تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینتنقیدعلم و ادب

ڈاکٹر غلام جیلانی برق: علمی تعلق کی روداد —- زبیر حفیظ

by دانش ڈیسک 09/05/2024
written by دانش ڈیسک 09/05/2024
316

ڈاکٹر غلام جیلانی میرے پہلے مرشد تھے ۔۔پہلا مرشد کی چھاپ پہلے محبوب کی یاد طرح پتھر پر لکیر کی مانند ثبت رہتی ہے۔۔۔ الھدی انٹرنیشنل اسلام آباد سے دورہ تفسیر القرآن اور حدیث کیئے کچی عمر کے پختہ لڑکے کے ہاتھ ایک دن دو اسلام نامی کتاب لگ جاتی ہے۔۔۔۔

کتاب اپنے نام ہی کی طرح انوکھی تھی ۔۔۔۔کتاب کیا تھی، جذبات و دلائل کا ایک سیلاب تھا جو بہہ کر لے جاتا ۔۔۔۔۔کتاب نے روایتی دین کے شیدائی نوجوان کو جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا۔۔۔ اس کتاب کے مصنف کا نام تھا ڈاکٹر غلام جیلانی برق۔۔۔

برق صاحب سے پھر بھی بیعت اتنی آسانی سے نہ کی ۔۔۔مرید کی طرح مرشد کی زندگی میں ہنگامہ خیز تھی ۔۔۔۔ امام مسجد کے گھر پیدا ہونے والے برق کی فکر مسجد کے محراب سے بہت آگے کی تھی ۔۔۔برق نے مدرسہ بھی پڑھا ۔۔۔درس نظامی کے فاضل بھی ہوئے ۔۔۔۔ایک مسجد کے مولوی بھی بنے۔۔۔مگر مولوی برق میں ایک ڈاکٹر برق بھی چھپا بیٹھا تھا ۔۔۔وہ ڈاکٹر برق جس کے لکھے مقالے نے کسریٰ آکسفورڈ کے کنگروں کو گرا دیا تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے ان کے مقالے کو قبولیت بخشی۔۔۔کسے معلوم تھا کہ مصلے پر امامت کرانے والا مولوی برق ایک دن ڈآکٹر برق بن کر ملائیت کے بخیئے ادھیڑ دے گا۔۔۔

‫دو قرآن | ریختہ‬‎

برق صاحب کی سب سے باکمال کتاب دو اسلام تھی ۔۔۔وہ کتاب ایک دفعہ تو روایتی دینی فکر رکھنے والے انسان کو ہلانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔۔۔برق کے دلائل میں بہاؤ اتنا تیز ہے کہ قاری کو بھرپور مخالفت کی باوجود ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔۔۔ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ، اب اسلام دو ہیں ایک اسلام وہ جو قرآن میں ہے اور دوسرا وہ جو لاکھوں ملاؤں۔۔۔درجنوں محدثین اور آئمہ نے احادیث اور روایات کی شکل میں گھڑ کر پیش کیا ہے ۔۔۔۔یہ دو اسلام ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہیں۔۔۔

اس کتاب پر تنقید بہت ہوئی۔۔ مولوی برق منکر حدیث برق ہو گے۔۔۔۔کئی کتابیں لکھیں گئیں اس کے خلاف ۔۔مگر دو اسلام پر سب سے جاندار اور پر اثر تنقید جماعت المسلمین کے بانی مسعود بی ایس نے کی ہے۔۔۔انھوں دو اسلام پر جوابی کتاب۔۔تفھیم اسلام ۔۔کے نام سے لکھی۔۔۔برق کے ایک ایک اعتراض کا چن چن کر بھرپور جواب دیا ۔۔۔مسعود بی ایس سے بھر پور اختلاف کے ان کے انداز تنقید کی داد تو بنتی ہے۔۔۔

دو اسلام اور انکارحدیث سے ڈاکٹر صاحب نے بعدازاں رجوع کر لیا تھا۔۔۔اور توبہ کے طور پر احادیث کے حق میں” تاریخ حدیث "کے نام سے ایک پلندہ لکھا۔۔مگر توبہ میں لذت کہاں جو گناہ میں ہے۔۔۔تاریخ حدیث برق کی سب سے تھکی ہوئی کتاب تھی۔۔۔پڑھ کر لگتا تھا۔۔برق کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر زبردستی کسی نے کتاب لکھوائی تھی۔۔۔

قادنیت پر برق کی کتاب حرف محرمانہ آئی۔۔۔برصغیر کے مولویوں نے احمدیوں کو کافر کرنے میں زیادہ اور ان کے عقائد کا علمی جواب دینے میں کم زور لگایا ہے۔۔علمی تنقید کیسی کی جاتی ہے یہ حرف محرمانہ پڑھ کر پتہ چلتا ہے۔۔۔برق نے یہ کتاب درد دل رکھ لکھی ہے۔۔۔

کتاب کے انتساب میں لکھتے ہیں۔۔۔

"ان احمدی بھائیوں کے نام جو حق و صداقت سے محبت رکھتے ہیں۔۔”

کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کوئی سرجن مریض کا درددل رکھ کر بلیڈ سے چیرا لگا رہا ہے۔۔۔تاکہ اس چیر پھاڑ سے مریض کی جان بچ سکے۔۔۔حرف محرمانہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ۔۔

"(مسلئہ قادیانیت) کا حل اسی میں ہے کہ اگر احمدیت کی رائے ٹھیک ہے تو ہمیں سپر ڈال دینا چاہے اگر نہیں تو وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔۔”

برق صاحب کا ایک اور خاص کام امام ابن تیمیہ پر مقالہ ہے۔۔اردو میں ابن تیمیہ پر اتنا جامع کام پہلے کم ہی ہوا تھا۔۔مقالے کی تصیح برق نے مولانا مودودی سے کروائی تھی۔۔اسی مقالے کو بعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی نے قبولیت بخشی تھی ۔۔۔مقالے میں برق صاحب نے ابن تیمیہ کی درجنوں کتب کے احوال کو حروف تہجی کی ترتیب سے مرتب کیا ہے جو بڑے خاصے کی چیز ہے۔۔۔

برق صاحب کا سب سے مشہور کام ان کی کتاب دو قرآن ہے۔۔۔برق نے اعتراف کیا تھا کہ وہ کسی دور میں ملحد رہ چکے تھے۔۔۔۔ملحد برق کے الحاد کا کفارہ دو قرآن کی صورت میں ادا ہوا۔۔

برق صاحب کے خیال میں۔۔۔ایک قرآن تو وہ ہے جو صحیفے کے اندر لکھا ہے اود دوسرا قرآن وہ ہے جو فطرت میں ہے۔۔۔ایک قرآن قول خدا کثے اور دوسرا عمل خدا۔۔۔برق نے اچھا خاصا سائنس کو کلمہ پڑھوا کر مسلمان کر لیا تھا دو قرآن میں۔۔۔جہاں سائنس کو اسلام کے آگے سجدہ کروانے کی ضرورت پڑتی وہاں سائنس کو سجدہ کرواتے اور جہاں مذہب کو سائنس کا ساجد بنانے کی نوبت آئی تو وہاں دریغ نہیں کیا۔۔۔

دو قرآن میں ابابیل کے ہاتھیوں پر کنکر برسانے سے ان کے ہلاک ہونے کی بھی سائنسی توجیہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ایک کنکر کو بیس ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے پھینکا جائے تو وہ کنکر بندوق کی گولی جتنا خطر ناک ہو سکتا ہے۔۔جو بآسانی ہاتھی کو مار ڈالے گا۔۔اور جہاں آدم کی پیدائش کا قصہ آیا تو برق نے ارتقاء کو قبول کر لیا۔۔۔

No photo description available.

برق کی جو کتاب میرے دل کے قریب ہے وہ ہے من کی دنیا ۔۔۔۔مشرقی تصوف اور مغربی ایلوپیتھی کا دم لگا کر برق صاحب نے جو "لاجیکل تصوف” کا اچار بنایا ہے وہ ہے تو بہت خوش ذائقہ مگر پیٹ کو خراب کر دیتا ہے ۔۔۔برق نے جابجا مغربی ماہرین عمل تنویم یا ہپٹانزم اور علماء ایک پیتھی کے اقوال کا ملغوبہ تیار کر کے صوفی ازم کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔

مگر ڈاکٹر صاحب یہ بھول گیے ایلو پیتھی اور ہپٹانزم ایک فن ہے ۔۔۔اگر تصوف کو اس سے ثابت کریں گے تو تصوف بھی ایک فن بن کے رہ جائے گا ۔۔۔فن انسان کو کمرشل بناتے ہیں اس سے آپ تقوی اور تطہیر قلب نہیں حاصل کرسکتے۔۔۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق بہت بڑے سکالر تھے۔۔۔ان کا حلقہ بہت وزنی تھا ۔۔مولانا مودودی، شورش کاشمیری، ڈاکٹر حمیداللہ، شفیق الرحمن، عبدالماجد دریا آبادی اور علامہ مشرقی جیسے لوگ ان کی مجلس میں بیٹھا کرتے۔۔۔۔

پر برق صاحب درویش صفت انسان تھے ۔۔۔کوئی جتھا یا معتقدین کا گروہ بنا کر نہیں چھوڑا ۔۔مودودی صاحب نے جماعت اسلامی کی چھتری بنا کر تان لی ۔۔۔شورش کو احراریوں کی چھتر چھایا مل گی ۔۔۔عبدالماجد دریا بادی دیوبند کے پلو میں چھپ گے ۔۔۔علامہ عنایت اللہ مشرقی کو خاکسار ان مل گئے ۔۔۔پیچھے رہ گے ہمارے مرشد برق صاحب۔۔۔ نہ کوئی فرقہ کھڑا کیا نہ تنظیم اور نہ نام لیوا۔۔۔۔ مگر برق کی تحریریں نام لیواؤں کی محتاج نہیں ہیں۔۔

برق نے من کی دنیا میں اپنی زندگی کے بارے میں لکھا ہے۔۔

کہ ناکامیاں ان پر عاشق ہوگئیں تھیں ۔۔۔ہر دروازہ بند تھا ۔۔علمی فتوحات حاصل کرنے کے باوجود کنگال تھا ۔۔۔کبھی جیب میں پیسے نہ ہوتے اور جب پیسے ہوتے تو انھیں رکھنے کے لیئے جیب نہ ہوتی ۔۔۔پھر انھیں ایک بزرگ مرشد مل گئے۔۔۔

انھوں نے برق صاحب کو بتایا کہ تمھاری پیدائش سینچر کے دن کوئی جو منحوس دن ہے اس نحوست کا اثر زائل کرنے کے لیئے انھیں بزرگ نے چند وظائف بتائے جس کے بعد برق صاحب کی زندگی ان کے بقول بدل گئی۔۔۔

ہمیں مرشد برق کے وظیفے نہ بدل سکے تو مرشد بدل لیا مگر پہلی نوکری پہلے مرشد اور پہلے معشوق کے اثر سے انسان نکل نہیں پاتا۔۔

Facebook Comments Box
Dr. Barqتصوفدو اسلامدو قرآنڈاکٹر برقڈاکٹر غلام جیلانی برق
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
انصاف، عوام اور جمہوریت کی حقیقت —– انور عباسی
next post
تجدد : فکری و تہذیبی سیاق و سباق —- محمد دین جوہر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.