ڈاکٹر ممتاز احمد مرحوم نے یہ انٹرویو چند برس قبل اپنی کتاب کے لئے کیا تھا جسے ہم اسکی تاریخی اہمیت کے پیش نظر دانش کے قارئین کے لئے پیش کررہے ہیں۔
مولانا زاہد الراشدی کی ولادت ۲۸۔اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی۔ ان کے والد مولانامحمد سرفراز خان صفدر دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور مولانا حسین احمد مدنی کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے جنھوں نے کم و بیش ساٹھ سال تک تدریسی خدمات سرانجام دیں اور دیوبندی مسلک کے علمی ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ مولانا زاہد الراشدی نے حفظ قرآن کریم اور صرف و نحوکی ابتدائی تعلیم گھر میں اپنے والد اور دیگر اساتذہ سے حاصل کی۔ ۱۹۶۲ء سے ۱۹۶۹ء تک مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں درس نظامی کی تعلیم پائی۔ ۱۹۷۰ء میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ تب سے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ مولانا زاہدالراشدی دینی علوم کی تدریس کے شعبے سے بھی مسلسل وابستہ ہیں۔ پہلے مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے اور اب کئی برسوں سے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث، صدر مدرس اور ناظم تعلیمات کی ذمہ داریاں ان کے سپرد ہیں۔
سیاسی طور پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے وابستہ رہے اور کم و بیش پچیس برس تک صوبائی اور مرکزی سطح پر مختلف عہدوں پر متحرک کردار ادا کرتے رہے۔ انھیں مولانا مفتی محمود کے رفیق کار اور معاون کے طور پر سالہا سال خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔ ۱۹۹۱ء کے بعد سے انتخابی سیاست سے ہٹ کر فکری اور علمی حوالہ سے اسلامائزیشن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے پلیٹ فارم سے مختلف سرگرمیاں انجام دیتے رہتے ہیں۔ ۱۹۸۹ء سے انھوں نے گوجرانوالہ سے ایک علمی و فکری جریدہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا آغاز کیا جو اسلام اور ملّت اسلامیہ کو درپیش معروضی مسائل کے حوالے سے اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔ گوجرانوالہ میں انھوں نے الشریعہ اکادمی کے نام سے ایک علمی و فکری ادارہ قائم کر کھا ہے جس کے تحت وہ دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کے لیے مختلف تربیتی کورسز، ورک شاپس، سیمینار اور فکری نشستوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ صحافت کے میدان میں بھی مولانا زاہد الراشدی وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور کم و بیش چالیس سال سے ملک کے معروف روزناموں اورجریدوں میں مسلسل لکھتے چلے آ رہے ہیں۔ آج کل روزنامہ پاکستان لاہور میں ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے اور روزنامہ اسلام لاہور میں ’’نوائے حق‘‘ کے نام سے ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام ان کے متعدد تحریری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی بعض تحریریں ان کی ویب سائٹ www.zahidrashdi.org پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

Dr. Mumtaz Ahmed
س: آپ کے خیال میں مدارسِ دینیہ کی نمایاں خدمات کیا ہیں؟
ج: ان مدارس نے جو نمایاں خدمات سرانجام دیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
٭ مساجد میں امامت اور قرآنِ کریم کی تعلیم کے نظام کو باقی رکھنے کے لیے ائمہ مساجد، خطبا اور حفاظ قرآن تیار کیے، چنانچہ آج جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں جتنی مساجد آباد ہیں اور جتنے مکاتب قرآنِ کریم کی تعلیم دے رہے ہیں، ان میں انہی مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات کام کر رہے ہیں۔
٭ قرآنِ کریم، حدیث نبوی، فقۂ اسلامی، عربی و فارسی زبانوں اور دیگر متعلقہ علوم کی حفاظت و تدریس کا اہتمام کیا اور درس نظامی کے اس نظام و نصاب کو آج تک باقی رکھا جسے برطانوی حکومت اپنے خیال میں جڑ سے اکھاڑ کر سمندر میں پھینک چکی تھی۔
٭ مسلمانوں کے عقیدہ و فکر کی حفاظت کی اور توحیدو سنت کے سرچشمہ کے ساتھ انہیں وابستہ رکھنے کے علاوہ اس خطہ میں مسیحیت کو فروغ دینے کی مساعی کی روک تھام کی اور انکار سنت، انکار معجزات، عقل پرستی، شرکت و بدعت، انکار ختم نبوت اور دیگر اعتقادی و عملی فتنوں کا مقابلہ کیا۔
٭ مسلمانوں میں حریت اور آزادی کے جذبہ کو باقی رکھا اور خود مختاری کے جذبات کی آبیاری کرتے ہوئے تحریک آزادی کو سینکڑوں قائدین اور ہزاروں کارکنوں کی کھیپ ہر دور میں مہیا کی۔
٭ عام مسلمانوں میں دعوت و اصلاح کے عمل کو جاری رکھا۔ آج یہ عمل پوری دنیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور دینی مدارس کے فضلا کا اس میں بہت بڑا کردار ہے۔
٭ تحریر و تقریر کے میدان بھی بڑے بڑے مصنفین، محققین، دانش ور اور خطبا ء پیدا کیے جن کے تذکرہ کے لیے مستقل کتاب درکار ہے اور اس طرح علمی و تحقیقی میدان میں بھی علما کی جدوجہد کے تسلسل کو قائم رکھا۔
دینی مدارس کی انہی خدمات کی وجہ سے مغربی استعمار انہیں اپنی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان دینی مدارس کو ختم کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً منصوبے بنتے رہتے ہیں، جبکہ یہ دینی مدارس سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ بالا خدمات اور کارکردگی کا تسلسل اور اثرات صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں جب وہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں اور نصاب و نظام کے معاملات خود ان کے اپنے کنٹرول میں ہوں، ورنہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ریاستی مشینری کو مداخلت کا موقع دینے سے دینی مدارس کا یہ سارا نظام مجروح ہوگا اور وہ مشنری جذبہ کے ساتھ مذکورہ بالا مقاصد کے لیے کام نہیںکر سکیں گے۔
س: دینی مدارس کے بارے میں ان دنوں عام طور پر یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ یہ مدارس ’’بنیادپرستی‘‘ کو فروغ دے رہے ہیں جو ’’گلوبلائزیشن‘‘ کے اس دور میں ’’ملٹی نیشنل کلچر‘‘ اور مشترکہ عالمی سوسائٹی کی تشکیل میں رکاوٹ ہے؟
