تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

وادئِ سینا پہ فروزاں برقیے اور خوف سے شکست کھاتی طاقت — سید ذکی

by دانش ڈیسک 15/05/2021
written by دانش ڈیسک 15/05/2021
232

حالیہ فلسطین-اسرائیل واقعات پر مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ اسرائیل پر مارے گئے راکٹوں کی تعداد ایک ہزار تھی جو زیادہ تر روک لئے گئے. مگر وہ یہ بتانے سے کتراتا ہے کہ اسرائیلی آئر ڈیفنس شیلڈ کو ایک راکٹ روکنا چالیس ہزار ڈالر میں پڑتا ہے، جی ہاں چند ہزار روپے کا سادہ سا ایک راکٹ چالیس ہزار ڈالر میں رکتا ہے۔

پھر اس راکٹوں کی پوچھاڑ میں سے ایک دو راکٹ لازمی آر پار ہو جاتے ہیں اور اسرائیلیوں پر قیامت بن کر ٹوٹتے ہیں، یہ اس ایئر ڈیفنس سسٹم کی کمزوری ہے اور حماس اس سے بخوبی واقف۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ زخم بہت گہرا لگا ہے۔

ہزار میں سے چند گولڈن راکٹ اسرائیلی عمارتوں پر نہیں انکی روحوں پر لگے ہیں اور روح کے زخم بہت گہرے ہوتے ہیں، بھرا نہیں کرتے۔ اسرائیلی اہنے شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانے کیلیے مسلسل اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں کہ ان کا خوف کم ہو اور اعتماد بحال رہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ریاستیں خوف کی حالت میں قائم نہیں رہ سکتیں۔

Israel's Iron Dome missile shield swats Gaza rockets from the sky | Metro Newsمگر مرض بڑھ رہا ہے اور ناقابل شکست ہونے کی متھ Myth ٹوٹ رہی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق بہت سے متمول اسرائیلی خاندان یورپ و امریکہ منتقل ہوچکے یا اسکی تیاری کر رہے ہیں اور جوانوں اور بوڑھوں کی ایک بڑی تعداد نفسیاتی امراض کا شکار۔

 یہ دراصل نفسیات اور اعصاب کی جنگ بھی ہے. اسلحہ سے زیادہ ایمان اور عقیدہ کا امتحان۔

اسرائیلی حکومت اور مغربی میڈیا پروپیگنڈے کے زریعہ لاکھ یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ حماس کا حملہ ناکام ریا ہے مگر ٹی وہ سکرینوں اور سوشل میڈیا پر نمودار ہونے والی لاکھوں تصویروں میں صیہونی ریاست کے شہریوں کے چہروں پر لپٹا خوف اور ڈر صاف دیکھا جاسکتا ہے اور بتاتا ہے کہ ان کا کتنا نقصان ہوا ہے. اعتماد اور یقین کا نقصان۔

سجے سجائے پرآسائش گھروں اور ان کے آرام دہ بیڈرومز سے پرسکون نیند روٹھ چکی اور چین رخصت ہوچکا اور قلعہ نما محفوظ گھر ریت کی دیوار بن چکے جو تیزی سے خوف اور بے یقینی کی دبیز چادر میں لپٹتے چلے جارہے ہیں۔

وہ اچھی طرح جان رہے ہیں کہ مضبوط ائر ڈیفنس سسٹم کے باوجود چند گولڈن راکٹ جب چاہیں انکے چہروں سے ہنسی نوچ سکتے ہیں اور پرسکون زندگی کا انکا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

اسرائیل اور اسکے پشتیبان جانتے ہیں کہ یہ کتنا مہنگا سودا ہے اور اسکی مستقل قیمت کیا ہے۔ آخر ایک خوف میں جینے والی ریاست کب تکَ زندہ رہ سکتی ہے۔

اسرائیل اور اسکے پشتیبان جانتے ہیں کہ یہ کتنا مہنگا سودا ہے اور اسکی مستقل قیمت کیا ہے۔ آخر ایک خوف میں جینے والی ریاست کب تکَ زندہ رہ سکتی ہے۔

مانا کہ مسجد اقصی کا فرش معصوم فلسطینیوں کے خون سے سرخ ہے، مغرب ناجائز ریاست کی پشت پر کھڑا ہے اور امریکہ اسرائیل کے خلاف آنیوالی ہر قرارداد کو ویٹو کرریا ہے، مگر وہ اس خوف اور بے یقینی کو ہر گز ختم نہیں کرسکتے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پھر قران کہتا ہے "وقل جا الحق وزھق الباطل؛ انا لباطل کان زھوق” کہدو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔
پھر فرمایا گیا وہ (یہودی) زمین ہر اپنی تدبیریں کرریے ہیں اور اللہ اہنی تدبیر کر ریا ہے. وہ اہنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ اپنی چال چل رہا ہے.

بھلا اللہ کے مقابلہ میں بھی کسی اور کی تدبیر کا میاب ہوسکتی ہے! نہیں، ہرگز نہیں۔ پھر مایوسی کس بات کی اور یہ اداسی کیوں۔

Intact Seeker Section From An Iron Dome Tamir Interceptor Fell Into Gaza مانا کہ فلسطینی تنہا یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور بے سروسامان، مگر یہی انکی طاقت ہے کہ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور فتح کا امکان روشن. جبکہ انکا دشمن شیشہ کے گھر میں بیٹھا ہے۔

ادھر ادھر دیکھنے کے بجائے پھر کیوں نہ نظر آسمانوں پر رکھی جائے. کوئی دن جاتا ہے کہ آسمانوں سے فیصلے اترنا شروع ہونگے اور منطر بدل جائیگا کہ فتح آسمان والے کا وعدہ پے جو لوح قلم پر لکھ دیا گیا۔

 آئیں آنسو پونچھ ڈالیں اور فیصلے کا انتظار کریں، بس دو گھڑی انتظار۔

یہ بھی دیکھیں:

Facebook Comments Box
Al QudasfeaturedPalestineسید ذکیفلسطینفلسطین اور صیہونیتفلسطین کی تازہ صورتحال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جی ڈی پی اشاریہ اور ترقی کا دھوکہ: پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش —- احمد الیاس
next post
درد کی گولی —— جنید جاذب کا افسانچہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.