تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

کشور ناہید ایک بری عورت کیوں ہیں؟ —– بی بی امینہ

by دانش ڈیسک 03/12/2021
written by دانش ڈیسک 03/12/2021
301

’’بری عورت کی دوسری کتھا‘‘ جب میرے ہاتھ میں آئی، تو میں بہت حیران ہوئی کہ ایک عورت ایک متنازع نوعیت کا لفظ ’’بری عورت‘‘ خود اپنی ذات کے لیے مسلسل استعمال کرنے پر کیوں مصر ہے؟ جب کہ جس صنفِ ادب میں وہ لکھ رہی ہے اس میں تو اپنی شان بڑھانے کے لیے زمین و آسمان کے وہ قلابے ملا ئے جاتے ہیں اور ایسے ایسے عنوان لائے جاتے ہیں کہ الامان۔ تو ان کے یہاں ایسا کیوں؟؟؟

بس اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے کتاب کھولی تودو جملے نظر نواز ہوئے، جو ان کے احباب کے عطا کردہ تھے:

اوّل:اس کی بیوی کبھی زور سے بولتی تو کہتا، ’’تم کشور ناہید بننے کی کوشش مت کرو۔ ‘‘

دوم:اب جب بھی مجھے دیکھتے، کہتے’’اس۔ ۔ ۔ ۔ نے میری بیوی کو بھی ورغلا لیا ہے۔ ‘‘

تو کیا اسی سبب سے انھوں نے اپنے لیے یہ مرکب تجویز کر لیا؟

خیر۔ ۔ ۔ اس کے بعد میں اور سطور تلاش کرنے لگی، جو اس عنوان کی تائید کرتی ہوں۔ ایک اور بار پڑھی، بار بار پڑھی۔ بری عورت تو کہیں دکھائی نہ دی البتہ جس عورت کی تصویر بنی وہ ’بری‘ تو نہیں ’بڑی‘ضرورتھی۔ ان معنوں میں کہ

May be an image of text’عورت عورت کا ساتھ نہیں دیتی۔ ‘

’عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ ‘

’عورت اپنی ہم جنسوں کو آگے بڑھتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتی۔ ‘

’دو عورتیں کبھی اچھی سہیلیاں نہیں بن سکتیں۔ ‘

جیسے پدر سری معاشرے کے تشکیل دیے گئے معروف اقوال اور خواتین کے خلاف زہریلی اور منفی سوچ کی مکمل نفی کرتی ہوئی ایک بہادر، یکتا، منفرد اور اپنی ذات پر مکمل انحصار کرنے والی عورت۔

یہ تو وہ عورت ہے، کہ دنیا میں اس کے ہم عصروں پر یا اس سے پہلے کی عورتوں پر جب بھی کوئی آفت یا مصیبت آئی اس نے ان کے درد کو محسوس کیا اور ہر اس امر کے خلاف احتجاج کیا جہاں اسے اس حوالے سے دوغلا پن نظر آیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انقلاب کو صرف اپنے لیے روا سمجھنے والے شاعر نے خود اپنے گھر میں انقلاب کے داخلے پر پابندی لگا دی ؛ دنیا کے مختلف کونوں میں مذہب، سیاست، بد فعلی، زیادتی، غیرت کے نام پر خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا؛ کسی بے گناہ کے خوب صورت چہرے کو تیزاب سے داغ دار کر دیا گیا؛کوئی چترالی لڑکی ڈگری لینے کے لیے آتے ہوئے راستے میں حادثے کا شکار ہو گئی ؛ کوئی گل زریں نفسیاتی مریضہ بن کر خود کو دریا کے حوالے کر گئی؛لڑکیوں کی پیدائش کے دن کو برا دن قرار دیا گیا؛ شہزادی ڈیانا اپنی محرومیوں پر زار و قطار رو دیں اور نور مقدم کے جسم کے ساتھ اس کی روح تک زخمی ہوئی تو وہ تڑپ اٹھی کہ وہ تو سینکڑوں جنموں کو اپنی ذات کےنہاں خانے چھپائے ہوئے تھی۔ پھر اِس عورت نے اسی پر بس نہ کی بلکہ سراپا احتجاج بن گئئ ؛ ان کے لیے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی بساط کے مطابق ان کے دکھوں کا ازالہ بھی کیا کہ کبھی تو ڈیانا کے غم اور دکھ پر آنسو بہائے کہ اس کے لیے اس سے زیادہ کر نہیں سکتی تھی تو کبھی نور کے سر بریدہ لاشے کو منصفوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ کبھی خواتین کی صحت، تعلیم، کرافٹ، بلاک پرنٹنگ اور ٹائی اینڈ ڈائی کے سنٹر بنا ئے تو کبھی ان کے لیے دال چاول اور اناج کے ساتھ ساتھ توے اور چولھے کا انتظام کرنے میں مصروف ہوگئی۔ یہاں تک کہ جب اسے تواریخِ ادب تک عورتوں کے ذکر سے دانستاً خالی نظر آئیں تو سہ نہ سکی اور باب چہارم اور پنجم لکھ کر میں دنیا بھر کی نام ور خواتین اور ان کی خدمات کی فہرست مرتب کر دی۔ لیکن کمال ہے کہ پھر بھی ’اچھی‘ نہ ہو سکی، ’بری ‘ ہی رہی۔

میری ان باتوں سے یہ ہر گز نہ سمجھا جائے کہ کشور ناہید صرف عورتوں کی ہم نوا رہی ہیں بلکہ اس کتاب کے صفحات کو کسی بھی قسم کے تعصب کی عینک کے بغیر پڑھا جائے تو عیاں ہوگا کہ وہ انسانیت کی ہم نوا ہیں کہ وہ جہاں اپنی بھانجی اور نور مقدم کی موت پر افسردہ ہیں وہیں ان کے ہاں آصف فرخی اور زاہد ڈار کو کھونے کا دکھ بھی نمایاں ہے۔ عطا شاد، ثروت حسین اور شکیب جلالی کے اس دنیا سے جانے کا غم بھی وہ ایسے ہی محسوس کرتی ہیں، جس طرح سارہ شگفتہ کا۔ اقبال ساجد، احمد راہی، احمد فراز، واصف علی واصف، منیر نیازی، جون ایلیا، منو بھائی، عابد علی عابد، ساغر صدیقی، رضا رومی، اصغر ندیم سید غرض کتنی ہی شخصیتیں ہیں جو ان کے دل میں اتنے ہی مقام کی حامل ہیں جتنی کہ ان کی اپنی ہم جنس۔ پھر انھیں وہ بچے بھی عزیز ہیں جو سمندر پار کرتے مر جاتے ہیں یا افلاس کے ہاتھوں مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ جھیل کے آلودہ پانی کے کنارے بیٹھے اور جنگل کی آگ میں اپنے مسکن اور زندگیاں کھونے والے پرندوں کے دکھ کی بھی سانجھی ہیں۔ وہ تو ملک و قوم کی حالت زار پر رنجیدہ رہتی ہیں؛ منصفوں کے غلط فیصلوں پر شرمندہ ہوتی ہیں؛ امیر ممالک سے بھیک مانگنے پر فخر کرنے والوں کی مذمت کرتی ہیں اور ملک و قوم کو نقصان پہنچانے والے قزاقوں پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں۔ اور یہ سب کرنے کے بعد وہ صرف عورت کی ہم نوا نہیں رہ جاتیں بلکہ انسانیت اور زندگی کی ہم نوا نظر آتی ہیں کہ جہاں کچھ بھی ان دو نوں سے متصادم نظر آتا ہے ان کے عتاب کا نشانہ بنتا ہے۔

اس کتاب کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ اپنے آپ میں ایک مختصر تاریخ یا ڈائریکٹری ہے۔ سیاست، ادب، میڈیا، تاریخ، سر سنگیت و دیگر فنون ِلطیفہ، غرض کوئی بھی شعبہ اٹھا لیں اس سے وابستہ افراد و واقعات کی ایک طویل کہکشاں نظر آتی ہے، جو کشور ناہیدکے دل، دماغ اورماضی کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے عہد کو بھی روشن کرتی چلی جاتی ہے۔

لیکن میں آخر میں میں پھر اپنی پہلی بات کی طرف واپس آتے ہوئے کہنا چاہوں گی کہ اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی یہی ہے کہ کشور ناہید نے اس کے توسط سےاپنی صنف کو اعتبار بخشا ہے اور عورت کا ایک مثبت چہرہ پیش کیا ہے۔ اسے پڑھ کر ایک قول بھی یاد آتا ہے:

When women support each other, incredible things happen.

میں سمجھتی ہوں یہ کتاب اس قول کا بہترین اظہار ہے۔ اگرعورت دشمن کلچر کو ختم کرنے والا ایسا سچا اور بے باک اظہاریہ لکھ کر وہ ’بری‘ بنتی ہیں تو پھر ہم سب کو بھی برا ہی بن جانا چاہیے۔

Facebook Comments Box
featuredKishwar Naheedبری عورت کی دوسری کتھابی بی امینہکشور ناہید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد
next post
نظریہ پاکستان کی اساس: اقبال کی ترقی پسند فکر —— فتح محمد ملک

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.