تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادبفلسفہ

فینامنالوجی یا مظہریّت کیا ہے؟ —– ملک شاہد عزیز انجم

by دانش ڈیسک 25/07/2022
written by دانش ڈیسک 25/07/2022
703

انسانی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ کوئی نہ کوئی فلسفہ بالآخر اپنے قدرتی انجام کو پہنچ گیا، مگر اس کی اس صورتحال سے انسانی فکر ختم نہیں ہوئی۔ جہاں امکانات ختم ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں وہیں سے ایک نئے باب کی شروعات یا اضافہ ہوتا ہے۔ جب کائنات کا آغاز ہوا تھا تو حرارت اس قدر زیادہ تھی کہ اس میں کسی طرح کی صورت گری ممکن نہیں تھی۔ مگر کائنات کے وجود کے آنے کے تین منٹ بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے، جس کا اندازہ پہلے سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سنا ہے عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس مسئلے پر غور و فکر کر رہے تھے، وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے پھر یہ خبر نہ مل سکی۔ مگر یہ بات بہر طور کہی جا سکتی ہے کہ اسی بحث کے باعث ایک پورا کاسموس بنا اور اس کے اندر کئی امکانات بروئے کار آئے۔

اب ایک مثال لے لیتے ہیں، انگلینڈ میں تجربیت یا (Empiricism)کا ایک مکتبہ فکر کافی مشہور ہوا۔ اس کا آغاز جان لاک سے ہوا تھا، جس نے یہ کہا تھا کہ ”خواص کچھ تو انسان اس کے ذہن کے اند ر ہوتے ہیں اور کچھ اشیاء میں ہوتے ہیں، دونوں کے امتزاج سے ہمیں وہ علم حاصل ہوتا ہے جسے ہم ‘آگاہی’ کہتے ہیں۔ “ برکلے کی یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ، ”سارا علم انسان کے ذہن کے اندر ہوتا ہے، لہذا اگر میں دیکھ رہاہوں تو اشیاء موجود ہیں، ورنہ نہیں ہیں۔ “ پھر ڈیوڈہیوم کا یہ بیانیہ کہ، ”جس ذریعے سے ہمیں اشیاء کا علم ہوتا ہے اسی ذریعے سے ہم اپنے ذہن کے بارے میں بھی جانتے ہیں، لہذا اگر اشیاء موجود نہیں ہیں تو پھر ذہن بھی موجود نہیں۔ “اب اس طرح کے بیانیوں سے گویا ایک دبدھا کی کیفیت پیدا ہو گئی، یوں لگتا تھا کہ سارا فلسفہ ایک جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ تصادم، تصادم، تصادم۔ اور اس پر ایک اور بیانیہ جو کولن ولسن نے بھی دے یا کہ، “No Matter, Never Mind” لیکن کیا اس صورتحال سے فلسفہ ختم ہو گیا؟

جب کانٹ منظر عام پر آیا تو صورتحال بے حد مخدوش بذات تھی مگر اس نے پھر ایک آغاز کرنے کی کوشش کی لہذا فلسفے کے دو بڑے مکاتب فکر پیدا ہوئے۔ ایک تو جدلیاتی کہہ سکتے ہیں جس میں ہیگل اور کارل مارکس سمیت کئی فلسفی آتے ہیں۔ اور دوسرا، اس کے ساتھ شوپنہار اور نطشے کے حوالے سے ایک نیا تصور آگے بڑھا، انسان کو اس کی توانائی کے حوالے سے جانا جانے لگا اس میں فرائیڈ، برگساں اور پوری جدید نفسیات کے علاوہ کئی فلسفے بھی آتے ہیں۔

اب اگر وجودیت اور رومانیت ایک مقام پر آ کر جمود کا شکار ہوگئے تو کیا ہم سمجھ لیں کہ اس کے بعد کچھ نہیں ؟ یہ واقعہ چونکہ ہماری آپ کی زندگیوں میں رونما ہوا ہے لہذا ہم ایک حد تک اس کے عینی شاہد بھی ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وجودیت کی کچھ اور صورتیں بھی ہیں جو ابھی بیان نہیں کی گئیں۔

وجودیت اور مظہریت کے باہمی رشتے پر بھی میں نے بات نہیں کی اگرچہ ان کے مابین بے حد گہرا تعلق ہے۔ مظہریت ہی کے باعث وجودیت اپنے بنائے ہوئے بندی خانے سے باہر آ سکتی ہے، ہسرل (Husserl) نے ایک ایسا فلسفیانہ طریق کار تشکیل دیا جس کا نام مظہریت یا مظاہریت رکھا گیا۔

