سماج میں خیال کی آزادی سے کیا مرادہے؟ کسی بھی سماج میں موجود افراد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سماج کی طے شدہ اقدار، اعمال (Practices) اور نظریات سے اختلاف کر سکتا ہے۔ اسے خیال کی آزادی حاصل ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی سوچ یا نظریے کا اپنی زندگی پر اطلاق کر سکتا ہے۔ سماج کی اقدار سے انحراف و تطابق اس کا بنیادی حق ہے۔وہ سماج کی نظریاتی اقدار سے انحراف کر کے اپنی انفرادی اقدار کی تشکیل بھی کر سکتا ہے۔ اظہار خیال و عمل کی آزادی کیوں؟ یہ سوال اُسی صورت میں پیدا ہو تا ہے جب فرد سماج کی نظریاتی اساس اور فکری اقدار سے مطمئن نہ ہو۔ اگر وہ سماج کی فکریات سے اپنے فرد کی تشکیل کر رہا ہے تو انحراف یا آزادی کا سوال کیسے پیدا ہوگا۔
یہاں سماج کی دو قسموں کا تذکرہ ضروری ہے، جو فرد کے سماج کے ساتھ رشتوں کی وضاحت کرتی ہیں:
i۔ پابند سماج(Restricted Society): پہلی قسم وہ ہے جسے پابند سماج کہتے ہیں؛ایسی مشترکہ اقدار پر مبنی سماج جو فرد اور سماج کے درمیان فکری، عملی اور نظریاتی ربط کا قائل ہو۔ یعنی جو سماج کی مشترکہ اقدار میں طے کر دیا گیا ہے، اسے اکثریت کی قدر بھی ہونا چاہیے۔پابند سماج یہ چاہتا ہے کہ فرد اور سماج کی سوچ میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح فرد سوچتا ہے، سماج بھی اسی طرح عمل کرے اور جس طرح سماج زندگی کا تصور قائم کرتا ہے، فرد کو بھی اسی کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ ایک قسم کا آئیڈیل سماج ہے جو فرد اور سماج کے مشترکہ ذہنی میلانات کے اشتراک سے ترقی کرتا اور خوبصورت زندگی کی تشکیل پر زور دیتا ہے۔
ii۔ آزاد سماج (Free Society) ۔ ایسا سماج جس میں فرد اپنے عمل، سوچ، خیال، نظریہ اور جذباتی اظہار میں مکمل آزاد ہو۔کہنے کو تو آزاد سماج میں سماج فرد کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ اسی طرح کا تصور حیات رکھتا ہو، جس طرح کا آزاد سماج میں رائج ہے، مگر کچھ قوانین اور ضابطوں کی شکل میں ایسا نظام وضع کیا جاتا ہے، جو فرد اور سماج کی حدود کو متعین کر دیتا ہے۔ یہاںفرد ہر طرح کی آزادی کا حق دار ہے مگر کچھ قوانین اور تصورات کی حدود میں دخل نہیں دے سکتا، جس سے نظمِ سماج متاثر ہونے کا خطرہ ہو یا دوسرے لفظوں میں خیال یا عمل کی آزادی کا مطلب ہے کہ دوسرے کی آزادی یا عمل کو متاثر نہ کیا جائے۔ یہاں دوسرے سے مراد کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے، گروہ یا ریاستی ادارے بھی۔ یاسماج کا پورا کاروبارِحیات بھی فرد کا دوسرا (The Other) ہوسکتا ہے۔ گویا آزاد ہوکے بھی دوسرے کی آزادی میں دخل اندازی کی وجہ سے فرد پابند، محدود یا مجبور ہے۔
پاکستانی سماج پہلی قسم کا سماج ہے جس میں فرد کو سماج کے نظم سے اتفاق کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چوں کہ ذہن سانچوں میں بنے ہوئے ڈبے نہیں ہوتے، وہ اپنی رائے رکھ سکتے ہیں، سماج سے اختلاف کر سکتے ہیں، لہٰذا سماج کا طبقۂ اشرافیہ (Intelligentsia) جو مذہبی، دانش ورانہ اور سیاسی اذہان پر مشتمل ہوتا ہے، فرد کو قابو رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ آغاز ہی سے فرد کی ذہنی تشکیل ایسے کی جاتی ہے کہ فرد اور سماج کے درمیان فکری وعملی بُعد پیدا نہ ہو۔ فرد ہر حال میں سماج کی ریاستی اقدار کا مطیع رہے۔ Intelligentsia ہی متعین کرتا ہے کہ آزادی کہاں دی جا سکتی ہے؟ کتنی اور کیسے دی جائے گی؟ نصابات، بیانیوں اور میڈیائی طاقتوں کو خاص نہج سے کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ ایک خاص طرز کی فکر پروان چڑھ سکے، جس سے متاثر ہوکے فرد میں ریاستی اقدار سے انحراف کا رجحان ختم ہو جائے۔فرد ہر حالت میں قومی بیانیوں سے تطابق کا اظہار کرے۔
ڈیجیٹل دنیا کے ظہور کے ساتھ ہی Intelligentsia کو سب سے بڑا خطرہ فرد کی آزادی سے درپیش ہے جو سماج کے طے شدہ ریاستی اقدار کو قبول نہیں کر رہا۔ڈیجیٹل دنیا نے فرد کو غیر محسوس طریقے سے سماجی فکری حصارسے آزاد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف ڈیجیٹلائزیشن نے ایک اور قسم کی قید کو بھی تخلیق کیا ہے جس سے فرد آزادی کے نام پر ڈیجیٹل اسیری میں آتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل کمپنیز نے میڈینس، کھیل، فوڈ، زراعت، لباس، ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ وغیرہ ہر میدان میں اپنے صارف تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان کمپنیز کو سب سے بڑا ہتھیار ’’سہولت‘‘ ہے۔ سہولت کے نام پر ہر چیز مارکیٹ کا حصہ بن گئی ہے۔ حتیٰ کہ مقدس صحائف اورمذہبی تعلیم بھی ڈیجیٹل دنیا میں مارکیٹ کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ دانش وری اور علم کو بھی خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان ڈیجیٹل کمپنیز کے پیچھے تاریخ کے وہی کردار ہیں، جوکبھی سرمایہ داریت کے روپ میں صارف تک پہنچنے کا کارِ مشکل انجام دینے کے لیے ہر استحصالی حربہ استعمال کرتے۔ خام مال سے قابلِ استعمال اشیا کی قدر کے تعین تک پہرہ دیتے تھے۔ اب صورتِ حال یک سر اُلٹ ہوچکی ہے۔ فرد خود ان ڈیجیٹل کمپنیز تک رسائی چاہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں صرف ’سہولت ‘ ہی منتقل نہیں ہوئی، بلکہ متبادل طاقت کا پورا نظام بھی تشکیل پایا ہے۔ جو اپنی فکر، نظریے اور خیالات کو پروان چڑھا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اب بیانیے سماج کی Intelligentsia ترتیب نہیں دیتی بلکہ ڈیجیٹل سماج کے پیچھے چھپے یہ استعمار کارہیں جو مخصوص ہائپر دنیا کو تشکیل دیتے اور مقامی سماج کی فکر ی شکست کا باعث بن رہے ہیں۔
ہمارا سماج بھی تیزی سے ڈیجیٹل سماج کا حصہ بن رہا ہے۔ یہاں بھی زندگی کے ہر شعبے میں ڈیجیٹل سہولت کاری کا ظہور ہو چکا ہے۔ گائوں ہو یا شہر، کسی تخصیص کے بغیر ہر فرد ڈیجیٹلائزڈ شہری بن چکا ہے۔ مگر اس پس منظر میں ایک سوال ابھی تک قائم ہے کہ کیا ہمارے سماج کی Intelligentsia ڈیجیٹل دنیا کے آگے پسپا ہو چکی ہے؟ کیا فرد کو فکر، خیال اور نظریے کی آزادی میسر آ چکی ہے؟ وہ ربط جو سماج اور فرد کے درمیان ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر موجود رہاہے، منقطع ہو چکا ہے؟
اس کے ساتھ ہی ایک اور سوال یہ بھی قائم ہوتا ہے کہ کیا آزاد معاشروں کی آزادی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بننے سے پیدا ہوئی تھی؟ اگر یہ درست ہے تو ہمارے سماج کا آزاد ہونا بھی لازمی امر ہوگا۔آج نہیں تو کل فردکو سماج کے طے شدہ ضابطوں اور اخلاقی قدروں سے نجات دینا ہوگی۔ ڈیجیٹل دنیا کی استعماریت ایک الگ مسئلہ ہے مگر یہ طے ہے کہ اس دنیا میں فرد کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ جبھی تو وہ ڈیجیٹل سماج کو اپنے ذہنی میلانات سے جوڑ سکے گا۔ اگر فرد سماج کے اقداری نظام سے جڑا ہوا ہے، سماج کے نظام حیات کو ہر صورت اپنے اوپر لاگو کر رہا ہے تو کیسے آزاد ڈیجیٹل دنیا سے جُڑ سکتا ہے؟
ہمارے سماج میں فکری صورتِ حال خاصی پیچیدہ ہے۔ فرد ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بننے کے باوجود انھی بیانیوں کو قبول کر رہا ہے جو Intelligentsia ترتیب دیتی رہی ہے۔ سماج کا نظامِ حیات بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح ڈیجیٹل دنیا کی آمد سے قبل تھا۔آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ڈیجیٹلائزیشن نے ہمارے سماج کو فکری طور پر استعمار زدہ کرنے میںکامیابی حاصل نہیں کی۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کیا ہمارا فرد ڈیجیٹل سہولت کے ساتھ آنے والوں بیانیوں کو رد کرنے پر قدرت رکھتا ہے؟ یا ہماری فکری Intelligentsia نے ابھی تک فرد کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے؟
تیسری دنیا میں ڈیجیٹل استعماریت نامی نئی صورتِ حال کا تعلق ’’صارفی جارحیت‘‘ سے ہے، آرا(Opinions) یا نظریات(Ideas) سے جڑے ڈیجیٹل اداروں سے نہیں۔ آج بھی ہمارے سماج میں اظہار پر غیر محسوس ’’پہرا بندی‘‘ کی خوفناک شکل ڈیجیٹل دنیا نہیں بلکہ وہی مقتدر ادارے اور ’’ڈیرہ داری‘‘ کا پرانا جاگیرادری نظام ہی ہے، جو فرد کو کسی صورت آزاد کرنے کے حق میں نہیں۔ جو نہیں چاہتا کہ فرد اور سماج کے درمیان کوئی نظریاتی یا عملی بُعدپیدا ہو۔ فردکی رائے کا دارومدار سوشل میڈیا، مین سٹریم میڈیا، ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل دنیا وغیرہ سے زیادہ ’’مقتدر اداروں‘‘ کی مرہونِ منت ہے۔مقتدرہ ہی سماج میں آرا یا فکریات کوتشکیل دیتی ہے۔ یہی آرا یا بیانیے پورے سماج کا فکری مزاج تشکیل دیتے ہیں،جس سے نظامِ حیات جنم لیتا ہے۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ انھی طاقتوں کی بدولت پچھلی کچھ دہائیوں میں سیاسی ’’بُت‘‘ بنتے اور گرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ڈیجیٹل پردے پر صرف نمائش ہو رہی تھی، پتلیاں کہیں اور سے ہلائی جا رہی تھیں۔قومی، ثقافتی بیانیوں پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔
اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا کہ ڈیجیٹل استعماریت نے پہلی دنیا کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ بیانیے اور اقدار کو بھی یہی پروان چڑھا رہا ہے۔ قدیم استعماریت جو روایتی انداز سے سرمایے پر قدرت چاہتی تھی، اب دم توڑتی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل استعماریت نے پورے سماج کو فرد کی ذہنی سطح پر جا کے متاثر کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ سرمایہ دار فرد سے براہِ راست مخاطب ہے، اسے قائل کر رہا ہے۔پہلے فرد اجتماع کی رائے سے متاثر ہوکے انفرادی رائے تشکیل دیتا تھا۔سرمایہ دار کسی نئی فکری یا پیداواری تبدیلی کے لیے پورے سماج کی ذہنی تشکیل کرتا۔ گویا یہ تبدیلی فرد سے اجتماع کی طرف ہے اجتماع سے فرد کی طرف نہیں۔سرمایہ دار قوتوں کو سب سے بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ وہ فرد کو اس اندھی طاقت سے بچا نہیں پا رہے، کیوں کہ فرد اور سرمایہ داریت ایک دوسرے سے پیوست ہیں، ان کے درمیان سماج کی Intelligentsia کا کردار کمزور یا نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔جب کہ تیسری دنیا میں فرد اور استعمار کی ثنویت کمزور ہے، کیوں کہ یہاں ابھی تک مذہبی فکر، فیوڈل سماجیات اور مقتدرہ کا کردار مضبوط ہے۔جو ڈیجیٹل دنیا کو سہولت تک محدود کیے ہوئے ہے یا دوسرے لفظوں میں مقتدرہ کا بیانیہ اس قدر مضبوط ہے کہ ڈیجیٹل بیانیے فرد کو متاثر نہیںکر پا رہے۔
ڈیجیٹل استعماریت کی زَد میںآئی پہلی دنیا میں Intelligentsia کمزور ہو رہا ہے۔ طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔ ان دیکھی قوتوں کے ہاتھ میں فرد کی آزادی ہے۔ فرد وہ سوچ ہی نہیں رہا جو اس کا اپنا ہو، اسے وہی کچھ دیکھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو سائیڈ میڈیا کی سکرینوں پر دکھایا جا رہا ہے۔ اس وقت بڑی ’’قومی طاقتوں‘‘ کو سب سے بڑا چیلنج ڈیجیٹل دنیا کے سمندر میں تیرتی اُس رائے کو روکنا ہے جو پہلے پہل چھوٹی لہروں کی شکل میں اُٹھتی ہے اور اور سونامی کا روپ دھارنے میں دیر نہیں لگاتی۔ کیا ہمیں یاد نہیں کہ کچھ سال پہلے مارک زکربرگ نے فیس بک نامی ایپ پر صدر ٹرمپ کو بین کر دیا تھا، جی وہی صدر جس کاصدارتی محل دنیا بھر کی استعماری طاقتوں کا مرکزی دفتر مانا جاتا رہاہے۔ ٹرمپ کا دھڑن تختہ کرنے میں بھی انھی میڈیائی آرا کا کردار تھا۔
ہمارے پاکستانی سماج میں آرا اور اظہار کے ادارے ٹویٹر، وٹس ایپ، ای میلز،موبائل نیٹ ورکس، فیس بک وغیرہ تو ابھی تک ایک سہولت ہی ہیں، بلکہ Intelligentsia نے ان کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یقیناً ان کا آزادانہ طاقت ور بننے کا مرحلہ بھی قریب ہے مگر اس وقت تو تیسری دنیا میں ڈیجیٹل دنیا کا اصل ہدف وہ پیداواری ذرائع ہیں، جو اب ڈیجیٹل دائروں میں ایک بھنور کی طرح آ گرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو جاتے ہیں۔ جب ہم ڈیجیٹل استعماریت کہتے ہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ایک وقت آئے گا کہ سرمایہ داریت کے مراکز امریکہ یا مغربی ممالک کو بھی یہ استعماریت نگلنے لگے گی۔ ڈیجیٹل دنیا کے یہ کرتا دھرتا اب روایتی سرمایہ داریت کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نظامِ دنیا چند ڈیجیٹل کمپنیوں ؛ ایمیزون، مائیکروسافٹ، ایپل، فیس بک، گوگل، علی بابا وغیرہ کے ہاتھوں میں سمٹ آیاہے۔ ایسا لگتاہے کہ استعماریت نے ڈیجیٹل دنیا کی طرح اپنے مرکز کو لا مرکز کر دیا ہے اور اپنے خطوں اور ریاستوں کے ساتھ وابستگیاں بھی منقطع کر دی ہیں۔ڈیجیٹل استعماریت کا حملہ ماضی کے بڑے استعمار کار امریکہ اور برطانیہ میں بھی ہو سکتا ہے اور ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ممالک پر بھی۔ایسا لگتا ہے کہ استعمار کی پرانی بحثیں دم توڑ رہی ہیں اور اب آئندہ چند دہوں تک ’’پُرانے استعمار‘‘ کو بھی استعمار زدہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، جو بیانیوں اور طاقت کی مدد سے لوٹ مار کرتے تھک چکا ہے۔استعمار نے ’’پرانے استعمار‘‘کے ’’غیر‘‘(The Others) کا کردار اپنا لیا ہے۔
