تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمتنقیددیگرسماجیعلم و ادبعلمیفلسفہکالمنایاب کتب

از منہ وسطی میں نظریہِ تصور The Wake of Imagination ۔۔ رچرڈ کیئرنی-ترجمہ: ناصر فاروق

بعد از تصور۔ ما بعدجدید یت کی جانب (تہذیب تصور سے تصویروں کی تہذیب تک۔ مغربی فکر کی تاریخ)

by دانش ڈیسک 20/09/2023
written by دانش ڈیسک 20/09/2023
455

(تعارف: رچرڈ کئیرنی آئرش فلسفی اور دانشور ہیں۔ اُن کی زیر نظر کتاب The Wake of Imagination مغربی فکر کی تاریخ میں فلسفہ ”تصور“ کے سفرکا بیان ہے۔ مقدمہ اس کتاب کا یہ ہے کہ آدمی کا ”تصور“ آغاز میں آفاقی تھا، جو بتدریج کائناتی وسعتوں سے سمٹ کرٹی وی اور موبائل اسکرینز کی تصویروں میں ڈھل گیا ہے۔ یہ مغربی انسان کے تصور کے انحطاط کی تاریخ ہے۔ جسے مصنف نے عصرحاضر کی مابعد جدید صورتحال میں انتہائی باریک بینی اور تحقیق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس تصنیف کا مقصد مصنف نے یہ بیان کیا ہے، کہ کس طرح آدمی کے تصور اور کائناتی اقدار کی اہمیت اور ضرورت ازسر نو زندہ کی جائے، اور جدیدیت کے بعد کی صورتحال (مابعد جدیدیت) سے انسانوں کو نجات دلائی جائے۔ مترجم)


الف لیلٰی کی داستانیں، سنی گئیں سنائی گئیں، سب ایک سی۔۔۔
مگر یہ جہاں، یہ ذہن ہمیشہ اپنی ہی کہانیاں لکھتا رہا لکھتا رہے گا۔۔۔
آدمی ہر معاملہ میں بعید از عقل احساسات کا تابع رہا۔۔۔
(James Joyce, Finnegans Wake)

میں زمیں پر وہ پیکر قدسی ہوں۔۔۔
کہ جس کی نظر سے، تم کار جہاں دیکھتے ہو۔۔۔
(Wallace Stevens—on imagination)

تعارف: تہذیبِ تصور۔۔۔ آج؟

آج ہم جہاں بھی رخ کرتے ہیں ہر جگہ خود کو تصویروں میں گھرا پاتے ہیں۔ گھر کے ٹی وی سے بل بورڈ کے اشتہاروں تک، انتخابات کے پوسٹرز سے نیون سائن تک، ہماری مغربی تہذیب تیزی سے ’تصویر کی تہذیب‘ بنتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہماری زندگی کے وہ گوشے کہ جن کے بارے میں ہمیں یہ خوش گمانی ہے، کہ ’تصویروں‘ سے بچے ہوئے ہیں، وہ بھی کسی نہ کسی طور جھلملاتی تصویروں کی زد میں ہیں۔ یہ درحقیقت ممکن ہی نہ رہا کہ کوئی نام نہاد فطری ماحول سازی مکمل طور پر کی جاسکے۔ ہر جگہ صارفیت پسند تصویریں پس منظر سے جھانکتی نظر آجاتی ہیں۔ ایک پہاڑی مہم جوئی مارلبورو سگریٹ کے بغیر نظر نہیں آتی، سمندر کا تاحد نظر منظر اب سیاحتی کمرشل سے جڑا ہوتا ہے، اور دیگرفطری مناظر کی معصومیت بھی اشتہار زدہ ہوچکی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا داخلی لاشعور بھی اس سے خالی نہیں۔ ہمارے جسم کی مانند، ہماری نفسیات کی دنیا بھی تصویری صنعت کی نوآبادی بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ نجی جنسی زندگی بھی لپیٹ میں ہے۔ ٹی وی سوپ اوپرا جیسے کہ ڈلاس اینڈ ڈائناسٹی Dallas and Dynasty پرلاکھوں کروڑوں ڈالر صرف کیے گئے ہیں۔ اس بات پر کہیں کوئی تاسف نظر نہیں آتا کہ پندرہ سال عمر سے کم تقریبا پچاس فیصد امریکی بچوں نے شاید ہی کوئی ٹی وی پروگرام شروع سے آخر تک دیکھا ہوگا!

ٓایسے حالیہ اطوارسے چند مبصرین نے خیال ظاہر کیا، جیسا کہ McLuhan نے کہا ہے کہ پرنٹ میڈیا کی گوٹنبرگ کہکشاں کا ٹیلی کمیونکیشنز کے عالمی گاؤں میں ڈھل جانا علم اور خواندگی کی روایتی ہم آہنگی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ کتاب کی ثقافت، ایسا معلوم ہوتا ہے، تصویر کی ثقافت میں بدل رہی ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی دعوٰی کر رہے ہیں کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں کہ جہاں مطالعہ ایک تاریخی مغالطہ بن چکا ہے، بس اک یاد ماضی سے زیادہ کچھ نہیں۔

دور حاضر کی آنکھ معصوم نہیں رہی۔ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ تقریبا سوچی سمجھی تصویروں کی معلومات پرمبنی ہوتا ہے۔ یقینا آج کی تصویر اور گزرے وقتوں کی تصویر میں ایک بنیادی فرق ہے۔ آج تصویرحقیقت کی ترجمانی کے بجائے اُس کی صورت گری کرتی ہے۔ اسے دوسرے لفظوں میں کہا جائے، حقیقت تصویر کا بے رنگ عکس بن چکی ہے۔ یہ الٹ پھیر بہت سے معیارات میں واضح ہوچکا ہے۔ سیاست میں، ہم صدور اور وزرا اعظم کا انتخاب صرف میڈیا میں اُن کی تصویری ترجمانی پر کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں، حالات حاضرہ ہمارے سامنے زیادہ سے زیادہ سنسنی خیز تصویری پیکج کی صورت لائے جاتے ہیں۔ درحقیقت، نیوز میکنگ نیوز رپورٹنگ کی جگہ لے رہی ہے۔ معیشت کی سطح پر، یہ بات دستاویزی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ صارف معاشرہ، خاص طورپر موجودہ بعد ازصنعتی دور، مادی پیداوار محض ”چھپ کر ترغیب دینے والوں کی مٹھی میں ہے“ کہ جو نئے تصویری برینڈز کی تشہیر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ، معاشرہ کی سطح پر، ہم دیکھتے ہیں کہ تصویر بڑے کروفر سے حقیقت کی جگہ لے رہی ہے، جیسا کہ روز مرہ کی ڈرامائی اور اشتہاری صورت گری میں نمایاں ہے۔