اس سلسلے میں ہمیں ابتداء ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مشرق و مغرب میں وجودیت پر بہت سا ادب تخلیق ہو چکا ہے۔ بیسیویں اور اکیسویں صدی عیسوی میں مشرق میں وجودی موضوعات پر کئی تخلیقی تجربات کئے گئے، جن میں عبداللہ حسین، بانو قدسیہ، خالد اختر سمیت جدید ناول نگار جن میں اختر رضا سلیمی، خالد جاوید اور مشرف عالم ذوقی قابل ِ ذکر ہیں۔ مگر ایک بڑے عرصے تک ہمارے پاس ایک بھی ایسی تحریر موجود نہیں تھی کہ جس کے بارے میں ہم کہہ سکتے کہ یہ فلاں فلسفے کا مکمل بیان ہے۔ انگریزی زبان اس لحاظ سے بے حد ایک اہم زبان ہے کہ اس میں دنیا بھر کا علم و ادب تیزی کے ساتھ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اگر آپ انگریزی زبان ہی جانتے ہوں تو بھی دنیا بھر کے علوم اور ادبی تحریکوں سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ وجودیت جیسا مقدر مظہریت کا نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یورپ کی دوسر ی زبانوں سے مظہریت کے بار ے زیادہ مواد انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے اگرچہ ہسرل اور مارلیومونٹی کے تراجم انگریزی میں ہو چکے ہیں مگر وہ ایسے لوگوں کے لئے نہیں جنہیں آغاز کنندہ کہا جاتا ہے۔ مگر پھر میری پوری کوشش ہے کہ جو بھی وسائل میسر ہو سکے ان کو استعمال کرکے ایک مختصر اور جامع طریق سے مظہریت کا مطالعہ پیش کیا جائے۔

مظہریت پسندی یا مظاہریت بھی اب ایک مکتبہ فکر کی حیثیت رکھتاہے۔ ان کے نزدیک ”کسی بھی چیز کاشعور سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ اور ان شعوری چیزوں میں مجر د و غیر مجرد ہر طرح کی اشیا ء شامل ہیں۔ “

 بیسویں صدی کے آغاز میں ہسرل اپنے کچھ فلفیانہ افکار کے ساتھ منظر ِ عام پر آتا ہے۔ اس نے بنیاد ی طور پر اس سادی غلطی کی طرف اشارہ کیا جو فلسفیوں کو دو سو سال سے پریشان کئے ہوئے تھی، ڈیکارٹ نے کہا تھا کہ، ” انسان کسی شئے کے بارے میں یقین نہیں رکھ سکتا، سوائے اپنے شعور کے، لہذا فلسفے کو شعور سے آغاز کرنا چاہیے۔ “ مگر یہ کام ڈیکارٹ نے نظر انداز کیا، اس نے اپنے شعور کو وہ آئینہ جانا جس میں دنیا کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ اس نے سوچا کہ یہ آئینہ دنیا کی صورت کو بگاڑ کربھی پیش کر سکتا ہے اور انسان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ وہ معلوم کر سکے کہ صداقت کیا ہے ؟ اس کی روح کبھی باہر نکل کر بیرونی دنیا کا جائزہ نہیں لے سکتی۔ اسے اس کے اندر ہی رہنا ہوتاہے اور وہیں سے وہ آنکھوں کے ذریعے دیکھتی رہتی ہے۔ اسے کبھی خیال ہی نہ آیا کہ آئینہ ہی متغیر ہ ہو سکتا ہے۔

                دلچسپ بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہسرل پوری طرح فرائیڈ کا ہم عصر تھا اور یہ فرائیڈ ہی تھا جو پہلی بار انسان کے لاشعور کو پیش منظر میں لے کر آیا تھا۔ فرائیڈ نے ہی یہ کہا تھا کہ جو شخص گھر میں چھتری بھول گیا ہے وہ شاید گھر واپس آنا چاہتا تھا، لہذا اس نے لا شعوری طور پر ارادہ کیا تھا کہ وہ چھتری گھر بھول جائے، اس کا مطلب یہ ہے جو غلطی کی گئی تھی وہ جا ن بوجھ کر کی گئی تھی مگر اس کا علم انسان کے شعور کو نہیں تھا۔

                ہسرل فرائیڈ کا ہم عصر ضرور تھا مگر اس نے کبھی ایسا بیانیہ نہیں دیا کہ وہ فرائیڈ سے متاثر ہے یا اس پر کسی طرح کے فرائیڈ کے اثرات ہیں۔ مگر وہ فرائیڈ کے خیالات کے بہت قریب تھا۔ کسی فلسفی نے کہا تھا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ کائنات کو جان سکے۔ اور وہ ایسا کرنے کے لئے حسیات کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتا ہے۔ اور پھر سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ مگرو ہ یہ فرض کرتا ہے کہ اس کے ذہن کے بارے میں کو ئی سوال نہیں اٹھایا جانا چاہیے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا ذہن ایسا آئینہ ہے جو ہمیشہ حقیقت ہی کو منعکس کرتا ہے۔ لہذا ڈیکارٹ اگر ” میں “ کہتا ہے تو اس کا مقصد ” میں “ ہی ہو تاہے۔ اور یہ آئینہ اپنے اندر کا سب کچھ جانتا ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں کیا جانے چاہیے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ سراغ رسا ں بہت سے لوگوں سے ایک ہی وقت میں سوال کرکے ان سے معلومات حاصل کرنا چاہے او ر قتل صرف ایک شخص نے کیا ہو مگر اس کے پاس کوئی ایسا سرا غ نہیں ہے جس سے وہ آغاز کر سکے۔ اور وہ یہ بھی فرضیہ نہیں بنا سکتا کہ کون قاتل ہے اور کون بے گناہ۔ لہذا جو بھی اسے کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہے وہ اسی پر ہی شک کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور پھر اپنے ذہن میں مختلف بیانیوں کے درمیان تضادات کی تشخیص کر کے خود ہی فیصلہ کرتا ہے کہ قاتل کون ہو سکتا ہے۔ یہ کانٹ کے فلسفے کی ایک تصویر ہے۔ اب ہسرل ایک پریشان اور متحیر انگیز امکان کو دریافت کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ، ” ممکن ہے سراغ رساں ہی قاتل ہو تو؟“ وہ اس بات کی خود یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ یہ مفروضہ بنائے گا ہی نہیں کہ قاتل کون ہے، وہ ہر شئے پر شک کر ے گا۔ مگر اس نے ایک مفرضہ تو بہر حال بنا ہی لیا کہ وہ ـــــــــــ معلوم ہے۔ دیکارٹ کے بعد آنے والے تمام فلسفی بھی یہی مفروضہ بناتے رہے لہذا وہ ایک ہی چکر میں پڑے رہے۔

 ہسرل کا انداز یہ ہے کہ اس کے پیغام کا جوہر فلسفہ سائنس بننا چاہتا ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ کائنات کا مطالعہ سائنسی بنیادوں پر کرتا ہے کہ وہ مشاہدات کرتا ہے اور سوال اٹھاتا ہے۔ مگر فلسفہ سائنس تو نہیں ہے؟ جو یہ جانتی ہو کہ انسان کے باطن میں کیا ہے جس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے یا مطالعہ کرنا چاہئے؟ شعور کو ایسی بدیہی شے نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس کے بار ے میں سوال اٹھایا ہی نہ جا سکے۔ شعور کا خود بھی مطالعہ ہونا چاہیے۔ آخر نفسیات بھی تو ایک سائنس ہے۔ اور وہ انسان کے باطن کا مطالعہ کرتی ہوئی بھی نظر آتی ہے۔ جبکہ فلسفہ خود کر بیرونی کائنات تک محدود رکھتا ہے۔ اس حساب سے تووہ آدھی سائنس ٹھہرا اور یہ اس لئے بھی ممکن ہے کہ وہ آدھی سائنس ہونے کے باعث جمود کا شکار ہو گیا؟

                اس کے بعد ہسرل کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مظاہریت کی تعریف کر ے اور اسے شعور کی ساخت قرار دے۔ ممکن ہے شروع میں ساخت کی وجہ سے بعض مشکلات پیدا ہوئی ہوں کیونکہ ساخت کا تعلق عام طور پر عمارتوں سے ہوتا ہے اور فرائیڈ کے نزدیک ذہین ایک عمارت کی طرح ہے اور لاشعور اس کا تاریک گودام ہے۔ جب کہ ماورائے ادراک کا تصور رکھنے والے تو ایک بالائی منزل بھی بنائے ہوئے ہیں وہ ایک طرح کا سپر شعور ہے۔ ہسرل پور ے ذہن کے لئے شعور کی اصطلاح استعمال کرتا ہے مگر اس کے علاوہ اس کے نظریے میں اور فرائیڈ کے نظریے میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔

 آخر پر غالب کا ایک شعر کہ ؛

؎شاہدِ ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں

Facebook Comments Box
featuredPhenomenologyمظہریت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جسے میر کہتے ہیں صاحبو ! —- ڈاکٹراعجازالحق اعجاز
next post
University_ Ranking 2022 _and _Lessons _for _Pakistan. Ahmed _Raza

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.