تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

حیاتِ سعید، شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی واحد مستند سوانح حیات —- نعیم الرحمٰن

by دانش ڈیسک 18/10/2021
written by دانش ڈیسک 18/10/2021
117

حکیم محمد سعید شہید کا شمار پاکستان کی عظیم ترین اور نابغہ شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں سرجن ادیب رضوی، عبدالستار ایدھی، رمضان چھیپا، رُتھ فاؤ، انصار برنی اورحکیم محمد سعید پاکستان کا روشن چہرہ اورملک کی پہچان ہیں۔ حکیم سعید کی پوری زندگی سادگی اور محنت سے عبارت ہے۔ وہ گورنر سندھ بھی رہے، لیکن اس عہدے پرفائز رہتے ہوئے بھی ان کی روزمرہ مصروفیات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اور وہ اسی طرح مریضوں کو دیکھتے رہے۔ 17اکتوبر1998ء کو انہیں قتل کردیا گیا۔ ان کے قائم کردہ ادارے ہمدرد وقف پاکستان، ہمدرد لائبریری، ہمدرد یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی ادارے آج بھی معیاری ادویات کی تیاری اور بیت الحکمت کے حکماء کے ذریعے مریضوں کو شفا اور بے شمار طالب علموں میں علم بانٹ رہے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی مستند سوانح عمری کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی ہے۔ معروف مرحوم ادیب و مترجم ستار طاہر نے حکیم سعید کی زندگی میں حکیم صاحب، ان کے معاونین اور بھارت میں ان کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمی دسے ملاقات کے بعد بھرپور تحقیق کرکے مستند سوانح عمری تحریرکی تھی۔ جو حکیم محمد سعید کی زندگی میں شائع ہوئی اور انہوں نے خود بھی اسے پسند کیا۔ لیکن یہ کتاب عرصہ دراز سے نایاب تھی۔

محترم راشد اشرف نے ’’زندہ کتابیں‘‘ میں حکیم محمدسعید کی یہ نایاب سوانح حیات’’حیاتِ سعید‘‘ اضافہ جات کے ساتھ شائع کرکے ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ کتاب کوحکیم صاحب کی شہادت اوردیگرواقعات کے ساتھ اپ ڈیٹ کردیاگیاہے۔ ساڑھے تین سوصفحے کی کتاب کی قیمت چھ سوروپے بھی مناسب ہے۔ تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ کتاب صرف ڈیڑھ سوکی تعداد میں شائع ہوئی ہے۔ گویا اردو کتب کا پہلا ایڈیشن ایک ہزارسے گھٹتے گھٹتے ڈیڑھ سو پر آگیا ہے۔ یہ اردوداں طبقے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

حسبِ روایت راشداشرف نے چندباتیں میں لکھاہے۔ ’’ حکیم محمدسعید جیسی نابغہ روزگارہستیوں کاجنم صدیوں بعدہوتاہے، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ انہیں اس وقت ہم سے جداکردیاگیاجب کہ ان کی خدمات کی ہمارے معاشرے کوپہلے سے زیادہ تھی۔ ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان نے بے مثال اوربے لوث خدمات کا اعتراف انہیں ’حقوق انسانی ایوارڈ‘ عطاکرکے کیا۔ یہ سوسائٹی کی بھی خوش قسمتی تھی کہ انہوں نے اعزاز کوقبول کرلیا۔ ان کی وفات کے بعد خواہش تھی کہ مرحوم کی زندگی، کارناموں اورخدمات کواجاگرکرنے کے لیے کوئی دقیع اورجامع تصنیف شائع کی جائے۔ ان کے دوستوں نے مرحوم کی زندگی میں شائع ہونے والی قابلِ قدرکتاب’حیاتِ سعید ‘ کی جانب توجہ دلائی جوکہ معروف محقق، مصنف اورصحافی ستارطاہرمرحوم کے قلم کا شاہکار تھی۔ کتاب کے مطالعے سے احساس ہواکہ یہ کتاب ضروری تبدیلیوں کے ساتھ حکیم محمدسعید مرحوم کے بارے میں جاننے والوں کے لیے ایک گراں مایہ تحفہ ثابت ہوسکتی ہے۔ تبدیلیاں اس لیے لازم ٹھہریں کہ جب یہ کتاب شائع ہوئی توحکیم صاحب کاوجودمسعودمینارہ نورکی حیثیت سے ہمارے درمیان جگمگا رہا تھا۔ جب کہ اب ان کی یادیں ہمارے دلوں کومنورکررہی ہیں۔ حیاتِ سعید کے مصنف بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوچکے ہیںان کی رحلت کے بعد بھی حکیم سعید شہادت کے لمحہ تک متحرک اورفعال رہے۔ ان کی شہادت کا سانحہ قوم نے شدت کے ساتھ محسوس کیا اورپاکستانی کئی دن تک فرطِ غم سے نڈھال رہے۔ محترم حکیم صاحب کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں ملک کے اہلِ فکرونظرنے اپنے خیالات اورتاثرات کواظہارکیا۔ یہ ضروری تھا کہ ’’حیاتِ سعید‘‘ میں اضافہ کرکے اسے جامع بنایا جائے۔ ‘‘

