تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ہمارا پہلا ٹی وی کمرشل، طلعت حسین کی آواز اور پھر۔۔۔۔۔۔ اظہر عزمی

by دانش ڈیسک 01/11/2020
written by دانش ڈیسک 01/11/2020
76

ہمارے ایڈورٹائزنگ کیریئر کا آغاز 1988 میں ہوا۔ پہلی ملازمت سے ایک ہفتہ کے بعد یہ کہہ کر نکال دیئے گئے کہ آپ اس تخلیقی کام کے قابل نہیں۔ میں اس ایجنسی کے مالک کی بالغ نظری کو داد دیتا ہوں کہ جس نے میری ناکارگی کو ایک ہفتہ میں جانچ لیا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ وہ جلد ہی یہ فیلڈ چھوڑ کر مجھے اوپن فیلڈ دے گئے ورنہ میرا کیریئر بلکہ ہم جیسے مڈل کلاسیوں کا تو سیدھا سیدھا ٹفن کیریئر کہہ لیں، زیادہ دن چلنے والا نہیں تھا۔ یہاں سے بے آبرو ہو کر نکلے تو ایک ایسی ایچنسی میں جا پہنچے جہاں ہماری فاروق پراچہ مرحوم کریٹیو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔ یہ فاروق پراچہ صاحب ہی تھے کہ جن کی وجہ سے ہم اخباری آرٹیکلز کی طرف آنکلے۔ خیر اس پر کبھی موقع ملا تو بات ہو گی۔ اس ایجنسی سے جب ان کا سب سے بڑا کلائنٹ فارغ ہوا تو پھر ہمارے نکالنے کے سارے اقدامات ہوچکے تھے۔ خدا نے عزت رکھی، بڑے با آبرو اور آدھے ماہ کی تنخواہ چھوڑ کر ایک اور ایجنسی جاپہنچے۔ یہاں ندیم فاروق پراچہ (فاروق پراچہ کے صاحبزادے) موجود تھے۔ ندیم کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا۔ کام اپنی جگہ لیکن تفریح ہر وقت جاری رہتی۔ ہر وقت کسی نہ کسی کی نقل اتاری جارہی ہوتی۔ کچھ عرصے بعد ندیم فاروق پراچہ وہاں سے چلے گئے۔

صورتحال یہ بنی کہ یم جنگل میں اکیلے شیر رہ گئے۔ پچھلی ایجنسی میں ہماری حیثیت ٹرینی کاپی رائٹر کی تھی۔ یہاں آئے تو اللہ جانے ایم ڈی صاحب نے ہم میں ایسے کیا گن دیکھے کہ ایک دن ہمیں بلایا اور کہا:

آج کلائنٹ سے اس کی ایک پروڈکٹ کی بریف لینی ہے۔

ہم نے جانا کہ ایم ڈی صاحب یا کلائنٹ سروس کا بندہ ساتھ ہوگا۔ اس لئے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔ خیال رہے کہ ہم پہلی مرتبہ کسی کلائنٹ سے ملنے جا رہے تھے۔ ایم ڈی صاحب نے وقت بتا دیا جو کہ لنچ کےبعد کا تھا۔ میٹنگ میں ابھی گھنٹہ باقی تھا کہ پیون نے حکم نامہ سنایا : صاحب بلاتا ہے۔ ہم پہنچے تو گویا ہوئے کہ میں تو ایمرجنسی میں کسی اور کلائنٹ کے پاس جا رہا ہوں۔ آپ اکیلے چلے جائیں۔ انہوں نے تو کہہ دیا مگر یہاں تو مارے گھبراہٹ کے پیٹ میں امتحان والی گڑ گڑ شروع ہو گئی۔ سوال جواب کی اجازت نہ تھی اور اس وقت نہ ہی اوقات اور ہمت تھی۔ خیر ہاتھ میں رائٹنگ پیڈ پکڑ کر وقت مقررہ پر کلائنٹ کے پاس پہنچے۔