فنی ثقافت کی سطح پر یہ احساس بڑھتا جارہا ہے کہ تصویریں اُن حقیقتوں کی جگہ لے رہی ہیں، کہ جوحقیقتیں روایتی طور پر ہمیشہ معانی منعکس کرتی رہی ہیں۔ حقیقت اور تخیل میں فرق تقریبا ناممکن ہوچکا ہے۔ اس صورتحال نے عصری فنون میں شدید بحران پیدا کردیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ادبی تحریریں اب سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ حقیقت اور فکشن میں روایتی تعلق ٹوٹتا محسوس ہورہا ہے۔ اسی طرح، فلمیں بھی ذرائع ابلاغ کی صناعی اور نام نہاد روزمرہ تجربات کا ملغوبہ ’حقیقت‘ بناکر پیش کر رہی ہیں۔ پلاسٹک فنی نمونے بھی ڈرامائی طورپر ہنر اورہنرمندی میں فرق مٹارہے ہیں۔ آرٹ ’آرٹ دشمنی‘ بن چکا ہے۔ اعلی ثقافت اور عوامی ثقافت میں فاصلہ مٹ چکا ہے۔ ماس میڈیا تصویرنے اصل فن پارے کا مقدس تصور مجروح کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ’فن پاروں‘ کو ’کمرشل تصویروں‘ میں ڈھلتا دیکھ رہے ہیں۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اصل ہنر مضحکہ خیز نقل میں ڈھل چکا ہے۔

تہذیب حاضر کی ایک بہت ہی عجیب بات یہ ہے، کہ آدمی کے تخلیقی تصور کی عظمت خطرے میں لگ رہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہم نہیں جانتے کہ کون یہ تصویری ثقافت تشکیل دے رہا ہے اور اسے فروغ دے رہا ہے، کہ جو ہماری شعور سازی کر رہا ہے۔

ہم ایک ایسی بند گلی میں ہیں، کہ جہاں تصور اور حقیقت الٹ پلٹ ہوچکی ہیں بلکہ تہ وبالا ہوچکی ہیں۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کون سا کون سا ہے۔ یہ فیصلہ نہ کرسکنے کی حالت اس شک کو گہرا کرتی ہے کہ شاید ہم ’بعد از تصور تہذیب سازی‘ میں معاون بن چکے ہیں۔

”تہذیب تصور“ حالت مرگ میں ہے اور یہی وہم واضح طور پر مابعد جدید ذہن پر سوار ہے۔ مابعد جدیدیت، جدیدیت کے اس یقین کو کمزور کرتا ہے کہ تصور، اظہار کا مستند ذریعہ ہے۔ مابعد جدیدیت کاعام طور پر جو تصورِ ”تصور‘ ہے، وہ اپنا مصنوعی پن خود ظاہر کرتا ہے، اپنی بناوٹی ساکھ اور اتھلا پن خود دکھاتا ہے۔ جیسا کہ اینڈی وارہول کی یہ بڑ کہ اگر پکاسو جیسا مصور ساری زندگی میں چار ہزار فن پارے تخلیق کرسکتا ہے، تووہ یہی کام ایک دن میں کرکے دکھا سکتا ہے۔ پاپ آرٹ کا پوپ اینڈی وارہول اس خیال کو رد کرتا ہے کہ کسی آرٹ کی اصل تخلیق خاص زمان و مکان سے مخصوص ہوتی ہے، عدیم المثال ہوتی ہے۔ وہ یہ کہہ کرمابعد جدید تصور ’تصور‘ کی وضاحت کرتا ہے کہ ”تصور“ اب میکانیکی طورپر قابل نقل شے بن چکا ہے۔ یہ اُس عالمی ابلاغی نظام کا حصہ بن چکاہے کہ جو بین البراعظمی سطح پر ایک ہی وقت میں ایک ہی طرز پر نقل واشاعت سے گزر سکتا ہے۔

مابعد جدید فن کار بخوبی جانتے ہیں کہ گرافک انقلاب سے انسانی شعور میں بڑی انقلابی توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ڈرائی پلیٹ فوٹو گرافی کی دریافتیں، الیکٹرانک پرنٹنگ، رول فلم، ٹیلی فون، اورفونو گراف نمایاں مثالیں ہیں۔ چالیس کی دہائی کے بعد ٹیلی وژن کا تیزی سے امریکا اور دنیا میں پھیلاؤ، ایک ایسا ثقافتی مظہر ہے جس نے نصف ارب انسانوں کو 1986 کا ورلڈ کپ بیک جنبش بیک وقت دکھایا۔ ٹیکنالوجیکل تصویر کی آمد نے یہ اشاہ دیا کہ اب ہم پراڈکشن سے ری پراڈکشن کے دور میں منتقل ہوچکے ہیں۔ مابعد جدید ثقافت میں، صنعتی مصنوعات بعد از صنعتی ابلاغیات کے زیر نگیں آگئیں۔ وڈیو ریکارڈر، کمپیوٹر اسکرین، اور پرنٹ آؤٹ سے لیس، مابعد جدید ذہن دن بہ دن آرٹ کی بے مثل اور منفرد حیثیت فراموش کرتا جا رہا ہے۔ اب کوئی مخصوص فرد اپنی ہی تصویروں کا بنانے والا یا منفرد فن کار نہیں سمجھا جارہا۔ اب یہ خیال عام حقیقت ہے کہ جو تصویریں ہمارے پاس ہیں، اُن کی نقل ہم سے بھی پہلے کسی کی ملکیت بن چکی ہیں۔ مابعد جدیدیت کی ”تصویر“ قابل تبادلہ صنعت بن چکی ہے، کہ جو اُس کی بناوٹی حیثیت اور سطحیت کی پذیرائی کرتی ہے۔

