گنہ اور گنہ گار وجود کے درمیان ’گُرگِ شب‘ —— قاسم یعقوب

0

اکرام اللہ کا ’’گُرگِ شب‘‘ اس حوالے سے ایک منفرد ناول ہے کہ اس میں کسی کہانی کی نقشہ گری کی بجائے اس کی کھوکھ میں موجود وجود (Existence) کے نفسیاتی کرب کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔غالب نے کہا تھا کہ آدمی اپنی ذات میں ایک محشرِ خیال ہے، اس لیے آدمی کے شعور کی ظاہری شخصیت کے پس منظر میں لاشعوری طنابیں اس طرح کسی ہوئی ہوتی ہیں کہ وہ اپنے نفس کی کال کوٹھری کا قیدی بن ہوتا ہے۔ بظاہر آدمی کے پائوں حرکت کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ اپنے اندر سفر کر رہا ہوتا ہے۔ ’گُرگِ شب‘ میں نفسیاتی سطح پر اُس شخص کی مختلف حالتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اپنے ماضی اور حال کے درمیان حال سے زیادہ ماضی کے حصار میں ہے۔ گویا اس کا مستقبل ڈھلوان کے اُلٹے رُخ پرہے اور وہ نیچے گرتی ہوئی ڈھلوان کی مخالف سمت سفر کررہا ہے، تھکاوٹ کی وجہ سے اُس کے پائوں شل ہیں اور وہ کسی بھی وقت واپس ڈھلوان سے پھسل کر نیچے ماضی کے منہ میں گِر سکتا ہے۔ وہ حال کی اُس بلندی پر ہے کہ اُس کا گِرنا اُسے موت کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے۔

ایک کیفیت پر پورا ناول پیش کرنا ایک مشکل فن ہے۔ عموماً روایتی کہانیوں کا تانا بانا ازخود سفر کرنے کی اہلیت قائم کر لیتا ہے۔ ناول نگار کہانی شروع کرتے ہی کہانی کے ساتھ چلنے لگتا ہے۔ایک مرحلے پر کہانی ناول نگار کے اختیار سے نکل کر خود بیان ہونے لگتی ہے۔خالص روایتی کہانی کی بنیاد پر تشکیل کردہ ناولوں میں ایک مسئلہ یہ رہتا ہے کہ کہانی کا سحر قاری کو زندگی کی سطحی حقیقت کے ادراک تک محدود رکھتاہے۔ کسی کیف اور فکری ہیولے کی تشکیل قاری اور کہانی دونوں کے لیے ایک کارِ مشکل ہوتی ہے۔ شخصی اور نفسیاتی کرائسس کی کوکھ سے پورا ناول سامنے لے آنا، ایک زندگی کے کسی ایسے گوشے کو عیاں کرنا ہے، جو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

’گُرگِ شب ‘ کا بنیادی موضوع نفسی حالت کی اُن گرہوں کی نشان دہی ہے جو کہانی کے اندر کہیں گنجلک صورت اختیار کر گئی ہیں۔یوں اس ناول کی بنیاد کہانی نہیں۔ بچپن کاشفیع اور کپاس کا کامیاب تاجر ظفر ایک ہی شخصیت کے دو روپ ہیں۔ دونوں شخصیات دو انتہائوں کا شکار ہیں۔ شفیع اپنے حرامی ہونے کی اذیت سے دوچار تھا مگر ظفر کامیابی کی سماجی مراتب حاصل کر لینے کے بعد بھی کامیاب نہیں ہو پایا۔ یوں ایک ہی شخصیت کے دو ناموں کے درمیان ارتقا کا ایک طویل سفر ہے جو اپنے انجام تک دائرے کا سفر مکمل کرکے لاحاصلی کا پیغام دیتا ہے۔ اُس کی پیدائش اور پچپن ایک کج رَو (Disorder) حالت سے اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ مگر درمیان میں وہ اس کج روی پر قابو پانے کی کامیاب کوشش کرنے کے باوجود نجات حاصل نہیں کر پاتا اور اپنے سفر کے آغاز یعنی ذات کی اُسی بد نظمی تک دوبارہ پہنچ جاتا ہے۔ یوں اُس کا ماضی، حال اور پھر مستقبل ایک ہی وقت جمع رہنے کی ناقابلِ یقین حالت میں ڈھل جاتے ہیں۔

