تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

لیاقت علی خان اور ۱۹۳۷ کے انتخابات ۔ حصہ 1 —- عارف گل

by دانش ڈیسک 12/08/2022
written by دانش ڈیسک 12/08/2022
415

بر صغیر کی تاریخ میں مسلم سیاسیات کے حوالے سے ۱۹۳۷کے انتخابات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ۱۹۲۷ میں مسلم لیگ دوھڑوں "شفیع لیگ” اور "جناح لیگ” میں تقسیم ہو جانے کی وجہ سے انتشار کا شکار تھی۔ ۱۹۳۴ میں قائد اعظم کے مستقل صدر بن جانے کے بعد کچھ بہتری آئی۔ پھر ۱۹۳۶ میں قاپداعظم مسلم لیگ کی تنظیم نو کر رہے تھے کہ ۱۹۳۵ کے ایکٹ کے تحت انتخابات کا اعلان ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب مختلف صوبوں میں مسلمانوں کی کئی مقامی پارٹیاں وجود میں آچکی تھیں۔ جو اپنے مقامی مفادات زیراثر وسیع تر قومی مفاد کو پس پشت ڈال چکی تھیں۔

لیاقت علی خان کا تعلق پوپی سے تھا۔ وہ ۱۹۲۳ سے مسلم لیگ ممبر چلے آرہے تھے۔ 12 اپریل ۱۹۳۶ میں لیگ کے بمبئی سیشن میں قائداعظم کی تجویز پر وہ مسلم لیگ کے آنریری سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ اس کے ساتھ وہ آل انڈیا مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے بھی مبمر بھی بن گئے۔ بعد میں انہیں قائد اعظم نے یوپی پارلیمانی بورڈ کا ممبر بھی نامزد کر دیا۔

اس وقت یوپی میں مسلمانوں کے دو بڑے دھڑے تھے ایک سلم یو نیٹی بورڈ جس کی قیادت چودھری خلیق الزمان اور نواب آف سلیم پور کے ہاتھ میں تھی جبکہ دوسرا نینشنل ایگریکلچرسٹ پارٹی جس کی زمام اقتدار نواب محمد یوسف اور نواب سعید احد خان چھتاری کے ہاتھ میں تھی۔ لیاقت علی خان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ان دونوں میں مفاہمت کی کوئی صورت نکالیں تاکہ سب مل کر ایک پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ سکیں۔ دو ڈھائی ماہ کی کو ششوں کے باوجود لیاقت علی خان ان میں کسی قسم کی مفاہمت نہ کرا سکے اور تنگ آکر اگست میں یوپی پارلیمانی بورڈ سے نہ صرف استعفیٰ دے دیا بلکہ الیکشن بھی آزاد حیثیت سے لڑا۔

لیاقت علی خان کے پارلیمانی بورڈ سے استعفے اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کے باعث بہت سی غلط فہمیوں نے جنم دیا۔ یہاں تک کہ بعض مورخین نے یہ دعوی تک کر دیا کہ لیاقت علی خان نے مسلم لیگ کے جنرل سیکٹری کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ اور مسلم لیگ سے علیحدہ ہو کر نیشنل ایگریکلچر سٹ پارٹی جوائن کرلی تھی۔ بعد کے مورخین میں سے خاص کر زاہد چودھری نے اس معاملے میں خوب حاشیہ آرائی کی اور اس واقعے کو جناح لیاقت تقاد اور جناح لیاقت مخاصمت کے طور پر پیش کیا۔ حقیقت میں لیاقت علی خان نے نہ تو جزل سیکرٹری کے عہدے استعفیٰ دیا تھا. نہ مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کی اور نہ ہی نیشنل ایگریکلوری پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ان مورخین میں عاشق حسین بٹالوی، رفیق افضل، چودھری خلیق الزمان، سر محمد یا مین اور زاہد چودھری اس قابل ہیں کہ ان کے بیانات کا تجزیہ پیش کیا جائے۔ اگر چہ ان میں سے زاہد چودھری کے تمام تربیانات کا انحصار چوددھری خلیق الزمان اور نواب سر محمد یامین کی کتابوں پر ہے۔

