تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہتازہ ترینعلم و ادب

کائناتی گرد کی دھول میں، کہانی‎ —– قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 09/01/2021
written by قاسم یعقوب 09/01/2021
97

میں چھوٹی سی عمر میں ہی والد کے ساتھ قبرستان جاتا۔ میرے والد مجھے اپنے والد اور دادا کی قبروںکے پاس کھڑے کر دیتے اور قران پڑھنا شروع کر دیتے۔ اسی دوران میں کبھی قبروں کو اور کبھی ساتھ ہی سے گزرتی ٹرین کو دیکھنے لگتا۔قبرستان کی اختتامی حدود کے ساتھ ہی ریلوے لائن بچھی ہوئی تھی۔ جس کی دوسری سمت بھی اب کچھ قبریں بن چکی ہیں۔

جمعہ کا دن تھا۔ابو نے کہا:

میں قبرستان جا رہا ہوں کیا تم چلو گے‘‘

میں نے فوراً کہا : ’’ہاں چلوں گا‘‘

کچھ ہی دیر میں ہم قبرستان پہنچ گئے اور انھی بزرگوں کی قبروں کے پاس کھڑے تھے۔ابو نے کہا:

’’دیکھو، یہ قبر میرے دادا کی ہے اور ادھر، یہ قبر میرے والد کی ہے،

یہ تمھاری دائیں طرف والی قبر میرے نانا کی ہے اور یہ بالکل میرے سامنے والی قبر میری ماں کی ہے‘‘

ابو شکست خوردہ جوش کے ساتھ مجھے بتاتے جا رہے تھے۔ ان کی نظریں میری بجائے ان قبروں پر تھیں۔میں نے ابو سے کہا:

’’ابو آپ کو کیسے پتا ان قبروں کے نیچے کون ہیں، کتبے تو ہیں نہیں یہاں‘‘

ابو بولے:

’’ اصل میں بالکل تمھارے آگے والی قبر کوئی قبر نہیں، یہیں سے میں سارا حساب یاد رکھتا ہوں‘‘

میں نے حیرانی سے پوچھا:

’’مگر ابو،یہ تو قبر ہے‘‘

ابو نے کہا:

’’نہیں، یہ قبر نہیں قبر سی بنائی ہوئی ہے، یہ میری قبر ہے، یہ میری جگہ ہے، یہ میری ماں کے بالکل ساتھ والی قبر ہے۔ بس میں یہیں سے اپنے جد کی قبروں کو پہچان لیتا ہوں کہ میرے دائیں بائیں کون سی قبریں ہیں۔‘‘

میں بہت پریشان ہُوا۔ اس چھوٹی سی عمر میں مجھے کیا سمجھ آتی کہ انسان زندہ ہے اور اُس کی قبر بھی موجود ہے۔ میں نے اپنی بے چینی کو زبان دیتے ہوئے کہا:

’’ مگر ابو،آپ اور آپ کی قبر!‘‘

ابو اس دوران قران پاک کی تلاوت ختم کر چکے تھے اور میری طرف پوری طرح متوجہ ہو چکے تھے۔کچھ کہنے ہی والے تھے کہ ٹرین کا شور بلند ہونے لگا۔ ابو پھر خاموش ہو گئے اسی دوران ٹرین گزر گئی۔

’’ہاں بیٹا! مجھے نہیں معلوم مجھے کہاں دفن ہونا ہے، شاید کسی بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا۔ مگر میری خواہش ہے کہ ماں کے پاس قبر میں اتروں‘‘

میں نے ابو کے ساتھ گھر کی واپسی کا سفر شروع کیا تو دیکھا کہ ٹرین نے جو گرد اڑائی تھی ابھی تک اڑ رہی تھی اور پورے قبرستان کے اوپر مہین دھویں کی تہہ سی جم گئی تھی جس نے ساری قبروں کو ایک سا کر دیا تھا۔

کئی سال گزر گئے۔ اس دوران والد کبھی اکیلے قبرستان چلے آتے کبھی میرے بھائیوں کے ساتھ۔ مجھے ان کے ساتھ جانے کا موقع نہ مل سکا۔وقت کی گرد نے سب کچھ دھندلا دیا۔کائناتی گر دکی دھول میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ ماضی تو صحرا ئوں کے ٹیلوں کی شکل دکھائی دیتا ہے۔جو پل میں اپنا ہیولا بدل لیتے ہیں،مگر ان کی خاصیت نہیں بدلتی۔ ویران، کھنڈر اور اجاڑ۔

کئی سال گزر گئے بلکہ والد کی وفات کو بھی اب تو کئی سال گزر گئے۔

میں نے یونہی اکیلے آبائی شہر جانے کا ارادہ کیا۔ٹرین سرپٹ دوڑتی جا رہی تھی۔طویل سفر پلک جھپکتے گزر گیا۔شہر میں اترتے ہی آبائی گھر جانے کی بجائے میں بے ساختہ قبرستان کی طرف چل پڑا۔ قبروں کے پاس آیا تو مجھے کچھ یاد نہیں تھا کہ میرے نکڑ دادا کی قبر کون سی ہے، دادا کی کون سی،دادی کی کون سی اور والد کہاں دفن ہیں۔ بالاخر میں نے راہ داری کے ساتھ پہلی قبر کو پہچان لیا جو ریلوے لائن کی سمت تھی۔ یہ میرے والد کے نانا کی قبر تھی۔ اس حساب سے میں نے اپنے والد کی قبر کو ڈھونڈ نکالا۔ دعا کے بعد میں جانے لگا تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے بھی اپنی قبر بنا لینی چاہیے۔میں آئندہ قبروں کو یاد بھی رکھنا چاہتا تھا اور اُسی طرح جس طرح میرے والدیاد رکھتے تھے۔کچھ ہی دیر میں گورکن کی مدد سے، میں نے والد کی قبر کے نیچے اپنی فرضی قبر بنوا لی۔

جب میں قبرستان سے جا رہا تھا تو میرا قبرستان میں موجود اپنے جد سے ایک رشتہ قائم ہو چکا تھا میں زندگی اور موت کے درمیان فاصلوں کو پھلانگ چکا تھا۔میں ایسا زندہ تھا جو ایک قبر میں دفن ہو چکا تھا۔جو زندگی اور موت دونوں حالتوں میں موجود تھا۔ جویہ جان چکا تھا کہ زندگی کی یہ ٹرین کسی بھی سمت کو چلی جائے اسی قبرستان سے گزرے گی۔

ہاں واقعی________انسان کو اپنی قبر کا تعین ہو جائے تو آس پاس کی قبروں کا ہی نہیں کائناتی وقت کے احاطے کا نقشہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
طبیب اور طبِ اسلامی پہ وار — محمد شاہجہان اقبال
next post
مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل …. وحید مراد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.