یہ ایک بڑی کمپنی تھی۔ ڈائریکٹر مارکیٹنگ سے ملاقات ہوئی۔ بڑے نستعلیق آدمی تھے۔ انہوں نے شیونگ کریم کی ٹی وی کمرشل کی بریف دی اور مارکیٹنگز کی ٹرمز میں ساری گفتگو کرتے رہے۔ ہم صفر بٹہ صفر جو سمجھ میں آیا لکھتے چلے گئے۔ کلائنٹ نے ڈیڈلائن بھی دے دی۔ آفس آئے بریف کا بتایا۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم تو ڈاکیہ تھے۔ بس کام ختم۔ ٹی وی کمرشل کی تو ہمیں الف بے نہ آتی تھی۔ بریف سن کر ایم ڈی صاحب نے کہا:
بریف لے آئے ہو تو اس پر کام شروع کرو۔ ہماری تو آواز حلق میں پھنسی کی پھنسی رہ گئی اور سیٹی کی آواز کے ساتھ صرف جی نکلا جس کا مطلب تھا کہ یہ ہمارے بس کا نہیں لیکن ایم ڈی صاحب نے اس جی کو ہاں سمجھا۔ بولے: میں بہت مصروف ہوں، لکھو اور کلائنٹ کو بیچ کر آو۔

حکم حاکم مرگ مفاجات اپنی اوقات سے بڑا کام۔ ٹی وی سی (ٹی وی کانسپٹ جس پر اشتہار بنایا جاتا ہے) کیا بلا ہے؟ کوئی تجربہ نہیں تھا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے فورا NBT (نوکری بچاو تحریک) کے سرگرم رکن بن گئے اورکام سے لگ گئے اور ایک الٹا سیدھا کانسپٹ لکھ مارا۔ پہلے سوشل میڈیا تو تھا نہیں کہ کہیں سے چھاپ دیتے جو کچھ کرنا تھا عقل سلیم سے کرنا تھا کوئی بتانے والا نہیں تھا۔ اس موقع پر پہلی ایجنسی والے مالک کا خیال سو بلکہ دو سو فیصد صحیح لگا کہ یہ کام تمہارے بس کا نہیں۔ ایم ڈی نے پہلے ہی اپنا پتہ کٹا دیا تھا۔ جائیں تو جائیں کہاں؟ اپنی آڑی ترچھی لکھی بریف پر کام شروع کیا اور وقت مقررہ پر اپنی قربان گاہ یعنی کلائنٹ کے پاس اپنی تیز کی ہوئی چھری (ٹی وی کانسپٹ) کے ساتھ پہنچ گئے۔ ڈاریکٹر مارکیٹنگ نے پہلے ہمارے ایم ڈی صاحب کے نہ آنے پر اعتراض کیا۔ ہم نے بہانہ کردیا۔ بولے: سنایئے! کیا لائے ہیں۔ ہم اتنے کورے تھے کہ ہمیں کانسپٹ سنانا تک نہ آتا تھا۔ یہاں ہماری ڈیڑھ ہوشیاری کام آئی اور ہم محلے میں جس طرح مزے مزے لے کر اپنے اشتہار سنایا کرتے تھے، کانسپٹ سنا دیا۔ سناتے ہوئے محسوس ہوگیا کہ پرفارمنس اتنی بری نہیں۔ کانسپٹ سنکر ڈائریکٹر صاحب کچھ دیر خاموش رہے۔ ہم نے سوچا کہ اب کسی بھی اعلی درجے کی بے عزتی کے ساتھ روانگی کا وقت آگیا ہے لیکن ڈائریکٹر صاحب بولے:
کانسپٹ تو اچھا ہے۔ کچھ اور لائے ہیں تو وہ بھی سنائیں؟
ہمارے پلے کچھ تھا ہی نہیں پھر محلے والی ہوشیاری کام آئی اور کہا کہ ایم ڈی صاحب نے کہا تھا یہ کانسپٹ اتنا Relevant اور To the point ہے کہ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اس کو One go میں Approve کردیں گے۔ ڈائریکٹر مارکیٹنگ کچھ دیر خاموش رہے۔ ہمارا تیر کام کر گیا تھا۔ بولے کہ یہ تو خیر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔

یم تو بھیا ساتویں آسمان پر چڑھ گئے مگر یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ بازی ہمارے ہاتھ رہی۔ بولے : کتنی سیکنڈز کا کمرشل ہے؟ اعتماد تو ہمارا بحال ہوچکا تھا۔ جھٹ بولے:
سر 30 سیکنڈ۔ ڈائریکٹر صاحب نے اپنے ہاتھ کی گھڑی کو دیکھا اور بولے : جیسے ہی چٹکی بجاوں، آڈیو پڑھنا شروع کردیں۔ یہ کیا؟ یہ تو ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔ آڈیو پڑھی تو وہ نکلی پورے ڈیڑھ منٹ کی اور ہمارا اعتماد زمیں بوس ہوگیا۔ اب وہ ڈائریکٹر مارکیٹنگ اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔ بہت لحاظ کے آدمی تھے۔ سمجھ گئے کہ میں نیا ہوں۔ بولے:

آپ ایک کام کریں کل اس آڈیو کو 30 سیکنڈ کا کر کے لے آئیں۔ جاتے جاتے بولے : اطمینان سے لکھ کر لائیں اور سمجھیں ٹائمنگ والی بات ہوئی ہی نہیں۔

ہم نے سکھ کا سانس لیا۔ خوشی ملی بھی تو ادھوری پوری مل جاتی تو آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ ایم ڈی صاحب سے اس روز ملاقات نہ ہوئی۔ گھڑی لے کر آڈیو لکھنے بیٹھ گئے، تب پتہ چلا کہ اگر روانی سے خبروں کی طرح پڑھیں تو ایک سیکنڈ میں اوسطا 2 الفاظ آتے ہیں۔

خیر دوسرے دن پہنچے۔ لیں جناب زندگی کا پہلا کا نسپٹ تن تنہا Approve کرا لائے۔ ایم ڈی صاحب خوش بولے:
تم تو بڑے کام کے آدمی ہو۔ تمہارے خیال میں کس کی وائس اوور (پس پردہ آواز) ہو۔”

ہم کسی وائس اوور آرٹسٹ کو نہیں جانتے تھے۔ اداکار طلعت حسین کی آواز کے ہم شروع سے دیوانے تھے اور ویسے بھی 80 کی دھائی میں وہ شہرت کے نصف النہار تھے۔ ہم نے ان کا نام لے دیا۔ ایم ڈی صاحب نے ہمارا کاندھا تھپتھتاتے ہوئے کہا:
ارے واہ تم نے بالکل صحیح نام لیا۔ طلعت حسین کی آواز بالکل موزوں رہے گی۔ میں ان سے ریکارڈنگ کا وقت لیتا ہوں۔ یہاں میں نے ایم ڈی صاحب سے درخواست کی کہ سر آپ کا ریکارڈنگ پر ہونا بہت ضروری ہے۔ وہ مان گئے۔ ہم جانتے تھے کہ ریکارڈنگ اسٹوڈیو کی ہم نے شکل نہیں دیکھی تھی اور ہماری کیا اوقات کہ ہم وہ بھی ہم طلعت صاحب کو بتائیں کہ کیسے بولنا ہے؟

ایم ڈی صاحب نے طلعت صاحب سے بات کی اور سہراب گوٹھ سے ذرا آگے انٹرنیشنل اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ طے پائی۔ یہ وہی اسٹوڈیو تھا جسے ہم نے صرف باہر سے ہی دیکھا تھا۔ یار دہے کہ یہ 89-1988 کا زمانہ ہے جب کراچی کے حالات خوشگوار نہ تھے۔ طلعت حسین صاحب رات 9 بجے کے آس پاس انٹرنیشنل اسٹوڈیوز پہنچ گئے۔ انہیں کمرشل دکھا کر ٹائمنگ کے لحاظ سے آڈیو کرائی گئی تاکہ با آسانی کمرشل پر بٹھا دیا جائے۔ طلعت حسین صاحب نے دو تین Takes میں کام مکمل کردیا۔ دل چاہ رہا تھا وہ بولتے ہی رہیں۔ زندگی میں پہلی مرتبہ ہمیں اپنے لکھے پر پیار آیا۔ اس میں سارا کمال طلعت حسین صاحب کی آواز کا تھا۔

بولتے رہنا کیونکہ تمہاری باتوں سے
لفظوں کا یہ بہتا دریا اجھا لگتا ہے

ہم خاموشی سے ایک کونے میں دبکے کھڑے رہے۔ ہماری خوشی کے لئے یہی بہت تھا کہ ہمارا لکھا طلعت حسین صاحب اپنی کھنکتی شہرہ آفاق آواز میں ادا کر رہے ہیں۔ ہم تو یہ بھی نہیں چاھتے تھے کہ ایم ڈی صاحب ہمارا تعارف کراتے وقت یہی نہ کہہ دیں کہ یہ آڈیو ہم نے لکھی ہے۔ امکان یہی تھا کہ ہم خوشی کے مارے کہیں رو ہی نہ پڑیں لیکن ابھی ایک رونا آگے کھڑا تھا۔ اتفاق دیکھیں کہ آڈیو ریکارڈسٹ محمد علی ہمارے محلہ کا ہی رہنے والا تھا طلعت حسین صاحب اسے پہلے سے جانتے ہیں۔ طلعت حسین صاحب وہاں ریکارڈنگ کے لئے آتے رہتے ہوں گے۔ اب آتے ہیں رونے کی طرف۔ طلعت حسین صاحب کے جانے کے بعد جب کمرشل پر آڈیو بٹھانے لگے تو پتہ نہیں محمد علی سے کون سا بٹن دب گیا کہ آڈیو ہی غائب ھوگئی۔ بہت ہاتھ پیر مارے محمد علی نے مگر آڈیو ہاتھ نہ آئی۔

دوسرے دن کمرشل کو پی ٹی وی کے سنسر بورڈ سے منظور ہونا تھا۔ پی ٹی وی پر کوئی اشتہار سنسر ہوئے بغیر نہیں چلتا۔ ایم ڈی صاحب کا پارہ چڑ چکا تھا۔ کوتاہی، غلطی کچھ بھی کہہ لیں محمد علی کی تھی۔ طلعت حسین صاحب کی رہائش شارع فیصل پر عائشہ باوانی کالج کے آس پاس تھی۔ اب مسئلہ یہ کہ رات گئے انہیں دوبارہ بلائے کون؟ یہ فریضہ محمد علی کے ذمہ آیا۔ موبائل فون تو تھے نہیں۔ گھر فون کیا، معذرت کی اور دوبارہ آنے کا کہا۔ طلعت حسین صاحب نے پروفیشنل ازم کہہ لیں یا لحاظ کسی پس و پیش سے کام نہ لیا اور آدھے گھنٹے میں دوبارہ اسٹوڈیو آگئے۔ بس آتے ہی پیار سے محمد علی کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی اور کہا: شریر۔ میرے دل میں ان کی عزت اب ایک اداکار سے زیادہ شریف النفس اور خوش دلی سے غلطی معاف کر دینے والے انسان کی ہو گئی۔ دوبارہ ریکارڈنگ اسی انہماک اور پروفیشنل ازم کے ساتھ کرائئ اور اپنی مخصوص دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ملا کر چلے گئے۔ اسٹوڈیو سے تو وہ چلے گئے مگر میرے دل میں ایک اچھے انسان کے طور پر ہمیشہ کے لئے بس گئے۔

ممکن ہے طلعت حسین صاحب کو یہ چھوٹا سا واقعہ یاد نہ ہو لیکن میرے لئے تو یہ بڑے قصوں میں آتا ہے۔ دو تین سال پہلے ایکٹرز اسٹوڈیوز کراچی کی جانب سے "سنو کہانی” کے عنوان سے اردو کلاسک ادب پڑھا گیا۔ اس پروگرام کی ریہرسل اور پروگرام کے دن کافی دیر ان کی گفتگو میں دیگر افراد کی طرح میں بھی شریک سماعت رہا (بولنے کا یارا کس کو ہے)۔ اس پروگرام کی ہوسٹنگ اور کمپیرنگ میرے ذمہ تھی۔ میرے ساتھ کو۔ہوسٹ منزہ موتی والا تھیں۔ میں نے اس تمام عرصہ میں طلعت حسین صاحب سے اپنے پہلے ٹی وی کمرشل کی کوئی بات نہیں کی۔ غالب امکان ہے کہ وہ بھول چکے ہوں گے لیکن میں بھلا کیسے بھول سکتا ہوں طلعت حسین صاحب کو۔ ویسے بھی آپ ان سے ملیں تو سمچھ لیں آپ ایک بڑے اداکار کے ساتھ ایک وسیع المطالعہ دانشور سے ملنے جا رہے ہیں۔

آدمی آدمی سے ملتا ہے ۔۔۔ دل مگر کم کسی سے ملتا ہے

Facebook Comments Box
Actor Talat Hussainfeaturedطلعت حسین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
حقیقی بحران فرانسیسی اقدار ہیں نہ کہ اسلام — أمیرہ عبدالفتاح
next post
جموں و کشمیر میں نیا سیاسی محاذ, پیپلز الائنس: درد کا درماں یا فریب کا ساماں؟ — غازی سہیل خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.