ج: جہاں تک ’’بنیاد پرستی‘‘ کا تعلق ہے، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ مدارس عام مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں اسلامی ’’سوشلائزیشن‘‘ کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے جو مذہب کے اجتماعی کردار کی نفی کرتے ہوئے سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر سیکولر ثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے تو’’دینی مدارس‘‘ کو اس الزام کو قبول کرنے میں کوئی انکار نہیں، بلکہ وہ اسے اپنے لیے الزام کے بجائے اعزاز اور کریڈٹ سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے اس کردار کی اثر خیزی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
س: یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات مختلف جہادی تحریکات میں عسکری خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اس طرح یہ مدارس ’’دہشت گردی‘‘ کے فروغ کا باعث ہیں۔ نیز ان مدارس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ عسکری ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
ج: اس سلسلے میں عرض ہے کہ دو مسئلے قطعی طور پر الگ الگ ہیں۔ ایک مسئلہ جہاد کے بارے میں شرعی احکام اور قرآن وسنت کے احکام و قوانین کے مطابق ہے۔ یہ دینی تعلیمات کا حصہ ہے اور کسی دینی ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ قرآن و سنت کی دیگر تعلیمات کا تو اپنے ہاں اہتمام کرے مگر جہاد سے متعلق آیات قرآنی، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم وسلم اور فقہی ابواب کو صرف اس لیے نصاب سے خارج کر دے کہ دنیا کے کچھ حلقہ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ جہاد کی عملی تربیت اور عسکری ٹریننگ کا ہے۔ یہ ان مدارس میں کسی سطح پر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان مدارس میں ایسا کوئی نظام موجود ہے جو طلبہ کو اس طرح کی ٹریننگ دیتا ہو، حتیٰ کہ سرکاری کالجوں اور سکولوں میں این سی سی طرز کی جو نیم فوجی تربیت عام طلبہ کو دی جاتی ہے، دینی مدارس کے نظام میں وہ بھی باضابطہ طور پر موجود نہیں ہے، اس لیے یہ کہنا قطعی طور پر غلط ہے کہ دینی مدارس اپنے طلبہ کو عسکری ٹریننگ دیتے ہیں۔ البتہ دینی مدارس کے طلبہ یہاں سے فارغ ہو کر یا چھٹیوں کے دوران میں اپنی آزادانہ مرضی سے کسی دبائو کے بغیر جہادی تحریکات کے مراکز میں جاتے ہیں، ٹریننگ حاصل کرتے ہیں اور کسی نہ کسی محاذ پر جہاد میں شریک بھی ہوتے ہیں، لیکن اس کا مدارس کے نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ٹریننگ کے یہ مراکز مدارس کے سسٹم میں شامل ہیں۔ ان کا نظم اور ذمہ داری بالکل مختلف دائرہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے لیے دینی مدارس کو ذمہ دار ٹھہرانا قطعی طور پر غلط بات ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے سرکاری کالجوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہزاروں نوجوان مختلف عسکری تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں جن میں جہادی تحریکات بھی ہیں، لسانی گروپ بھی ہیں، علاقائی تنظیمیں بھی ہیں اور طبقاتی گروہ بھی ہیں، حتیٰ کہ ڈکیتی اور رہزنی کے گینگ بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ نوجوان بھی مختلف ٹریننگ سنٹروں میں عسکری تربیت حاصل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی گروہ کی کارروائیوں کا ذمہ داران کے تعلیمی اداروں کو قرار نہیں دیا جاتا اور انہیں ان کے ذاتی فعل اور فیصلے پر محمول کیا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی دینی مدارس کے طلبہ بھی اگر تعلیمی نظام اور ڈسپلن سے ہٹ کر جہادی تحریکات میں شامل ہوتے ہیں اور عسکری تربیت حاصل کر کے کسی کارروائی میں حصہ لیتے ہیں تو ان کے لیے دینی مدارس کو ذمہ دار قرار دینا قرینِ انصاف نہیں ہے۔
س: قومی سطح پر یہ مدارس اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کے بجائے الگ تشخص قائم رکھنے پر مصر ہیں اور مروجہ ریاستی نظام تعلیم کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ قبول نہیں کر رہے جس کی وجہ سے قوم میں ’’دو ذہنی‘‘ کی فضا موجود ہے اور یہ دوہرا نظام قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟
ج: جہاں تک قومی اجتماعی دھارے سے الگ رہنے اور جداگانہ تشخص قائم رکھنے کا سوال ہے، اس سلسلے میں گزارش ہے کہ اس کا تعلق بھی ان مدارس کے مقصدِ وجود سے ہے، کیونکہ جب تک ریاستی نظام معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجدکے ائمہ کی فراہمی، دینی راہنمائی کے لیے علمائے کرام کی تیاری اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابلِ قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا، اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی، ورنہ وہی خلا پیدا ہو جائے گا جس کو پُر کرنے کے لیے یہ مدارس قائم کیے گئے تھے اور اس ’’خلا‘‘ کو باقی رکھنے کا کوئی باشعور مسلمان رسک نہیں لے سکتا۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خود مختاری، انتظامی آزادی اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے جس کے بغیر یہ اپنا کردار اعتماد کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے، اس لیے دینی مدارس کے جداگانہ تعلیمی نظام اور معاشرہ میں ’’دو ذہنی‘‘ اور ’’تعلیمی دوئی‘‘ کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاستی نظام پر عائد ہوتی ہے جو اس کردار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو ان دینی مدارس کے جداگانہ وجود کا باعث ہے، مگر ان مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کا بار بار اظہار کر رہا ہے جس کا منطقی نتیجہ معاشرہ میں دینی تعلیم کے اس نظام کو یکسر ختم اور بے اثر کر دینے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
س: دینی مدارس اپنے خلاف ملکی اور عالمی سطح پر پائی جانے والی مہم کوموجودہ عالمی حالات میں کس نظر سے دیکھتے ہیں اور موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش میںان کا موقف کیا ہے؟
ج: دینی مدارس کا بنیادی موقف ہی یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی کی راہنمائی اور قیادت کے لیے انفرادی یا اجتماعی ’’عقل و خواہش‘‘ کافی نہیں بلکہ اس کے لیے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی نگرانی اور بالادستی ضروری ہے اور اس سے ہٹ کراباحیت مطلقہ اور ہمہ نوع آزادی کی بنیاد پر جس کلچر کو ’’گلوبل سولائزیشن‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے، وہ سراسر غلط ہے، گمراہی ہے اور نسل انسانی کو مزید تباہی اور انارکی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اگر دینی مدارس اس موقف میں لچک پیدا کر لیں تو خود ان کا مقصدِ وجود ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور ان کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا، اس لیے اس معاملہ میں دینی مدارس کسی قسم کی کوئی لچک قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔
س: دینی مدارس اپنے نصاب میں جدید علوم اور آج کی ضروریات مثلاً سائنس، ریاضی، انگلش زبان اور کمپیوٹر وغیرہ کو شامل کیوں نہیں کر رہے اور انہیں اس سلسلہ میں کیا رکاوٹ اور حجاب ہے؟
ج: جہاں تک اِس سوال کا تعلق ہے کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں انگلش زبان، سائنس، ریاضی اور دیگر جدید ضروری علوم و فنون کو شامل کرنے سے کیوں انکاری ہیں، اس کے جواب میں تین گزارشات پیش خدمت ہیں:
پہلی گزارش یہ ہے کہ دینی مدارس کو جائز حد تک ان علوم و فنون کو اپنے نصاب میں شامل کرنے سے کوئی انکار نہیںہے۔ اب تک مسئلہ زیادہ تر وسائل کا رہا ہے کہ دینی مدارس کے وسائل محدود ہوتے ہیں اور انہیں تھوڑے وسائل کے ساتھ اپنا کام چلانا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود دینی مدارس نے انگریزی، ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر ٹریننگ وغیرہ کے مضامین کو اپنے نصاب میں بتدریج شامل کرنے کا سلسلہ کچھ عرصہ سے شروع کررکھا ہے اور دینی مدارس کے تمام وفاق میٹرک کی سطح تک اپنے نصاب میں یہ مضامین شامل کر چکے ہیں۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ ان مضامین کو نصاب میں شامل کرنے کی جائز حددینی مدارس کے ارباب حل و عقد کے نزدیک میٹرک ہے۔ اس کے بعد کے نصاب میں ان مضامین کی شمولیت ضروری نہیں بلکہ بعض حوالوں سے نقصان دہ ہے، اس لیے میٹرک کے بعد کے درجات میںان مضامین کو شامل نصاب کرنے کے لیے دینی مدارس تیارنہیں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد تعلیم کے دائرے تقسیم ہو جاتے ہیں اور ہر دائرہ میں اس شعبہ کے مضامین کی تعلیم ہوتی ہے، اس میں دوسرے شعبوں کے مضامین کو شامل نہیں کیا جاتا۔ مثلاً لاکالج میں صرف قانون کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں اور اس میں سائنس پڑھانے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، انجینئرنگ میں صرف اس سے متعلقہ مضامین کی تعلیم ہوتی ہے اور اس میں قانون پڑھانے کا کوئی تقاضا نہیں ہوتا اور میڈیکل کالج میں صرف طب سے متعلقہ مضامین شامل نصاب ہوتے ہیں اور اس میں انجینئرنگ کے مضامین کی تعلیم کو ضروری خیال نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح دینی تعلیم بھی ایک مستقل شعبہ ہے اور بنیادی تعلیم کی حد میٹرک ہو یا ایف اے، اس کے بعد دینی علوم کے نصاب میں دیگر شعبوں کے مضامین شامل کرنے کا مطالبہ بھی ہمارے نزدیک ایسا ہی ہے جیسے لا کالج میں سائنس پڑھانے کا مطالبہ کیا جائے یا میڈیکل کالج میں قانون پڑھانے کا تقاضا کیا جائے۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں معاصر قوتوں سے بہت زیادہ پیچھے رہ گئے ہیں اور اس کا احساس ہمیں زیادہ ہے جو مسلمانوں کے عقیدہ و ثقافت کے تحفظ کی جنگ میں مغرب کے مقابلہ میں عملی طور پر صف آرا ہیں اور صرف ایک مثال سے اس صورت حال کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ آج سے ایک صدی قبل اللہ تعالیٰ نے ہمارے زوال و ادبار کے دور میں ہمیں خلیج عرب میں تیل کے سرچشموں کی عظیم دولت سے نوازا تھا مگر ہماری نااہلی کی صورت حال یہ تھی کہ ہم زمین کھود کر تیل نکالنے کی صلاحیت سے محروم تھے، تیل نکال کر اسے ریفائن کرنے کی اہلیت ہم میں نہیں تھی اور ریفائن کرنے کے بعد اسے دنیا میں بیچنے یعنی مارکیٹنگ کی صلاحیت سے بھی ہم بے بہرہ تھے، مگر ہم نے اپنی اس نااہلی کو دور کرنے اور ان چیزوں کی صلاحیت حاصل کرنے کی بجائے اس کام کے لیے مغربی ماہرین کو بلایا۔ ماہرین آئے، ان کے بعد مغرب کی کمپنیاں آئیں، پھر دولت سمیٹنے کے لیے مغرب کے بینک آ گئے، ان کے پیچھے کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سفارت کاروں اور سیاست کاروں نے چکر لگانا شروع کیے اور آخر میں مغربی ممالک کی فوجیں آئیں جو تیل کے چشموں کا گھیرا ڈالے بیٹھی ہیں۔
زمین ہماری ہے، چشمے ہمارے ہیں، اور تیل بھی ہمارا ہے، لیکن کنٹرول مغربی کمپنیوں کا ہے اور تیل سے حاصل ہونے والی دولت مغربی بینکوں میں ہے جو ہماری نااہلی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف توجہ نہ دینے کا نتیجہ ہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ ہم آج بھی پون صدی گزر جانے کے باوجود ان تینوں صلاحیتوں سے کورے ہیں لیکن اس بات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کے دوسری قوتوں سے پیچھے رہ جانے کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اور اس میں دینی مدارس کا قصور کیا ہے؟