عاشق حسین بٹالوی نے اپنی کتاب ” اقبال کے آخری دو سال ” میں لکھا کہ "نوابزادہ لیاقت علی خان کے استعفیٰ نے عجیب صورتحال پیدا کر دی تھی۔ ابھی چند ماہ قبل وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔اور اب مسلم لیگ کا کوئی سیکرٹری نہیں تھا”۔اسی کتاب میں ایک اور جگہ لکھا "نوابزادہ لیاقت علی خان کے استعفیٰ کے بعد لیگ کا کوئی سیکرٹری نہیں تھا۔ تمام خط و کتابت مسٹر جناح کو خود کرنا پڑتی تھی” ــ۔ عاشق حسین بٹالونی کو اس معاملے میں اس لیے بھی معزور سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کی رسائی ان کا غذات تک نہ تھی جن میں قائد اعظم لیاقت علی مراسلت اور قائد اعظم و دوسرے مسلم لیگی رہنماوں کے درمیان ہوئی خط و کتابت جو بعد میں قائم کردہ ادارے نیشنل آرکائیو آف پاکستان میں قائداعظم پیپرز کے نام سے محفوظ کیے گئے۔

اسی طرح رفیق افضل نے اگرچہ اپنی 1967 میں شائع ہونے والی کتاب "سسپیچز اینڈ سٹیٹمنٹس آف قائدملت لیاقت علی” کے تعارفف میں لکھا کہ ” لیاقت علی خان نے آل انڈیا مسلم لیگ کے آنریری سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور نیشنل ایگریکلچرسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی”۔

لیکن بعد کو شائع ہونے والی کتاب میں اپنے پرانے کی تردید کی۔ انہوں نے اپنی ۲۰۱۳ میں شائع ہونے والی کتاب "اے ہسٹری آف آل انڈیا مسلم لیگ” میں لکھا کہ "لیاقت علی خان نے نہ تو مسلم لیگ کے جزل سیکرٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور نہ ہی نیشنل ایگریکلچرسٹ پارٹی جوائن کی تھی بلکہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ اور اس زمانے کے تمام واقعات کی پل پل کی خبر سے قائداعظم کو آگاہ بھی رکھا تھا”۔

جہانتک چودھری خلیق الزمان اور نواب سر یامین کے بیانات کا تعلق ہے، ایک تو وہ فریق مخالف ہیں اور دوسرا زاہد چودھری نے ان دونوں کے بیانات کو اپنی کتاب میں من و عن بغیر کسی تنقید وتحلیل کے پیش کیا ہے لہذا ان کا جائزہ زاہد چودھری کے ضمن میں آگے پیش کیا جا رہا ہے۔

زاہد چودھری اپنے سوشلسٹ نظریات کے زیراثر چونکہ جاگیردار اور جاگیرداری سے نفرت کرتے ہیں اسی لیے لیاقت علی خان کو بھی جاگیر داروں کا نمائندہ سمجھ کر نہ صرف نفرت کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ ان کے ہراقدام پر اتنی شدید اور متواتر تنقید کرتے ہیں جو ایک پروپیگنڈے کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔

زاہد چودھری پہلے ایک بیانیہ گھڑتے ہیں اور بعد میں اس بیانیے کے حق میں نواب سر محمد یامین یا چودھری خلیق الزمان سے سند لاتے ہیں۔ پھر اس کے گرد باتوں کے ہیر پھیر سے ایک افسانہ تخلیق کر کے اسے تاریخ کے نام پر آگے بڑھا دیتے ہیں۔ ایسی تحقیق افسانوی ادب میں تو جگہ پا سکتی ہے مگر تاریخ نہیں کہلاسکتی۔بلکہ اسے تاریخ کا قتل کہنا زیادہ قرین انصاف ہے۔ مثلا” اپنی کتاب "پاکستان کی سیاسی تاریخ” کی جلد ۴ میں ایک جگہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے مختلف پس منظر سے تعلق کے ضمن میں لکھتے ہیں ” مسلم لیگ کے دونوں بڑے سربراہوں کے طبقاتی پس منظر میں اتنے واضح اختلاف کی بنا پر ان کے نظریہ و طرز زندگی میں اختلاف ناگزیر تھا اور اس اختلاف کا مسلم لیگ اور پاکستان کی سیاست پر اثر انداز ہونا بھی ناگزیر تھا۔ مغرب کے نوآبادیاتی مگر جدید سرمایہ دارانہ نظام کے سانچے میں ڈھلے ہوئےمحمد علی جناح اور برصغیر کے دقیانوسی جاگیردارانہ نظام کے پروردہ لیاقت علی خان کا سیاسی طور پر زیادہ دیر تک ہمسفر و ہم رکاب رہنا ممکن نہیں تھا۔ دونوں کے انداز فکر اور نصب العین میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔جناح اور جاگیرداروں کا اختلاف 37۔ 1936ء میں زیادہ کھل کر سامنے آیا جب ۱۹۳۵کے ایکٹ کے مطابق اسمبلیوں کے انتخابات عمل میں آنے والے تھے اور مسلم لیگ ان انتخابات کی حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف تھی۔” یعنی یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ اختلاف ہونا ہی ہوناتھا حالانکہ ابھی چند ماہ پہلے ہی تو قائداعظم نےبذات خود لیاقت علی خان کا نام سیکرٹری کے عہدے کے لیے پیش کیا تھا۔

آگے چل سر نواب محمد یامین کے حوالے سے لکھتے ہیں۔” نواب سر محمد یا مین خان کے بیان کے مطابق جناح بڑے زمینداروں کے سخت خلاف تھے اور وہ انہیں اسمبلیوں میں زیادہ نمائندگی دینے کے حق میں نہیں تھے۔ نواب یا مین اپنی 16 فروری 1936ء کی ڈائری میں لکھتا ہے کہ ”مسٹر جناح نے ابھی تک اپنا دل بڑے زمینداروں سے صاف نہیں کیا چونکہ وہ سب متفقہ طور پر انتخاب جدا گانہ کے حامی تھے۔ مسٹر جناح بڑے زمینداران یو۔ پی کو پسند نہیں کرتے لیکن ان کے قطعی مخالف ہوکر کامیابی نہیں دیکھتے۔ ادھر پنجاب میں سر فضل حسین کی پارٹی کے خلاف کوئی دال نہیں گل سکتی اس لئے اس پر تیار ہو گئے کہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے جائیں اور زمینداروں کو مشورہ میں شامل کیا جائے لیکن ان کو نمائندگی کم دی جائے اور پارلیمنٹری بورڈ جو نمائندے منتخب کرے گا اس میں زمیندار گروپ کو جو اس وقت برسراقتدار ہے اور جس کی یو۔ پی میں گورنمنٹ ہے، نمائندگی بہت کم دی جائے گی تا کہ ان کے نمائندے الیکشن میں صرف وہ لئے جا ئیں جن کو مسلم لیگ شکست نہیں دے سکتی۔ بقیہ سب وہ لوگ ہوں گے جو اپنے آپ کو نیشنلسٹ یعنی ہندوؤں کا جاسوس کہتے ہیں اور گورنمنٹ انگریزی کو کمزور کر کے مسلمانوں کی گردن میں ری ڈال کر ہندو اکثریت کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں۔” یہ صرف اور صرف سر محمد یامین کا ذاتی خیال ہے چونکہ اس حوالے سے قائداعظم کا ایسا کوئی حکم نامہ پیش نہیں کیاگیا جس سے ظاہر ہوتا ہوکہ پارلیمانی بورڈ میں جاگیرداروں کو کم سے کم نمائندگی دی جائے گی۔ نہ سریامین نے یہ کہا ہے کہ قائداعظم نے خود انہیں ایسا کچھ کہا۔

زاہدچودھری آگے چل کر مزید لکھتے ہیں ” ۲۶ اپریل ۱۹۳۶کو نوابزادہ لیاقت علی خان کا مسلم لیگ کے آنریری جنرل سیکرٹری کے طور پر انتخاب ہوا تو اسی دن ہی یو۔ پی کے جاگیرداروں اور محمد علی جناح میں اختلاف منظر عام پر آ گیا”۔