بہت سے ما بعد جدید کاموں میں مصوری اور مصنوعی تصویر کا فرق مٹادیا گیا ہے۔ مضحکہ خیز نقل اور فن لطیفہ کی سرگرمی —کہ جبکہ یہ عصری سرمایہ دار سماج میں ”تہذیب تصور“ تہ و بالا کر رہی ہے— قبول کی جارہی ہے یا کم سے کم ایک انتخاب کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ تصویر کی نقل اور تصور کی مصنوعی ترجمانی ہمارے ’عہد صارف‘ میں رائج ہے۔ فریڈرک جیمسن Frederic Jameson نے ما بعد جدیدیت کی علامات کی صورت میں چار تاریخی نقصانات گنوائے ہیں۔ موضوعی داخلیت (خودی، خیٰال کی گہرائی) اور حوالہ جاتی گہرائی بے وقعت کردی، تاریخ ساز ادوار کی عظمت معطل کردی، اوراجتماعی انسانی اظہار بے ساکھ بنا دیا۔ مابعد جدید آرٹسٹ کسی بھی اظہار کا کوئی دعوٰی نہیں کرتا کیونکہ وہ یہ دعوٰی ہی نہیں کرتا کہ اُس کے پاس اظہار کے لیے کچھ ہے بھی۔ اینڈی وارہول کہتا ہے کہ ”جب میں آئینے میں دیکھتا ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ لوگ مجھے ایک آئینہ کہتے ہیں، اور اگرایک آئینہ ایک اور آئینے میں خود کو دیکھے تووہ کیا دیکھے گا؟“۔ ایک دوسرے پر منعکس ہوتے آئینوں کا یہ لامتناہی سلسلہ ایک استعارہ ہے۔ یہ ما بعد جدید تہذیب کا اسلوب استدلال ہے۔ اور اس منطق کے اثرات کسی طور بھی کسی تجرباتی خیال کی تصویر یا متن تک محدود نہیں۔ اس کی گونج خواص اور عوامی ثقافت میں برابر سنائی دیتی ہے، دونوں جانب یہ یکساں طور پر حرکت میں رہتی ہے۔

مابعد جدید کے اکثر طور طریقے جدیدیت کے اس نمایاں معیار کی درستی پر انگشت نمائی کریں گے۔ ایک مبصر یہ صورتحال یوں بیان کرتا ہے: بے تکی موسیقی، ہیئتی شاعری، کمپیوٹر مصرع، الیکٹرونک رقص، گوریلا تھیٹر، منفعل بت سازی، خود تلف میڈیا، فطرت کا طے شدہ مظہر، بھیانک نظارہ، خالی کینوس، اور سادہ واقعات؛ اینٹی آرٹ کی نئی اقسام کے انداز وغیرہ۔

یہ تحریکیں اس بنیادی جذبے میں ایک ہیں، کہ جوجذبہ اعلٰی جدیدیت کی بناوٹوں کی تصریح کر رہا ہے۔ خود مختار مصنف، بیانیہ کی ترتیب، اور مابعد الطبیعاتی گہرائی کی مبینہ مبالغہ آرائی نشانہ تنقید ہیں۔ مابعد جدید مفکرین انسانی تخیل کے تقدس پر پھٹ پڑتے ہیں اور بڑے فرط و انبساط سے ’آرٹ کے اختتام‘ کا اعلان کرتے ہیں۔ مابعد جدید مفکرین جدید مثالیت اور تصوریت کی قبر پر محو رقص ہیں۔ مابعد جدید ثقافت تمام اصل تخلیقات کی اہمیت سے یکسر انکاری ہے۔ یہ پرزور انداز میں کہتے ہیں کہ ہر سو خود تلف تصورات ہیں، جولامحدود آئینوں کی مانند باہم تعامل اور اثرو نفوذ میں رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے، جیسے نقل کی روایت نہ صرف لوٹ آئی ہو بلکہ جیسے بڑے غضب میں بھی ہو۔ یہ ماورائے ادراک تصوراتی حقیقت پیش نہیں کرتی، جیسا کہ روایت رہی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت کہ طور پر نقاب اٹھاتی ہے جو محض نظر کا دھوکا ہے۔ پہیہ پوری طرح گھو م چکا ہے۔ مگرمابعد جدید کا طریقہ تحقیق کا یہ آئینہ نہ خارجی دنیا منعکس کرتا ہے اور نہ داخلی موضوعیت کی دنیا کو موضوع بناتا ہے؛ یہ صرف خود کو منعکس کرتا ہے، آئینہ در آئینہ در آئینہ۔ یہ بے رنگ یکساں پیداوار کا تسلسل ہے، جس کی بظاہر کوئی حد نہیں۔ لا یعنی بے معنی سلسلہ غیر مختتم ہے۔ جیسے لاکھوں ٹی وی اسکرینز یا اور کوئی بھی ڈیوائس امیجز کا یکساں منظردر منظر در منظرہو۔ مابعد جدید تصور نقل کا ایسا سلسلہ ہے جس کی کوئی ابتدا کوئی انتہا نہیں۔