حکیم سعید کے والدمحترم حکیم عبدالمجیدہندوستان میں 1983ء میں پیداہوئے۔ انہوں نے تعلیم اورملازمت کے بعدچھوٹے پیمانے پر حکمت کاکام شروع کر دیا۔ 1900ء میں ان کی شادی رابعہ بیگم سے ہوئی، جوانتہائی نیک اورباہمت خاتون تھیں۔ تین بیٹے اوردوبیٹیاں پیداہوئیں۔ ان میں حکیم حافظ عبدالوحیدعین جوانی میں وفات پاگئے۔ ایک باررابعہ بیگم کے شوہرنے کہاکہ پیسوں کی سخت ضرورت ہے اور دواخانے کے لیے مارکیٹ میں ایک دکان مل سکتی ہے۔ انہوں نے دیوارتوڑ کرایک تھیلی اپنے شوہرکودی۔ جس میں اس وقت دس ہزار روپے تھے۔ اس طرح ہمدردکے ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ سب امور اچھی طرح چل رہے تھے۔ جب 1922ء میں حکیم عبدالمجیدانتقال فرما گئے۔ اس وقت بڑے بیٹے حکیم عبدالحمیدچودہ سال کے اورحکیم سعید صرف دو سال کے تھے۔ دادا اورچچانے کاروبارپرقبضے کی کوشش کی۔ اس موقع پررابعہ بیگم نے بہت حوصلے سے پردہ میں رہ کرتمام معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ دادا اور چچا کو ان کاحصہ دے کرالگ کردیا۔ اپنے ایک بڑے بھائی کوبیٹے کے بڑے ہونے تک ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرنے کی دعوت دی۔ آہستہ آہستہ معاملات درست ہوتے چلے گئے۔ پہلے حکیم عبدالحمیدکام کرنے لگے، حکیم سعید نے پانچ سال کی عمرمیں قرآن پاک ناظرہ مکمل کیا اورنوسال کی عمر میں حفظ کرلیا۔ 1939ء میںحکیم سعید نے تعلیم مکمل کی اور9جنوری 1940 ء میں وہ مریضوں کوچیک کرنے لگے۔ پانچ سال بعد مشروب مشرق روح افزا کی پہلی فیکٹری شروع ہوئی۔ چندسال میں ادارے کاڈاک خرچ ایک لاکھ ماہوارتک پہنچ گیا۔ ہمدرد دواخانہ ایشیا میں ادویات تیار کرنے کاسب سے بڑا ادارہ بن گیا۔ تاہم تقسیم سے اسے کافی نقصان بھی برداشت کرناپڑا۔ حکیم سعید نے تقسیم ملک کے ایک سال بعد اٹھائیس سال کی عمرمیں پاکستان جانے کا فیصلہ کرلیا۔ بڑے بھائی بہت دکھی ہوئے، انہوں نے روکابھی۔ لیکن حکیم سعیدپاکستان جانے کا مصمم ارادہ کرچکے تھے۔ انہوں نے شہزادوں والی زندگی چھوڑ کرایک نوزائیدہ ملک جانے کافیصلہ کیا۔ حکیم سعید نے اپنے پاکستان آنے کے بارے میں بتایاکہ’ میں نے اپنے حال پر جب غورکیاکہ میں ہندوستان کی حکومت کادل سے احترام نہیں کرسکوں گا۔ لہٰذامیری دیانت واما نت کاتقاضا ہے مجھے ہندوستان میں نہیں رہتا چاہیے۔ ‘کراچی آکرانہیں بہت مشکلات کاسامناکرنا پڑا۔ ہرجگہ پیدل گئے۔ اتناچلتے تھے کہ جوتوں میں سوراخ ہوجاتے تھے۔ آہستہ آہستہ کام بہتر ہونے لگا۔ 1943ء میں خالہ زادنعمت بیگم سے شادی ہوئی تھی، انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ اولادِ نرینہ نہ ہونے پربیوی کے زوردینے پربھی دوسری شادی نہیں کی، بلکہ 1981ء میں بیوی کے انتقال پر بھی دوسری شادی کا نہیں سوچا۔ حکیم سعید کی صرف ایک بیٹی سعدیہ ہے، جس کی آگے مزید تین بیٹیاں ہیں۔ پہلے نونہال گرائپ واٹر اورپھر روح افزا نے بہت ترقی کی۔ صدرِ پاکستان کے مشیراورگورنرسندھ بھی رہے۔ بے شماراعزازات حاصل کیے۔ لاتعداد ملکوں کی سیاحت کی۔ کئی ادارے قائم کیے۔ جس میں ہمدردکالج اورہمدردیونیورسٹی شامل ہیں۔ اسی طرح شامِ ہمدرد، بزم ہمدرد نونہال اوردوسرے بہت سے فورم قائم کیے اور میگزین شائع کیے۔

ملک کے مشہورماہرِ قانون اوردانشورایس ایم ظفرنے پیش لفظ میں بتایا۔ ’’ اردن میں ایک مسجدہے جس کانام ’سندھ‘ ہے یہ مسجدحکیم محمدسعید کی کوششوں سے وہاں قائم ہوئی اورسندھ نام بھی حکیم صاحب نے ہی تجویزکیا۔ اکثراردنی لوگ جب اس مسجدکی وجہ تسمیہ پوچھتے ہیں توان کاپاکستان اور حکیم سعید سے تعارف ہوجاتاہے۔ ’بچے میری فوج ہیں۔ ‘ یہ حکیم سعید کامشہورفقرہ ہے جووہ اکثرنونہالوں کے درمیان بیٹھ کر ادا کیاکرتے تھے۔ انہی بچوں کے لیے 1953ء میں رسالہ ’نونہال‘جاری کیااورخودبچوں کے لیے اڑتیس سفرنامے تصنیف کیے، جن میں وہ بچوں کواپنے ہمراہ دیگرملکوں کی سیر کو لے جاتے تھے۔ ہمدردکلینک سے اپنی شہادت کے دن تک پچاس لاکھ مریضوں کے مفت علاج کی وجہ بنے اوران کی تشخیص بھی خود کی۔ ملک کے بڑے شہروں میں قابل ذہنوں کوسیقل کرنے کے لیے شامِ ہمدردکی محفلیں مہیاکیں۔ پھرہمدرد مجلس شوریٰ قائم کردی جوحکومت کوصحیح مشورے دے۔ لاتعدادملکوں کاسفرکیا اورسفرناموں میں جوکچھ دیکھایا محسوس کیااسے پاکستانیوں تک پہنچایا ایک آدھ سفرنامہ توابن بطوطہ اورمارکوپولوکی داستانوں جیساہے۔ کراچی کی بیت الحکمت لائبریری ایشیا کی بڑی لائبریریوںمیں سے ایک ہے جہاں کتابوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے۔ تعلیم کا میدان تو جہاد کا تقاضا کرتا تھا، لہٰذاانہوںنے تعلیمی اداروں کا جال بچھانے کا فیصلہ کیا۔ ہمدردپبلک اسکول، ہمدردکالج آف سائنس، ہمدردکالج آف کامرس، ہمدرد کالج ٹو ویلج اسکول، ہمدردیونیورسٹی، ہمدردکالج آف میڈیسن اینڈڈسپنسری، ہمدردطب مشرقی، ہمدردانسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اوراس کے علاوہ بھی درجنوں ادارے قائم کیے۔ جرائد کا خیال آیاتوہمدردنونہال، ہمدردصحت، ہمدردخبرنامہ، ہمدرداسکامکس، ہمدرد میڈکس، ہمدردہسٹارکس جاری کردیے۔ صدرپاکستان کے مشیر اورگورنرسندھ بنے، سیاسی عہدے تھے پھربھی حکمت کرتے رہے۔ یہ سب کچھ انہوں نے پاکستان کے فرسودہ نظام میں رہتے ہوئے کیا اور کبھی نظام کی خرابی کا شکوہ نہیں کیا۔ میں کتاب کے قارئین سے بھی یہی توقع باندھتاہوں کہ وہ حکیم محمدسعید کے کارناموں کو مافوق الفطرت انسان کا کارنامہ نہ سمجھیں۔ وہ بھی ہم اورآپ جیسے انسان تھے صرف انہوں نے عزم کیا اورمعجزے کر دکھائے۔ حکیم محمد سعید تواس دنیا سے چلے گئے، آئیے اب پرہرمحلے، شہراورصوبے میں مزیدحکیم سعیدتلاش کریں۔ ‘‘

’’حیات ِسعید‘‘ کے مصنف ستارطاہرمرحوم نے ’’معروضات‘‘ کے عنوان سے لکھاہے۔ ’’ میں نہ بوسویل ہوں، نہ حکیم محم دسعید ڈاکٹر جانسن ہیں۔ مجھے حکیم صاحب کے ساتھ اس طرح شب وروزگزارنے اور قربت کادعویٰ بھی نہیں جوبوسویل اورڈاکٹر جانسن کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تھا۔ میں نے حکیم سعید کوایک اوراندازسے جاننے کی کوشش کی اوران سے قربت پیداکی۔ اسی کوشش وسعی کاحاصل یہ سوانح عمری ہے۔ میں ارونگ اسٹون کامداح ہوں جنہوں نے وان گوخ، مائیکل اینجلواورفرائڈ کی بائیوگرافیز لکھیں۔ جومروجہ سوانح عمریوں سے انحراف کرتی ہیں۔ ان کااسلوب اورطرزانہیں ناولوں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے جب کہ ان میں کوئی ایک بھی واقعہ کاتفصیل ایسی نہیں ہے جو غلط، فرضی یامن گھڑت ہو۔ حکیم سعید کی ذات سے مجھے دلچسپی رہی تھی۔ کتاب لکھنے سے پہلے ان سے کبھی شرفِ ملاقات حاصل نہیں رہاتھا۔ 1985ء میں ایک خط میں ان سے اجازت چاہی۔ کئی خطوط اور مہینوں کی کوشش کے بعدمجھے کلیئرنس مل سکی۔ ان کے نمائندے علی حسن نے بتایاکہ حکیم صاحب ان کے آئیڈیے اورعزم کوسراہتے ہیں۔ مگر ہمدرد سے اس سلسلے میں کوئی مالی تعاون نہیں مل سکے گا، تاہم مجھے ہرتحریرکا موادفراہم کیاجائے گا۔ یہ سلسلہ کئی برس چلتارہا۔ درجنوں بار کراچی گیا، ہمدرد کی میزبانی حاصل رہی۔ ہمدرد نے میری رہائش کا انتظام فائیو اسٹار ہوٹل میں کیا۔ لیکن میں نے اپنی اوقات کے مطابق ایسے ہوٹل میں قیام پر اصرار کیا جس کے ساتھ کوئی اسٹارمنسلک نہ ہو۔ حکیم صاحب کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے بڑے ظرف کے ساتھ میرے ہرضروری اورغیرضروری سوال کا جواب دیا۔ میں نے حکیم صاحب کوخلوت اورجلوت میں دیکھا۔ ان کے مطب میں بیٹھا، مریضوں کاعلاج کرتے دیکھا، کچھ کانفرنسوں اورتقریبات میں مجھے مدعوکیاگیا۔ وہاں بھی حکیم صاحب کا مشاہدہ کیا۔ ہمدرد سے متعلق بہت سے رفیقوں اوران کے عزیزوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس کتاب کی تکمیل کے لیے دہلی جانا ناگزیر تھا۔ اس سفرکااہتمام ہمدردنے کیا۔ دہلی میں میرے میزبان حکیم صاحب کے برادربزرگ حکیم عبدالحمید تھے۔ انہوں نے میزبانی کا حق اداکردیا۔ میں دہلی میں بہت سے افراد سے ملا۔ کئی مقامات کی زیارت کی جن کاتعلق اس کتاب اورصاحبِ کتاب سے بنتا تھا۔ تین سال کتاب کا مواد جمع کرنے میں لگے۔ حکیم صاحب اورہمدرد کے کارکنوں نے میرے ساتھ بھرپورتعاون کیا۔ حکیم صاحب کی زندگی ایک طلسم خانہ ہے۔ معاصر تاریخ میں ایک شخصیت کے بارے میں بعض انکشافات پہلی بارمنظرعام پرآرہے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ اگرکتاب میں نہ لکھی ہوتی توبھی اسے بہت دلچسپی سے پڑھتا۔ اس کاذمہ داربھی میں ہوں اورمدعی بھی۔ ‘‘

ستار طاہرمرحوم نے حکیم سعیدکی سوانح کے لیے بہت عمدہ اسلوب اختیارکرتے ہوئے ہرباب کے عنوان کے ذریعے حکیم صاحب اوران کے خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں، اورہرباب کے آغاز پرکسی دانشورکااس سے متعلق قول درج ہے۔ پہلاباب ’’فیصلہ ‘‘ کے شروع میں لوکری شیئس کاقول ہے۔ ’’زندگی کوبدل دینے والے فیصلے کے پس منظرمیں انسان کاپوراذہن اوروجودہوتاہے۔ ‘‘ اس باب میں حکیم محمدسعید کے زندگی بدل دینے والے تجربے کاذکرہے۔ ’’حکیم محمدسعید نے فیصلہ کرلیاتھا۔ یہ فیصلہ انسانی مقسوم کی طرح اٹل تھااور اس فیصلے سے ان گنت انسانوں کی تقدیرکوبدلناتھا۔ ’میں پاکستان جاؤں گا۔ ‘ اس فیصلے کے پیچھے ایک عزم تھا۔ یہ محض ایک فیصلہ نہ تھا۔ اس فیصلے سے ان کی ذات تقسیم نہیں ہوئی تھی حالانکہ بہت کچھ بدل جانے والاتھا۔ بہت کچھ ایساتھاجوکھوجانے والاتھااورکبھی واپس نہیں مل سکتا تھا۔ فیصلے کے پس منظرمیں جہاں ایک انسان کاپوراوجود اوراس کی گہری سوچ کارفرماتھی، وہاں تاریخ کاطویل سفربرصغیرکے مسلمانوں کی جدوجہدکاعظیم رزمیہ بھی شامل تھا۔ ان کے عزائم تھے۔ ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے کاجذبہ تھا۔ دہلی میں حکیم سعید کوسب کچھ میسرتھا۔ پھولوں کابسترتھا، دولت تھی، شہرت کاآغازہوچکاتھا۔ عزت تھی۔ وہ ایک آزاد خودمختار شہزادے جیسی زندگی بسرکررہے تھے۔ بڑے بھائی کی ساری محبتیں اورشفقتیںان کے لیے تھیں۔ ایک نیاملک جس کاظہورانسانی تاریخ میں معجزے سے کم نہیں تھا۔ اس ملک میں انہیں بہت کشش محسوس ہورہی تھی۔ کیایہ نیاملک انہیں اپنی طرف کھینچ رہاتھا۔ ‘‘

دوسرے باب کو ’’جڑیں‘‘ کاعنوان دیاگیا ہے۔ جس میں حکیم صاحب کے آباواجداد کے بارے میں معلومات ہیں۔ اس باب سے قبل بارفیلڈکاقول درج ہے۔ ’’ہم صدیوں سے ایک کے بعددوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی پہچان اس طرح کراتے ہیں اپنے بڑوں کے ذکرکے بغیرہم اپنا وجودکیسے ثابت کرسکتے ہیں۔ ‘‘حکیم سعید لکھتے ہیں۔ ’’اللہ تعالیٰ کاشکرہے کہ ہمارے والدین اعمال ِ صالحہ کے قائل تھے اورصلاح وفلاح ان کامقصدِ حیات تھا۔ یہی ہمارا ورثہ ہے۔ یہی ہماراخزانہ ہے۔ یہی ہمارا تخت وتاج ہے۔ ہماراغروریہی نسب ہے اورہمیں ہرنعمت سے زیادہ عزیز اورمحترم ہے۔ ‘‘ان کے آباؤاجدادکے بارے میں لکھاہے۔ ’’حکیم محمدسعید کاخاندان چینی ترکستان کے شہرکاشغرمیں آبادتھا۔ ان کے آبا ؤاجداد وہاں کب سے تھے، کب اسلام لائے، اس کے بارے میں معلومات موجود نہیں ہیں، اس خاندان کے افراد تجارت پیشہ تھے۔ روایت ہے کہ سترہویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان کاشغرسے عازم سفر ہوا اور منزلیں طے کرتا ہوا پشاور پہنچا۔ یہاں انہوں نے کپڑے کی تجارت جاری رکھی۔ بعض افراد نے خشک میوہ جات کی تجارت بھی اختیارکی۔ پشاورمیں خاندان کا قیام تقریباً اسی برس رہا۔ پشاورسے یہ ملتان منتقل ہوئے۔ ملتان میں ایک سوپینتیس برس قیام میں کئی حکومتیں بدلتی دیکھیں۔ 1820ء کے لگ بھگ خاندان کے چند افراد نے دہلی کارُخ کیا۔ جہاں حوض قاضی کواپنامسکن بنایا جہاں وہ پنساری کی دکان چلاکراپنی روزی کمانے لگے۔ حکیم سعید کے پردادا نے پانی پت چلے گئے۔ جہاں حکیم صاحب کے دادا حافظ شیخ رحیم بخش پیداہوئے۔ قرآن پاک حفظ کرنے اورمکتب میں تعلیم کے بعدوہ مہم جوئی پر نکل پڑے۔ پیلی بھیت میں ایک بزکگ کی کاغذکی دکان پرملازم ہوگئے۔ بزرگ نے اپنی بیٹی ان کے عقدمیں دیدی۔ اس وقت حافظ رحیم بخش کی عمراٹھارہ سال تھی۔ پیلی بھیت میں حکیم سعید کے والدحکیم عبدالمجید1883ء میں پیداہوئے۔ ‘‘

اگلا باب ’’والدماجد‘‘ ہے۔ جس پرخلیل جبران کاقول درج ہے۔ ’’باپ کاکردارزندمیں ہماری جڑیں مضبوط کرتاہے۔ ‘‘ حکیم سعید کے دادا دوبارہ دہلی آئے تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں اوربھتیجے نورمحمدکوحفظ قرآن کرانے کے لیے مشہورحافظ خواجہ میرکے پاس بٹھادیا۔ جہاں سے تینوں حافظِ قرآن بن کر نکلے۔ حکیم عبدالمجیدکی زندگی تجربات کامرقع تھی۔ رزق وروزی کے حصول کی محنت کے ساتھ انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ ادویات کے خواص میں خاصی دلچسپی لی اورادویہ سازی میں کمال مہارت حاصل کرلی کہ انہیں مسیح الملک حکیم اجمل خان کے قائم کردہ دواخانے میں ملازمت مل گئی۔ حکیم اجمل خان کی طبی، سماجی، سیاسی اورعلمی خدمات بہت وسیع اورگراں مایہ ہیں۔ حکیم سعیدکے والد حکیم اجمل کے معتمدوں میں شامل ہوگئے۔ انہوں طب کا مطالعہ بڑی گہرائی اورگیرائی کے ساتھ کیا۔ اب ان میں وہ اعتماد اورقوت ارادی پیدا ہوچکی تھی جوناممکن کوممکن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ایک تاریخ سازفیصلہ کیا اورحکیم اجمل سے الگ ہوکرہمدردکی بنیاد ڈالی۔

سوانح کے مصنف کے مطابق انہوں نے دہلی میں چندفٹ کی وہ دکان دیکھی ہے جہاں حوضِ قاضی میں ہمدردکی ابتداہوئی تھی۔ اس دکان کو دیکھ کرجب ہمدرد کی اونچی اوربلندوبالاعمارتوں، مدینہ الحکمت کراچی، ہمدردیونیورسٹی دہلی کاخیال آیاتوخداکی شان کااندازہ ہوا۔ کہاں چند فٹ کی دکان کہاں اب پاکستان اور بھارت کے بیسیوں شہروں میں ہمدرد کی عمارتیں، محنت، ہمت اورلگن سے اپنے آپ کوسنبھالنے والوں نے ناممکن کوممکن کردکھایا۔ ہمدرد کے بانی حکیم حافظ عبدالمجید22جون 1922ء کودنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔

باب ’’مادرہمدرد‘‘ کے آغاز میں چینی کہاوت درج ہے۔ ’’ماں سے بڑھ کرکون سخی، جفاکش، محنتی، محبت کرنے والا، فیاض، عظیم اوربہادرہو سکتاہے۔ ‘‘ اس میں خواجہ حسن نظامی کی ایک نادراورکمیاب تصنیف ’’مادرہمدرد‘‘کاذکرہے۔ اس کتاب میں ایک مضمون حکیم سعید کی والدہ ماجدہ پربھی ہے۔ جس کا اقتباس درج ہے۔ ’’حکیم حاجی حافظ عبدالمجیدبانی ہمدرددواخانہ کی خوش نصیب اورہمہ صفت موصوف اہلیہ کانام رابعہ تھا۔ حضرت رابعہ بصری کے نام کی برکات کااثربیگم عبدالمجیدمیں بھی تھا۔ نکاح کے وقت حکیم صاحب پندرہ روپے ماہوارکے ملازم تھے۔ مہرشرعی بتیس روپے باندھا گیا۔ اس واسطے قدرت نے ان کی زندگی کی شروعات کوبھی شریعت کا پابند بنادیا۔ اورحکیم عبدالمجیدکی زندگی کا نقشہ ہی بدل گیا۔ والد کے انتقال پردادا، چچااورماموؤں نے ہمدرد پرقبضے کی کوشش کی۔ اس وقت حکیم سعید کی والدہ ہی تھیں جنہوں نے پردے میں رہ کراس پودے کی آبیاری کی۔ ‘‘

ایک باب ’’برادرمحترم‘‘ پر وارث شاہ کامصرعہ درج ہے۔ ’’بھائیاں بانجھ نہ جوڑیاں سجدیاںنہیں!‘‘ ستارطاہرلکھتے ہیں۔ میانہ قد، گندمی رنگ، گول چہرہ، خندہ پیشانی۔ اسی کے لگ بھگ تھے جب دہلی میں میری ان سے ملاقات ہوئی۔ اب بھی بہت تیزچلتے تھے۔ حکیم سعیدکی استاد قاضی سجاد حسین کے گھر مجھے خود لے کرگئے۔ فرشتوں کو بھی کبھی نہ کبھی غصہ آتاہوگا، مگرحکیم عبدالحمیداورحکیم محمدسعیدکومیں نے کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔ خواجہ حسن نظامی نے ان کے بارے میں لکھاہے۔ ’’صبح چاربجے پیدل ہواخوری کے لیے چالے جاتے ہیں اورکئی میل کی چہل قدمی کرکے دواخانے آجاتے ہیں جہاں سینکڑوں نہیں ہزاروں بیمار، ہرقوم وملت کے عورت ومرد، ان کے انتظار میں جمع ہوتے ہیں۔ ‘‘

حکیم عبدالحمید کو متعدد ایوارڈ ملے۔ جن میں بھارت کاسب سے بڑا سول ایوارڈ’پدم بھوشن‘ اورسوویت یونین کا’ابن سیناایوارڈز‘ نمایاں ہیں۔ حکیم سعید کی المناک شہادت کے چندماہ بعدحکیم عبدالحمید23جولائی 1999ء کوانتقال کرگئے۔

’’سیاسی پس منظر‘‘ میں بھارت کاوہ سیاسی ماحول بیان کیاگیاہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان ہجرت کافیصلہ کیا۔ ’بچپن‘اور’تعلیم ‘ کے تحت ان کے بچپن اور تعلیم کی معلومات دی گئی ہیں۔ ’ہمدردصحت‘ میں ادارے کی ترقی اور’میدانِ عمل‘ کے تحت حکیم سعید کی جدوجہد کااحوال دیاگیا ہے۔