۱۸۵۷ء میں دہلی پر تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہو جانے کے بعد جب متحدہ ہندوستان میں ہمارے صدیوں سے چلے آنے والے نظام تعلیم کو کلیتاً ختم کر دیا گیا اور تمام تر تعلیمی اور تہذیبی نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا گیا تو اس وقت تعلیمی محاذ پر دو طبقے سامنے آئے۔ ایک علمائے کرام کا گروہ تھا جس نے مسجد و مدرسہ کو آباد رکھنے، قرآن و سنت کی تعلیم کا سلسلہ باقی رکھنے، مسلمانوں کے عقیدہ و اعمال کے تحفظ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا تسلسل جاری رکھنے کی ذمہ داری قبول کی اور اس کے لیے کسی قسم کے ریاستی وسائل اور حکومتی تعاون سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے عام مسلمانوں کے رضاکارانہ تعاون سے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کی بنیاد رکھی، جبکہ دوسری طرف انگریزی زبان اور سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر علوم میں مسلمانوں کو دوسری اقوام کے برابر لانے کی ذمہ داری قبول کی اور ایک مستقل نظام تعلیم کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس نظام کا آغاز بھی رضاکارانہ چندہ سے ہوا تھا، لیکن اسے بتدریج ریاستی وسائل اور حکومتی تعاون حاصل ہوتا چلا گیا اور بہت جلد ریاست و حکومت نے اس نظام کی تمام تر ذمہ داری اور اخراجات اپنے کھاتے میں ڈال لیے۔
دینی مدارس نے اپنا نظام عام مسلمانوں کے چندہ سے چلایا اور کسی حکومت سے نہ مالی امداد طلب کی اور نہ ہی کسی حکومت کی مالی مدد اس درجہ میں قبول کی کہ اس پر مدارس کے نظام کا انحصار ہو۔ علمائے کرام نے اپنی عزت نفس کی پروا نہ کرتے ہوئے زکوٰۃ مانگی، صدقات مانگے، خیرات مانگی، عطیات مانگے، حتیٰ کہ ایک ایک دروازے پر دستک دے کر روٹیاں مانگیں۔ میں نے خود طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے مختلف محلوں میں سرپر چھابہ رکھ کر گھروں سے روٹیاں مانگی ہیں۔ ہم چند طالب علم گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر روٹیاں مانگ کر لاتے تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے سب طلبہ وہ روٹیاں کھا کر تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ برصغیر کے طول وعرض کے اکثر مدارس میں ایک عرصہ تک جاری رہا اور اس طریقہ سے دینی مدارس نے نہ صرف عام مسلمانوں تک قرآن و حدیث کی تعلیم کو پہنچایا ہے بلکہ ان کی مسجدوں اور مدرسوں کو آباد رکھا ہے، ملک بھر کی لاکھوں مساجد میں نماز پڑھانے والے امام مہیا کیے ہیں، قرآن کریم کی تعلیم دینے والے اور رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن کریم سنانے والے لاکھوں حافظ اور قاری فراہم کیے ہیں، دینی علوم کی تعلیم دینے والے لاکھوں مدرسین تیار کیے ہیں، مسائل بتانے والے ہزاروں مفتی پیدا کیے ہیں، خطبات دینے والے خطیب مقرر اور واعظ تیار کیے ہیں، کتابیں لکھنے والے مصنفین دیے ہیں، دنیا بھر میں دین اسلام کی دعوت دینے والے لاکھوں مبلغین بھیجے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر میدان جنگ میں کفر وظلم کے خلاف ہتھیار اُٹھا کر جنگ کرنے والے ہزاروں مجاہدین بھی ان مدارس نے فراہم کیے ہیں، اس لیے اپنی ذمہ داری اور مشن کے حوالے سے دینی مدارسی پر کوتاہی کا کوئی الزام عاید نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ملک کے کسی حصے میں نماز پڑھانے کے لیے امام میسر نہیں ہے، جمعہ پڑھانے کے لیے خطیب نہیں مل رہا، قرآن کریم پڑھانے والا قاری اور رمضان المبارک میں قرآن کریم سنانے کے لیے حافظ موجود نہیں ہے، دینی علوم کی تعلیم و تدریس کے لیے مدرسین کی کمی ہے، مسئلہ بتانے والے مفتی حضرات کا فقدان ہے یا دین کی دعوت دینے والے مبالغین کی آواز نہیں پہنچ رہی تو اس کے لیے دینی مدارس کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور ان کی کوتاہی شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں سے مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی ذمہ داری دینی مدارس پر ڈالنا انصاف کی بات نہیں ہے۔ اس کے بارے میں ان لوگوں سے دریافت کیجیے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی، سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کو دوسری قوموں کے برابر لانے کا عہد کیا تھا، اس کے لیے کم از کم ایک صدی سے انہیں ریاستی وسائل میسر چلے آ رہے ہیں اور قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ان کے لیے وقف ہوتا ہے۔ ان سے پوچھیے کہ وہ قوم کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں کے برابر لانے میں کیوں کامیاب نہیں ہوئے؟ بلکہ میری گزارش ہے کہ اس مقصد کے لیے قومی تعلیمی کمیشن قائم کیا جائے جو اس بات کا جائزہ لے کہ ریاستی نظام تعلیم ملی اور قومی مقاصد کے حصول میں کیوں ناکام رہا ہے؟ اس کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اس عظیم ناکامی کی تلافی کے لیے اقدامات و تجاویز طے کی جائیں۔ چنانچہ میں نے گورنر پنجاب سے اپنے مضمون میں گزارش کی ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں قوم کے پیچھے رہ جانے کا رونا ضرور روئیں اور ان علوم کی طرف توجہ کی تلقین بھی ضرور کریں لیکن اس شکوہ اور تلقین کی جگہ جامعہ اشرفیہ نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی ہے۔ وہاں کھڑے ہو کر یہ گلے شکوے دھرائیں اور اپنی ناکامی کی سیاہی غریب مولوی کے چہرے پر ملنے کی کوشش نہ کریں۔
س: جب ملک کے ہزاروں تعلیمی ادارے حکومتی انتظام کے تحت چل رہے ہیں اور حکومت کے مختلف شعبے ان کا کامیابی کے ساتھ انتظام چلا رہے ہیں تو دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں آنے سے انکار کیوں ہے اور وہ اپنا جداگانہ نظام اور تشخص قائم رکھنے پر کیوں مصر ہے؟
ج: آپ کاسوال یہ ہے کہ جب ملک کے دیگر ہزاروں تعلیمی ادارے حکومتی کنٹرول میں چل رہے ہیں تو دینی مدارس کو سرکاری نظام و کنٹرول کے دائرہ میں آنے سے کیوں انکار ہے؟ اس کے جواب میں دو باتیں عرض کی جا رہی ہیں۔ ایک تو اصولی بات ہے اور دوسری واقعاتی۔
اصولی بات یہ ہے کہ تعلیم صرف ایک پیشہ ورانہ کام نہیں بلکہ مشن ہے جس کے کچھ اہداف ہوتے ہیں اور جس کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان مشرق اور مغرب جیسی دوری ہے اور دونوں کا ہدف اور ٹارگٹ ایک دوسرے سے الگ بلکہ ایک دوسرے سے متضاد ہے، اس لیے دینی مدارس کے نظام کو ریاستی نظام کے تابع کرنے کا مطلب اس ہدف، مشن اور مقصد سے دست برداری ہوگا جس کے لیے دینی مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اگر ریاستی نظام تعلیم اپنا قبلہ درست کر لے جو ایک نظریاتی اسلامی ریاست اور حکومت قائم ہونے کے بعد ہی ممکن ہے تو ایک خالص اسلامی نظریاتی ریاست و حکومت کے نظام کی بالا دستی قبول کرنے سے دینی مدارس کو قطعی طور پر کوئی انکار نہیں ہو سکتا، لیکن سیکولر اہداف رکھنے والے ریاستی نظام کے کنٹرول کو قبول کرنا دینی مدارس کے لیے اپنے بنیادی مشن اور ہدف سے محروم ہو جانا ہوگا، اس لیے اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری بات واقعاتی ہے جو اس اصولی گزارش کی عملی تصدیق کرتی ہے کہ بعض دینی مدارس کو سرکاری نظام کے تحت چلانے کا تجربہ ہم اس سے قبل کر چکے ہیں جو ناکام ثابت ہوا ہے۔ صدرایوب خان مرحوم کے دور میں محکمہ اوقاف قائم ہوا تھا جس نے ملک بھر میں ہزاروں مساجد، مزارات اور ان کے ساتھی بیسیوں مدارس کو تحویل میں لے لیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان کا نظام صحیح نہیں ہے اور ان کی مالیات میں گڑ بڑ ہوتی ہے، اس لیے انہیں سرکاری تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ ان کے نظام کو زیادہ بہتر طریقہ سے چلایا جائے، لیکن عملاً یہ ہوا کہ نظام پہلے سے بھی خراب ہو گیا جس کا مشاہدہ محکمہ اوقاف کے زیرِ انتظام مساجد اور عام مسلمانوں کی آزادانہ کمیٹیوں کے تحت قائم مساجد کے نظاموں کا کسی بھی شعبہ میں تقابل کر کے کیا جا سکتا ہے، جبکہ محکمہ اوقاف نے کتنے ہی دینی مدارس بھی اس وقت تحویل میں لیے جن کا وجود تک باقی نہیں رہا اور اس کی ایک واضح مثال اوکاڑہ کے گول چوک کی جامع مسجد میں قائم جامعہ عثمانیہ کی شکل میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کوئی بھی شخص کسی بھی وقت جا کر کر سکتا ہے۔ محکمہ اوقاف کی تحویل میں جانے سے قبل یہ مدرسہ ملک کے اہم مدارس میں شمار ہوتا تھا اور اس میں سینکڑوں طلبہ ہاسٹل میں رہتے تھے مگر اب وہاں کوئی درس گاہ نہیں ہے، جبکہ مدرسہ کے کمرے محکمہ اوقاف نے مختلف لوگوں کو کرائے پر دے رکھے ہیں۔
صدر محمد ایوب خان مرحوم ہی کے دور میں ریاست بہاولپور باقاعدہ طور پر پاکستان میں ضم ہوئی تو وہاں کا سب سے بڑا دینی مدرسہ جامعہ عباسیہ تھا جسے محکمہ تعلیم نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اسے اسلامی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، دینی نصاب تعلیم اور سرکاری نصاب کو ملا کر ایک مشترکہ نصاب تعلیم مرتب کیا گیا، علامہ شمس الحق افغانی، مولانا سیّد احمد سعید کاظمی اور مولانا عبدالرشید نعمانی جیسے بہت سے علمائے کرام کو مختلف حصوں سے اُٹھا کر بہاولپور میں بٹھایا گیا اور ایک ماڈل دارالعلوم یا ماڈل اسلامی یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا، لیکن آج اس کی حالت یہ ہے کہ دینی نصاب تعلیم کے مضامین اس کے نصاب سے بتدریج خارج ہو چکے ہیں اور اس کا نصاب اب وہی ہے جو ملک کی دیگر سرکاری یونیورسٹیوں کا ہے جبکہ اس کے معیار کا حال یہ ہے کہ جس طالب علم کو ملک کی کسی اور یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا، اس کے لیے اسلامی یونیورسٹی بہاولپور کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
محکمہ تعلیم اور محکمہ اوقاف دونوں کے ہاتھوں مختلف دینی مدارس کا یہ حشر دیکھنے کے بعد اگر دینی مدارس سے یہ توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ سرکاری کنٹرول کو قبول کر لیں گے اور محکمہ تعلیم یا محکمہ اوقاف کے نظام میں شامل ہونے کے بعد ان کی حالت پہلے سے بہتر ہوگی تو اسے سادگی اور بھولپن کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ اس لیے بڑے ادب سے گزارش ہے کہ ہم ماضی قریب میں ماڈل دارالعلوم اور سرکاری نظام کا تلخ تجربہ کر چکے ہیں اور اس تجربہ کو دہرانے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ مومن کا وصف یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔
س: اگر ورلڈاسٹیبلشمنٹ یا ریاستی ادارے دینی مدارس کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دینی تعلیم کے جس جداگانہ تشخص کی بات کی جاتی ہے، اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ اور دینی حلقے اپنا روایتی کردار کس طرح برقرار رکھ سکیں گے؟
ج: جیسا کہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اس بات پر تُلی بیٹھی ہے اور ریاستی ادارے بھی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ دینی مدارس کو اجتماعی دھارے میں شامل کرنے کے سنہرے عنوان اور انہیں جدید وسائل اور سہولتیں فراہم کرنے کی خوشنما ترغیب کے ساتھ سرکاری کنٹرول میں لایا جائے تو اگر خدانخواستہ یہ عناصر اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھرآزادانہ دینی تعلیم کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس کے جواب میں گزارش ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، کیوں کہ طاقت کا استعمال اور چیز ہے اور فکر و عقیدہ کو تبدیل کرنا اس سے بالکل مختلف بات ہے۔ آج کی عالمی اسٹیبلشمنٹ اور اس کا لیڈر امریکہ طاقت اور جبر و تشدد کے ذریعہ جسموں کو ختم کر سکتا ہے۔ وہ ’’ڈیزی کٹر‘‘ کی بارش کر سکتا ہے، انسانی جسموں کے پرخچے اڑا سکتا ہے اور بلڈنگوں اور آبادیوں کو تہس نہس کر سکتا ہے لیکن کسی کے ذہن و عقیدہ کو تبدیل کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔
گذشتہ دنوں امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول پاکستان تشریف لائے۔ آنے سے قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی معاشرے کو سیکولر بنانے کے ایجنڈے پر بھی بات کریں گے۔ ایک مضمون میں راقم الحروف نے ان سے گزارش کی کہ وہ اس پر اپنا وقت ضائع نہ کریں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ان سے قبل اب سے دو صدیاں پہلے برطانیہ بھی اسی ایجنڈے پر جنوبی ایشیا میں آیا تھا۔ اس نے ہزاروں دینی مدارس بند کر دیے تھے، ان کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں، بلڈنگیں قبضے میں لے لی تھیں،بہت سی عمارات بلڈوز کر دی تھیں، ہزاروں علمائے کرام کو شہید کر دیا تھا اور ہزاروں کو جیلوں میں ڈال دیا تھا۔ ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ کی شہادت کے بعد ۱۹۴۷ء تک ایک سو نوے برس برطانیہ یہاں اسی ایجنڈے پر کام کرتا رہا، لیکن آج نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مدارس کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے، مولوی، حافظ، قاری، خطیب، مدرس، مبلغ اور مجاہد اپنی تعداد اور کارکردگی دونوں حوالوں سے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہیں، اس لیے کسی بھی طاقت ور کو یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ وہ طاقت اور جبر کے ذریعے سے دینی تعلیم کو ختم کر سکتا ہے اور بلڈنگوں پر قبضہ کر کے، علمائے کرام کو گرفتار کر کے یا ان کے ایک حصے کو ملازمتوں اور سہولتوں کے نام پر جال میں پھانس کر دینی تعلیم اور اس کے آزادانہ کردار کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
پھر یہ بات بطور خاص قابل توجہ ہے کہ دینی مدرسہ بلڈنگ یا زمین کا نام نہیں ہے بلکہ مولوی اور سوسائٹی کے تعلق کا نام ہے۔ یہ تعلق اگر قائم ہے تو دینی مدرسہ بھی قائم ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ میں اس پر ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں مولوی اور سوسائٹی کا تعلق قائم ہے۔ یہ تعلق لین کا بھی ہے اور دین کا بھی ہے۔ دین کا تعلق یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں کسی شخص کو اگر نماز پڑھتے ہوئے کسی بات پر شک ہو گیا ہے کہ نماز خراب تو نہیں ہوگئی تو اس کا یہ شک مولوی نے ہی دور کرنا ہے۔ یہ شک عام مسلمان کو ہوا ہے، پارلیمنٹ کے ممبر کو ہوا ہے، ہائی کورٹ کے جسٹس کو ہوا ہے، پولیس کے آئی جی کو ہوا ہے یا اسٹیٹ بینک کے گورنر کو ہوا ہے، معاشرے کے کسی طبقہ کے کسی بھی شخص کو نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا کسی دینی معاملہ میں اگر شک ہو گیا ہے تو اس کا شک بہرحال کسی مولوی سے پوچھ کر ہی دور ہوگا، اس کے سوا اس کی تسلی کی اور کوئی صورت نہیں، حتیٰ کہ اگر کوئی صاحب سارا دن دفتر یا دکان میں کرسی پر بیٹھ کر مولوی کو بُرا بھلا کہتے رہے ہیں، مولوی کے عیوب اور ان کی کمزوریاں بیان کرتے رہے ہیں اور غریب مولوی کو بات بات پر کوستے رہے ہیں مگر شام کو گھر گئے تو کسی بات پر اہلیہ محترمہ سے توتکار ہو گئی، غصے میں منہ سے کوئی الٹی سیدھی بات نکل گئی اور شک پڑ گیا کہ اب ہم میاں بیوی بھی رہے یا نہیں تو ان صاحب کا یہ شک بھی کسی مولوی نے ہی دور کرنا ہے، وہ اس شک سے نجات پانے کے لیے کسی تھانے میں نہیں جائیں گے اور نہ ہی پارلیمنٹ یا ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، بلکہ اسی مولوی کے حجرے میں جائیں گے جسے سارا دن بیٹھے کوستے رہے ہیں۔ اس مولوی سے پوچھے بغیر ان کی تسلی نہیں ہوگی۔
یہ تو مولوی کا معاشرہ کے ساتھ دین کا تعلق ہے اور یہ وہ چیز ہے جو مولوی معاشرے کو دیتا ہے۔ دوسرا تعلق لین کا ہے کہ سوسائٹی مولوی کو کیا دیتی ہے؟ کسی گھر میں کوئی مصیبت یا پریشانی آ گئی ہے اور صاحب خانہ نے یہ حدیث مبارکہ سن رکھی ہے کہ صدقہ دینے سے بلائیں ٹلتی ہیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں، ان صاحب نے صدقہ دینے کا ارادہ کیا ہے اور شہر کی بکرا منڈی میں گئے ہیں، وہاں سے انھوں نے صدقہ دینے کے لیے بکرا خریدا اور اس کی رسی پکڑے آ رہے ہیں، کیا خیال ہے وہ یہ بکرا کسی تھانے میں پہنچائیں گے؟ پارلیمنٹ میں لے جائیں گے؟ ہائیکورٹ کے دروازے پر باندھیں گے، یا سیکرٹریٹ کے کسی افسر کی نذر کریں گے؟ نہیں، بلکہ وہ کسی مسجد یا مدرسہ کا رُخ کریں گے جہاں کوئی مولوی صاحب دس بارہ طلبہ کو پڑھا رہے ہوں اور بکرا ان کے سپرد کر کے ہی انہیں اطمینان ہوگا کہ ان کا صدقہ صحیح جگہ پہنچ گیا ہے۔ یہ بکرا مولوی کا حق ہے اور مولوی نے ہی کھانا ہے، اس لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اس معاشرے میں دینی کا مسئلہ صرف مولوی نے بتانا ہے اور صدقے کا بکرا مولوی نے ہی کھانا ہے، اس لیے جب تک مولوی اور سوسائٹی کا یہ دو طرفہ تعلق قائم ہے، ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اور اس کا لیڈر امریکہ اُلٹے لٹک جائیں، دینی مدرسہ ہمارے معاشرے میں بند نہیں ہو سکتا۔
س: دینی مدارس میںدی جانے والی تعلیم کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس تعلیم کے حصول کے بعد ملازمت کی کوئی گارنٹی نہیں ہے اور روزگار کے تحفظ کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اس کا حل کیا ہے؟
ج: چوتھا سوال یہ ہے کہ دینی مدارس میں دی جانے والی تعلیم پر روزگار کا تحفظ اور ملازمت کی گارنٹی موجود نہیں ہے اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جو نوجوان خود کو وقف کرتا ہے، اس کے بارے میں عام طور پر یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ کرے گا کیا؟ اور مولوی تو بن جائے گا لیکن کھائے گا کہاں سے؟ اس کے جواب میں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ ایسا کہنے والوں سے میرا سوال ہے کہ کیا آج تک کسی مولوی یا حافظ کو انہوں نے بھوکا مرتے دیکھا ہے؟ کسی مولوی، حافظ یا قاری کو بھوک اور فاقے کی وجہ سے خودکشی کرتے دیکھا ہے؟ یا پاکستان کی پوری تاریخ میں مولویوں، قاریوں، یا حافظوں کا کوئی جلوس سڑک پر آیا ہے کہ ان کا گزارا نہیں ہوتا، ان کی تنخواہیں بڑھائی جائیں اور انہیں سہولتیں فراہم کی جائیں؟ کبھی مولوی یا قاریوں نے ہڑتال کی ہوکہ وہ تنخواہیں نہ بڑھانے کی وجہ سے نماز پڑھانے سے انکار کر رہے ہیں یا نماز پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہیں؟ اکا دکا شخصی واقعات سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن مجموعی طور پر طبقاتی حیثیت سے دینی حلقوں میں کبھی اس حوالے سے ہڑتال، جلوس، قرارداد یا مطالبات کی فضا دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ میرے ان سوالات کا مطلب یہ ہے کہ جب مولوی خود اپنے افلاس، فقر اور محتاجی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ رہا تو کسی دوسرے کو اس کے لیے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
