تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالم

طاقتور اور حاشیے پر رہنے والے —- قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 20/02/2021
written by قاسم یعقوب 20/02/2021
212

مجھے بیس سال پرانا ایک واقعہ ابھی تک یاد ہے۔ ہم کالج کے طالب علم تھے۔ ایک دفعہ بائیک پر جاتے ہوئے ایک رکشے سے ٹکر ہوگئی۔ رکشے والا یوٹرن لینے کی بجائے ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف سمت سے  آرہا تھا۔ میں بائیک چلارہا تھا اور میرے ساتھ ایک دوست بھی تھا۔ رکشے والی کی غلطی کی وجہ سے ہم گر گئے۔ ہلکی سی چوٹیں بھی آئیں۔ میں نے اٹھتے ہی رکشے والے کو کھری کھری سنانا شروع کردیں۔ رکشہ والا ادھیڑ عمر تھا میری باتوں کو برداشت نہ کر سکا اور مجھے بھی ردعمل کے طور پر کھری کھری سنانے لگ گیا۔ میں نے دوست کے روکنے کے باوجود اس کے تھپڑ رسید کر دیا۔ کچھ لوگ کود پڑے، بیچ بچائو ہوا اور ہم اپنے اپنے گھرکی طرف چل پڑے۔

کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ میرے پیچھے بیٹھا میرا دوست مجھے افسوس سے کہنے لگا: ’’یار بہت دکھ ہو رہا ہے۔ تم نے اسے تھپڑ رسید کر دیا۔‘‘ میں نے کہا: ’’وہ اس کا مستحق تھا۔‘‘ اس نے ایک آہ بھری اور کہا: ’’یار تم سوچو اس کے گھر میں کوئی بیٹی بھی ہوگی۔ فرض کرو آج وہ جب گھر جائے اور اس کی بیٹی کو اس واقعے کی خبر ہو جائے۔ وہ کیا سوچے گی کہ اس کے باپ کے منہ پر آج کسی نے تھپڑ مارا ہے۔‘‘ یقین کریں، میں کتنی ہی دیر اس پہ سوچتا رہا۔ آج بیس سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود میں یہ بات نہیں بھولا۔ میں نے پہلی دفعہ ان غریب چہروں کو ایک باپ ماں اور بھائی کے احساس کے ساتھ دیکھنا شروع کیا۔ مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ یہ کتنے اہم لوگ ہوتے ہیں۔

کیا ہم نے اپنے اردگرد ایسے کتنے ہی محنت کش اور غریب لوگوں کو محسوس کیا ہے کہ ان کے بچے بھی ہوں گے؟ ان کے ماں باپ ہوں گے۔ ان کی بوڑھی دادیاں ہوں گی۔ ہمسائے ہوں گے۔ ان سے محبت کرنے والے بھی ہوں۔ یہ بے کار سے، غریب سے لوگ جو ہمیں اپنی راہ کا کانٹا دکھائی دیتے ہیں، کتنے ہی لوگوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہوں گے۔ اصل میں ہم سماج کو صرف ایک نظر سے جانچنے کے عادی بنائے ہوتے ہیں اور وہ نظر ہے ’’طاقت‘‘۔ جس کے پاس طاقت نہیں ہوتی وہ ہمیں اپیل ہی نہیں کرتا۔ ہم ان کے دکھ نہیں سمجھتے۔ ان کی خوشیاں ہمیں خوشیاں ہی نہیں لگتیں۔ ان کے مسائل صرف ان کے ذاتی مسئلے لگتے ہیں۔ طاقت کا یہ تصور ہمیں حاشیائی تصور دیتا ہے۔ سماج کا وہ حصہ جو مرکز کہلاتا ہے، طاقت کی مرہونِ منت ہوتاہے۔ جو اس طاقت سے محروم ہوتے ہیں، راندۂ درگاہ کہلاتے ہیں، ان کو متن کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔ ان کے دکھ درد، خوشیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں سماج کے لیے نہیں، ان کے اپنے لیے ہوتی ہیں۔ وہ سماج کے ہاتھوں تھپڑ کھاتے ہیں، گالیاں سنتے ہیں اور اسے اپنا مقدر سمجھ کے اپنی زندگی کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طاقت اشرافیائی طبقہ ہوتا ہے۔ وہ طاقت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یوں وہ متن کا حصہ بن جاتاہے۔ متن مرکز تمام سرگرمیاں ان ہی کی مرہونِ منت وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یوں سماج دو حصوں میں بتا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک عام طبقہ جسے سبالٹرن بھی کہا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرا اشرافیائی طبقہ۔

سماج کا سب سے اہم اور مددگار طبقہ طاقت ور نہیں بلکہ عام طبقہ ہوتا ہے۔ عام طبقہ عام نہیں سب سے خاص ہوتا ہے۔ وہ زندگی کو ریزہ ریزہ جوڑتا ہے، دھاگہ دھاگہ بُنتا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے زندگی کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کی لپائی کے لیے اپنے پائوں سے مٹی گوندھتا ہے۔ اپنے جسم پر فطرت کی سختیاں جھیلتا ہے۔ اپنے سینے پر موسموں کے جبر کو روکتا ہے۔ ادب وہ واحد فیکلٹی ہے جو عام آدمی کا مطالعہ کرتی ہے، اس میں عام طبقے کو موضوع بنایاجاتا ہے۔ عام آدمی ہی عام زندگی کے خواب لکھتا ہے۔ وہ کردار جو بظاہر حاشیوں پر ہوتے ہیں، جنھیں سماج درخورِ اعتنا ہی نہیں سمجھتا مگر ادب ہمیں بتاتاہے کہ وہ کتنے بڑے کردار ہیں۔ وہ خوردبینی تصورِ زندگی کو میکرو بنا کے دکھاتا ہے۔ عام لوگوں کی زندگیاں کامیابی کے روایتی تصورات سے ہٹ کے جدوجہد کا خون تھوکتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ جو بظاہر کامیاب اور طاقت ور دکھائی دیتے ہیں، ان کی زندگیاں بھی سبالٹرن رویوں سے جنم لیتی ہیں اور طاقت کا حصہ بننے کے بعد اپنے سابقہ رویوں کو بھلا دیتی ہیں۔ اپنے اردگرد ایسے ہزاروں لوگ دیکھے جا سکتے ہیں، جو سماجی رویوں میں بظاہر کامیاب نہ ہو سکے (یعنی طاقت وروں کا حصہ نہ بن سکے) وہ حاشیہ پر ہی رہ گئے۔ مگر ان کی زندگیاں کسی بھی طاقت ور کی زندگی سے زیادہ جدو جہد سے مزین نظر آتی ہیں۔

یوں تو دنیا بھر میں طاقت کے حلقہ نشینوں نے سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقے پر حکمرانی کرتا آرہا ہے۔ ضروری نہیں یہ حکمرانی ریاستی ہو، ذہنی اور طبقاتی حکمرانی کا تصور اس سے بھی طاقت ورہوتا ہے۔ سماج میں صدیوں سے اس تصور نے جڑیں پکڑی ہیں۔

سماج کو طبقوں سے نہیں اقدار سے پہچاننے اور ازسرنَو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

برصغیر میں جب انگریزآئے تو یہ تصور زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔ استعماری قوتوں کو اس تصور کی زیادہ ضرورت تھی۔ اشرافیائی اقدار کے نافذ ہونے سے وہ عوام سے ایک فاصلہ پیدا کرتے گئے۔ وہ ان کے ذرائع (Recourses) کا بھرپور استعمال کرنے کے باوجود ان سے ایک فاصلے پر رہتے تھے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے دیہاتوں میں ہر طبقے کا مل جل رہنے کا تصور قائم تھا۔ طبقات کا گہرا شعور رائج ہونے کے باوجود طاقت ور غریب کو اپنے سماج کا اہم جزو سمجھتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اسے احساس تھا کہ اس کی بقا اسی طبقے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ طاقت ور (اشرافیائی طبقہ) عوامی طبقات سے مل کر ایک سماج میں ڈھلتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں غریب اور محنت کش طبقہ سماج میں حقیقی پیداواری قوتوں کا حامل ہوتا ہے۔ وہ مدد گار ہی نہیں، تخلیق کار بھی ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مکمل معاشرہ تعمیر کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آج بھی دیہاتوں میں کسی چوھدری کی حویلی کے بالکل سامنے کسی غریب کسان کامکان ہو سکتا ہے۔ کسی کمھار کا کچاگھر ہو سکتا ہے۔ چوھدری کے گھر سے ملحقہ کسی مزارع کے گھر کے سامنے اس کا گدھا بندھا ہوا مل سکتا ہے۔ آج بھی گائوں میں ایک ہی گلی میں سب طبقے اور افراد رہتے ہیں۔ غریب، طاقت ور، خدمت گار اور سیاست دان۔ کچے پکے، چھوٹے بڑے گھر اور بڑی حویلیاں ایک ہی گلی، ایک ہی گائوں میں نظر آتی ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ طبقات ہونے کے باوجود دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ شہروں میں رفتہ رفتہ انگریزوں کی کالونیئل فکرکے اثرات گہرے ہو گئے ہیں۔ اب مکانات کو بھی طبقاتی تقسیم کے ساتھ بنایا جانے لگا۔ ایک طرف طاقت ور افراد کے تاحد نظر بنگلوں کی حدود، دوسری طرف طبقات میں تقسیم A, B , C , D کیٹگری کے گھروں کی قطاریں۔ یہ ڈیفنس، بحریہ اور ولاز کا سلسلہ جب کہ دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے کی آبادیاں۔ یہ برصغیر میں پہلی دفعہ ہوا تھاکہ انگریزوں نے افراد کی خدمات کو گریڈوں میں تقسیم کر دیا۔ ہر طبقہ ایک مخصوص زاویہ نظر کی زندگی کا حامل دکھائی دینے لگا۔ اس کا چہرہ، اس کاسماجی رُتبہ اس کی کلاس کو ظاہر کرنے لگا۔

سماج کو طبقوں سے نہیں اقدار سے پہچاننے اور ازسرنَو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر تعصب اور طاقت کے اشرافیائی رجحان کو ختم کریں۔ یہ ایسی عینک ہے کہ اسے اتار کر دیکھنے سے شاید ہم دیکھنے کے قابل ہی نہ رہنے دیے جائیں۔

Facebook Comments Box
featuredسماجطاقتطاقت اور کمزور
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
لفظوں کا جادو —- منزہ فرید
next post
ہاتھ والی لکھائی کا مستقبل کیا ہے؟ راہِ عمل کا تعیّن —- تیسری اور آخری قسط

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.