تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

سوئمبر سے طوق تک —- سعدیہ بشیر

by دانش ڈیسک 30/04/2021
written by دانش ڈیسک 30/04/2021
128

ورمالا اور طوق ہم معانی نہیں پھر بھی بین المفہوم ان میں کسی حد تک یگانگت موجود ہے۔ شادی کے لیے گلے میں ورمالا ڈالی جاتی ہے اور ورمالا پہنانے کی اس تقریب کو سوئمبر کہا جاتا ہے۔

اس کی کنیا مِترا بندا جب بیاہنے جوگ ہوء تب اس نے سومبر کیا
اور طوق بھی لوہے کا وہ بھاری حلقہ
جو غلامی یا گرفتار کے نشان کے بطور
مجرموں یا دیوانوں کے گلے میں ڈالتے ہیں تاکہ گردن نہ اٹھا سکیں۔
اسے پٹّا اور گلوبند بھی کہا جاتا ہے
یہ اور بات ہے کہ جدید دور نے تھوڑا منظر نامہ تبدیل کیا ہے۔

ایک شادی میں ورمالا پہنانے کے بعد دلہا نے خوشی کا اظہار کرنے کے لیے ناگن ڈانس شروع کیا تو دلہن نے اسے نامناسب رویہ قرار دیتے ہوئے عین موقع پر ہی شادی سے انکار کردیا۔

دلہن کا انکار سننے کے بعد دلہا غصے میں آیا اور اُس نے لڑکی کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا جس کے بعد فریقین میں اس قدر ہاتھا پائی ہوئی کہ انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ اب مداخلت کا مطلب صرف ویڈیوز بنانا ہے۔ شاید ٹک ٹاکرز پر پابندی کے پس پردہ بھی ایسا ہی کوئی ڈانس ہو۔

ایسا بھی کہا جا سکتا ہے کہ ورمالا کے ساتھ ہی کچھ لوگ زندہ دفن بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن مداخلت ندارد !!! کیونکہ ایک اور شادی میں ورمالا پہناتے وقت دولہا کو مرگی کا دورہ پڑ گیا اور دلہن نے کسی اور شخص کو ورمالا پہنا دی۔ ہمارے یہاں یہ عمل صاحبان اختیار نے کچھ اس طرح نبھایا کہ عام ملازمین کی تنخواہ کا فیصلہ آنے تک اپنی تنخواہوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

لیکن مہنگائی اور محکومیت کا جو طوق عوام کے گلے میں پہنایا گیا ہے وہ شاید گردن کا ناپ لے کر بنایا گیا ہے۔ اتارے نہیں اتر سکتا۔

چھوٹے موٹے سوئمبر تو میڈیا کے ہر پروگرام میں رچائے جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جس گلے میں ورمالا پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اس سے بے خبر ہی رہتا ہے۔ مان نہ مان میں ترا مہمان کے مصداق یہ سوال تک نہیں کیا جاتا کہ آیا وہ اس سوئمبر میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ دو چار لوگوں کی تصویر اور نام بتا کر یہ سوال اس تکرار اور اصرار سے کیا جاتا ہے کہ ایک نام توضرور ہی چن لیجئے۔ پچھلے دنوں ایک پروگرام میں مفتاح اسماعیل نے بہت خوب صورت جواب دیا کہ خواتین کی زندگی پہلے ہی مشکل ہے اس لیے ان کے بارے میں ایسے سوالات نہیں کرنا چاہیئں لیکن میزبان کے اصرار پر انھیں ورمالا پہنانا ہی پڑی۔ انصاف کی ورمالا اور طوق میں البتہ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ایک فریق کی ورمالا دوسرے کے لیے طوق بن جاتی ہے۔

منیرنیازی کا شاید یہ ہی مفہوم ہے کہ جن کے گلے میں غم کے طوق ہوتے ہیں ان پر شہر کی ہوائیں زہر اگلنے لگتی ہیں۔ ایک طوق ملامت کا بھی ہوتا ہے جس کا فرقہ ملامتیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یہ طوق ہر شہری کے ہاتھ میں ہے اور وہ جب چاہے، جہاں چاہے کی بنیاد پر کالی سیاہی کی طرح کسی کو بھی پہنا سکتا ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ طوق پہنانے والے کی گردن پر فٹ ہو جائے۔ حکمران اور سیاست دان البتہ نشستوں کے چناو میں جب اور جیسے چاہیں سوئمبر رچا سکتے ہیں لیکن ورمالا کے طور پر وہ صرف مذمت کے علامتی طوق رکھتے ہیں جو کبھی بھی ظالم کے گلے تک نہیں پہنچ پاتے۔ مذمت کے یہ طوق عوام کو میسر نہیں کہ

ان مذمت کاریوں سے حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

نئے پاکستان میں انصاف کے طوق کم یاب ہیں ان کی کمی پوری کرنے کے لیے اب انھیں ماسک کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ماسک عوام کے منہ، انصاف کی آنکھوں اور حکمرانوں کے کانوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ بجٹ کا طوق صرف عوام کے لیے بنایا جاتا ہے اور یہ بم کی طرح گرتا ہے جیسے کچھ پھول صرف مزاروں کے لیے کھلتے ہیں۔ یہاں دس دن کی مہلت کے نام پر کوئی خوش خبری نہیں۔ کوئی پوچھے کہ انصاف کے دان کیے گئے دس دن عاشق کے لیے تو ہجر کی کالی رات بن کر آتے ہیں۔ جدید اصطلاح میں جانوروں کے پٹوں اور انسان کا طوق ایک ہی چیز ہے۔ آزادی رائے کے اظہار میں اس طوق کے پٹہ کو دوپٹہ بھی کہا جاتا ہے۔ آج کل

غربت، بے بسی کے طوق جب مہنگائی سے ملتے ہیں تو وہ گتھم گتھا نہیں بلکہ طوقم طوق ہو جاتے ہیں اور حتمی سزا کے طور پر مسلط ہی رہتے ہیں۔ ہر نئی حکومت اسے مذید کس دیتی ہے۔ کرونا میں سانس مشکل سے آتا ہے۔ عوام کی بے حسی اور لاپرواہی کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ سالوں سے ایسے ہی سانس لینے کے عادی ہیں۔

کوئی پوچھے تو ہم بتلائیں کیا

Facebook Comments Box
featuredانشائیہسوئمبر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
درویش مین : ڈاکٹر عرفان پاشا کا خاکہ — مظفر حسن بلوچ کے قلم سے
next post
ہست ونیست اور تخلیق ِکائنات کے رَمز —- مجیب الحق حقّی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.