دوسری گزارش ہے کہ اس صورت حال کی وجہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ دین کی برکت سے مولوی بلکہ دین اور مسجد سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو ضروریات کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے اور یہ عملی تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بحمد اللہ تعالیٰ بھوکا نہیں مرتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مولوی اور حافظ کو صرف تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ اس بات کی ذہنی تربیت بھی دی جاتی ہے کہ نماز پڑھانا اور قرآن کریم کی تعلیم دینا اس کا پیشہ نہیں بلکہ مشن اور دینی خدمت ہے، اس لیے وہ قناعت کرتا ہے، ضروریات کو ضروریات تک محدود رکھتا ہے اور اتنے تھوڑے وظیفہ پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے بلکہ عملاً کر کے دکھا دیتا ہے جتنے وظیفہ میں کسی دوسرے شعبہ کا کوئی فرد اتنا کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اگر آپ نے مشاہدہ کرنا ہو تو اپنے قریبی ہی کسی مسجد کے امام یا کسی مدرسہ کے مدرس سے اس کی تنخواہ اور سہولتوں کے بارے میں پوچھ لیں اور اس کی ڈیوٹی کی نوعیت اور اوقات کار کے بارے میں بھی دریافت کر لیں، آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے اور آپ کو صحیح طور پر اندازہ ہوگا کہ غریب مولوی طعنہ، تحقیر اور تذلیل کے ہر وار کو برداشت کرتے ہوئے کتنے معمولی وسائل کے ساتھ معاشرہ کی کتنی بڑی خدمت سرانجام دے رہا ہے۔
س: لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ نے حال ہی میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر احتساب کا نظام خود قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کا اِس بارے میں کیا خیال ہے؟
ج: کچھ دنوں لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ کے رضاکاروں نے مبینہ طور پر قحبہ خانے پر چھاپہ مار کر وہاں کی انچارج خاتون کو حراست میں لے لیا اور ابھی چند روز قبل ایک مساج پارلر کے کارندوں کو حراست میں لینے کے بعد اسلام آباد انتظامیہ کی اس یقین دہانی پر انھیں آزاد کیا کہ اسلام آباد میں مساج پارلروں کو بند کر دیا جائے گا۔اس پر ملک بھر میں یہ سوال کھڑا ہو گیا کہ کیا اس طرح پرائیویٹ طور پر احتساب کا نظام قائم کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لے کر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا درست عمل ہے؟ ملک بھر کے سنجیدہ حلقوں نے اس طرزِ عمل سے اختلاف کیا اور ہم نے بھی واضح طور پر عرض کیا کہ حکومت وقت کے ساتھ تصادم کا ماحول پیدا کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لینا شرعاً، اخلاقاً اورقانوناً کسی بھی لحاظ سے درست طرزِ عمل نہیں ہے اور لال مسجد کی انتظامیہ کو زود یا بدیر اس طرزِعمل پر نظرثانی کرنا ہوگی، لیکن ہمارے خیال میں ابھی تک یہ بحث یک طرفہ طور پر چل رہی ہے اور معاملہ کے صرف ایک رُخ پر مسلسل بات کی جا رہی ہے کہ برائیوں کی روک تھام کے لیے پرائیویٹ سطح پر کوئی کارروائی کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لینا درست نہیں ہے، جبکہ اس معاملے کے دوسرے رُخ پر توجہ دینے سے ہمارے دانش ور ابھی تک کترا رہے ہیں کہ معاشرہ میں منکرات کی روک تھام آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ خصوصاً جب صورت حال یہ ہو گئی ہو کہ حکومتی ادارے فحاشی اور منکرات کی روک تھام کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے خود ان کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہوں، سیاسی اور دینی جماعتوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہو اور سماجی اداروں کے ایجنڈے میں بھی یہ بات شامل نہ ہو تو کیا عملاً یہی صورت نہیں بن جاتی کہ سوسائٹی نے برائی کو اجتماعی طورپر قبول کر لیا ہے اور اس کا کوئی طبقہ برائی کی روک تھام کے لیے کوئی کردار ادا کر نے کو تیار نہیں ہے؟ ہمارا یہ سوال ان طبقات اور اربابِ دانش سے ہے جو قرآن و سنت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے موجود تعلیمات سے آگاہ ہیں کہ کیا منکرات و فواحش کے مسلسل فروغ پر سوسائٹی کی اجتماعی خاموشی کی صورت حال کو قبول کر لیا جائے اور ایسی صورت میں قرآن و سنت میں جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں، انھیں یکسر نظر انداز کردیا جائے؟ اور کیا ارشاد ربانی’کالذین نسو االلہ فانساھم انفسھم‘ کا عملی منظر اسی طرح کا نہیں ہوتا؟
مساج پارلروں کا معاملہ ہی ساتھ رکھ لیا جائے جن میں نوجوان اور نو عمر لڑکیاں مردوں کو مساج کرتی ہیں اور مساج کے نام پر بدکاری کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کررہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اس قسم کے بدکاری کے اڈوں کی موجودگی، ان کا فروغ اور ان پر حکومتی اداروں، دینی و سیاسی جماعتوں کی خاموشی اور سماجی اداروں کی لاتعلقی اور بے حسی کا ایک انتہائی افسوس ناک منظر سامنے ہے۔ اس صورت حال میں اگر ہمارے دانش ور صرف لال مسجد کی انتظامیہ کو ہی کوستے چلے جائیں کہ وہ غلط کر رہے ہیں، انھیں قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے اور از خود کسی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے تو ہمارے نزدیک یہ بات صحیح ہونے کے باوجود ادھوری اور یک طرفہ ہے۔
لال مسجد کی انتظامیہ کے طریقہ کار کو ہم بھی غلط سمجھتے ہیں جس کا ہم نے برملا اظہار کیا ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ ردعمل ہے منکرات و فواحش کے مسلسل فروغ پر حکومتی اداروں، دینی و سیاسی جماعتوں اور سماجی اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کا جو منکرات و فواحش ہی کی طرح پیہم بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ہم ارباب فکر و دانش سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ لال مسجد کی انتظامیہ کو اس کے غلط طریق کار پر ضرور ٹوکیں اور انھیں سمجھائیں کہ برائی کو روکنے کا یہ طریقہ درست نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمارے دانش وروں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قوم کو بتائیں کہ مسلم معاشرے کو منکرات و فواحش سے پاک رکھنا کس طرح ممکن ہے اور برائیوں کی روک تھام کے لیے حکومتی اداروں، دینی و سیاسی جماعتوں اور سماجی اداروں کی ذمہ داری کیا ہے؟
س: لال مسجد اسلام آباد کا بحران جِن مضمرات اور نتائج کی نشاندہی کر رہا ہے، آپ کے تاثرات اِس بارے میں کیا ہیں؟
ج: مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے بعد لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا حکومت کے ساتھ تنازع ایک لحاظ سے اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے اور ان کے نائب مولانا عبدالرشید غازی کی طرف سے خود کو حکومت کے حوالے کرنے کی مشروط پیش کش نے حکومت کے ساتھ ان کی مسلح مزاحمت کے باقی ماندہ امکانات کو بھی ختم کردیا ہے۔جب ان دونوں بھائیوں نے چند ماہ قبل اپنے بعض مطالبات کے لیے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تھا، اس وقت ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں اور ان کے خیرخواہوں کی طرف سے انھیں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ حکومت کے ساتھ اس طرح کی محاذآرائی کا طریقہ درست اور قابل عمل نہیں ہے، اس لیے وہ اسے ترک کر دیں اور ملک کی علمی و دینی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی مشاورت کے ساتھ اپنے مطالبات منوانے کے لیے جدوجہد کا طریقۂ کار از سرنو طے کریں، لیکن انھوں نے کوئی بھی معقول بات ماننے کے بجائے خود اپنے طے کردہ طریق کار پر قائم رہنے کا اعلان کردیا اور اس پر ڈٹے رہے جس کا منطقی نتیجہ یہی ہونا تھا جو سامنے آ چکا ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ شہریوںکی ہلاکت اور ملٹری فورسز کے آپریشن کے بعد غازی برادران کی پسپائی کا تماشا پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
جہاں تک ان مطالبات کا تعلق ہے کہ اسلام آباد میں سرکاری طور پر گرائی جانے والی مساجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، ملک میں اسلامی نظام کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے، فحاشی اور بدکاری کے مبینہ اڈے ختم کیے جائیں اور حدود آرڈیننس میں کی گئی حالیہ غیر شرعی ترامیم واپس لی جائیں تو ان میں سے کوئی مطالبہ بھی ایسا نہیں ہے جسے ناجائز کہا جا سکے بلکہ یہ خود دستور پاکستان کے اسلامی و نظریاتی تقاضوں کو پورا کرنے کے مطالبات ہیں، لیکن اس کے لیے جو طریق کار اختیار کیا گیا، اس سے ملک کے ہر ذی شعور شخص نے اختلاف کیا اور اسے غلط ٹھہرایا، اس لیے کہ ایک مسلم ملک میں مسلمان حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانا، قانون کو ہاتھ میں لینا، متوازی نظام قائم کرنے کی کوشش کرنا اورعام لوگوں کو از خود سزا دینے کا طریقہ اختیار کرنا کسی طرح بھی جائز عمل نہیں کہلا سکتا، لیکن نہ صرف یہ کہ اس پر اصرار کیا گیا بلکہ اسے ’’جہاد‘‘ قرار دیا گیا اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد کو اس مقصد کے لیے ڈھال بنایا گیا جس سے معاملہ بتدریج سنگین سے سنگین تر صورت اختیار کرتا چلا گیا۔
دوسری طرف حکومت نے لال مسجد کی انتظامیہ کے غلط طریقِ کار کی آڑ میں ان جائز مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا جن کی ملک کے دینی حلقے حمایت کر رہے ہیں اور اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے سے حل کرنے کے بجائے اسے زیادہ سے زیادہ طول دینے کی کوشش کی جس سے ملک کے سنجیدہ حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ یہ سارا معاملہ خود حکومت کا پیدا کردہ ہے اور حکومت اس سے نہ صرف ملک کے اندر سیاسی فوائد حاصل کر رہی ہے بلکہ اسے دنیا میں دینی مدارس کے بارے میں غلط تاثرات پھیلانے کا ذریعہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
دینی مدارس کے بارے میں سالہا سال سے عالمی میڈیا اور ادارے یہ تاثردے رہے ہیں کہ ان میں اسلحہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور یہ مبینہ طور پر دہشت گردی کے مراکز ہیں لیکن دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت نے مسلسل محنت کے ساتھ اس تاثر کو زائل کیا اور عالمی رائے عامہ کو کسی حد تک یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئی کہ جنوبی ایشیا کے یہ دینی مدارس صرف تعلیم اور نظریاتی و فکری تربیت تک محدود ہیں، ان میں نہ اسلحہ کی تربیت دی جاتی ہے اور نہ ہی ان میں اسلحہ موجود ہے۔ اس پر پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے بھی، جب وہ وزیرداخلہ تھے، مضبوط اسٹینڈ لیا اور واضح طور پر دنیا کو بتایا کہ پاکستان کے دینی مدارس میں اسلحہ کی موجودگی اور اس کی ٹریننگ کے الزامات بے بنیاد اور خلاف واقعہ ہیں۔ حقیقت حال اب بھی یہی ہے اور جامعہ حفصہ کی طرز کے اکا دکا مدارس کے علاوہ ملک بھر کے ہزاروں دینی مدارس میں کوئی ایک مدرسہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں اسلحہ کی ٹریننگ یا اسلحہ کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہو لیکن جامعہ حفصہ کی صورت حال نے اس تاثر کو الٹ دیا اور لوگوں کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے مدرسے میں نہ صرف طلبہ بلکہ طالبات کے ہاتھوں میں بھی اسلحہ دکھائی دینے لگاہے۔
ہمارے نزدیک حکومت نے معاملے کو حد سے زیادہ طول دے کر دیگر سیاسی مقاصد کے ساتھ ساتھ اس تاثر کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ اس پر چودھری شجاعت حسین کے ایک حالیہ بیان کو بطور شہادت پیش کیاجا سکتا ہے کہ ان کی کوششوں سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سے معاملات طے ہونے کے قریب پہنچے گئے تھے کہ کسی خفیہ ہاتھ نے معاملات کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ بعض عناصر یہ منظر بہرصورت دکھانا چاہتے ہیں کہ ایک طرف ملک کی مسلح فورسز ہیں اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں ایک دینی مدرسے کے طلبہ اور طالبات ہتھیار اٹھائے مزاحمت کے لیے مورچہ زن ہیں اور ایسا چاہنے والے عناصر اس مقصد میں بہرحال کامیاب ہو گئے ہیں۔
ہمارے نزدیک اس افسوس ناک صورت حال کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔ غازی برادران نے ایک غلط طریق کار پر بے جا اصرار کر کے جہاں ملک بھر کے دینی حلقوں کا اعتماد کھویا اور محاذ آرائی کو تصادم تک پہنچانے کا ذریعہ بنے تو دوسری طرف حکومت نے معاملات کو حد سے زیادہ طول دے کر اور مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ صورت اختیار کرنے سے عمداً گریز کر کے معاملات کو یہاں تک پہنچا دیا۔
