گذشتہ سے پیوستہ: اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں
میری والدہ کا گاﺅں بیراٹھ تھا، جو راجھستان کی تاریخ میں مشہور ہے۔ اس شہر میں متعدد مغل آثار ہیں، جن میں ایک چھتری (سینوٹاف) بھی شامل ہے، جس میں راجستھان کے ابتدائی بچ جانے والے دیواروں میں سے کچھ ہے، اور ایک لاج جہاں مغل شہنشاہ اکبر نے شکار کیا اور اجمیر کی سالانہ یاترا پر رات بھر قیام کیا۔ اکبر بادشاہ کے وقت یہاں مہاراؤ بڑا سنگھ مینا حکمران تھا۔ بیراٹھ، جو پہلے ویراٹھ نگر کے نام سے جانا جاتا تھا، بھارت کے راجستھان کے شمالی جے پور ضلع کا ایک قصبہ ہے۔ یہ جے پور سے 52 کلومیٹر (32 میل) شمال میں، اور الور سے 66 کلومیٹر (41 میل) مغرب میں واقع ہے۔ برطانوی راج میں معاہدوں کے مطابق راجپوتانہ کے علاقے میں یہاں ریاستوں میں اصلاح اور جدید بنانے کے لیے ایجنٹ ‘اور’ ریذیڈینٹ مقرر کیے گئے۔ صوبے انگریزی تعلیم اور سماجی اصلاحات شروع کی گئیں۔ جے پور کے مہاراجہ انگریز کی ریاستی سرپرستی حاصل کرتے رہے۔ انھوں نے انگریزوں کے مشورے پر عمل کیا۔ ریاستوں کے تمام حکمران مہاراجہ رام سنگھ (1851-1880)، مہاراجہ مادھو سنگھ II (1880-1922مہاراجہ مان سنگھ دوئم ( 1922-1947) انگریزوں کے وفادار رہے۔ برطانوی حکمرانوں کی وجہ سے اور خطے میں امن اور خوشحالی کی وجہ سےان کی وفاداری ریاست راجستھان کی تشکیل کے بعد سوائی مان سنگھ دوئم کا خاندان یہاں حکمران رہا۔

بیراٹھ میں اشوکا کے زمانے کے آثار
کوٹ پوتلی بھارت میں راجستھان میں آج کل ایک میونسپلٹی ہے جو جے پور اور دہلی کے درمیان واقع ہے۔ کوٹ پوتلی، کوٹ کے مرکزی قصبے اور قریبی گاؤں پوٹلی کو ملا کرتشکیل دی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر، دونوں گاؤں مارواڑی کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ کوٹ پوتلی میں کئی تاریخی مندر اور سکول ہیں۔ یہ تاریخی طور پر کھتری ریاست (اب الور) سلطنت کا ایک حصہ تھا، جس کا دارالحکومت مہابھارت کے دور میں قریبی گاؤں بیراٹھ میں تھا۔
دادا کا اصل گاﺅں کوٹ پوتلی تھا۔ یہاں ہمارے جد امجد حضرت بہادر شاہ غازی کا مسکن تھا۔ یہاں دو آبادیاں کمار واڑہ، اور پٹھان وارڈ تھیں، پٹھان وارڈ میں ہمارے اجداد بستے تھے جو راجپوت نسل تھے۔ کوٹ پوتلی سے دادا یاسین خان بسلسلہ ملازمت راج محل آکر بس گئے تھے۔ میاں بھائیوں کے یہاں چند گھر تھے۔ دادا نے اپنے اور بھائیوں کو بھی بلا کر یہاں بسا لیا۔ یوں پورے گاﺅں پر میاں بھائیوں کی حکمرانی ہوگئی۔ 1980 میں والد کے ہمراہ میں انڈیا گیا۔ اور اپنے گاﺅں میں کئی دن رہا، آبائی زمین، آبائی قبرستان، اور گلی کوچے دیکھے۔ راج محل تو مہاراجہ کاتھا۔ ہمارے گھر تو معمولی کچے پکے تھے۔ ۔ گھر میں کوٹھریاں تھیں، دوسری منزل بھی تھی۔ لیکن لکڑیوں اور مٹی گارے سے بنی تھی۔