پھر لکھتے ہیں "جناح نے اس مطالبہ پر تبادلۂ خیالات کرنے کے لئے نوابزادہ لیاقت علی خان اور چودھری خلیق الزماں کو بمبئی طلب کیا اور ان سے بحث وتمحیص کے بعد لیاقت علی خان کا مطالبہ مسترد کردیا۔ نوابزادہ کو بہت ناگوارگزرا اور اس نے مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری منتخب ہونے کے ڈھائی ماہ بعد مسلم لیگ اور اس کے پارلیمانی بورڈ سے استعفی دے دیا۔ اس نے اپنے اس استعفی کے جواز میں ایک بیان بھی جاری کیا۔ جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مسٹر جناح نے پارلیمانی بورڈ میں صرف ایک خیال کے لوگوں کو کثرت سے بھر دیا ہے اور ان لوگوں کونظر انداز کر دیا ہے جو مسلمانوں کے اصل لیڈر ہیں اور انتخاب میں الیکشن کے ذریعے آئے ہیں۔ میرا ایسے بورڈ میں ہونا فضول ہے جس میں اکثریت ایک پارٹی کے ہم خیال ممبران کی ہے جو عرصہ دراز سے مسلمانوں سے جدا ہیں اور اپنے اپنے پٹھوؤں کو لیگ کا ٹکٹ دلوا کر مسلمانوں میں رخنہ ڈلوانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ آپس میں ملے کر کے ایک ساتھ ووٹ دیتے ہیں اس لئے میرا اس بورڈ کاممبر ہونا بے کار ہے۔ میں اس میں شریک نہیں رہ سکتا اور اس کو ملک وملت کے مفاد کے خلاف سمجھتا ہوں لہذا استعفی دیتا ہوں” مطلب یہ تھا کہ چونکہ پارلیمانی بورڈ میں زمینداروں کی اکثریت نہیں ہے اس لئے یہ ملک وملت کے مفاد کے خلاف ہے”۔

اختلاف تو یو پی کی دو جماعتوں کے درمیان تھا اس میں قائداعظم کا جاگیرداروں سے اختلاف کہاں سے آگیا۔ اسی طرح زاہد چودھری کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ لیاقت علی خان نے مسلم لیگ اور پارلیمانی بورڈ دونوں سے استعفی دے دیا تھا حالانکہ لیاقت علی خان نے صرف پارلیمانی بورڈ سے استعفی دیا تھا۔ پھر یہاںزاہدچودھری نے لیاقت علی خان کے اخباری بیان کے اس ٹکڑے کو درج کیا جو چودھری خلیق الزمان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اور اپنی مرضی کے الفاظ اچک کر ان پر حاشیہ آرائی کی ہے۔ یہ ایک طویل بیان تھا اور تاریخ نویسی کا تقاضا تھا کہ اسے اصل ماخذ سے لیا جاتا۔ اور اس پر نقد کیا جاتا۔ ہم اس پورے بیان کا تجزیہ اس مضمون کے دوسرے حصے میں پیش کریں گے۔

