(درج ذیل تحریر ٹائمز آف انڈیا میں شائع شدہ ایک انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے مضمون میں ضروری اضافے کئے گئے ہیں۔ )
ہندوستان پر برطانوی نو آبادیاتی حکمرانی کا تاریخی تناظر اقتصادی مفادات، ثقافتی حرکیات اور سامراجی عزائم کے ایک پیچیدہ تعامل سے عبارت ہے۔ اس نو آبادیاتی دور کا ایک نمایاں پہلو انگریزوں کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل پر پابندیاں عائد کرنا تھا۔ اگرچہ تمام ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر مکمل پابندی نہیں تھی لیکن برطانوی حکام نے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت ایسی پالیسیاں اختیار کیں جنہوں نے ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ مضمون ہندوستانی ٹیکسٹائل پر برطانوی پابندیوں کے مقاصد بیان کرتا ہے اور ایسے سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات کا جائزہ لیتا ہے جن کی وجہ سے ان اقدامات کو نافذ کیا گیا۔ ذیل میں ہم ان محرکات کا جائزہ پیش کریں گے۔
اقتصادی مفاد اور صنعتی غلبہ
برطانیہ کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر پابندی کا ایک بنیادی محرک برطانیہ کے صنعتی اور پیداواری شعبے کے مفادات کا تحفظ تھا۔ صنعتی انقلاب کے دوران مشین کی ایجاد کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی پیداوار کا عمل بہت تیز ہو چکا تھا۔ خام مال، خاص طور پر کپاس کی طلب بہت زیادہ تھی۔ صدیوں تک ہندوستان دنیا بھر میں کپاس کی مصنوعات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ (exporter) رہا تھا۔ ہندوستانی کپڑے کی مصنوعا ت کی بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت پر بے جا ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد کرنے کے نتیجے میں برطانیہ نے ہندوستان سےٹیکسٹائل کے خام مال یعنی کپاس کی بلا تعطل فراہمی کوممکن اور یقینی بنایا۔ اس عمل نے برطانوی صنعت کاروں کو ہندوستانی خام مال پر سرمایہ کاری کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انگریز کی آمد کے بعد ہندوستان، برطانوی کپاس کی مصنوعات کے درآمد کنندہ (importer) اور خام روئی کے برآمد کنندہ (exporter) میں تبدیل ہوگیا۔ یعنی ہندوستان برطانیہ کو سستی کپاس بیچ کر مہنگے داموں برطانیہ سے کپڑا خریدنے پر مجبور تھا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں برطانیہ میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا جبکہ ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ اس صورت حال سے متعلق ہندوستان میں پہلے برطانوی گورنر جنرل ولیم بینٹنک نے بجا طور پر کہا تھا:
“The Bones of cotton weavers are bleaching the plains of India”(William Bentink)
”کپاس(سے کپڑا) بنانے والوں کی ہڈیاں ہندوستان کے میدانی علاقوں کو (اپنے خون سے) رنگ رہی ہیں“
منڈیوں پر اجارہ داری اور اپنے مفادات کا تحفظ:
ہندوستانی مصنوعات پر برطانوی پابندیوں کی جڑیں برطانیہ کی اجارہ دارانہ تحفظ پر مبنی معاشی پالیسیوں میں پیوست تھیں۔ نو آبادیاتی انتظامیہ کے پیش ِنظر مقامی (برطانوی) صنعت کو کسی بھی قسم کی مسابقت، بشمول ہندوستانی مصنوعات کا مقابلہ کرنے سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے برطانوی حکومت نے ہندوستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر درآمدی محصولات، ڈیوٹیاں اور بھاری ٹیکسوں کا نفاذ کیا جس سے وہ برطانوی مارکیٹ میں بہت مہنگی ہو کر مسابقتی میدان سے باہر ہونے لگیں۔ اس حکمت عملی نے برطانوی صنعت کاروں کے کاروباری مفادات کو تقویت پہنچائی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی مصنوعات اندرون و بیرون ملک مقبول اور غالب رہیں۔ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کو دبا کر برطانیہ نے تجارتی حرکیات (Trade Dynamics) کو بڑے موثر طریقے سے اپنے حق میں کر لیا۔
نو آبادیاتی استحصال اور اقتصادی وسائل کی نکاسی:
برطانوی حکام ہندوستان کے قدرتی وسائل اور دولت کے منظم استحصال میں بھی مصروف تھے۔ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت پر پابندی نے بالواسطہ طور پراِس استحصال میں اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو تباہ کرنےکے نتیجے میں حاصل ہونے والی دولت کو تجارتی عدم توازن اور ٹیکسوں کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا۔ اِس اقتصادی نکاس، یعنی ہندوستانی دولت کی برطانیہ منتقلی کے، ہندوستان کی ترقی اور صنعتی نمو پر دوررَس منفی اثرات مرتب ہوئے اور ہندوستان کا برطانیہ پر معاشی انحصار بہت بڑھ گیا۔ آزادی کے بعد بھی ہندوستانی صنعت وتجارت کواپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔
دستکاری کی مقامی صنعت کو تباہ کرنا:
برطانوی نو آبادیاتی انتظامیہ نے ایک ایسا سماجی اور اقتصادی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کی جو برطانوی مفادات اور اقدار سے ہم آہنگ ہو۔ اس ڈھانچے میں ہندوستان کی مقامی دستکاری کی صنعت کو نقصان پہنچانا بھی شامل تھا۔ مثال کے طور پر کھڈی کے زریعے کپڑا بنانے کی مقامی صنعت کو تباہ کردیا گيا، جو کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت کا مرکز تھی۔ برطانوی حکومت کی طرف سے ہندوستانی مصنوعات کی تیاری اور خرید و فروخت پر پابندیاں عائد کرنے کے نتیجے میں کپڑے کو استعما ل کرنے سے متعلق ہندوستانی رسم و رواج تبدیل ہونے لگےحالانکہ ان رسم و رواج کی جڑیں ہندوستانی ثقافت میں بہت گہری تھیں۔ اس نے نہ صرف ہندوستان کی ثقافتی شناخت کو نقصان پہنچایا بلکہ اُس کے اقتصادی استحکام کو بھی زوال سے دوچارکیا۔
سماجی اجارہ داری اور نو آبادیاتی تسلط:
ہندوستانی مصنوعات پر پابندی کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی اپنی جگہ اہم تھے۔ ہندوستانی مصنوعات پر پابندی کے نتیجے میں معیشت اور معاشرت پر برطانوی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی لوگوں کی معاشی خودمختاری کو رفتہ رفتہ ختم کرنا تھا اور انہیں برطانوی نوآبادیاتی غلامی کے شکنجے میں مزید قید کرنا تھا۔ غلامی سے پہلے ہندوستانی کپڑا اپنی کم قیمت اور اعلی ٰمعیار کے سبب مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں مقبول تھا لیکن انگریز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہندوستان صرف خام مال (کپاس وغیرہ) کا فراہم کنندہ (supplier) اور تیار شدہ برطانوی مصنوعات کا صارف (consumer) رہے تاکہ اُن کے نوآبادیاتی تسلط کو مزید تقویت ملے۔ برطانوی حکام کی طرف سے ہندوستانی ٹیکسٹائل پر پابندیاں اُس بڑے ایجنڈے کا ایک جُزو تھا جس کا مقصد ہندوستان کی معیشت، ثقافت اور معاشرت کو غلام بنا کر برطانیہ کی ترقی کی راہ ہموار کرنا تھا۔
برطانوی صنعتی شعبے کے معاشی مفادات، تحفظ پسندانہ اقدامات، مارکیٹ کنٹرول اورمنظم اِستحصال جیسے عناصر نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں ہندوستانی مصنوعات کی خرید و فروخت کو منظم طریقے سے دبا دیا گیا۔ اِس دباؤ کے ہندوستان کی اقتصادی ترقی، ثقافتی ورثے اور سیاسی و سماجی خودمختاری پر دوررَس اثرات مرتب ہوئے۔ اِن پابندیوں کے پیچھے چھپے مقاصد کا اِدراک حاصل کرنا، نوآبادیاتی حکمرانی کی پیچیدگیوں اور ہندوستانی ترقی کی رفتار پر اُس کے اثرات کو سمجھنے میں مفید اور معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
اصل مضمون کا لنک:-