تہذیب تصور کی یہ داستان سنائے جانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح دیگر سارے انواع فنا کے خطرے سے دوچار ہیں، تاریخ تصور کا شجرہ نسب جاننا ازحد ضروری ہے۔ اس کی اصل اور پھر ٹوٹ پھوٹ ریکارڈ پر لانا ضروری ہے۔ بیشتر معاصرین تہذیب تصور کی ”موت“ کا تذکرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ چند اسے نئی ثقافت کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔ دیگر اس کے کشفی مضمرات سے حظ اٹھاتے ہیں۔ کچھ کا یہ خیال بھی ہے کہ یہ تاریخی مکالمہ پر گزرنے والا ناگزیر مرحلہ ہے۔ تاہم اس طرح کے ردعمل مخصوص حلقوں میں یہ یقین پروان چڑھا رہے ہیں کہ تصور کی خلاقی جہت کا بنیادی خیال جلد ماضی کی بات بننے والا ہے۔ ہم، بظاہر، مابعد جدید تہذیب کے دور میں داخل ہو رہے ہیں، کہ جس میں تصور کسی فرد واحد کا اظہار کم سے کم اور نامعلوم صارف کی ٹیکنالوجی کا مال تجارت زیادہ بن چکا ہے۔ یا یہ کہ یہ رائے رائج ہی ہوچکی ہے۔ ہمارے اس کام کا ہدف اُن اسباب تک پہنچنے کی سعی ہے، کہ جو مابعد جدیدیت کا یہ رجحان عام کر رہے ہیں، اور یہ جاننا کہ ”تہذیب تصور“ کے باب میں مغربی خیالات کی اصل کیا ہے، اور پھر آخرمیں یہ سوال اٹھانا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی کے خلاقی ”تصور“ کا تحفظ کیا جاسکتا ہے؟ اور اسے تیزی سے پھیلتے مابعد جدید سماج میں ازسرنو زندہ کیا جاسکتا ہے؟

افلاطون کا ’’تصور‘‘

قبل اس کے کہ ہم ’ریاست‘ میں افلاطون کی آدمی کے تصور پر نقد کا جائزہ لیں، ہم اُس کے مطالعہ ’پرومیتھئیس‘ پر نظر کرتے ہیں۔

 پروٹاگورس کا ایک متن اس ضمن میں اہم ہے کہ جہاں افلاطو نے کھل کر’خلاقیت کے ہنر‘ کوپرومیتھین کی چرائی ہوئی آگ سے منسلک قراردیا ہے۔ افلاطون ہمیں بتاتا ہے کہ پرومیتھیس کا آگ چرانا محرک ہے اُس خواہش کا جو آدمی کوزمین سے بلند ہو کر آسمان چھولینے کی ہے: آدمی کا حال خسارے میں دیکھ کر پرومیتھیس نے خداؤں کی مقدس آگ چرائی، ایک ایسی بخشش جو خلاقیت کا ہنرعطا کرتی ہے۔ اس مقدس آگ کے بغیرممکن نہیں تھا کہ آدمی تخلیق کار بن سکتا، اُسے یہ ہنر بخشا گیا(321e-d).

افلاطون نے آدمی کی تخلیق کاری کا ربط خداؤں کی تشبیہات اوربول چال کے لیے لفظوں کی تشکیل سے قائم کر دکھایا ہے۔ اور آدمی کی یہ اہلیت، کہ جسے پرومیتھئیس نے ممکن بنایا، نے اُسے حیوانات سے ارفع کیا اور خدا سے کسی قدر مماثل کیا۔ تب سے آدمی خدا کے کاموں میں بطور حصہ دار مجاز ہوا، کیونکہ وہ خدا کا قرابت دار تھا۔ وہ ساری مخلوقات میں واحد تھا جس نے خداؤں پر ایمان کا اظہار کیا، اور اُن کی شبیہیں بنائیں اور متبادل تراشے۔ دوسری بات، جو صلاحیت اُس کے پاس تھی، وہ اُسے بولنے کے فن اور ناموں کی تشکیل میں معاون بنی۔ آدمی نے مکانات اٹھائے، کپڑے بنائے، جوتے تیار کیے، اور زمین سے اجناس حاصل کیں۔ (322a)25

افلاطون سرعت سے یہ نکتہ اٹھاتا ہے کہ پرومیتھئیس کے بخشے ہوئے یہ سارے تخلیقی ہنر بہرحال اُسے اپنی تباہی سے نہیں بچاسکتے۔ مقدس آگ کی اس بخشش سے، آدمی کے لیے زاد راہ میسرآئی، دنیا کواپنے خیال میں ڈھال دینے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس طرح فطرت کا قدرتی نظام آدمی کے تہذیبی سانچے میں ڈھلتا چلا گیا، مگروہ ’فن سیاست‘ میں ایسا طاق ثابت نہ ہوا، یہ ہنرصرف زیوس کی دسترس میں رہا، اورپرومیتھئیس کا یہ استحقاق نہ تھا کہ زیوس کی قلمرو میں قدم رکھ سے۔ اس طرح آدمی بھائی چارے سے رہنے کے قابل نہ ہوسکا اورایک دوسرے کے خلاف جرائم اور ناانصافیوں کا مرتکب ہوا۔۔۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پرومیتھئیس کے بخشے ہوئے تخلیقی ہنر بالآخرتباہ کن ثابت ہوئے۔ وہ ’سیاسی دانش‘ کے رہنما قوانین سے بے بہرہ رہا، کہ جن کا تعلق زیوس سے تھا۔

یہاں افلاطون ہمیں کہانی کے اخلاقی پہلو پر اشتباہ میں چھوڑ دیتا ہے۔

افلاطون خبردار کرتا ہے کہ آدمی کی ساری تخلیق کاری لازما زیوس (خدا) کے قوانین خلاقیت سے مکمل مطابقت میں ہونے چاہیئں۔ آدمی کا ہنراُسے تباہی کی طرف لے جاتا ہے جب کہ الوہی قوانین اُسے کارخیر پر لگاتے ہیں۔ افلاطون پرومیتھئیس کے قصہ کا ’’حاصل‘‘ وجودِ ماورا کے تقدس کو قرار دیتا ہے۔

