تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینصنف/ جینڈر

عورت اور ہمارا سماج: کچھ اہم سوالات —- یاسمین حمید

by دانش ڈیسک 09/04/2021
written by دانش ڈیسک 09/04/2021
247

عورت اور سماج کے تعلق سے میں دو تین بنیادی نوعیت کی باتیں کروں گی مگر پہلے کچھ سوالات:

پہلا سوال یہ ہے کہ: کیا یہ ممکن ہے کہ عورت اور مرد الگ الگ جزیروں میں رہ کر نسلِ اِنسانی کو ارتقاء دے سکیں؟

دو: اگر نہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک معاشرہ تو قائم ہو مگر عورت اور مرد کے درمیان کوئی سماجی تعلق قائم نہ ہو؟

تین: اگر تعلق قائم ہونا لازم ہے، تو کیا یہ مناسب ہوگا کہ اس تعلق کی کوئی قانونی یا اخلاقی حدیں نہ ہوں؟

چار: اگر آپ یہ کہیں کہ قانونی اور اخلاقی حدود سے ہی معاشرہ ہموار اور پرامن رہے گا۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا سب معاشرے ایک جیسے ہوتے ہیں؟

پانچ: اگر ایک جیسے نہیں ہوتے اور ہر معاشرے کی اپنی روایات اور اقدر ہوتی ہیں۔ جنہیں عالمی قوانین میں بھی تسلیم کیا گیا ہے تو کیا ان مقامی روایات اور قومی اقدار کو نظر انداز کرکے شخصی آزادی کی کسی تحریک کو صحیح معنوں میں کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے؟

چھ: کیا عورت یا مرد کی شخصی آزادی بے مہار ہوتی ہے۔ کیا اس کا تعین ’حقوق اور فرائض‘ کے تعین کے بغیر ممکن ہے؟

سات: بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ جب عورت ان معاشی علاقوں میں بھی پہنچ گئی ہے جہاں صرف مرد تھا تو کیا حقوق اور فرائض کا تصور وہی رہے گا جس میں مرد کماتا اور عورت چاردیواری میں رہتی تھی؟

آٹھ : کچھ کام ہیں جو محض مرد انجام دے سکتا ہے اور کچھ کام ہیں جو عورت ہی سر انجام دے سکتی ہے ایسے میں کامل برابری کا مطالبہ درست ہوگا یا فطری ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے شراکت کی آزادی کا مطالبہ۔

میں نے ان سوالات پر سوچا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ ان بنیادی نوعیت کے سوالات کے مقابل ہوئے بغیر ہم عام طور پر ایسے نعرے لگا بیٹھتی ہیں جو ہمارے نہیں ہوتے، بس ان کا فیشن ہوتا ہے۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ فیشن ہمیشہ آسودہ طبقے کا مشغلہ ہوتا ہے۔ ہمارے سماج میں عورت کے مسائل، فیشن یا مشغلہ نہیں ہیں۔ یہ زندگی اور موت جتنے اہم ہیں۔ ہمارا سماج ایک جیسا اور ہموار نہیں ہے۔ اس لیے عورت کے مسائل اور مشکلات بھی ایک جیسی نہیں ہیں۔ لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ:

۱۔ کہنے کو یہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل معاشرہ ہے مگر باپ اور بھائی بیٹوں اور بہنوں کو وراثت سے محروم کر دیتے ہیں۔ اگرچہ وراثت کا قانون موجود ہے مگر عورت کو محبت کا ایسا جھانسہ دے کر ایثار پر مجبور کیا جاتا ہے یا مکر اور دھمکیوں سے۔

۲۔ کہنے کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ لڑکی کو بھی اپنی زندگی کا ساتھی چننے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی لڑکے کو۔ جس مذہب کے ہم پیروکار ہیں، جانتے ہیں کہ اس نے بھی لڑکی کو یہ حق دیا ہوا ہے مگر ہم اپنی بیٹی یا بہن کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں۔

۳۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ لڑکی یا لڑکا پیدا کرنے کے معاملے عورت اور مرد ایک جیسے بے بس ہیں مگر ہم عورت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ بیٹے اور بیٹی میں تفریق کرتے ہیں۔ بیٹے کو اپنا جانشین اور بیٹی کو ذمہ داری کے کھاتے میں رکھتے ہیں اور یوں اپنی اولاد میں فریق پیدا کرتے ہیں۔

۔  ہم اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لیے تو چاہتے ہیں کہ سب نظریں نیچی رکھیں۔ اس کے لیے مذہبی حوالے دیتے ہیں مگر دوسروں کی بہن بیٹی کو گھور نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ عورت کا سڑک پر چلنا تک محال کر دیتے ہیں۔

۔  عورت کے سب رشتے ہمارے لیے مقدس ہیں مگر جب کسی کو گالی دینی ہوتی ہے تو منہ بھر کر ماں بہن کی گالی دیتے ہیں۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ عورت بھی مرد کا معاشی دوڑ میں ہاتھ بٹائے کہ اب زندگی کی ضرورتیں بڑھ گئی ہیں مگر دفتروں اور کام کرنے والی جگہوں پر ہم انہیں حراساں کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔

اور آخر میں یہ کہ ہمارے سماج میں عورت سے وابستہ مسائل تین نوعیت کے ہیں:
انفرادی۔۔۔ سماجی یا معاشرتی۔۔۔ معاشی

۱۔ انفرادی رویوں میں منافقت کا رویہ زیادہ اور سفاک ہوگیا ہے۔ ہم کہنے کو خدا کو مانتے ہیں اور خدا کی ایک نہیں مانتے۔ رشتوں میں بندھی عورت کا استحصال کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے گھر اور گھر سے باہر کی عورت سے اپنے رویے کی بابت سوچ کر خود اس منافقت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

۲۔ سماج اور ریاست ان قوانین پر عمل درآمد میں ناکام ہے جن میں عورت کے حقوق متعین ہیں۔ طلاق اور خلع کے مقدمات ہوں، یا علیحدگی کی صورت میں بچوں کے حقوق کے، وراثت کے مقدمات ہوں یا کام والی جگہوں پر جنسی حراسانی کے، ہر صورت میں عورت کا انصاف حاصل کرنا مشکل بنادیا گیا ہے۔

۳۔ معاشی سطح پر عورت کو انسان نہیں، بکنے والی شئے سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ اشتہارات میں استعمال ہوتی ہے تو چیزیں بکتی ہیں۔ یہ مرد کو لبھائے اس لیے فیشن کی انڈسٹری قائم ہوتی ہے اور خوب منافع کماتی ہے۔ زیادہ منافع کمانے کے لیے تو کہیں کہیں عورت اور جنس کو لذید شئے بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پہلو بھی عورت کی تذلیل کا ہے۔

میں سمجھتی ہوں جب تک ہم ان تین نقاط پر کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائیں گے، بہ حیثیت انسان، عورت کے وقار کو بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اور عورت کے حقوق کا نعرہ بھی صرف نعرہ ہی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاپولر فیمنزم اور اشتہاری صنعت کا گٹھ جوڑ ------- وحید مراد
Facebook Comments Box
Women issuesپاکستان میں حقوق نسواں کی تاریخحقوق نسواںخواتین کے مسائل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
فیمنزم کا جنسی انقلاب : بچائو کی تدابیر ‘شائستگی اور پاکیزگی’ —- وحید مراد
next post
جنسی جرائم، لبرل ازم اور عمران خان کا بیان —– احمد الیاس

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.