باب ’’شریکِ حیات‘‘ سے قبل حدیث مبارکہ ہے۔ ’’نیک خدمت گزاربیوی سے بڑھ کردنیاکی کوئی نعمت نہیں۔ ‘‘ اس باب میں ایک دلچسپ انکشاف کیاگیاہے۔ ’’ہاں، حکیم سعیدکے دل پربھی کیوپڈکاتیرلگاتھا۔ وہ دہلی میں تھے جوان رعناتھے۔ طبیب بن چکے تھے۔ جب نیوزی لینڈکی ایک خاتون علاج کے لیے ان کے پاس آئیں اورحکیم سعیدکواچھی لگیں، انہوں نے دل میں محبت کی کسک محسوس کی۔ وہ اس غیرملکی خاتون سے شادی کے خواہاں تھے۔ وہ خاتون بھی شادی پرآمادہ تھیں، لیکن خاندانی روایات، والدہ اوربڑے بھائی کااحترام، محبت سے بھی کہیں بڑھ کراہم اورعزیزتھا۔ محبت کی داستان ادھوری رہی۔ ‘‘

حکیم سعید کی شادی 1943ء میں خالہ زاد نعمت بیگم سے ہوئی۔ وہ واقعی ایثارپیشہ تھیں۔ ہندوستان چھوڑکرپاکستان آئے تووہ ساتھ تھیں۔ ڈھنگ کاٹھکانہ تھانہ دہلی جیسی آسائشیں، انہوں نے کسی شکایت کے بغیرشوہرکاساتھ دیا۔ کاروباراورہمدردکے لیے ضرورت پڑی توزیور بھی دیا۔ اولادِنرینہ نہ ہونے پربیوی کے اصرارپرحکیم سعید نے دوسری شادی نہیں کی، اڑتیس سالہ رفاقت ختم ہونے پربھی اس بارے میں نہیں سوچا۔

’’حیاتِ سعید‘‘ میں حکیم محمد سعید کی زندگی کاکونساپہلوہے جوبیان نہیں کیاگیا۔ سعدیہ بیٹی اوراس کی تین بیٹیوں سے محبت، واحدالیکشن کا احوال، بطور مشیر صدر پاکستان اورگورنرسندھ کی حیثیت سے شب وروزکابیان سب کچھ کتاب میں موجود ہے اورقاری کوایک بے مثال زندگی کے بارے میں سب کچھ جاننے کاموقع مل جاتاہے۔ ستارطاہرسے اپنی آخری خواہش کے سوال پر حکیم صاحب نے جواب دیا۔ ’’میں ایسے حال میںفرشتہ کااستقبال کرناچاہتاہوں کہ میری نگاہوں کے سامنے ہمدرداسکول اورالفرقان میں پانچ ہزاربچے تعلیم پارہے ہوں۔ ہمدردیونیورسٹی امتیازات کے ساتھ ہزارہاجوانوںکوانسانِ کامل بنارہی ہو۔ یہ جوان دنیابھرمیں پھیل کرآوازہ حق بلندکرنے کے لیے کمربستہ ہوں۔ ‘‘

اللہ نے ان کی اس خواہش کوبھی پوراکیا۔ کتاب کے آخر میں حکیم محمدسعیدکی شہادت اورشہیدپاکستان کی شخصیت کے بارے میں ملک کی ممتاز شخصیات کے تاثرات دیئے گئے ہیں۔ یہ سبق آموزسوانح حیات ہمارے اسکولوں، کالجزکے نصاب میں شامل ہوناچاہیے۔ ہرنوجوان کواس کامطالعہ کرنا لازمی ہے۔ راشداشرف اورڈاکٹرپرویزحیدراس کتاب کی اشاعت پرمبارک باد کے مستحق ہیں۔

Facebook Comments Box
Hakeem Saeedحکیم سعیدحیات سعید
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پسِ آواز ——- علی عمر عمیر
next post
سر سید احمد خان اور ہم (مذہبی تناظر میں) —- حافظ محمد زوہیب حنیف 

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.