواؤں نے ہمارا استقبال کیا۔ جسے مقامی لوگ تورے اوبہ کہتے ہیں وہی سیاحوں کے لیے کالا چشمہ ہے۔ یہاں دریا کے ایک حصے پر چوبی پل بنا کر دریا کے وسط میں پہنچنے کی سہولت موجود تھی۔ میں نے جوتے اتار کر پانی میں پاؤں ڈالا تو یوں لگا جیسے برف پر پاؤں دھر دیا ہو۔ صاف شفاف پانی مگر اتنا یخ کہ اس میں پاؤں دھرتے ہی چیں بول جائے اور خون جمتا ہوا محسوس ہو۔ کمراٹ میں پتھر سفیدی مائل تھے اوریہاں سیاہی مائل۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شفاف پانی کے نیچے کے پتھر اور ریت بھی سیاہی اچھالتی تھی اور اسی نسبت سے اس مقام کو کالا چشمہ کہا جانے لگا تھا۔ پہاڑوں میں گھرے اس مقام کا حسن ایسا تھا کہ بچے آگے جانے کا نام تک نہ لے رہے تھے۔ یہیں بچوں کو انوکھی سوجھی اور آپس میں مقابلے کی ٹھان لی کہ پنجکوڑہ کے یخ پانی میں کون زیادہ دیر تک منہ ڈبوئے رکھے گا۔ پہلے تو جی چاہا کہ بچوں کو ایسا کرنے سے منع کردوں مگر پھر سوچا کہ آزادی سے جیسا وہ چاہتے ہیں کرنے دوں۔ ایشال، ریان، ثنا، ناعمہ، سعد اور سائق کے بیچ مقابلہ رہا یاسمین، شعیب اور میرے علاوہ ننھی زرجان تماشبین بنے انہیں بگلے کی طرح منہ پانی میں ڈبوئے دیکھتے رہے اور اس یخ پانی کی بابت سوچتے رہے جسے کچھ دیر پہلے چھونے سے بدن پر کپکپی تاری ہو گئی تھی۔

کالا چشمہ سے نکلے تو جیپیں اپنے خطرناک ٹریک پر لے کر مزید آگے بڑھنے لگیں۔ نظاروں کی دلکشی بڑھتی جارہی تھی۔ جیپیں ہمیں وہاں تک لے کر چلتی گئیں جہاں تک ٹریک تھا۔ آگے جیپیں نہ جا سکتی تھیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں دوندیاں مل کر دریائے پنجکوڑہ کو جنم دے رہی تھیں۔ اس مقام کا نام ‘دوجھانگہ’ شاید ان دوندیوں کی وجہ سے پڑا تھا جو کوہ ہندوکش اور کمراٹ کے پہاڑوں سے اتر کر یہاں ملتی تھیں ورنہ دریائے پنجکورہ (یعنی پانچ دریا) میں آگے چل کرپانیوں کے کئی سوتے آکر ملتے تھے۔ یہاں ہم نے کئی گھنٹے صرف کیے۔ اکا دکا سیاح آئے اور چلے گئے جب کہ بچے ایک دوسرے پر پانی اچھا ل کر اور شور مچا کر خوش ہوتے رہے۔ میں دور بیٹھا قدرت کے ان نظاروں میں مگن رہا اور سوچتا رہا کہ جو جو مقامات انسانی تصرف میں نہیں آتے یا کم کم آتے ہیں ان کا حسن بھی برقرار رہتا ہے۔ جہاں جہاں آدمی پہنچا حسن برباد ہوا۔ دریا کےپار گھنا جنگل، اس سے پرے اوپر آسمان کو اٹھتے پہاڑ، پہاڑ کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی ؛ مجید امجد یاد آگئے:

Mesmerizing Kund Banda of Kumrat Valley : r/ExplorePakistan تم کتنے خوش نصیب ہو آزاد جنگلو!
اب تک تمہیں چھوا نہیں انساں کے ہات نے

اب تک تمہاری صبح کو دھندلا نہیں کیا
تہذیب کے نظام کی تاریک رات نے

پھینکی نہیں تمہارے مقام بلند پر
کوئی کمند سلسلہ حادثات نے

اچھے ہو تم کہ تم کو پریشاں نہیں کیا
انسانیت کے دل کی کسی واردات نے

دوجھانگہ میں جیسے وقت ٹھہر سا گیا تھا مگر ہم وہاں کتنی دیر ٹھہر سکتے تھے۔ دن ڈھلنے لگا تھا۔ کمراٹ واپسی کے لیے جیپوں میں آبیٹھے۔ پھر سے وہی پر خطر سنگلاخ راستے تھے اور ہم۔ واپسی پر بانڈے میں دور دور تک سفید اور سرخ پھولوں سے لدی ہوئی جھاڑیاں نظر آئیں اور یہیں کہیں پہاڑ سے پھسل کر نیچے آچکا گلیشر اور اس کے پہلو میں جھاگ اچھالتی آبشار ؛ ہم جیپوں سے اترے اور سب برف کے پہاڑ پر چڑھ دوڑے تھے۔ قدرت کے دلکش اور عجیب رنگ تھے جو ہماری روحوں تک کو تازہ کر رہے تھے۔

کمراٹ آبشار کی طرف جانے والے راستے پر ڈرائیور جیپوں کو کچھ اوپر تک لے گئے تاہم ایک مقام پر انہیں رکنا ہی پڑا۔ ہم پیدل پہاڑ پر چرھنے لگے، اور جب لگ بھگ ہماری ہمتیں جواب دینے کو تھیں کہ یکلخت آسمان سے اترتی اور شفاف پانی کے موتی برستاتی، پتھروں سے سر ٹکراتی اور ایک تسلسل سے شور مچاتی آبشار ہمارے سامنے تھی۔ اگر ہم اسے دیکھنے کا ارادہ التوا میں ڈال دیتے تو اس خوبصورت جادو بھرے منظر کو دیکھنے سے محروم رہ جاتے۔ پاکستان کی چند خوبصورت ترین آبشاروں میں شمار کی جانے والی اس آبشار کا سفید شفاف پانی بلندی سے جہاں گرتا تھا وہاں سے دور دور تک پھوار پڑتی تھی۔ ہم اس پھوار میں بھیگ رہے تھے اور من کرتا تھا یونہی بھگتے رہیں۔

واپس رہائش گاہ پہنچے تو لاج کے منیجر نے استقبال کیا اور رات بون فائر پراکٹھا ہونے کی دعوت دی۔ ہم نے کچھ دیر آرام کیا مگر آرام کہاں آتا تھا، بار بار باہر نکل کر منظروں میں گم ہو جاتے تھے۔ عشائیے پر وہیں دریا کنارے آگ کے شعلے مچل رہے تھے، بچے گنگنا رہے تھے، اوپر درختوں کے اندر سے چاند جھانک رہا تھا اور وہ وقت جو یہاں اسلام آباد میں ہاتھ نہیں آتا تھا ہمارے پہلو میں آکر دم سادھے بیٹھ گیا تھا۔

Facebook Comments Box
KumratKumrat Valleyکمراٹکمراٹ ویلیوادی کمراٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
محمد اظہار الحق: شخص اور شاعر — محمد حمید شاہد
next post
نواب واجد علی شاہ، ایک فنکار فرمانروا — اقدس ہاشمی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.