ایک بہت بڑی بلی بھی تعمیر میں استعمال ہوئی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ دادا جنگل سے اکیلے اٹھا کر لائے تھے۔ جس سے ان کی تلی پھٹ گئی تھی۔ اتنی بھاری بلی دادا ہی اٹھا سکتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم ہوئی تو مہاراجہ جے پور نے اپنے 12 ذاتی محافظ انگریزوں سے وفاداری کے اظہار میں انگریز فوج کے حوالے کردیئے۔ یوں دادا یاسین خان پہلی جنگ عظیم میں چلے گئے، سات سال وہ اس جنگ میں جانے کن کن محاذوں پر رہے۔ لیکن بعد میں صحیح و سلامت گھر آگئے۔ جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو ہمارے تایا پھول خان بھی محاذ پر گئے۔ صوبیدار پھول خان بھی مصر اور دیگر ممالک میں دوران جنگ رہے۔ اور جنگ کے خاتمے پر بخیر و خوبی گھر آئے۔ دونوں جنگ کے اختتام پر دادا اور تایا صوبیدار پھول خان کو راج محل میں زمین الاٹ ہوئی۔ یہ زمین کنوؤں کی زمیں کہلاتی تھی کہ یہاں کنوؤں کے پانی سے کاشت کاری ہوتی تھی۔
ہم باپ بیٹے گاؤں تو پہنچ گئے، لیکن ہمارے پاسپورٹ میں گاؤں کی انٹری نہیں تھی۔ ہمارا ویزہ ٹونک شہر کا تھا۔ اب یہ ایک نئی کہانی شروع ہوئی، ہمیں اگلے دن ٹونک شہر آنا پڑا۔ ٹونک شہر کے بیچوں بیچ ایک نالہ ہے، جو دور تک جاتا ہے، یہاں تایا کے دوست برہان صاحب رہتے تھے۔ ان کا گھر مسجد سے متصل تھا۔ جہاں ہمارا عارضی پڑاؤ رہا۔ والد صاحب سارا دن مسجد میں قران پڑھتے رہتے اور ہم ٹونک کے بازار میں چکر لگاتے۔ اگلے دن ہم کچری گئے، تو ایک منشی نے بتایا کہ مجسٹریٹ صاحب جب آئیں، تو ان سے بات کریں۔ اتنی دیر میں ایک نوجوان مجسٹریٹ وہاں پہنچا، وہ نچلی ذات کا تھا، پڑھ لکھ کر مجسٹریٹ ہوگیا تھا۔ میں نے اسے راستے ہی میں جا لیا، اس سے اپنا تعارف کرایا۔ بتایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں، اور ہمیں گاؤں راج محل جانا ہے، ہمارے پاسپورٹ پر گاؤں کی انٹری کردی جائے، اس نے کمال مہربانی سے میری بات سنی اور مجھے اپنے دفتر لے جا کر اسی وقت پاسپورٹ میں انٹری کردی۔

ویراٹھ کا مندر
اگلے دن ہم دہلی گئے، بھارت میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہت اچھا ہے، اس ذمانے میں ٹاٹا کی بسیں چلتی تھی۔ اور اپنے وقت مقررہ پر گاؤں دیہات پر پہنچتی تھی۔ بڑے بڑے بس اسٹاپ تھے۔ صبح سویرے یہاں بسوں سے اترنے والے سوٹ پینٹ میں ملبوس افراد کو میں نے ایک لمبی قطار میں کھڑے دیکھا۔ معلومات پر پتا چلا کہ یہ سب بول براز سے فارغ ہونے کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ چونکہ گاؤں سے یہ لوگ بہت سویرے نکلتے تھے۔ اس لیے فراغت کا موقع نہیں ملتا تھا۔ جے پور بھی ہم گئے، پنک سٹی واقعی لاجواب تھا، بہت چوڑی چوڑی سڑکیں اور پرانی عمارات دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ میری چھٹیاں ختم ہورہی تھیں، اس لیے مجھے بھارت سے جلد ہی واپس آنا پڑا۔ جب کہ تایا کو ساتھ لانے کے لیے والد صاحب وہیں رک گئے۔ تایا کے ویزے کا بھی مسئلہ تھا۔ میں تو پاکستان آگیا۔ لیکن ابا اور تایا وہیں پھنس گئے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات ان دنوں کشیدہ ہوگئے اور پاکستانی سفارت خانے نے کام بند کردیا۔ سینکڑوں افراد پاکستان سفارت خانے کے سامنے ڈیڑہ ڈالے بیٹھے رہتے۔ یہ کہانی اگلی قسط میں پڑھیئے۔
اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں
