مشرق میں بھارت اورچین کا استثنا بجا مگر نافہ زمیں (قلب الارض یعنی پارس وروم) شدید خانہ جنگی کا شکار ہوکر خون میں لت پت تھا اور یورپ کی حالت زار بھی تسلی بخش نہیں تھی جب تار تارعالمی قبائے سماج کی رفوگری کے لئے اسلام خطہ عرب میں تاریخ کے منظر نامے پر نمودار ہوا۔
تاریخ انسانی اپنا دائرہ مکمل کرچکی تھی۔ یہودی اورعیسائی مذاہب انسانی مسائل کو یا تو بہت محدود پیرائے میں تنگ نظری سے دیکھ رہی تھے یا پھرفرقہ وارانہ جنگ و جدل کے الاو کو بھڑکا رہے تھے۔ دوسری جانب قدیم قبائلی اقدار اور رسوم رواج اپنا جوہروجواز کھو کر علاج کے قابل نہیں رہے تھے۔ ایک دردناک المیے کے چارسو ڈیرے تھے جب شاہ ولی اللہ کے الفاظ میں بازنطین اور پارس کی قبیح الجوہر کرپٹ سماجی و معاشی ساختیات کو توڑ کر تعمیرنو کی غرض سے اسلام بطور اخلاقی ضروت ظاہر ہوا۔ ان شدید بحرانوں کے ہنگام ایک شخص جو کمرشل شہر مکہ کے انسانی المیے سے ناخوش تھا، گہے اندرکے ابال کو ٹھنڈا کرنے کیلیے غار حرا میں گوشہ نشیں ہوجایا کرتا تھا کیونکہ شہر شدید سماجی اور معاشی ناہمواریوں کا مظہر تھا جہاں غیرمراعات یافتہ بے نمائندہ طبقہ پرکاہ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ پھرغیب سے ایک کھڑکی کھلی جس نے صحرائے عرب اور اس کے مضافات سے بہت دور تک تاریکیوں کو نور میں بدل دیا۔ قرآن قلب مصطفیٰ پر بحیثیت کلی نازل ہوا اور حکمت الٰہیہ کے تحت غلط و صحیح کے درمیان یکبار دائم لکیر کھینچ دی گئی۔
پیغمبر حقﷺ کے مذہبی تجربے میں توحید باری تعالیٰ اور سماجی معاشی انصاف یک زیستی و یک قلبی کا مظہر بن کر طلوع ہوئے (یہ تجربہ توحید الٰہیہ اور سماجی معاشی انصاف کا امتزاج و انصباغ تھا)۔ پیغمبرؑ کا اپنی قوم سے پہلا خطاب اتنا جیتا جاگتا جگمگاتا اور واضح و شفاف تھا کہ سیاسی، مذہبی اور سرمایہ دار اجارہ دار گروہوں نے پہلی ہی نشست میں اس کا اپنے خلاف مضمر چیلنجز بھانپ لیا تھا۔ اس پیغام میں پنہاں سماجی و معاشی پہلووں کا ادراک کرتے ہوئے پروفیسر ایچ۔آر۔گب لکھتے ہیں کہ مکہ کی خوشحالی کا ایک تاریک پہلو سماجی و معاشی عدم توازن تھا اور پیامبر اسلام کے باطنی قلزم خاموش میں ایک عظیم ہلچل اور اضطراب کی وجہ یہی فیکٹر تھا جو منفرد اور فل بلڈڈ خدا کے نظارے کے سبب کسی سماجی انقلاب کی تحریک بننے کے برعکس مذہبی چینل اختیار کرگیا۔ پروفیسر گب کے ریمارکس میں اہل مغرب کے علمی ڈسکورس میں مادہ و روح کی دوئی کا خبط نمایاں دکھائی دیتا ہے جسے وہ اسلام پر پیسٹ کر رہا ہے۔ ورنہ قرآن میں آغازکار سے ہی توحید الٰہیہ کا عظیم اخلاقی اصول اور سماجی و معاشی انصاف ایسی نامیاتی وحدت لیے ہوئے ہیں کہ ایک کا انکار لازماً دوسرے کے انکار پر منتج ہوتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر ایک نظم اخلاق قائم ہوا جس کا ظہور تاریخ انسانی کی پہلی سوشلسٹ ریپبلک ریاست مدینہ کی صورت میں ہوا۔
بعدازاں ملوکیت، مذہبی پیشوائیت اور تصوف نے مقاصد اسلام کو بطور سماجی بیانیہ کامیابی سے شکست دیکر اسے بے مغز رسوم کا چربہ بنا دیا، اجتماعی جدوجہد کی جگہ انفرادی نجات کے سلوگن نے لے لی اور اسلام بطور تحریک پہل کاری اخلاق moral initiative ختم ہوکر رہ گیا۔ جہاں تک سوشل جسٹس کا تعلق ہے یہ نہ تو ایک بار کا کوئی طے کردہ اصول ہے اور نہ ہی یہ کوئی یہودی، عیسائی یا مسلم خواص رکھتا ہے۔ یہ انسان کے مائل بہ نمو ادراکی، اخلاقی اور سائنسی شعور کے راست متناسب ہے۔ انیسویں صدی کا عظیم مصلح ماہر الٰہیات سید جمال الدین افغانی بھی اسی نتیجے پر پہنچا تھا کہ سماجی اور معاشی اصلاحات کی بنیاد مادہ پرستانہ میٹا فزکس کے برعکس عظیم اخلاقی اصول تصور توحید پر ہونی چاہیے۔ اس عظیم مصلح نے اہل اسلام میں اسکالرز کی ایک تابندہ کہکشاں کو مہمیز بخشی جنہوں نے اسلامک سوشلزم پر وقیع لٹریچر پیدا کیا۔ تاہم پالیسی کی اقلیم پر یہ صف علما مارکسزم کے آگے ڈھیر ہوگئی (چاہیے تو یہ تھا کہ یہ اسکالرز قرآن و سیرۃ سے سماجی و معاشی اصول اخذ کرتے، ان کی reformulation & restatement سے انہیں اپنے عہد کے سماجی اور معاشی چیلنجز کا حل تلاش کرتے، مگر راستے میں عہد وسطیٰ کا تاریخی اسلام پڑتا تھا جو زکوٰۃ، ربوٰۃ اور دیگر سماجی معاشی اصولوں کی بازیافت اور تعبیر نو میں حائل تھا۔ یوں نہ توآفاقی اسلام Normative Islam ہاتھ آیا اور نہ ہی تفہیم نو ہوسکی۔ نتیجتاً اسلامک سوشلزم کے عملی نفاذ کیلیے ماسکو پرست ہونا پڑا۔ صرف ادارہ زکوٰۃ ایک سوشل ویلفئر جمہوری ریاست کے جملہ معاشی امور کی انجام دہی کیلیے کافی تھا مگر مذہبی پیشوائیت کے آگے ایسی جرات رندانہ کا مظاہرہ کون کرتا۔ تقلید دماغ کے قویٰ چاٹ گئی اور قرآن و سیرہ پر مبنی نظام سماج و معاش شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا)۔ کمیونسٹ پالیسیز کی اسلامک سوشلزم پر پیوندکاری کی کوشش کی گئی۔ یوں اسلامک سوشلز م جیسا کہ مارکسزم کیساتھ نمودار ہوا تھا اس کی قسمت اپنی مصنوعی طور پر اختیار کردہ ماں surrogate mother مارکسزم کیساتھ بندھی تھی۔ یوں سویت روس ٹوٹنے سے جب مارکسزم دھڑام سے گرا تو نام نہاد اسلامک سوشلزم بھی انجام کو پہنچا۔
ابتدائی، حقیقی قرن اول کے اسلام نے توحید الٰہیہ کی سرسبزوشاداب زمیں میں سماجی اور معاشی اصلاحات کی تخم ریزی کی تھی جو سماجی معاشی توازن اور انسانی مساوات کا سروچراغاں ثابت ہوئی تھی جبکہ کمیونزم نے مادہ پرستی کی بنجر زمین میں معاشی توازن کی بیل لگائی جو سوکھ کرقصہ پارینہ ہوگئی۔ پاکستانی پیرائے میں اقبال نے سید جمال الدین افغانی کی تعبیر اسلام سے متاثر ہوکر عبدومولیٰ اور حاکم و محکوم کی تفریق سے بالاتر ایک ریاست کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ جناح اور لیاقت علیخان نے اسلامک سوشلزم کی پاسداری کا دم بھرا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کا پہلا منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسلامک سوشلزم کی لہر پر سوار ہوکر ایوان اقتدار میں پہنچا تھا۔ تاریخ مذہبی پیشوائیت اور سیکولر ایلیٹ کو بطور جڑواں بھائی دکھاتی ہے۔ بظاہر یہ باہم دگر گلہ کاٹتے دکھائی دیتے ہیں مگر جب منافقت کی تہہ ہٹا کر دیکھا جائے تو دونوں ہمزاد دکھائی دیتے ہیں۔ اس بنیادی نکتے کی دریافت کے بعد اقبال نے مذہبی پیشوائیت کا مذہب رد کیا اور سیکولرزم کو انسان د شمن قرار دیا۔
باطنی طور پر مذہبی پیشوائیت کا تحدیدی اسلام (پنج رکنی اسلام) سیکولرازم کو قبول کرتا ہے۔ مغربی جدیدیت اور اس کی ضمنی پروڈکٹس نے کرہ ارض کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا، سنہری بہترین امت وسط (اہل اسلام) کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام کو بطور سماجی معاشی عدل و اصلاحات کا سماجی بیانیہ تشکیل دے اور پھر اس کو شرمندہ تعبیر کرے تا کہ یہ ثابت ہو کہ اسلام آج بھی انسان کے سماجی معاشی اور سیاسی بحرانوں کا مداوا کرسکتا ہے۔
یہ مضمون انگریزی روزنامہ ڈان میں شایع ہوا، لنک درج ذیل ہے۔
https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=05_07_2024_007_001?ref=whatsapp