ناول کا تھیم بہت طاقت ور ہے۔ ظفر کو نفسی کشمکش کی انتہا کا شکار دکھایا گیا ہے جو بلاخر پاگل پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ شفیع، جس کا نام تبدیل کر کے ظفر رکھا گیا تاکہ اُسے اپنے ماضی سے نجات مل سکے، اپنی ماں کے سوتیلے بیٹے کی اولاد ہے۔ماں چوں کہ بہت جوان تھی، اس کے سوتیلے بیٹے تقریباً اس کے ہم عمر تھے۔اس لیے جنسی اختلاط کی غیر سماجی بندھن کی رو میں بہہ جانے سے شفیع جیسی اولاد کا وجود سامنے آتا ہے۔ شفیع اپنی ماں کو ایک غیر مہذب انسان کے روپ میں دیکھتا ہے جب کہ اپنی سوتیلی ماں سے اسے پیار اور اخلاق کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ناول میں کہیں بھی اس حقیقت کے اثبات کے اشارے موجود نہیں کہ کیا وہ واقعی حرام کی اولاد ہے۔ کیا واقعی اُس کے سوتیلے بھائی نے اُس کی ماں سے ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے؟ وہ اس حقیقت کا ادراک لوگوں کی باتوں سے کرتا ہے۔ ایک روایتی گھرانے میں اتنی بڑی حقیقت کاچھپ کے اپنی اُسی حالت پرقائم رہنا بھی کسی اچنبے سے کم نہیں، مگر چوں کہ سماجی سطح پر یہ اذیت کسی روحانی تکلیف سے کم نہیں، اس لیے شفیع یہ باور کر لیتا ہے کہ وہ واقعی ایک حرامی اولاد ہے اور حرام کا رشتہ بھی ماں اور سوتیلے بیٹے جیسی تقدیس کی پامالی پر کھڑا ہے۔

اس ناول میں دو اہم گوشوں پر گفتگو کی گنجائش موجود ہے:
۱۔ جو نفسیاتی کرائسس ذات کی سطح پر کامیاب بزنس مین کی عمر کے اس حصے میں در آیا ہے، کیا وہ زندگی کے اُن مراحل میں بھی موجود رہا جب وہ زندگی کو کامیاب بنانے کی تگ و دو میں منہمک تھا۔ کامیابی کے فوراً بعدہی اُس نے اپنے پہلے شخصی روپ کی طرف رجوع کیوں کیا؟ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک عمر تک کسی خاص فضا میں منہمک رہنے کے بعد ایک دم اپنے دائیں بائیں اور ماضی کے جھروکوں میں اپنے آپ کو تلاش کرنے لگتا ہے۔ کسی انجانی سرشاری کے بعد روح کے تمام گھاؤ یاد آنے لگتے ہیں مگر ایسے مریض جو کسی لاشعوری بد نظمی (نفسی کج روی) جیسے واقعے کی قید میں ہوں ایک دم کسی نفسی کیفیت کا شکار نہیں ہوجاتے ہمیشہ اسی فضا میں رہتے ہیں، البتہ ان کی تکلیف کا دورانیہ کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کے اندر کا کرب انھیں ہر موڑ اور مرحلے پر تنگ کرتا رہتا ہے۔ ناول میں اس ارتقائی زندگی کے کسی پہلو کو نہیں دکھایا گیا۔

۲۔ شفیع جو ظفر کے روپ میں نیا جنم لینے کی کامیاب کوشش کے بعد جس نفسیاتی کرائسس کا شکار ہوا ہے، اُس کی بنیاد جنس(Animalistic behavior) کی ناقابلِ قبول حقیقت ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ناول میں ظفر خود بھی ایک جنسی شکاری کے روپ میں دکھایا گیاہے۔ یہ الگ بات کہ وہ جنسی جذباتیت کے وقت کسی جنسی ہیجانی کیفیت کی ناکامی کا سامنا کرتا ہے اور جنس کے حصول کی تمام تگ و دو کے بعد بھی ماضی کے اُسی تصور کے قید میں چلا جاتا ہے جو اُس کے حرامی وجود سے جڑا ہوا ہے۔

ان دونوں نکات کی روشنی میں ناول میں ایک بڑا جھول نظر آتا ہے۔ ناول نگار نے سارا زور اُس نفسی کیفیت کا بیان کرنے میں صرف کیا ہے جس کا وہ شکار ہوکے بے کار ہو چلا ہے۔ یہ بھی ایک عجیب کیفیت ہے کہ وہ شراب کا ایسا رسیا ہے کہ اُس کا نفسی ہیجان بعض اوقات پیچھے رہ جاتا ہے اور کسی شرابی کا بے ربط سا تصور زیادہ جگہ لینے لگتا ہے۔ پورے ناول میں اُس کے نفسیاتی ہیجان کا نقشہ کم اور شراب پینے اور اس کے حصول کی پیش کش زیادہ ہے۔ناول میں ذہنی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے شراب کی منظر کشی ایک حد سے زیادہ دکھائی گئی ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات لگتا ہے کہ ناول کہیں پیچھے رہ گیا ہے اور شراب پینا اور اُس کی سرور کی کیفیات کا بیان اول درجہ اختیار کر گیا ہے۔ کلب کا مصنوعی ماحول بھی ناول کی پوری فضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔نفسی سطح پر کسی صدمے (Trauma) کی کیفیت ایک دم واقع یا غائب نہیں ہوجاتی، وہ ایک ارتقا کی شکل میں ظہور کرتی ہے۔ ایسی کیفیت کو علمِ نفسیات کی زبان میں post traumatic stress disorder کہتے ہیں۔ ظاہری بات ہے ایسا شخص کبھی کامیاب بزنس مین کیسے ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہوگا مگر ناول نگار نے اس ارتقا کا کوئی اہتما م نہیں کیا۔ ہمارے سامنے صرف اسی ایک حالت کا بیان آتا ہے جب وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بن چکا ہے۔ نفسیاتی سطح پر ایسے مریض جو اپنی عمر کے کسی خاص حصے میں ذہنی دبائو جیسے بیماری کا شکار ہو چکے ہوں وہ کبھی متوازن انداز میں مستقبل کی طرف سفر نہیں کر سکتے۔ ناول نگار نے بہت موزوں دکھایا کہ شفیع اپنے ماضی کو بدل کر اب ظفر کے نام سے سامنے آ چکا ہے مگر کیا یہ اتنا آسان ہے؟ ناول میں اس بڑی تبدیلی کی طرف کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا۔

اس ناول میں دوسرا ایک اہم نفسیاتی مسئلہ جنسی ہیجانیت کا ہے۔ ناول میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ حرامی اولاد کا تخلیقی وجود ہے، جو سماجی حوالے سے ناجائز جنسی ارتباط کا نتیجہ ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ شفیع سے ظفر تک کا سارا سفر بھی جنسی ہیجانیت کے واقعات کا مرقع ہے:

’’میرے سب سے زیادہ محبوب دو تصورات ہوتے تھے۔ ایک تو یہ کہ مجھے اپنی ماں کے علاوہ کسی بھی عورت نے جنم دیا تھا اور دوسرا یہ کہ حمیدہ کا جنسی ساتھی نذیر نہیں، میں تھا۔‘‘
(گرگِ شب، ص ۷۶)

ظفر بننے کے بعد بھی اس کا محور عورت ہی رہتا ہے۔ عورت بھی وہ جو جنسی تصور کے مکمل ہیجانی روپ کا نمونہ نظر آتی ہو۔ ریحانہ کے جنسی ارتباط کی خواہش کی کامیاب کوشش تو کرتا ہے مگر وہ اپنے ماضی کے تصورسے نجات نہیں حاصل کرپاتا۔ ریحانہ سے جنسی آسودگی کی خواہش اور اس کے حصول کا سارا منظر نامہ کسی بھی نارمل انسان کی طرح دکھایا گیا ہے۔ ریحانہ کو فلم کے بہانے بلانے، ساحلِ سمندر پر چلے جانا اور اسے گھر لے جاکے اپنی جنسی آسودگی کی معراج حاصل کرنے کی حد تک اس کے اندر جنس سے نفرت اور کشش بیک وقت قائم رہتی ہے۔ ریحانہ کے انتظار میں وہ ایسے خیالات کی یکجائی سے گزرتا ہے:

’’وہ شاید نہ آئے۔۔۔ وہ کہیں آ ہی نہ جائے۔۔۔ میری ماں۔۔۔۔ اے بی شیخ۔۔۔ میرا دفتر۔۔۔ حمیدہ۔۔۔ کلب۔۔۔ شراب۔۔۔۔میاں جی۔۔۔ میرا باپ یا بھائی، یا دونوں، کچھ بھی نہیں۔‘‘ (گرگِ شب، ص ۹۲)

