تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینفلمکلچر، آرٹ

ارطغرل اور نانا پاٹیکر ——- ڈاکٹر وحیدالرحمن خان

by دانش ڈیسک 03/05/2021
written by دانش ڈیسک 03/05/2021
227

ہندوستانی اداکار نانا پاٹیکر کا ایک فلمی جملہ زبان زدِ عام ہے، ضرب المثل بن چکا ہے۔ نانا پاٹیکر تالی بجا کر گونج دار آواز میں کہتا ہے:
”ایک سالا مچھر، آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے۔“
یہ جملہ ’ترکی نژاد‘ ڈرامے ”ارطغرل“ کے بارے میں بھی قدرے تصرف کے ساتھ کہا جا سکتا ہے:
”ایک سالا ڈراما، کلچر کو پنکچر کر دیتا ہے۔“

کم و بیش چالیس برس پہلے کی بات ہے۔ پاکستان کی عوام کے ذہنوں میں ایک محدود اور معصوم سی فلمی دنیا آباد تھی۔ چند روشن ستارے تھے، چند چاند چہرے تھے، جو ہر آن فلم کے آسمان پر چمکتے دمکتے رہتے تھے___یہی کچھ تھی ساقی متاعِ عوام۔ اس دوران میں مارکیٹ میں وی سی آر متعارف ہوتا ہے اور ایک نیا دبستان کھل جاتا ہے۔ پڑوس سے ہمارے گھر میں رنگ و نور کا سیلابِ بلا آجاتا ہے۔ کثرتِ نظارہ سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ نت نئی فلمیں، نت نئے اداکار، نئے ساز و آواز، رقص و سرود کے نئے انداز۔ عوام دیوانی ہو جاتی ہے۔ ایک نیا کاروبار وجود میں آتا ہے۔ لائبریریاں بند ہونے لگتی ہیں اور وڈیو کیسٹس کی دکانیں کھلنا شروع ہوتی ہیں۔ وی سی آر کرائے پر مہیا کیے جانے لگتے ہیں۔وہ جو صبح کو گھر سے کان پر قلم رکھ کر نکلتے تھے، اب شام کو اپنے ناتواں کاندھوں پر وی سی آر رکھ کر گھر واپس آنے لگتے ہیں۔ ”آجشبکو“ مختلف فلموں کے چار چار شو دیکھے جاتے ہیں اور ’شب زندہ داری‘ کی ایک نئی معنویت متعارف ہوتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ آوارگی برنگِ تماشا بُری نہیں اور ذوقِ نظر ملے تو یہ دنیا بُری نہیں، مگر واقعہ یہ ہوا کہ ہندوستان سے صرف فلمیں دراندازی نہیں کر رہی تھیں، ایک ثقافت بھی ساتھ چلی آرہی تھی۔ آج کی زبان میں ایک ’ثقافتی بیانیہ‘ بھی فلم کے پردے میں بیان ہو رہا تھا۔ ساڑھی سیندور، قشقہ، زنار، راکھی، ہولی، دیوالی، نمستے، رام رام، پیالہ و جام، بھگوان، آواگون، طاؤس و رباب اور اس جیسے دیگر مذہبی و ثقافتی نشانات دلوں اور ذہنوں پر نقش ہو رہے تھے۔ شادی بیاہ کی رسمیں تمام تر رنگینیوں اور رعنائیوں کے ساتھ ادا کی جارہی تھیں اور ہماری سوسائٹی میں ان کی خوب نقالی ہو رہی تھی او روہ دن دور نہیں تھے کہ سات پھیرے لگانے کی تقریب بھی منائی جاتی__ غرض کہ ایک چتا جل رہی تھی اور اس میں ہمارے ثقافتی عقائد راکھ ہو رہے تھے۔ بات صرف ثقافت تک محدود نہیں تھی، تاریخ کو بھی مسخ کیا جارہا تھا۔ تاریخ کی اپنی تعبیر بیان کی جا رہی تھی اور تاریخی کرداروں اور واقعات کو زعفرانی رنگ میں پیش کیا جا رہا تھا۔ کشمیر کا مسئلہ ہو، دو قومی نظریہ ہو یا دہشت گردی کا بیانیہ___ ان سب معاملات کو دل چسپ کہانیوں، دل کش کرداروں اور دل فریب گانوں کی صورت میں پردے پر دکھایا جاتا اور ہمارے سادہ لوح عوام کو ہندوستان کا سیاسی بیانیہ ذہن نشین کرایا جا رہا تھا۔

یہ سب کچھ ہو رہا تھا کہ اچانک ترکی سے تلوار لہراتا ہوا ارطغرل آگیا۔ ارطغرل دیکھ کر چراغِ دیر (موم بتیاں) جھلملا اٹھتے ہیں۔ پرانے جنگ جُو جو کسی زمانے میں نسیم حجازی سے برسرِ پیکار رہے تھے، نئے ہتھیاروں اور تازہ دم لشکریوں کے ساتھ صف آرا ہو جاتے ہیں___ لیکن ڈراما نشر ہوتا رہتا ہے اور تیزی سے قبولِ عام کی منزلیں طے کرتا جاتا ہے۔

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس نے نصف صدی میں فلم کے پردے پر ثقافت کی جو بساط بچھائی تھی، وہ ارطغرل نے الٹا دی ہے۔ اس ڈرامے کی اور ہی فضائیں ہیں، اور ہی دنیائیں ہیں، اور ہی صدائیں ہیں، جن سے ہماری سماعتیں اور بصارتیں نامانوس تو نہیں لیکن وہ ایک بھولی بسری یاد ضرور بن چکی تھیں۔ یہ ڈراما مسلم طرزِ حیات اور ثقافت کے احیاء کا ترجمان ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کسی منظر میں قرآنِ کریم کی تلاوت ہو رہی ہے، کہیں احادیث اور قصصِ انبیا بیان کیے جا رہے ہیں، خشکیوں میں، صحراؤں میں لڑائی ہو رہی ہے، کوئی مجاہد شہید ہوتا ہے، نمازِجنازہ پڑھائی جارہی ہے، کلمہئ تشکر اور نعرہئ تکبیر بلند ہوتے ہیں، نکاح ہو رہا ہے، شادی کے گیت گائے جاتے ہیں، بچے کے کان میں اذان کہی جا رہی ہے، وہ جو معرکہ حق و باطل میں فولاد تھے، حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم اور آپس میں کریم ہیں، باہم ہنسی مذاق ہو رہے ہیں، شراب کی ممانعت ہے، انصاف کی عمل داری ہے، کھانے پینے، رونے ہنسنے کے آداب مقرر ہیں ___غرضے کہ ایک روشن اور مثالی مسلم معاشرہ دکھایا گیا ہے اور اس معاشرے میں عورت کا کردار مضمحل یا منفعل نہیں بلکہ فعال اور باعمل ہے۔ عورت شرم و حیا کا پیکر ہے، وہ مصافِ حیات میں بھی مصروفِ عمل ہے اور میدانِ جنگ میں بھی صف آرا دکھائی دیتی ہے۔

اس ڈرامے کا پیغام بہت واضح ہے اور مقاصد بہت عیاں ہیں۔ ڈرامے کے ہدایت کاروں، کہانی نگاروں اور اداکاروں نے ان ”مقاصد“ کی خوب نگہبانی کی ہے اور آرٹ اور جمالیات کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسی تخلیقی اور طلسماتی فضائیں پیداکی ہیں کہ ناظرین اس سحرِ حلال کے اسیر ہو جاتے ہیں۔

اس ڈرامے کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سماج اور ثقافت میں تبدیلی کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں رفتہ رفتہ تبدیلی آ رہی ہے۔ ڈرامے کی اثر پذیری کی ایک سادہ سی مثال یہ ہے کہ کرونا کے دنوں میں سماجی فاصلے کی پابندی کو قائم رکھتے ہوئے اہلِ دل نے مصافحے اور معانقے کا ایک نیا انداز سیکھا ہے، دور ہی سے سینے پر ہاتھ رکھ کر خلوص کا اظہار کیا جاتا ہے، ایک د وسرے کا حال احوال معلوم کیا جاتا ہے اور سلام عرض کیا جاتا ہے۔ یہ غمزہ ترک جب ہندوستانی اداکار نانا پاٹیکر دیکھتا ہے تو کفِ افسوس ملتا ہے اور زبانِ حال سے کہتا ہے:
”ایک سالا ڈراما، کلچر کو پنکچر کر دیتا ہے۔“

یہ بھی پڑھیں: ارطغل ۔ یہ سبق کون لے گا 


Facebook Comments Box
ertugrulارطغرلانڈین فلمنانا پاٹیکر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
پہلا مرد فیمنسٹ اور جدید لبرل ازم کا خالق جان سٹورٹ مِل John Stuart Mill — ادریس آزاد
next post
موسمی آفتیں : دوڈگری کا فرق —- بل گیٹس – ترجمہ: ناصر فاروق – پہلا باب (دوسرا حصہ)

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.