مزید لکھتے ہیں "نوابزادہ لیاقت علی خان کو صدر مسلم لیگ محمد علی جناح سے سیاسی رشتہ توڑنے کا فوری طور پر یہ صلہ ملا کہ حکومت ہند نے اسے ایک سرکاری تجارتی وفد کے مشیر کی حیثیت سے لندن بھیجوا دیا۔ یہ سرکاری تجارتی وفد وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے یونینسٹ رکن سر محمد ظفر اللہ خان کی زیر قیادت لندن گیا تھا ظاہر ہے کہ نوابزادہ کی اس سرکاری لندن یا ترا میں صدر مسلم لیگ کی مرضی اور منظوری کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا تھا کیونکہ ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ملک وملت کا مفاد مسلم لیگ کے ملک وملت کے مفاد سے متصادم تھا۔ فروری 1937ء میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے مسلم لیگ کے ٹکٹ پر نہیں بلکہ ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے یو۔ پی کی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو گیا۔ مسلم لیگ نے یو۔ پی کی 36 مسلم نشستوں میں سے 29 جیتی تھیں۔ اس الیکشن کے بعد مارچ میں یو پی کے مسلمان زمینداروں کے دولیڈ روں نواب محمد یوسف اور نواب چھتاری نے مسلم لیگ میں دوبارہ شامل ہونے کے لئے جناح سے ملنے کی خواہش ظاہر کی مگر جناح نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ اسے ان زمینداروں سے سخت نفرت تھی۔ پھر چند ماہ بعد جب صوبائی اسمبلی کا سیشن ہوا تو نواب پچھتاری، نواب سرمحمد یوسف اور نواب جمشید علی خان آف با نیت نے ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ارکان کی حیثیت سے نشستیں سنبھالیں لیکن نوابزاد ولیاقت علی خان اور راجہ سلیم پور آزاد ارکان کی حیثیت سے بیٹھے کیونکہ وہ مسلم نشستوں پر مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد اس میں واپسی کے لئے راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ مارچ 1938 ء میں نواب سر محمد یوسف اور نواب چھتاری نے چودھری خلیق الزماں سے درخواست کی کہ ان کی ایگریکلچرسٹ پارٹی کے سارے مسلمان ارکان کو مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی میں شامل کر لیا جائے مگر اس نے انکار کر دیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس طرح یوپی کے مسلمان غیر کسان مسلم لیگ سے بددل ہو جائیں گے۔ تاہم اس کے چند ہفتے بعد جب نوابزادہ لیاقت علی خان نے چودھری خلیق الزماں سے اس قسم کی درخواست کی تو اسے مسلم ایک پارٹی کی نشتوں پر بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔ قبل ازیں 20 مارچ 1938 ء کو دہلی میں مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس میں صوبائی اور مرکزی ارلیمانی پارٹیوں کی تحصیل کا فیصلہ کرنے کے علاوہ نوابزادہ لیاقت علی خان کو پھر مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا تھا۔ اس وقت تک کانگریس ان صوبوں میں برسراقتدار آ چکی تھی اور اس نے کسی غیر کا نگرسی مسلمان کو وزارت میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ مسلم لیگ کو مسلمانوں کی بااختیارنما ندہ جماعت بھی تسلیم نہیں کرتی تھی۔ در اصل کانگریس کے اس تنگ دلا نہ رویہ سے بددل ہو کر ہی لیاقت علی خان مسلم لیگ میں قائداعظم کی زیرقیادت دوبارہ کام کرنے پر تیار ہوا تھا۔ دو لیگ میں پہلے بھی رہا تھا۔ 1935 ء کی آئینی اصلاحات کے مجوزہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے صوبائی پارلیمانی بورڈ کی تشکیل پر یو پی کے جاگیرداروں کا جناح کے ساتھ اختلاف پیدا ہوا۔ اس پر لیاقت نے لیگ سے استعفی دے دیا اور ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا جو پنجاب اور یو۔ پی کے جا گیر داروں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی تا کہ گورنمنٹ میں آ جائیں لیکن جب اسمبلی میں اکثریت کی حامل کانگریس پارٹی نے ان کو حکومت میں لینے سے انکار کر دیا تو اس نے یوپی کے بعض دوسرے مسلم جاگیرداروں کی طرح لیگ سے انحراف ترک کر کے پھر سے جنرل سیکرٹری کا عہدہ سنبھال لیا اور اس طرح جناح کے ساتھ متحدہ محاذ وضع کیا کہ ہند و بورژوازی کے خلاف مسلم پورژ وا کے ساتھ متحدہ محاذ قائم کئے بغیر اب کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔”

جب لیاقت علی خان نے مسلم لیگ چھوڑی ہی نہیں تھی تو پھر قائداعظم سے رشتہ توڑنے کا سوال کہاں سےپیدا ہوتاہے اور نہ ہی حکومت برطانیہ سے صلہ ملنے کی بات میں کوئی وزن رہ جاتا ہے۔ قائداعظم کو بتائے بغیر لندن جانے والی بات بھی جھوٹ ہے کیونکہ لیاقت علی خان کے ہندوستاں چھوڑنے سے قبل ان کا قائداعظم کو لکھا خط موجود ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔ اسی طرح یہ دعوی بھی بے بنیاد ہے کہ لیاقت علی خان نے کانگریس کے رویے سے بد دل ہوکر مسلم لیگ میں واپسی کی راہ ہموار کی۔ اور چودھری خلیق الزمان کی سفارش سے دوبار ہ لیگ جوائن کی۔ جب وہ لیگ سے علیحدہ ہی نہیں ہوئے تو دوبارہ واپسی کس بات کی۔ یہاں یہ بھی ایک مضحکہ خیز دعوی ہے کہ الیکشن تو ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا تھا مگر پارٹی پالیسی کے برخلاف اسمبلی میں آزاد حیثیت سے بیٹھے تھے۔ دراصل انہوں نے الیکشن ہی آزاد حیثیت سے لڑا تھا اسی لیے آزاد حیثیت سے بیٹھے تھے۔

