تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

آخر کریں کیا؟ — چوہدری بابر عباس

by دانش ڈیسک 17/03/2021
written by دانش ڈیسک 17/03/2021
236

وقت کے آگے آپ بند نہیں باندھ سکتے نہ تبدیلی کی ابدی سچائی کو جھٹلا سکتے ہیں۔ کسی قدر اگر آپ قابل ہوئے تو اتنا کر سکتے ہیں کہ برائے مزاحمت اپنے اندر کچھ ایسی مزاحمتی قوتیں پیدا کر لیں جو وقت کے متغیر بہاو کے ساتھ بہہ جانے سے خود کو بچا لیں کیونکہ وقت کے گھوڑے کی پیٹھ پر سواری کرنے کے لیے تو قوموں کو صدیوں کی جانفشاں ریاضت درکار ہوتی ہے۔ جہاں ہمیں انفرادی اہداف اور سمت کا ہی علم نہیں وہاں مجموعی مقاصد کا حصول تو ازخود ہی کوئی وجود نہیں رکھتا۔

معاشرے کو دیکھیں تو یہ کوئی غیر مرئی چیز تو ہے نہیں، معاشرہ زندہ انسانوں کا ارتقائی منازل طے کرتا ہوا تغیر پزیر مجموعہ ہے۔ اور یہ ارتقائی تغیرات کلی طور پر ظاہر سے تعلق رکھتے ہیں جن کو ہم دیکھ، اپنا اور محسوس کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ معروف ہے کہ ہر متنوع معاشرے میں کم وبیش ہر دہائ کے بعد ایک نئ سماجی تبدیلی واقع ہوتی ہے اسی کے مصداق ہم نے بھی اپنے قیام سے لے کر اب تک ہر سطح پر بے شمار تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ چونکہ تبدیلی واحد فطری سچائ ہے تو ظاہر ہے اس سے مفر بھی ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کونسی تبدیلیاں قابل قبول ہیں اور اگر کوئ تبدیلی سماج کے حسب مزاج و منشا نہ ہو تو اس سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے۔

انتظار تھا کہ آٹھ مارچ کا دن گزر جائے جو یقینا راقم کی طرح اکثریت کے لیے ایک کوفت بھرا دن ہوگا جسکو اب باقاعدگی سے ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ جسکے آنے سے پہلے ہی طبعیت مکدر ہو جاتی ہے اور اس دن کا جھیلنا اور پھر ہر سال اس پر الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور نجی محافل و ملاقاتوں میں اس پر بحث و مباحثے، ایک ایسی لا یعنی سی مشق جو عجیب گھٹن کا باعث بنتی ہے۔ وہ اس لیے کہ جب کوئی مسلہ آپکا مسلہ نہ ہو اور اگر کہیں کچھ متعلقات وجود رکھتے بھی ہوں تو انکا تدارک اور حل وہ طریقے اور بیانیے ہر گز نہ ہوں جنکی آڑ میں دراصل عزائم و مقاصد کچھ اور ہوں۔۔۔۔ تب پھر۔۔۔۔؟

یہاں اس بحث میں نہیں پڑتے کہ عورت مارچ کیا ہے اسکے پیچھے کون سی سوچ اور مقاصد کیا ہیں۔ کیونکہ اس کے لیے ہمیں تھوڑا سا ذمہ دار ہونا پڑے گا، کچھ شعور سے کام لینا پڑے گا، صحیح غلط میں تمیز کی تھوڑی جرات کرنا پڑے گی۔ ۔ ۔ ۔ تو کاہے بلا وجہ اس تردد میں پڑ کر اپنے قومی شعار سے روگردانی کرنی!

مگر اس بات سے نہ فرار ممکن ہے نہ اسکا رد ہو سکتا ہے کہ وہ معمولات جو ہماری معاشرت سے متعلقہ ہیں نہیں مگر اپنے مخصوص مقاصد لیے ہمارے ساتھ زبردستی جوڑے جا رہے ہیں نہ صرف جوڑے جا رہے بلکہ اب تو اپنے اثرات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ آپکی پرکھ کا پیمانہ جو بھی ہو آپکو فرار حاصل نہیں ہو گا اور ان مہمات سوء کے نتائج مین سٹریم میڈیا، سوشل میڈیا، تعلیمی ادرے، سماجی اختلاط اور قریب قریب اب آپکے گھروں تک بھی اسکی حرارت پہنچ رہی ہے۔ مگر آپ کے تلوے اگر ابھی تک بھی اس حرارت کو محسوس نہیں کر سکے تو پھر غفلت نے آپکی انکھوں اور ذہن کے ساتھ ساتھ اپکی کھال پر بھی خاصی دبیز تہہ چڑھا دی ہے۔

