تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالممعیشت

ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کی تباہی میں سامراجی پالیسیوں کا کردار

مترجم: جہانزیب اکرم

by دانش ڈیسک 04/04/2024
written by دانش ڈیسک 04/04/2024
239

(درج ذیل تحریر ٹائمز آف انڈیا میں شائع شدہ ایک انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے مضمون میں ضروری اضافے کئے گئے ہیں۔ )

ہندوستان پر برطانوی نو آبادیاتی حکمرانی کا تاریخی تناظر اقتصادی مفادات، ثقافتی حرکیات اور سامراجی عزائم کے ایک پیچیدہ تعامل سے عبارت ہے۔ اس نو آبادیاتی دور کا ایک نمایاں پہلو انگریزوں کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل پر پابندیاں عائد کرنا تھا۔ اگرچہ تمام ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر مکمل پابندی نہیں تھی لیکن برطانوی حکام نے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت ایسی پالیسیاں اختیار کیں جنہوں نے ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ مضمون ہندوستانی ٹیکسٹائل پر برطانوی پابندیوں کے مقاصد بیان کرتا ہے اور ایسے سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات کا جائزہ لیتا ہے جن کی وجہ سے ان اقدامات کو نافذ کیا گیا۔ ذیل میں ہم ان محرکات کا جائزہ پیش کریں گے۔

اقتصادی مفاد اور صنعتی غلبہ

برطانیہ کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر پابندی کا ایک بنیادی محرک برطانیہ کے صنعتی اور پیداواری شعبے کے مفادات کا تحفظ تھا۔ صنعتی انقلاب کے دوران مشین کی ایجاد کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی پیداوار کا عمل بہت تیز ہو چکا تھا۔ خام مال، خاص طور پر کپاس کی طلب بہت زیادہ تھی۔ صدیوں تک ہندوستان دنیا بھر میں کپاس کی مصنوعات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ (exporter) رہا تھا۔ ہندوستانی کپڑے کی مصنوعا ت کی بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت پر بے جا ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد کرنے کے نتیجے میں برطانیہ نے ہندوستان سےٹیکسٹائل کے خام مال یعنی کپاس کی بلا تعطل فراہمی کوممکن اور یقینی بنایا۔ اس عمل نے برطانوی صنعت کاروں کو ہندوستانی خام مال پر سرمایہ کاری کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انگریز کی آمد کے بعد ہندوستان، برطانوی کپاس کی مصنوعات کے درآمد کنندہ (importer) اور خام روئی کے برآمد کنندہ (exporter) میں تبدیل ہوگیا۔ یعنی ہندوستان برطانیہ کو سستی کپاس بیچ کر مہنگے داموں برطانیہ سے کپڑا خریدنے پر مجبور تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں برطانیہ میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا جبکہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ اس صورت حال سے متعلق ہندوستان میں پہلے برطانوی گورنر جنرل ولیم بینٹنک نے بجا طور پر کہا تھا:

“The Bones of cotton weavers are bleaching the plains of India”(William Bentink)

 ”کپاس(سے کپڑا) بنانے والوں کی ہڈیاں ہندوستان کے میدانی علاقوں کو (اپنے خون سے) رنگ رہی ہیں“

منڈیوں پر اجارہ داری اور اپنے مفادات کا تحفظ:

ہندوستانی مصنوعات پر برطانوی پابندیوں کی جڑیں برطانیہ کی اجارہ دارانہ تحفظ پر مبنی معاشی پالیسیوں میں پیوست تھیں۔ نو آبادیاتی انتظامیہ کے پیش ِنظر مقامی (برطانوی) صنعت کو کسی بھی قسم کی مسابقت، بشمول ہندوستانی مصنوعات کا مقابلہ کرنے سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے برطانوی حکومت نے ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر درآمدی محصولات، ڈیوٹیاں اور بھاری ٹیکسوں کا نفاذ کیا جس سے وہ برطانوی مارکیٹ میں بہت مہنگی ہو کر مسابقتی میدان سے باہر ہونے لگیں۔ اس حکمت عملی نے برطانوی صنعت کاروں کے کاروباری مفادات کو تقویت پہنچائی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی مصنوعات اندرون و بیرون ملک مقبول اور غالب رہیں۔ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کو دبا کر برطانیہ نے تجارتی حرکیات (Trade Dynamics) کو بڑے موثر طریقے سے اپنے حق میں کر لیا۔

نو آبادیاتی استحصال اور اقتصادی وسائل کی نکاسی:

برطانوی حکام ہندوستان کے قدرتی وسائل اور دولت کے منظم استحصال میں بھی مصروف تھے۔ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت پر پابندی نے بالواسطہ طور پراِس استحصال میں اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو تباہ کرنےکے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کو تجارتی عدم توازن اور ٹیکسوں کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا۔ اِس اقتصادی نکاس، یعنی ہندوستانی دولت کی برطانیہ منتقلی کے، ہندوستان کی ترقی اور صنعتی نمو پر دوررَس منفی اثرات مرتب ہوئے اور ہندوستان کا برطانیہ پر معاشی انحصار بہت بڑھ گیا۔ آزادی کے بعد بھی ہندوستانی صنعت وتجارت کواپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔

دستکاری کی مقامی صنعت کو تباہ کرنا:

برطانوی نو آبادیاتی انتظامیہ نے ایک ایسا سماجی اور اقتصادی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کی جو برطانوی مفادات اور اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ اس ڈھانچے میں ہندوستان کی مقامی دستکاری کی صنعت کو نقصان پہنچانا بھی شامل تھا۔ مثال کے طور پر کھڈی کے زریعے کپڑا بنانے کی مقامی صنعت کو تباہ کردیا گيا، جو کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کا مرکز تھی۔ برطانوی حکومت کی طرف سے ہندوستانی مصنوعات کی تیاری اور خرید و فروخت پر پابندیاں عائد کرنے کے نتیجے میں کپڑے کو استعما ل کرنے سے متعلق ہندوستانی رسم و رواج تبدیل ہونے لگےحالانکہ ان رسم و رواج کی جڑیں ہندوستانی ثقافت میں بہت گہری تھیں۔ اس نے نہ صرف ہندوستان کی ثقافتی شناخت کو نقصان پہنچایا بلکہ اُس کے اقتصادی استحکام کو بھی زوال سے دوچارکیا۔

سماجی اجارہ داری اور نو آبادیاتی تسلط:

ہندوستانی مصنوعات پر پابندی کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی اپنی جگہ اہم تھے۔ ہندوستانی مصنوعات پر پابندی کے نتیجے میں معیشت اور معاشرت پر برطانوی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی لوگوں کی معاشی خودمختاری کو رفتہ رفتہ ختم کرنا تھا اور انہیں برطانوی نوآبادیاتی غلامی کے شکنجے میں مزید قید کرنا تھا۔ غلامی سے پہلے ہندوستانی کپڑا اپنی کم قیمت اور اعلی ٰمعیار کے سبب مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مقبول تھا لیکن انگریز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہندوستان صرف خام مال (کپاس وغیرہ) کا فراہم کنندہ (supplier) اور تیار شدہ برطانوی مصنوعات کا صارف (consumer) رہے تاکہ اُن کے نوآبادیاتی تسلط کو مزید تقویت ملے۔ برطانوی حکام کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل پر پابندیاں اُس بڑے ایجنڈے کا ایک جُزو تھا جس کا مقصد ہندوستان کی معیشت، ثقافت اور معاشرت کو غلام بنا کر برطانیہ کی ترقی کی راہ ہموار کرنا تھا۔

برطانوی صنعتی شعبے کے معاشی مفادات، تحفظ پسندانہ اقدامات، مارکیٹ کنٹرول اورمنظم اِستحصال جیسے عناصر نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں ہندوستانی مصنوعات کی خرید و فروخت کو منظم طریقے سے دبا دیا گیا۔ اِس دباؤ کے ہندوستان کی اقتصادی ترقی، ثقافتی ورثے اور سیاسی و سماجی خودمختاری پر دوررَس اثرات مرتب ہوئے۔ اِن پابندیوں کے پیچھے چھپے مقاصد کا اِدراک حاصل کرنا، نوآبادیاتی حکمرانی کی پیچیدگیوں اور ہندوستانی ترقی کی رفتار پر اُس کے اثرات کو سمجھنے میں مفید اور معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اصل مضمون کا لنک:-

https://m.timesofindia.com/life-style/fashion/buzz/why-were-indian-textiles-banned-by-the-britishers/articleshow/102659300.cms

Facebook Comments Box
British colonial ban on Indian TextilesIndian textileIndian textiles bannedٹائمز آف انڈیامنڈیوں پر اجارہ دارینو آبادیاتی استحصالہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کی تباہیہندوستانی کپڑا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مادی مابعدالطبیعات — ڈاکٹر غلام شبیر
next post
گاتھک لیڈی: سامراجی آرکیٹکچر اور مقامی احساس کمتری —- طلحہ شفیق

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.