تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

بھٹو شہید کی برسی پر چند سوالات: فتح محمد ملک

by ویب ڈیسک 03/04/2017
written by ویب ڈیسک 03/04/2017
88

بھٹو شہید کی بیسویں برسی میرے لیے امید اور رجائیت کا پیغام لے کر آئی ہے۔ امید کا یہ پیغام مجھے جناب مجیب الرحمن شامی کی اس تحریر سے ملا ہے جو انہوں نے آج کے دن کی مناسبت سے شائع کی ہے۔ شامی صاحب ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کے ہاں بھٹو صاحب کے بارے میں تلخی کا جواز موجود ہے۔ شامی صاحب کو بھی بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں آزادی رائے کے ’’جرم‘‘ میں قید و بند کے مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ اس لیے قدرتی طور پر وہ بھٹو صاحب سے شدید نفرت میں مبتلا صحافیوں کے گروہ میں نمایاں رہے ہیں ۔ بھٹو صاحب اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر بعض اوقات انتقام کے جدبات سے اندھے ہو جایا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ انتقام کا نشانہ بننے والے بھی ان کی خوبیوں کی تحسین سے دیوانگی کی حد تک انکاری ہو جایا کرتے تھے۔ اندھی محبت اور احمقانہ نفرت کی ان دو انتہائوں پر کھڑے دوستوں اور دشمنوں کے جذباتی رویہ نے اب تک قومی سطح پر بھٹو صاحب کے فکری اور سیاسی کمالات کو درست تناظر میں سمجھنے کی فضا پیدا نہیں ہونے دی۔ شامی صاحب کی تحریر بعنوان ’’بھٹو مرحوم کی یاد میں‘‘ پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ شامی صاحب کا یہ متوازن اور عادلانہ اندازِ نظر بھٹو شہید ہی نہیں بلکہ ضیاء الحق شہید ہر دو کے ادوار حکومت کا کھوٹا کھرا پرکھنے میں عام ہو جائے تو ہم اپنی تاریخ کو سمجھنے کے قابل بھی ہو سکیں گے اور ماصی قریب کی تاریخی غلطیوں کو بار بار دہرانے سے بھی بچ جائیں گے۔ شامی صاحب کیا خوب لکھا ہے کہ:
’’ آج جب کہ وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں میں سوچتا ہوں کہ ان کی ذات پر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوئی ضرور ت نہیں۔ وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔ بہت سے واقعات کی شہادت ہے کہ ان کے سینے میں ایک ’’مسلم قوم پرست‘‘ کا دل دھڑکتا تھا۔ وہ کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ بھارت سے ہزار سال تک جنگ بھی لڑنا چاہتے تھے۔ پاکستان دو لخت ہوا تو ان کی بے تدبیری کا بھی اس میں دخل تھا۔ اسے تجزیے یا انداز کی غلطی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہرحال نئے پاکستان کو مستحکم کرنے میں ان کی ذات کام آئی۔ وہ مغربی پاکستان کے تمام صوبوں میں مقبول تھے۔ ان کی جڑیں پشاور سے لے کر کراچی تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کی بدولت علیحدگی پسندوں کے حوصلے پست ہوئے اور علاقائی قیادتیں سمٹنے پر مجبور ہوئیں۔ انہوں نے ۷۳ء کے دستور کی بنیاد اتفاق رائے کو بنایا اور ایک ماہر سیاست دان کے طور پر پتے کھیل کر جماعت اسلامی سے لے کر نیشنل عوامی پارٹی تک کے دستخط حاصل کر لیے۔‘‘
بھٹو شہید کے سیاسی تدبر اور سیاسی عمل پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے جناب مجیب الرحمن شامی اعتراف کرتے ہیں کہ:
’’بھٹو صاحب کا ایک اور کارنامہ ایٹمی پروگرام کا آغاز تھا۔ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں کو ایٹم بم بنانے کا ہدف دیا اور اس کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لائے۔ شملہ معاہدہ بھی ان کا کمال تھا۔ انتہائی کٹھن اور مشکل حالات میں وہ کشمیر سے دستبرداری کا اعلان کرنے پر تیار نہیںہوئے ۔کشمیر کی متنازعہ حیثیت برقرار رہی۔‘‘
اس غیر جانبدارانہ اور بے لاگ تجزیے کو پڑھ کر میرے ذہن میں جو پہلا سوال پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ جس شخص نے ہماری قومی زندگی میں انتہائی نامساعد حالات میں بھی اتنے بہت سے کارنامے سرانجام دیئے ہیں اسے دار و رسن کے مراحل سے کیو ں گزرنا پڑا؟… چلئے اگر ہم غلطی سے ایسا کر بیٹھے تھے تو آج اس کی شہادت پر بیس برس گزرنے کے بعد بھی ہمارے قومی پریس میں اس کی شحصیت اور کارناموں پر مضامین اشتہارات کی صورت میں کیوں شائع ہوئے ہیں؟ کیا ہمارے بڑے بڑے اور بے حد و حساب امیر اخبارات اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ ہمارے اس قومی ہیرو کی یاد میں کرائے کے سپاہی کی بجائے قومی ضمیر کے ایثار پیشہ نگہبان کا کردار سرانجام دیں؟
ان سوالات سے بڑا اور تلخ تر سوال یہ ہے کہ جس شخص کو مجیب الرحمن شامی کے سے نامور اسلام پسند نے بھی ’’مسلمان قوم پرست‘‘ تسلیم کیا ہے اسے اقتدار سے ہٹانے کی خاطر اسلام کے نام پر تحریک کیوں چلائی گئی؟… پھر اسے صرف اقتدار ہی سے نہیں بلکہ زندگی سے بھی رخصت کر دینے کے بعد نظام مصطفی کے نفاذ کی وہ تحریک ہمارے قومی منظر سے غائب کیوں ہو گئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دینی اور سیاسی رہنما جان بوجھ کر یا بے جانے بوجھے غیروں کے مفادات کی آبیاری کی دھن میں اپنے قومی اور ملی مفادات کو پامال کرنے میں سرگرم عمل تھے اور شاعر کے اس قول کو سچ کر دکھانے میں کوشاں:
اب صاحب انصاف ہے خود طالب انصاف
مہر اس کی ہے، میزان بدست دگراں ہے
(فیض)
بھٹو شہید ہمارے ان دانشوروں میں سرِفہرست تھے جنہیں آزادی کے موہوم ہونے کا شدید احساس تھا اور وہ پاکستان ہی نہیں تیسری دنیا کے بہت سے ملکوں کی موہوم آزادی کو ظاہر کی آنکھ سے نظر نہ آنے والی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتے تھے اور صرف دیکھتے ہی نہیں تھے بلکہ انہیں توڑ پھینکنے میں سرگرمِ عمل تھے۔ ان کی کتاب بعنوان ’’فریب آزادی ‘‘ (The myth of independence)اس موضوع پر اہم ترین سیاسی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھارت اور پاکستان جن نظر نہ آنے والی زنجیروں میں اسیر کر کے مداکرات کی میز پر لا بٹھائے گئے ہیں، ان کا خیال کرتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت اپنے تمام سیاستدانوںسے التجا کروں کہ وہ ایک مرتبہ پھر یہ کتاب پڑھ ڈالیں اور زیادہ نہیں تو اس کے صرف ایک فقرے کا مطلب سمجھ لیں۔ بھٹو شہید نے پاکستان پر بھارت کی بالادستی تسلیم کرنے کے لیے امریکی دبائو کے حوالے سے کہہ رکھا ہے کہ:
’’دبائو ایک کیڑا ہے اسے آپ آگے بڑھ کر پائوں کے نیچے کچل سکتے ہیں لیکن اگر آپ دبائو کے اس کیڑے کے سامنے ٹھٹھک کر کھڑے ہو گئے تو پھر یہی حقیر کیڑا راکشس (Monster) بن جائے گا۔‘‘
ذرا غور کیجئے اور بتائیے کہ اگر اس وقت ہم اس کیڑے سے ٹھٹھک کر کھڑے ہو گئے ہیں تو پھر اس کا انجام کیا ہوگا؟

 

Facebook Comments Box
بھٹو
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
مڈل کلاس طبقہ تذبذب کے دو راہے پر۔۔۔۔ وقاص احمد
next post
جئے جئے۔۔۔ ہائے ہائے: بھٹو کی یاد میں

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.