یہ اُس کیفیت کا ذہنی خاکہ ہے جب ظفر ریحانہ اور اپنے وجود کے جنسی لوتھڑوں کو مہمیز دینے والی لذت کے نشے میں ہے۔ نفسیاتی سطح پر ان دو خصوصیات کا بیک وقت اکٹھے ہونا نا ممکن ہے۔ ذہنی دبائو (Stress Disorder) سب سے پہلے اُس عمل سے نفرت پر اُکساتا ہے جس کی وجہ سے یہ Disorder جنم لیتا ہے۔ غالب کا ایک شعر ہے:

پانی سے سَگ گزیدہ ڈرے جس طرح، اسد
ڈرتا ہوں آدمی سے کہ مَردم گزیدہ ہوں

یہ بڑی سفاک نفسیاتی بیماری ہے۔ کتے کے کاٹنے سے انسان پانی سے ڈرنے لگتا ہے۔ ایسے انسان کو Hydrophobic کہا جاتا ہیں۔ اصل میں ’ہائیڈرو فوبک ‘ہونا کتے کے وائرس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کیفیت کی وجہ سے ہے جو اس وائرس کا نتیجہ ہوتی ہے۔اصل میں کتے کے ریبیزجسم میں ایسا وائرس پیدا کر دیتے ہیں کہ آدمی پانی پینے یا تھوک نگلنے کے دوران سخت تکلیف سے گزرتا ہے۔ اسی لیے وہ پانی جیسی بنیادی ضرورت سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔ چوں کہ یہ تکلیف مسلسل اور ایک ذہنی دبائو کی شکل میں اس کے جسم کا حصہ بن جاتی ہے لہٰذا وہ پانی کے تصورہی سے خوف زدہ ہو نا شروع کر دیتا ہے بلکہ ایسی بیماری کا شکار آدمی تھوک کو نگلنے کی بجائے اسے منہ سے رال کی شکل میں بہانے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔غالب نے پانی سے ڈرنے کی اسی کیفیت کو اس شعر میں سمیٹا ہے۔ اس ٹراما کی وجہ بھی ذہنی دبائو ہے جو بدن میں ایک وائرس کی طرح ہر وقت متحرک رہتا ہے۔

شفیع کی ذہنی حالت بھی جنسی Disorder کا نتیجہ ہے جو اُس کی ماں کے تصور سے جڑا ہوا ہے۔ وہ جب بھی اپنے حرامی ہونے کی اذیت کے شدید ہیجانی دبائو کا شکار ہو تا ہے، وہ اپنے ماضی سے ہی رُوگردانی کرنے لگتا ہے۔ ایسے مریض اس عمل سے بھاگنے لگتے ہیں۔ ایسے بچے جو بچپن میں خوفناک جنسی اذیت سے گزرے ہوں یا جنسی عمل کی قبیح صورت کا تجربہ کر گزریں، وہ ساری عمر جنس کی لذت سے محروم ہو جاتے ہیں اور اس عمل سے دور بھاگنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔

ناول میں شفیع سے ظفر تک کا سارا سفر ماں کی جنسی کج روی کا شکار ہونے کی یاددہانی سے گزرنے کی اذیت بھی ہے اور ساتھ ہی اسی جنسی عمل میں پناہ لینے کا عمل بھی۔ یہ بہت بڑا تضاد اور نفسی حالت کی غلط تشریح ہے۔ شاید ناول نگار اُس حالت کو بیان کرنے میں ناکام ہوا ہے جو جنسی لذت اور جنسی خوف کے اشتراک کے نیتجے میں جنم لیتی ہے۔

’’ایک گونج سی دماغ میں جاری ہو جاتی ہے۔ وقت گزارنے کا ایک اچھا طریقہ عورت بھی ہو سکتی ہے۔ چاہے کرائے ہی کی کیوں نہ ہو۔اگر اس نے مجھ سے پوچھ لیا کہ اپنے بھائی کے بیٹے ہو کہ باپ کے تو کیا جواب دوں گا؟‘‘

