تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

پاکستانی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کے نظریاتی مخمصے —- نعمان علی خان

by دانش ڈیسک 15/01/2022
written by دانش ڈیسک 15/01/2022
227

سوویت یونین کے اختتام سے پہلے، پاکستان کی تعلیم یافتہ مڈل کلاس میں تین نظریاتی گروہ موجود تھے۔

اوّل؛ دائیں بازو والے، جن کی سوچ پر مولانا مودودی کی تعلیمات کا بہت گہرا اثر تھا۔ یہ گروہ ملک کے بڑے شہروں اور تعلیمی اداروں میں انتہائی قوت سے سرگرمِ عمل تھا۔ پاکستان کی زیادہ تر یونیورسٹیز میں انہی کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور شہر کراچی بظاہر ان کی سیاسی طاقت کے مکمل کنٹرول میں تھا۔

دوئم؛ ملک کیلیئے سوشلسٹ معیشت کو پسند کرنے والوں کا گروہ، جن کو نظریاتی غذا سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض جیسے انسانیت پرست یا محب وطن دانشوروں سے ملتی تھی۔ یہ گروہ راولپنڈی سازش کیس اورحسن ناصر کی شہادت جیسے واقعات کے بعد، عملی طور پر ملک کی سیاست سے بے دخل ہوگیا اور آخری دنوں تک اس کی چوٹی کی قیادت بھی مزدور یونئینز کے لیڈرز کے لیول سے آگے نہ بڑھ سکی۔

سوئم؛ یہ گروہ تین قسم کے افکار پر مشتمل تھا۔ ایک لبرلز، دوسرے جعلی تصوف کے نظریات والے (قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ) اور تیسرے لامذہب۔ عوامی اور سیاسی سطح پر یہ گروہ انتہائی کمزور لیکن تعلیم یافتہ مڈل کلاس میں اور ادبی اور فکری سطح پر یہ گروہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا رہا۔

اس گروہ میں جو لوگ لبرلزم کا نعرہ لگاتے تھے وہ جمہوریت کے گیت گایا کرتے تھے اور چونکہ جماعتِ اسلامی نے اپنا سیاسی فلسفہ ’’جمہوری جدوجہد‘‘ کے ذریعے اسلامی جمہوری نظام کے قیام پر مرتکز کردیا تھا اس لیئے لبرلز اور مندرجہ بالا گروہِ اوّل، بہت اطمینان سے ایک دوسرے کو جمہوریت کے نکات پر نظریاتی سپورٹ فراہم کرتے تھے۔ انتہا پسندوں اور بائیں بازو والوں کے درمیان کوئی فکری اور نظریاتی بحث ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں یہ گروہ، بائیں بازو والوں کی حمائت کرتا ہو۔ یہ یا تو انتہا پسندوں کی حمائت کرتے تھے یا خاموشی اختیار کرتے تھے اور یا پھر جمہوری قدروں کی سربلندی کیلیئے نعرے بازی کیا کرتے تھے۔ یہ وہ دانشور تھے جو کیپیٹلسٹ معیشت اور کمیونسٹ معیشت کا موازنہ کیا کرتے تھے اور ثانی الذکر کو غلط قرار دے کر اول الذکر میں کسی امپروومنٹ کے امکان کی ضرورت کو گول کرجایا کرتے تھے۔ انہوں نے جمہوریت اور سرمایہ داری کو ایک ہی مقدس تصویر کے دو رخ قرار دیا ہوا تھا۔ ان کا ایک بے سروپا مفروضہ یہ تھا کہ کسی قوم کو اگر ووٹ ڈالنے کا حق مل جائے تو وہاں جدید معاشرہ قائم ہوجاتا ہے۔ ان کے نزدیک مارکیٹ اکانمی میں عوام کا محض صارف کا کردار بھی کیپیٹلزم ہے اور فلاحی ریاست میں عوام کی بنیادی ضروریات کے پورے کئیے جانے کا ریاست کی ذمے داری ہونا (یعنی سوشل ڈیموکریسی) بھی کیپیٹلزم ہے۔

جیسا کہ اوپر ذکر کیا، اسی تیسرے گروہ میں لبرلز کے علاوہ جو دوسرا طبقہ تھا وہ لامذہب یا ملحد لوگوں کا وہ دانشور گروہ تھا جن میں سے بیشتر نے خود کو کسی معاشرتی مشکل سے بچانے کیلیئے طبقہ دوئم یعنی سوشلسٹوں کے گروہ میں پناہ لی ہوئی تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سوشلسٹ معیشت کے نظرئیے کو خدا اور مذہب کے خلاف جنگ میں تبدیل کردیا۔ ملحدین کے اس گروہ کو اس بات سے کوئی غرض تھی ہی نہیں کہ پاکستان کے عوام کی بنیادی ضروریات، کسی کمترین انسانی لیول پر بھی کیوں پوری نہیں ہورہیں۔ اور اس صورتحال کا حل کیا ہے۔ ان کی دلچسپی فقط اس بات میں تھی کہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ قضیات اچھالے جائیں جن کے ذریعے عام انسان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

لبرلز ہوں، تصوف والے یا ملحد، اس تیسرے طبقے نے قومی سطح پر انتہائی منافقانہ اور بعض نے ملک دشمن کردار ادا کیا ہے۔ ادب میں ان میں سے بیشتر فیض صاحب اور ترقی پسند گروہ سے خود کو منسلک رکھتے تھے۔ لیکن انہوں نے ترقی پسندی کے نام پر بھی اصل عوامی ایشوز کو اجاگر کرنے کی بجائے نان ایشوز پر علم کے دریا بہادئیے۔ کوئی جنسیات اور طوائف کے موضوع پر لکھ کر اظہارِ رائے کی آذادی کی جدوجہد کرتا رہا تو کوئی بدن دریدہ جیسے شاہکاروں میں عورتوں کی آذادی کے مسلے کو اجاگر کرتا رہا اور کوئی تصوف کے مسائل کو حل کرنے کیلیئے گریڈ بائیس کے افسران میں اللہ کے پہنچے ہوئے بندے ڈھونڈتا رہا۔

جب سوویت یونین کا اختتام ہوا تو یہ تیسرا گروہ اپنی منافقت کے ساتھ کھل کر سامنے آگیا۔ ملحد اور لبرلز دونوں ایک ہوگئے۔ اور ملحد جس کیپیٹلزم کو ایک زمانے میں دھر دھر گالیاں دیا کرتے تھے اسی کیپیٹلزم کے سب سے بڑے ایجنٹ بن کے ابھرے اور زیادہ تر نے مغربی امداد کے ذریعے پاکستان میں این جی اوز کھول لیں یا خود جاکر مغربی ممالک میں آباد ہوگئے اور وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں ابھرنے والی ’’انتہا پسندی‘‘ کو فرقہ واریت کا نتیجہ قرار دینے لگے اور اپنی ہر تحریر میں یہ ثابت کرنے لگے کہ اس ملک کے عوام گلی گلی میں اقلیتوں اور روشن دماغوں کو قتل کررہے ہیں۔ کوئی فرمانے لگا ’’کون کسی کو ماردے کافر کہہ کر‘‘ اور کسی کو نظم سوجھی کہ ’’جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے‘‘۔

آج کل سوشل میڈیا پر ایسے ہی نام نہاد ملحدوں نے مارکسزم کی نئی نئی تعبیریں کرکے یا لبرلزم کے نام پر پاکستانی نوجوانوں کو کنفیوذ کرنے کا عمل شروع کیا ہوا ہے جو سب کچھ کہتے ہیں مگر اس بات کا جواب نہیں دیتے کہ کیا کیپیٹلزم کے تھیسس اور کمیونزم کے اینٹی تھیسس کے کانفلکٹ کے  نتیجے میں ویلفئیر سٹیٹ سنتھیسس بن کے نہیں ابھری؟ اور کیا یوں مارکسزم نے جو تاریخی کردار ادا کرنا تھا وہ ادا نہیں کردیا؟ اور یہ کہ دوسرے دنیا کے آج کے اصل مسائل کیا ہیں اور ان کے پاس ان کا کیا حل ہے؟

Facebook Comments Box
Faiz AhmadfeaturedLeft WingLiberalsRight WingSocial Democrats of Pakistanاسلام پسندبایاں بازوپاکستانی تعلیم یافتہ مڈل کلاسجمہوریتدایاں بازورائٹ ونگسرخ انقلابسرمایہ دارانہ جمہوریتسوشل ڈیماکریسیسوشلزملبرللبرل ازملیفٹ ونگمڈل کلاس کے نظریاتی مخمصےملحدنظریاتی مخمصے
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جب ہم تاریخ کے روزن سے جھانکتے ہیں ——– قاسم یعقوب
next post
مورخ اور محقق —– سعدیہ بشیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.