جیسا کہ اس اظہاریے کے آغاز میں ذکر کر چکے ہیں کہ عورت کی آذادی اور حقوق کا مسلہ ہمارا کوئ ناگزیر معاشرتی مسلہ نہیں ہے اور نہ ہی خدانخواستہ ایسے برے حالات ہیں کہ ہماری ماں بہن، بیوی اور بیٹی کو عورت مارچ کم ناچ زیادہ جیسی تحریکوں کی ضرورت آن پڑی ہو۔

ایک لمحے کو مان لیں کہ یہ ہی حواس باختہ چند مادر پدر آزاد تجربہ کار خواتین ہی ہماری عورت کی مسیحا ہیں۔ تو انکے جیسچرز اور ہاتھوں میں اٹھائے سلوگنز کو جن کو کم از کم میرے جیسا اجڈ اور روایت پسند انسان تو دیکھ کے پانی پانی ہو رہا ہو، حد یہ کہ اسلام اور مقدس ہستیوں بارے گستاخانہ حدوں کو چھونے لگیں، کیا انکے اپنے ہی بیانیے کی تدفیں نہیں ہے؟

جب آپکو ان ساری فحش قباحتوں جو در اصل آپکا منشور ہیں کی کھلی اجازت ہو اور اسلامی جمہوریہ کے چوک چوراہوں میں ناجتی گاتی پھرتی ہوں تو آپ کونسی آذادی اور کس کے لیے آذادی مانگ رہی ہیں؟

یہاں تک کہ آپ ہر اخلاقی حد بھی کراس کر جائیں، تصاویر اور سلگوگنز میں ایسی ایسی عبارات اور تصاویر کی نمائش کریں اور میڈیا نمائندوں کے ساتھ آپ ان خیالات کم خواہشات زیادہ کا اظہار بھی اس بے باکی سے کرتی نظر آئیں جو شائد بیوی اور شوہر جیسے رشتے میں بھی ممکن نہ ہوتا ہو۔

اس سارے فتنے کے بعد کون پوچھے آپ سے کہ آپ کونسے عقوبت خانے میں پابہ جولاں ہیں؟

ہمارا سوال ہے کہ حکومتی ادارے کہاں مر گئے ہیں جو اس شر کو یوں دندنانے کی کھلی چھوٹ میسر ہے اور ہر آنے والے سال میں یہ فتنہ پہلے زیادہ شدید ہوتا جارہا ہے ؟ کونسے حکومتی اداروں کی بات کر رہے ہیں آپ ؟ وہ ادارے جن کی غالب کیفیت تو یہ ہے کہ یہ خود اینٹی سٹیٹ بیانیئے اور سماج مخالف سر گرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اور جب عوامی نمائندہ اداروں میں بھیجے جانے والے نمائندگان کا انتخاب بھی ہمارے اپنے ہاتھوں ہوتا ہے، تو حضور شکوہ کے لیے اٹھنے والی ایک انگلی کے ساتھ منہ چڑھاتی چار انگلیاں ہماری اپنی طرف ہی مڑتی ہیں۔ جہاں نظریاتی اساس کہلانے والی شقیں عدم تحفظ کا شکار ہوں وہاں یہ اخلاقی اور سماجی اقدار کے متعلق معاملات چہ معنی وارد؟

بحثیت قوم اور معاشرہ ہمارے پاس دو ہی ایسے ادارے بچتے ہیں جن پر ہم کسی حد تک قابل تعریف کہلائے جا سکتے ہیں۔ قومی سطح پر فوج جسے کچھ تو اپنی حماقتوں اور زیادہ باہر سے اور اس سے بھی زیادہ گھر کے ہمدردوں نے ہمیشہ تختہء مشق بنائے رکھا ہے۔ اور دوسرا ہمارا مشرقی روایتی اسلامی خاندانی نظام ہے۔ اور اب آپکے اسی خاندانی نظام میں نقب لگ چکی۔ جس سے پہلے آپکی عمومی معاشرت پر کام ہوا، آپ کو مذہبی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی سطح پر تقسیم در تقسیم کیا گیا اور آپ سے قومی اہداف نہ صرف چھین لیے گئے بلکہ اپکی سمت تاریک کر دی گئ اور آپ سے آپکی شناخت چھین لی گئ۔ بچا آپ کا خاندانی نظام جسے آپ کسی طرح سے انفرادی یا قدرے زات برادری کی بنیاد پر بچائے ہوئے تھے۔ ماننا پڑے گا کہ معاشرے کی اس بنیادی اکائ میں نقب لگ چکی ہے

معمول سے ہٹ کر کوئ بھی چھوٹا بڑا واقعہ ہم بڑی بے اعتنائ سے نظر انداز کر دیتے ہیں مثلا لاہور یونیورسٹی میں دو طلبا کا واقع ہو یا ہمارے ٹی وی چینلز پر چلتے ڈرامے، جو ظاہر ہے وہی دکھا رہے ہیں جو ہو رہا ہے سارا الزام رائیٹر اور پروڈیوسر کی بد طینتی کو بھی نہیں دے سکتے۔ زیادہ نہیں تو اب ان سب مظاہر کو جبکہ حقیقت زیادہ بھیانک ہے۔ ۔ ۔ ۔ بارش کی پہلی بوند ہی سمجھ لیں۔ اور ہوش میں آ جائیں

غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھتے سماج مخالف ایجنڈوں نے اب ہم میں یہ جراتیں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں کہ ہم مساجد میں گانے شوٹ کر سکتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں سرعام۔ ۔ ۔ سڑکوں پر عورت ناچ کر سکتے ہیں….مگر سب کچھ خاموشی سے کن اکھیوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! مگر نتائج تو بہر حال آنے ہیں آ رہے ہیں۔ اور یہ اکا دکا وہ واقعات ہیں جو منظر عام پر آ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ باقی الحفیظ الامان۔

سمجھ دار تھے انگریز جنہوں نے جنگ عظیم دوئم کے فاتح چرچل کو دوبارہ وزیر اعظم منتخب نہیں کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا کیا ہے۔ ۔ ۔ نواز شریف کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے، ایک زرداری واقعی پھر سب پے بھاری ہی ثابت ہوتا ہے۔ ایک ایک بار ہماری شومئ قسمت کے ہاتھوں اگر یہ ہم پر مسلط ہو ہی گئے تو تھے آزمائے جانے کی بعد تو نہ ہر بار شیر کو ہمیں چیر پھاڑنے کی اجازت ہوتی نہ پاکستان کھپتا۔

پھر کریں کیا ؟ کرنا کیا ہے۔ ۔ ۔ انقلابی ہم نہیں، ویژن ہمارے پاس نہیں، تعلیم کے نام پر جو دھندہ ہوتا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، عقل و شعور سے کام لینا۔ ۔ مکمل ممنوع۔
ایمان کے کمزور ترین درجے پر ہی برائ کو دل میں ہی محسوس کر لیں۔

ایک وقت میں جب عمران خان کی جماعت کو ایک ٹانگے کی سواری کہا جاتا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ ہر گھر میں اگر پانچ بھائ ہیں تو ایک انصافی بن گیا۔ ۔ ۔ دو دہائیوں بعد آج وہی ایک ٹانگے کا سوار کئ شاہسواروں کو ٹانگے بیٹھا ہے۔
اچھی بات ہے ایک تعمیری سیاسی جد وجہد کا معاملہ تھا۔
مگر بعین جو یہ، سیکولر اور الحادی سوچ غیر محسوس طریقے سے مگر سرعت کے ساتھ پھل پھول رہی ہے اور اب یہ عورت مارچ ایسے ایجنڈوں پر بنانگ دہل عملداری شروع ہو چکی ہے۔ ۔ ۔ تو کیا ہم اسی انتظار میں ہیں کہ ہمارے گھروں میں اسی طرح پانچ اولادوں میں سے ایک، ایک دن اسی سکول آف تھاٹس کا پیرکار و ترجمان بن جائے۔ ۔ ۔ جسکی یقینی منزل الحاد اور LGBT کی قبولیت و توثیق ہو۔

برائ کو ہم روک بھی تب ہی سکتے ہیں جب برائ ہمیں برائ لگے اور اسکے لیے ہمارے دلوں میں نفرت پیدا ہو۔ ۔ ۔ مگر ہم صفائ پسند نہیں ہیں اور تععفن کو قبول کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ گلی کوچے میں غلاظت کے ڈھیر پر بیٹھ کر پھل سبزی کی خرید و فروخت کر لیتے ہیں۔ ہم نے گندگی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔

بچے کی پیدائش، کفالت تعلیم و تربیت یقینا ہماری ذمہ داری ہے، سماجی تغیر کو محسوس کریں اہنے تلوں تلے حرارت کو محسوس کریں، بحثیت والدین اپنی ذمہ داریوں میں بھی ارتقائ تبدیلیاں لائیں اور بدلتے حالات کی مطابقت سے بچے کے کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کڑے نگران بھی بنیں اور انکے کردار کی عمارت ان کنکریٹ بنیادوں پر کھڑی کریں کہ وہ اول برائ کے سامنے مزاحم ہونے کی صلاحیت پا جائیں نہیں تو کم از کم اتنی قوت تو پیدا ہو جائے کہ شر اور فتنے کے اس قبیح لاوے کی رو میں بہہ جانے سے بچ جائیں۔ دور فتن میں بھلائ کے ساتھ جی سکیں۔

 

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حبس، ایک نام، دو بے مثال مصنفین کے ناول — نعیم الرحمٰن
next post
پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن ۔۔۔۔ وحید مراد

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.