کیاایک نفسی اذیت کا علاج اسی نفسی کیفیت کے وقوع پذیر ہونے سے ممکن ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ناول ہی میں ظفرکو جنسی عمل کی کوشش میں ناکام ہوتے دکھایا گیا ہے اور اس کی وجہ اس کی شخصیت میں دو تصورات کی بیک وقت موجودگی ہے۔ سو یہ بات سمجھنے سے باہر ہے کہ ظفر یا شفیع جس جنسی ارتباط کی حرام کاری سے ذہنی صدمے (Psychological Trauma) کا شکار ہوا ہے، اُسی کا متلاشی ہے اور پھر اُسی ٹراما کی وجہ سے وہ جنسی عمل کر بھی نہیں پا رہا۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جو ناول کی ناکام تصویر کشی کا عکاس ہے۔

جس خواب کو پورے ناول کا مرکزی خیال کہا جا سکتا ہے وہ بیل والا خواب ہے۔ایک بیل پانی میں بہ رہا ہے اور اس کی دُم ظفر نے پکڑی ہوئی ہے۔دم کے سہارے کے باوجود وہ ہر لمحہ ڈوب رہا ہے۔ وہ ڈوبنے سے بچنے کے لیے پُل کے اوپر کھڑے لوگوں کو پکار رہا ہے۔ ان بچانے والوں میں اس کا دوست محسن بھی شامل ہے، مگر کوئی اسے نہیں بچاتا۔یہ بیل اصل میں وہ حالات ہیں جن کے کوکھ سے وہ جنم لے چکا ہے، جو اس کے ساتھ نتھی کر دیے گئے ہیں، جن سے کنارہ کشی کا اختیار اس سے چھین لیا گیا ہے۔ یہ ایک بیل کی مانند ہیں جس کی اندھی طاقت اسے بھی بہائے لے جارہی ہے۔ ایک مہیب جسم جس میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ اسے ان تند وتیز لہروں سے بچا لے اور نہ ہی اس پانی میں ڈوبتے بیل کے عدم توازن کا شکارجسم کو دور سے دیکھتے پُل کے اوپر کھڑے لوگوں میں کسی میں ہمت ہے کہ وہ اسے اس موت کی طرف بڑھتی کیفیت سے نجات دلا سکیں۔بیل وقت کی اندھی طاقت میں غوطہ زن ہے جو کسی کے اختیار میں نہیں، اور نہ ہی کسی کو اختیار دینے پر قادر ہے۔

’’میں بیل کو ہانک کر کسی اور کنارے پر لے جانا چاہتا ہوں لیکن وہ اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود کسی بھی طرف رُخ بدلنے سے قاصر ہے اور غرق ہونے سے بچنے کے لیے اس کی تانگیں نہایت سُرعت سے حرکت کرنے پر مجبور ہیں۔۔۔۔۔ میں بیل کی دُم پکڑے نیچے سے گزرجاتا ہوں۔ توٹے دم والے بیل کی تھوتھنی پہلی مرتبہ پانی میں ذرا سی ڈوب کر ابھر آتی ہے۔ مجھے ایک ہلکا سا غوطہ آتا ہے۔ موت سے گویا ہتھ جوڑی ہو گئی۔ چند ثانیوں کے لیے بیل پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے تیرتا ہے اور پھر دوسرا غوطہ کھاتا ہے، پھر تیسرا غوطہ، چوتھا، دُم ہاتھ سے گئی۔ میں مٹیالے پانیوں میں کہیں گرتا گرتا چلاجاتا ہوں کہ تڑک سے آنکھ کھل جاتی ہے۔‘‘ (ص ۷۱)

یہی وہ کیفیت ہے جس کے پھیلائو میں ظفر کی پوری شخصیت کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں دیکھنا یہ ہے کہ کیا بیل کی دُم پکڑے ظفر کا ماضی جو گائوں سے نکل کر جب بزنس مین بننے کی تگ ودو میں تھا، اُس زندگی کے مراحل کیا ہیں؟ وقت کے ٹھاٹھیں مارتے اس پانی میں ڈوبتے بیل نے کتنے اور پُلوں کے نیچے سے گزرنے کا تجربہ کیا ہے؟ ناول کسی ایک خاص مرحلے کی نفسی کیفیت کا نہایت خوف ناک اظہار تو کر رہا ہے مگر وہ قاری کو ان تمام ارتقائی تجربات سے محروم رکھتا ہے جس کی وجہ سے نفس کی ذہنی حالتوں کے بیان میں فاصلہ (Gap) قائم ہو جاتا ہے۔یاد رہے کہ کسی خوف ناک واقعہ کے بعداُس کی یادسے گزرنے کا کرب اور کسی مسلسل ٹراما کی فضا میں رہنے کی تکلیف میں بہت فرق ہوتا ہے۔ واقعہ ذہن پر ابتدائی نقش ہے مگر جب واقعہ ٹراما بن جائے تو وہ لاشعوری سطح پر ذات کی کارگزاری کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ واقعہ رفتہ رفتہ مدھم ہوکے ختم ہو جاتا ہے مگر ٹراما ختم نہیں ہوتا بلکہ کینچوے کے جسم کی طرح مسلسل بڑھتا جاتا ہے۔ہم زندگی میں ایسے کئی صدماتی واقعات سے گزرتے ہیں اور انھیں بھلا کے آگے بڑھتے رہتے ہیں مگر ٹراما بھلایا نہیں جا سکتا، وہ ذات کی مٹی میں آہستہ آہستہ بِل بنانے لگتا ہے اور بلاخرشخصیت میں کسی بڑے Disorder کا باعث بنتا ہے۔