زاہد چودھری آگے چل کر پھر لکتھے ہیں "لیاقت علی خان نے اپریل ۱۹۳۶ میں مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری بننے کے تقریبا اڑھائی ماہ بعد مسلم لیگ سے محض اس لئے علیحدگی اختیار کر لی تھی کہ جناح نے یو۔ پی کے پارلیمانی بورڈ کی تشکیل اس کی مرضی کے مطابق نہیں کی تھی اور اس نے صوبائی اسمبلی کا انتخاب زمینداروں کی ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ٹکٹ پرلڑا تھا اور یہ کہ ایگریکلچرسٹ پارٹی یو۔ پی کے اس وقت کے گورنر سر میلکم ہیلی یا پنجاب کے یونینسٹ جاگیرداروں کے سرغنہ سر فضل حسین کے کہنے پر بنائی کی تھی۔” زاہد چودھری ہیر پھیر کر بات بار بار اسی طرف لے آتے ہیں کہ لیاقت علی خان نے قائداعظم سے بے وفائی کر کے مسلم لیگ چھوڑ دی تھی اور جاگیرداروں کی جماعت ایگریکلچرسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر الیکش لڑا تھا جو حقائق کے بھی منافی ہے۔ یہ رویہ کسی پروپیگنڈہ باز یا متعصب لکھاری کا تو ہوسکتا ہے کسی مورخ کا ہرگز نہیں۔ شاید وہ قارئین نفسیات سے کھیلنا چاہتے ہوں کہ جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔ مگر حقیقت کہاں تک چھپ رہ سکتی ہے اس نے ظاہر ہو کر ہی رہنا ہوتا ہے۔

اب ہم وہ ناقابل تردید شواہد پیش کرتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ لیاقت علی خان نے کبھی بھی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری کے عہدے سے استعفی نہیں دیا تھا، نہ ہی مسلم لیگ چھوڑی تھی اور نہ ہی نیشنل ایگریکلچرسٹ پارٹی کو جوائن کیا تھا۔ اسی طرح قائداعظم اور لیاقت علی خان میں تضاد یا مخاصمت تو دور کی بات ہے ان کے درمیان ان سالوں میں معمولی سا اختلاف بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ مسلسل رابطے میں تھے اور لیگ کے معاملات باہمی مشورے سےطے کر رہے تھے۔

نواب محمد اسماعیل جن کا تعلق بھی یو پی سے تھا وہ لیاقت علی خان پر اپنے ایک مضمون "لو ایبل مین” میں لکھتے ہیں "نواب چھتاری سے دیرینہ تعلق ہونے کے باوجود لیاقت علی خان نے کبھی بھی نیشنل ایگریکلچرسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ اور ان سے اپنے آپ کو ممتاز رکھنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی بنا لی تھی۔”

لیاقت علی خان نے اپنا طویل بیان اگست ۱۹۳۶ میں دیا تھا جس میں یوپی پارلیمانی بورڈ سے استعفے کا کہا تھا۔ اب ۱۱ نومبر۱۹۳۶ کو قائداعظم کے نام اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں۔

مائی ڈیئر مسٹر جناح
آپ نے مجھے شملہ میں بتایا تھا کہ میں صوبے کے مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ سے دستبردار ہونے کے باوجود،جس کی وجوہات میرے پہلے بیان میں ہی بتائی گئیں، میں اب بھی مرکزی پارلیمانی بورڈکا ممبر تھا۔
میں نے بہت غور و فکر کے بعد صوبائی قانون ساز اسمبلی کے لیے آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ چونکہ میں آپ کو کسی بھی مشکل صورتحال میں نہیں ڈالنا چاہتا، اس لیے میں مرکزی پارلیمانی بورڈ سے اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔
مجھے یہ قدم اٹھانے پر افسوس ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کے لیے مناسب ہے کہ میں استعفیٰ دے دوں۔

اس خط کے جواب میں قائداعظم نے لکھا۔

ڈیئر مسٹر لیاقت علی
مجھے تمہارا ۱۱ نومبر کا خط موصول ہوا اور ضروری کاروائی کے لیے میں اسے مرکزی پارلیمانی بورڈ میں پیش کر دوں گا۔
ان خطوط سے یہ بات واضح ہے کہ ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں تھا جیسا زاہد چودھری نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگست میں لیاقت علی خان نے صرف صوبائی پارلیمانی بورڈ سے استعفی دیا تھا۔ یہ بھی کہ دونوں لیڈروں کے درمیان شملہ میں ملاقات بھی ہوچکی تھی۔ مزید یہ کہ لیاقت علی خان نے اپنے آزاد الیکشن لڑنے کے فیصلے سے قائداعظم کو آگاہ بھی کردیا تھا اور جواب میں قائداعظم نے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔
اسی طرح لیاقت علی خان جب مئی ۱۹۳۷ میں برطانیہ کے دورے پر جانے لگے تو بھی قائداعظم کو نہ صرف بتا کر گئے بلکہ انہیں لکھا کہ "میں اپنی غیر موجودگی میں دو چوائنٹ سیکرٹریوں میں سے کس کو اپنا قائم مقام مقرر کر کے جاؤں۔”
ایک طرف ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ لیاقت علی خان اپنی چند ماہ کی غیر موجودگی میں جنرل سیکرٹری کی جگہ خالی نہیں چھوڑتا اور اپنا جانشین دے کر جاتا ہے اور دوسری طرف عاشق حسین بٹالوی، چودھری خلیق الزمان اور زاہد چودھری دعوی کرتے ہیں کہ پورے ڈیڑھ دو سال مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری تھا ہی نہیں۔

اسی طرح ۲۲ نومبر ۱۹۳۷ کو اصفہانی قائداعظم کو ایک خط میں لکھتے ہیں

مجھے آئین اور قواعد و ضوابط کے ساتھ لکھنؤ سے نوابزادہ لیاقت علی خان ایم ایل اے، یوپی کے دستخط کے ساتھ ایک سرکلر موصول ہوا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ صاحب اب بھی مسلم لیگ کے سیکرٹری کیسے بنے ہوئے ہیں۔ اگر مجھے صحیح یاد پڑتاہے تو وہ بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں جو نواب آف چھتاری اور سر محمد یوسف کا تھا۔ گزشتہ الیکشن کے موقع پر اپنے رویے سے نوابزادہ لیاقت علی خان نے کٹر مسلم لیگیوں کا اعتماد کھو دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں جو یہ محسوس کرتا ہے کہ اس صاحب کے ساتھ مناسب سلوک یا تو پارٹی سے برطرفی ہے۔ یا اپنے ماضی کے رویے کے لیے غیر مشروط معافی کا مطالبہ۔”

اسی خط کے جواب میں قائداعظم نے اصفہانی کو لکھا "آپ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور یہ کہ لیاقت علی خان کا معاملہ ابھی زیر غور ہے۔”

ان حقائق کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ لیاقت علی خان کے خلاف چودھری خلیق الزمان او زاہد چودھری کی اتہامات نہ صرف جھوٹ ہیں بلکہ کسی بغض اور تعصب کا شاخسانہ ہیں۔ باقی یہ بات میں قارئین پر چھوڑتا کہ آیا زاہد چودھری کی رسائی ان حقائق تک نہیں تھی اور وہ ان سے لا علم تھے یا انہوں نے ان سے جان بوجھ کر صرف نظر کیا۔

اس سلسلہ کی دوسری تحریر اس لنک پہ دیکھئے

Facebook Comments Box
1937 Elections IndiaIndian Muslim LeagueLiaqat Ali Khanلیاقت علی خانمسلم لیگ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
سامراجی مداخلت کی تاریخ — ترجمہ و تحقیق: محمد عثمان
next post
In Conversation: Khan, Pakistan, and Deepening Decolonization

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.