اگر ہم پرومتھئیس کے قصہ کی روشنی میں دیکھیں، ہم زیادہ بہتر انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ افلاطون کی معقولیت قابل ستائش ہے، کہ جس میں وہ عمومی طور پر آدمی کی قوت تخیل کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ افلاطونیت کی نظر میں ایک مصور یانقال ہرانسانی سرگرمی کا فن پاروں سے اور دیگر تخلیقات سے تعلق قائم کرتا ہے، مجسمے بناتا ہے شاعری کرتا اور اسی طرح اپنی تقریر و تحریر ترتیب دیتا ہے، اور اسی طرح کے تخلیقی کام کرتا ہے جو اس کی ثقافت اور تہذیب تشکیل دیتے ہیں، یہ سب نقل کی بنیاد پراستوار ہوتے ہیں، اور یہ سب الوہی کام کی نقل ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل خلاقیت وہی ہے جو ماوراالطبیعات عالم امثال میں ہے۔ آدمی کے سارے کام نقل، ثانوی، اور جھوٹے ہوتے ہیں اور دوسرے درجے کے ہوتے ہیں۔ آدمی کی قوت تصورحقیقت تک رسائی کی اہل نہیں۔ اس طرح بنی نوع انسان نے اب تک تصور کی جتنی بھی صورتیں تشکیل دی ہیں، اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نسل آدم کی ساری ہنرمندی محض خدائی کی نقل ہے۔۔۔ افلاطون کی تنقید میں ’’آدمی کی نقالی‘‘ کا اظہار کتاب ’ریاست‘ اور ’مکالمات افلاطون‘ میں بھرپور طور پر ملتا ہے۔ اسے تصور علم کے طور پر پیش کیا گیا ہے، وہ کہتا ہے علم کوآدمی کے جھوٹے تصور سے الگ کرنا لازم ہے، وہ خط تقسیم کھینچتا ہے۔ افلاطون کہتا ہے کہ آدمی کا تصور یا قوت تخیل کا معیاربہت پست درجے پر ہے۔ جب کہ حقیقت اور معقولیت صرف غوروفکر کا حاصل ہے، اور وہی بالادست اورسچ ہے۔ اصل علم اور خلاقیت الوہی ہے۔ افلاطون کہتا ہے کہ خدائی حقیقتوں تک آدمی کو صرف غوروفکر ہی لے جاسکتا ہے، عقل لے جاسکتی ہے، تصور یا تخیل نہیں لے جاسکتا۔ وہ عقل اورتصورکے درمیان حد فاصل کھینچ کر کہتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ وہ دونوں کو ماورا الطبیعات تناظر میں being وجود اور becoming بن جانے کی اصطلاحات میں واضح کرتا ہے، یعنی وجود اصل ہے اور اُس سے بن جانے والی نقلیں بے حقیقت ہیں۔ افلاطون انسانوں کوغارمیں رہنے والے ایسے وجود قراردیتا ہے کہ جوباہرکی دنیا سے واقف نہیں اوراپنے تخیل اورقیاس پراندازے لگاتے رہتے ہیں۔ جب کہ باہرکی دنیا کی حقیقت وہ عالم ماورا الطبیعات میں دیکھتا ہے۔ افلاطون کوآدمی کی تخیلاتی قوت سے بنیادی اختلاف یہ ہے کہ بت پرستی کی جانب دھکیل دیتی ہے۔ افلاطون ماورا الطبیعات کے اصل اور بنیادی علم کوپھرسے زندہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ آدمی کی تخلیق کاری، تصویر سازی، مجسمہ سازی، اورایسی ساری نقلوں کوسچ کے خلاف جرم قراردیتا ہے، اور یہ ’’وجود حقیقی‘‘ کے خلاف بھی جرم ہے۔ ایک آدمی کی تخلیق کاری دراصل خالق کائنات کی نقل ہے، اور اگر یہ الوہی قوانین تخلیق سے مطابقت میں نہیں، تواس کی ہر  صورت ’’سچ‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔

آدمی کے ’تصور‘ پرارسطوکی رائے

خواہ قیاسی سہی، آدمی کے ’تصور‘ پر یونانی فکرارسطوئی فلسفہ کا ذکرکیے بغیرنا مکمل ہے۔ ایک نظر دیکھتے ہیں، کہ ارسطونے افلاطون کے کلیہ ’تصور‘ کی قدر میں کیسا اور کتنا اضافہ کیا ہے، اورکس طرح اس کا ازسرنو جائزہ لیا ہے۔ اگرچہ یہ سرسری طور پر’تصور‘ کی علمی حیثیت سے متعلق ہے، کہ آیا یہ سچ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا ہے یا جھوٹ کا مددگار بنتا ہے۔

ارسطو آدمی کے ’تخیل‘ کو ماورا الطبیعات سے علم النفس کی سطح پر لے آتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ارسطو’خیال پیکر‘ کو مثالیت پسندی کے بجائے حقیقت پسندی کے پیمانے میں جانچتا ہے۔ اور افلاطون سے اس فرق کا مطلب ’تخیل‘ کو عقل و دل کے درمیان ذہن کی مصالحت کاری قرار دیتا ہے۔ یہ یہاں خدائی خلاقیت کی کوئی بت پرستانہ نقل نہیں ہے۔

بوطیقا Poetics (1447–8) میں ارسطو’نقالی‘ کے تصورکی ازسرنوتعریف کرتا ہے۔ وہ اسے آدمی کے ہنرمیں ایک مثبت عنصرسمجھتا ہے، کہ جو آدمی کے وجود کی عالمی معنویت متعین کرتا ہے۔ جیسا کہ یہ ’نقل‘ ایک عمل کا تخلیقی مظہر ہو، ایسی اسطوری کہانیاں جوانسان کے روزمرہ تجربات کو کائنات کی سچائیوں سے الگ تھلگ کر دیتی ہوں۔ یہ ہمارے وجود کوایک ارفع احساس کے ساتھ متحد اور ہم رنگ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ یہ حقیقت کا ازسرنو بیان ایسے اکتشاف کے طور پر کرتی ہیں کہ جو اشیا کی ’لازمی‘ جہت سامنے لے آئے۔ اس طرح، ارسطو یہ باور کرنے کے قابل ہوجاتا ہے کہ افلاطون کا ملامت زدہ ’تخلیق کار‘ جھوٹ کی نسبت ’سچ‘ کے شاعرانہ پہلو کو نمایاں کرتا ہوا نظر آتا ہے، یہ ظاہرکم اورپوشیدہ زیادہ ہے۔ گوکہ بوطیقا میں آدمی کے ’تخلیقی تصور‘ پر زیادہ کچھ نہیں کہا گیا، مگر یہ نظریہ ارسطو کے دیگر رسالوں سے مطابقت میں ہے۔ ارسطو ’نقل‘ کوافلاطون کی مانند ’خارجی نقل‘ نہیں سمجھتا بلکہ اسے آدمی کے نفس کا ترجمان باورکرتا ہے۔ یونانی روایت میں صرف ارسطو ہے جس نے سب سے پہلے آدمی کے تخلیقی تصور کو اُس کے نفس میں جامع نظام کے طور پر پیش کیا۔ عقل اور احساس میں مصالحت کی راہ نکالی، آدمی کے وصف ’تصور‘ کو داخلی اور خارجی وجود کے درمیان پُل قرار دیا، اسے باہرکی دنیا کی جانب کھلنے والی کھڑکی اورعقل کا آئینہ دونوں قراردیا۔ دراصل افلاطون کی نسبت ارسطو کا طریقہ تحقیق زیادہ سائنسی ہے۔ وہ De Insomniis میں افلاطون کا یہ نظریہ رد کرتا ہے کہ انسان کے نفس میں خدا پراسرار تصویریں یا تصورات ودیعت کرتا ہے۔ ارسطو کہتا ہے کہ آدمی کے تخیل کی شبیہیں حواس کے تجربات کا حاصل ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ ’تصور‘ اور ’احساس‘ ایک ہیں، ’تصور‘ ’احساس‘ کی ایک نوع ہے، گوکہ دونوں کا طریقہ اظہارمختلف ہے۔ اور اس طرح خواب بھی ’تخیل‘ ہی کی ایک صورت ہے، اورتصور کا ایک ڈھنگ ہے۔ (De Insom., 459a)

ارسطو افلاطون کی آسمانی بصیرتوں کو رد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ سارے خواب وخیال ہمارے بدنی تاثرات ہیں جو عقل سے حالت نیند میں سرزد ہوتے ہیں یا بیماری میں بیدار ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو گہری بصیرتوں کے دعوے دارہیں ’تصور‘ اور ’‘تصورکی ترجمانی‘‘ میں عموما الجھ جاتے ہیں۔ (De Memoria, 451a) ۔ اس الجھن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تسلیم کرلیا جائے کہ ہماری بصارتوں، خیالی تصویروں، اور تخیلات کا مرکزی ذریعہ ہماری اُن یادداشتوں کا ذخیرہ ہے جو حقیقت کے حواسی تجربات سے درآمد ہوتا ہے۔ (De Mem. 451)

ارسطو نے افلاطون کی ’مثالیت پسندی‘ سے انحراف کرکے ’حقیقت پسندی‘ اختیار کی ہے، کہ جس میں آدمی کا ’تخیل‘ اور آدمی کا ’علم‘ بغیر دقت مثبت پیشرفت کرتے ہیں؛ یہ ایسی صورتوں میں توازن قائم کرتی ہے جو حقیقت کی معنویت کو ماورا الطبیعات تک محدود نہیں رہنے دیتیں، بلکہ حواس کی دنیا میں آباد کرتی ہیں۔ یہاں تصورات الہامی اور جوہری نہیں رہے۔ یہ اب آدمی کی فکر میں درجہ بند کردیے گئے۔ یہ یہاں حقیقی دنیا کے حسی تجربات کے ترجمان بن چکے ہیں۔

یوں اگرکہا جائے، ارسطونے ماورا الطبیعات صورتوں کو حقیقت کی دنیا میں اتار دیا ہے۔ اس طرح انہیں خیالی باتیں نہیں کہا جاسکتا۔ بلکہ اب یہ حواس کی دنیا میں ’وجود‘ کا ذریعہ علم بن چکے ہیں۔ انہیں آدمی کے مظہری تجربات کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ ’فکر‘ بغیر ’تصور‘ محال ہے۔ بغیر مواد، یہ بے سمت ہے۔ آدمی کا موجودات سے رشتہ خیال اور حرکت کے گہرے تعلق پر انحصار کرتا ہے۔ ارسطو آگے چل کر’تصور‘ کو آدمی کی خواہش سے جوڑتا ہے، ’’جب تخیل حرکت کرتا ہے خواہش کے بغیر آگے نہیں بڑھتا‘‘۔ (De An.

433a). خواہش کے سبب، آدمی کا اس طرح تصورکرنے کا مطلب یہ ہوا ’’سب انسان علم کی آرزو کرتے ہیں‘‘، علم کا حصول بہترین عمل سمجھا جاتا ہے، اور اسے آدمی کی قوت ارادی کا محرک تسلیم کیا جاتا ہے۔ علم وہ ہدف ہے کہ جس کی سمت ہم سب حرکت کرتے ہیں۔ حرکت بغیر آرزو ممکن نہیں، اور یہ آرزو مادی ضرورت سے ذہانت کی قلمرو تک ’تصور‘ سے مکالمہ کرتی ہے۔ (De An. 433–

4).

ارسطو مثال دیتا ہے کہ جب کوئی تجربہ خوف اور تکلیف سے دوچار کرتا ہے، اُس کا بُرا تصور قائم ہوجاتا ہے۔ اس طرح، محبت اور مسرت کے تجربات بھی اچھے تصور کا محرک بنتے ہیں۔ (Rhet. 1, 11, 17). اس طرح ’تصور‘ آدمی کے اخلاق اور رویہ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے ایسے عمل ہیں کہ جن سے ہم اس لیے گریز کرتے ہیں کہ تکلیف کا باعث ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بہت سے ایسے کام ہیں کہ جن کے لیے ہم اس لیے تگ ودو کرتے ہیں کہ خیر کا سبب بنتے ہیں۔

تاہم، ارسطو حواس کے تجربات سے بننے والے ’تصور‘ اورغوروفکرسے بننے والے ’تصور‘ میں امتیاز قائم کرتا ہے۔ پہلا وصف انسانوں اور جانوروں دونوں میں پایا جاتا ہے جبکہ دوسرا وصف صرف آدمی کا ہے۔ (De An. 429a; 433a–b). ایسا صرف اس لیے ہے کہ ایک جانور مناظر کی مدد سے حرکت کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ مگر ’تصور‘ کرنا اور اس کا اظہار کرنا آدمی کا خاصہ ہے۔ آدمی حسی تجربات کوعقل کی کسوٹی پر پرکھ کر’عام فہم‘ بناتا ہے۔ ارسطو کے لیے phantasia ’تصور‘ عقل و دل کے درمیان مصالحت کار ہے۔

بہرحال، ارسطو افلاطون کی مانند اس بات پر زور دیتا ہے کہ ’تصور‘ بہرصورت ’عقل‘ کا تابع ہے۔ یونانی فکر کے دونوں بانیان کی نظرمیں آدمی کا ’تصور‘ مالک نہیں غلام ہے، معنی کا خادم ہے، نقل ہے نا کہ اصل۔

آگسٹن، فلاطینوس، اور ازمنہ وسطی کا نظریہ ’’تصور‘‘

مغرب کی روایتی فکرکتاب مقدس اور یونانی تصورات کی آمیزش ہے۔ یروشلم اور ایتھنز کے افکار کا یہ قالب ازمنہ وسطٰی فلسفہ کے مشہور‘Christian  synthesis’ (عیسائی مرکب مقالہ) میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ہم ’ازمنہ وسطٰی‘ کی اصطلاح یہاں اس کے وسیع مفہوم میں سمجھیں گے، ایک ایسا زمانہ جو قدیم سے جدید تک پھیلا ہے، پانچویں صدی میں سلطنت روما کے انہدام سے پندرہویں صدی میں سقوط قسطنطنیہ تک۔ ہم یہاں واقعات سے قطع نظر، علمیاتی طریقہ تحقیق کا ارتقا دیکھیں گے، کہ جو شاید ہمیں ’تصور‘ پر مختلف نکتہ ہائے نظرسے آگاہ کرسکے۔ اس سے قبل کہ ہم ازمنہ وسطٰی کے ’تصور‘ پر مطلوب طریقہ تحقیق پر چند مثالوں کو الگ کریں، انجیلی الٰہیات اور یونانی علم الوجود پر’عیسائی مرکب مقالہ‘ کے بارے میں کچھ کہنا اہم ہوگا۔ ہم اس مرکب مقالہ کو ‘onto-theological’ یعنی وجودی الٰہیات کہیں گے، اسے Etienne Gilson نے خدا اور وجود مطلق کی معرفت قرار دیا ہے، وہ معرفت جو عیسائی فلسفہ کے لیے ’عمومی فلاح‘ کا سبب ہو۔ مختصرا، ’وجودی الٰہیات‘ کی مرکب اصطلاح میں ہمیں ازمنہ وسطٰی کے وہ افکار ایک ساتھ نظر آتے ہیں، جویہودی عیسائی عقیدہ میں ’خالق حقیقی‘ اور افلاطونی ارسطوئی ماورا الطبیعات میں ’وجود مطلق‘ کے بارے میں ہیں۔

اس فکری اتحاد کی دونوں روایتوں میں، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، ’تصور‘ بنیادی طورپر’نقل کی سرگرمی‘ نظرآتا ہے۔ یہ نقل انعکاس ہے اُس ’اصل‘ ذریعہ معنی کا جو آدمی سے ماورا ہے۔ کتاب مقدس کی روایت میں، اس ’اصل‘ کو Yahweh یہووہ کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے، جو ’خالق حقیقی‘ ہے۔ جب کہ یونانی روایت میں اسے وجود کی ’مطلق‘ حالت بیان کیا جاتا ہے: کہ فانی مخلوقات جس ’وجود کامل‘ کا اتباع اورنقل کرنا چاہے، اور کسی نہ کسی طوراُس کی معرفت چاہے۔

یونانی اور یہودی عیسائی روایات کا ملاپ ابتدا میں قبول نہیں کیا گیا۔ اسے یکسرمسترد کیا گیا۔ جب جان پال یروشلم سے ایتھنز پہنچا اور یونانی فلسفیوں سے مکالمہ کیا، اُس نے اعلان کیا کہ جو سچائیاں عہد نامہ قدیم و جدید میں منکشف ہوئی ہیں، انہیں یونانی اصطلاحوں اور ماوراالطبیعات میں نہیں سمجھا جاسکتا۔ خدا اور بندے کا پراسرار تعلق ایک فلسفیانہ ذہن کے لیے ’حماقت‘ ہے۔ وہ کورینتھینز کو لکھے گئے پہلے خط میں کہتا ہے کہ خدا اور بندے کا تعلق صرف اہل ایمان کا خاصہ ہے۔ آغاز میں بہت سے عیسائی مفکرین نے یونانی عقلیت پرشک کیا۔ دوسری صدی عیسوی میں عیسائی مصنف طرطلیان نے دعوٰی کیا کہ ایتھنز اور یروشلم میں کچھ ایک جیسا نہیں۔ انجیل واحد راہ نجات ہے اور فلسفیانہ کلیہ کی کوئی اہمیت نہیں۔

بہرکیف، بہت جلد عیسائی عذر خواہوں پر یہ واضح ہوگیا کہ اگر لادینیت اور دہریت کے مقابل کتاب مقدس کا دفاع کرنا ہے، یونان کی کلاسیکی ماورا الطبیعات کے لیے لچک دکھانا ضروری ہے، اسے تسلیم کرنا ہوگا سمجھنا ہوگا، اورایسا ہی ہوا۔ اس طرح یونان کا ’نا معلوم خدا‘ عیسائیت کا خدائے واحد بن گیا۔ اس طرح، مماثلتوں اور مطابقت کا سلسلہ چل نکلا۔ افلاطون کا ’الوہی صانع‘ پر مفروضہ کتاب پیدائش کے یہووہ کا متوازی ہوگیا۔ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ عیسائی علما نے یونانی مابعدالطبیعات کے Logos کو’تثلیث‘ کی دوسری ہستی یعنی یسوع مسیح (علیہ السلام) سے مماثل قرار دے دیا۔ فریڈرک کوپلیسٹن Frederick Copleston نے Medieval Philosophy: From the point of view of the Christian writers میں ان مماثلتوں کواس طرح پیش کیا، جیسے افلاطون کے خدا کوعیسائیت کے خدا میں اپنا خدا مل گیا ہو۔ عیسائی مصنفین کا نکتہ نظر یہ ہوگیا کہ افلاطون نے رب کائنات اورعلم کے باب میں جو فلسفہ دیا، وہ مذہب عیسائیت میں حتمی صورت اختیار کر گیا، منزل مراد پا گیا۔ اس طرح عیسائیت کا تصور جہاں یونان کے فلسفہ کا حامل ہوگیا۔ یوں یہ افلاطونی عناصر اور عیسائیت پر ایمان ایک ’مرکب مقالہ‘ Synthesis کی صورت سامنے آیا۔ یعنی واحد ہی تثلیث ہے؛ لوگوس مسیح میں حلول کر گیا؛ آدمی خدا سے مماثل ہوگیا، اور روح القدس۔

جس وقت کئی کلیسا رہنما ’مرکب مقالہ‘ کے ممکنات پر اشارے دے رہے تھے، یہ چوتھی صدی عیسوی کا آگسٹن تھا جس نے پہلی باریونانی فلسفہ اور یہودی عیسائی الٰہیات میں مطابقت قائم کردی۔ آگسٹن نے دلیل دی کہ کتاب مقدس میں خالق کائنات پر آدمی کا ایمان فلسفیانہ تصورات کی مدد سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ اُس نے دلیل کے دو دائروں میں خط امتیاز کھینچا، کہا کہ ایک سچ یہ ہوتا ہے کہ بچہ والدین کا فرماں بردارہوتا ہے اوردوسرا یہ کہ جب وہ فلسفیانہ عقلیت کی مدد سے سچ مستحکم کرتا ہے۔ اس طرح آگسٹن یہ نظریہ لے کرآگے بڑھا کہ آدمی وجودیاتی الٰہیاتی تناظر میں خدائے بزرگ پر ایمان اور ’وجود‘ کی مابعد الطبیعاتی تفہیم میں مطابقت کے قابل ہوچکا ہے۔ یہووہ جو خالق کائنات ہے وہ ہی ’وجود مطلق‘ ہے۔ اُس نے ’تفہیم الایمان‘ ‘faith seeking understanding’ (fides quarens intellectus) کوازمنہ وسطٰی کا مقبول نظریہ بنا دیا۔ اس نظریہ نے ازمنہ وسطٰی میں آدمی کے ’تصور‘ پرگہرے اور فیصلہ کن اثرات مرتب کیے۔ یہ اپنی سادہ ترین صورت میں، ایک ایسا اتحاد تھا جس نے ’تصورتخلیق‘‘ پرروایتی شک کوگہرا کیا: اس نے اس بات کو مزید مستحکم کیا کہ کتاب مقدس میں آدمی کے ’تصور‘ کو گناہ قرار دیا گیا ہے، اس کی مذمت کی گئی ہے، اسے خدائی نظام تخلیق میں بگاڑ کہا گیا ہے، اور سچ کی نقالی سمجھا گیا ہے۔ اور، ہم دیکھتے ہیں کہ عہد ازمنہ وسطٰی میں آدمی کا ’تصور‘ لادین (imagin-atio profana) قرار پاتا ہے۔ بلاشبہ، اس عہد میں ’تصور‘ کے کلیات پرآگسٹن کا اثر رہنما ہے۔ وہ پہلا لاطینی مصنف ہے جس نے imaginatio کی اصطلاح کا تواتر سے فلسفیانہ استعمال کیا ہے۔ آگسٹن کا فلسفہ نوافلاطونیت سے شدید متاثر ہے۔ یقینا اُسے فلاطینوس کا یہ انتباہ ذہن نشین نہ ہوا، کہ ’’ہم غیرمرئی موجودات کو’تصور‘ سے نہیں سمجھ سکتے‘، یہ صرف غوروفکر سے ممکن ہے‘‘۔ (Enneads, 5,5).

فلاطینوس کا یہ نظریہ اُس کے شاگردوں کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ فرفوریوس نے آدمی کے ’تصور‘ کو جذبات کی روکے پست درجے میں گرا دیا تھا۔ وہ دعوٰی کرتا ہے کہ جب تک ہم ’تخیل کی پرواز‘ اڑتے رہیں گے، غیرمرئی کائنات کا علم حاصل بے حد مشکل رہے گا۔ آگسٹن کا نظریہ ’تصور‘ زیادہ تر کلاسیکی ‘mimetic’ نقل در نقل سے مطابقت میں ہے۔ یہ خود ’کائنات کا سچ‘ خلق نہیں کرسکتا، اسے ہمیشہ تخلیقی تسلسل کی حدوں میں رہنا پڑتا ہے۔ یہ ’اصل‘ کے خالق ہونے کا دعوٰی نہیں کرسکتا۔ یہ قطعی اختیارصرف ’قادر مطلق‘ کا ہے۔ آگسٹن کا imaginatio ’تصور‘ خالق کائنات کا محض تابعدارغلام ہے، اور خدا کی ’سچی تصویر‘ صرف یسوع مسیح علیہ السلام تھے۔

اس سلسلہ کا دوسرا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کریں: http://daanish-pk.stackstaging.com/54334/

یہ بھی پڑھیں: جدیدیت کے بعد۔۔۔ علم اور معلومات —- ناصر فاروق

Facebook Comments Box
THE WAKE OF IMAGINATIONنظریہِ تصور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مجید امجد : دو نظمیں اور تین نامے — محمد حمید شاہد
next post
 آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.