ناول کے آخر میں ایک عورت کا نقش ظفر کے ذہن میں شدت اختیار کرتا دکھایا گیا ہے، وہ اس کی ماںکا تصور ہے۔ وہ اس خوف میں ہے کہ کہیں وہ عورت اس کے ہاں نہ چلی آئی جس کے تصور سے نجات پانے کے لیے وہ بھاگ کر ایک نئی دنیا میں پناہ لینے پر مجبور ہوا تھا:

’’ فارغ ہو کر آیا تو دیکھا کہ آپ اسی طرح شیشے پر چہرہ رگڑ رہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی آپ نے پوچھا:’’ وہ عورت میرا پتہ تو نہیں پوچھ رہی تھی؟‘‘ میں نے تسلی دینے کے لیے کہا کہ بازار میں ہر طرف تلاش کر چکا ہوں، اس حلیے کی کوئی عورت نہیں ملی۔ آپ یہ جواب سن کر پھر اسی طرح شیشے سے منہ رگڑنے لگے اور نہایت مایوسی کے عالم میں کہا ’ نہیں وہ عورت یہیں ہے۔ یہیں ہے اور ابھی پہنچ جائے گی۔ میں نے کہا کہ آپ شیشے پر زیادہ نہ رگڑیں، پہلے ہی سرخ ہو رہا ہے۔آپ نے جواب دیا: ’’تم دیکھ نہیں رہے کہ میرے چہرے پر اتنی بہت سی کالک تھپی ہوئی ہے، اسے اتار رہا ہوں۔‘‘ ص ۱۲۱

یہاں بہت واضح ہے کہ ظفر کا سارا ٹراما اپنی ماں کے شخصی کردار کی وجہ سے ہے، وہ اس ضمن میں اپنے سوتیلے بھائی (باپ) کے کردار کو منہا کر رہا ہے۔روایتی تصور میں عورت ہی قصور وار کہلائی جاتی ہے، خواہ اس میں ساری ترغیب اور دبائو مرد کی طرف ہی سے کیوں نہ ہو۔چوں کہ میاں جی (شفیع ؍ ظفرکا والد) بڑی عمر کا ہے، اس لیے دوسری جوان بیوی کا جھکائو سوتیلے بھائیوں کے غیر سماجی جنسی روابط کا نتیجہ بنتا ہے۔ یہ عورت کا وہ بھیانک گنہ ہے جسے ظفر قبول نہیں کر پا رہا۔کیوں کہ اس گنہ کے پاداش خود اس کا وجود ہے۔اگر یہ گنہ وجود سے باہر یا اُس کے عمل کے ساتھ منسلک ہوتاتو شاید وہ بھلا دیتا۔ گنہ کی تخلیق اور کسی گنہ کے عمل میں گہرا فرق ہے۔ ظفر اس فرق کو مٹا نہیں پارہا۔آدمی کا وجود چوں کہ ماں کے وجود ہی کاحصہ ہوتا ہے، اس لیے وہ ماں کو زیادہ موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے، جیسے وہ خود اس گنہ میں سر تا پا لتھڑا ہوا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ گنہ سے زیادہ ’گنہ گاروجود‘ کے کرب کا شکار ہے۔ورنہ وہ اپنے باپ (سوتیلے بھائی) کو بھی گنہ کار سمجھتا یا اُس سے نفرت کا اظہار کرتا دکھایا جاتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply