تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

یک نامہِ الفت اور جواب — دعا عظیمی اور مدیحۃ الرحمن

by دانش ڈیسک 23/09/2020
written by دانش ڈیسک 23/09/2020
108

میری ہم ذوق سہیلی پیاری مدیحہ

بہت سا دعا اور پیار
گلوں کی طرح مسکراؤ، کھلکھلاؤ، گنگناؤ

کیسی ہو؟
مجھے یہ جان کے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کے اور میرے سوچنے کا محسوس کرنے کا انداز ایک سا ہے۔۔۔
ہمارے تصورات اور جذبات میں ہم آہنگی نے مجھے یہ یقین دلایا ہے کہ خطوط نویسی کا یہ سلسلہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائے گا۔۔
ہم دل کی وہ باتیں جوکسی اور سےاب تک نہ کہہ سکیں ہوں امید ہے آپس میں ایک دوسرے سے کر پائیں گے۔

ہماری یہ محبت نہ صرف آپس میں ہے بلکہ مزے کی بات ہے ہم دونوں کا "محبوب” ایک ہے۔یعنی اردو ادب , گویا یہ ایک تکون ہے۔ اگر محبوب ایک ہو تو رقابت کا احساس تو نہ پیدا ہو جائے گا۔ (مسکراہٹ)

اردو ادب اور لفظوں سے خوشیوں بھری تصاویر کھینچنا، فطرت کی مدح سرائی اور باتوں باتوں میں اپنی روح پہ لکھے عکس کو قلمبند کرنا میرے شوق ہیں۔

آج میں سوچ رہی تھی کہ کیا وجہ ہے کہ عہد حاضر کے شاعروں نثر نگاروں کی شاعری اور نثر اس طرح دلوں میں نہیں گونجتی جیسے کہ پرانی شاعری۔

امجد اسلام امجد کا یہ شعر پت جھڑ کے موسم میں ہمیشہ مجھے یاد آتا ہے۔

پت جھڑ کی دہلیز پہ بکھرے بے چہرہ پتوں کی صورت
ہم کو ساتھ لئے پھرتی ہے تیرے دھیان کی تیز ہوا

دیکھیے نا
کیسی کلاء ہے اس میں
جب پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے
مطلب روح میں رقص کرتے ہیں مناظر
ہو بھی سکتا ہے
کہنے والوں کے شعر کی طاقت بدل گئ ہو یا سننے والوں کا مزاج۔ کیا وجہ ہے کہ آج کے شاعر کے کہے مصرعے اس طرح زبان ذد عام نہیں ہو پاتے۔

صدیوں سے شعر کیونکر روایت بن کر ہونٹوں پہ اترا رہا۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

یا دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

یا یہ کہ

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

کیا پھول کی پتی نہیں رہی یا مرد ناداں ہوشیار ہو گئے کیون کر ہیرے کا جگر پاش پاش ہونے کو تیار نہیں!

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

مجھے یقین ہے کہ خطوط نویسی کا یہ سلسلہ ہماری آزاد روحوں میں محبت کا ساز چھیڑے گا۔۔ ہماری منڈیر پر لفظوں کے پنچھی نئے انداز سے سر بکھیریں گے۔ اور ہمارے نغموں کی لے سے ہماری ادیب سہیلیاں اور احباب بھی محظوظ ہوں گے۔

کیاآپ بھی میری طرح محسوس کرتی ہیں۔

کیا آپ بھی مانتی ہیں کہ ہم خیال لوگوں کی قربت انسان کو سکھ کی گھنیری چھاؤں کا لطف عطا کرتی ہے۔

آپ کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں۔ تفصیل سے بتائیے گا۔ موسموں کی تبدیلی آپ کے مزاج پہ بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

آپ کی سہیلی

دعا عظیمی

21ستمبر 2020
از لاہور


جوابی خط

پیاری دعا

آپ کا خوبصورت لفظوں کی خوشبو سے مہکتا نامہ ملا۔۔۔۔ جی چاہا نامہ بر کے ہاتھ چوم لوں کہ انتظار کی کسوٹی پہ پوری اترتی آنکھوں کی شنوائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

آپکی خیریت کی اطلاع نے دل کو یک گونہ سکون دیا، اور میں جو بدلتے موسم کے زیرِ اثر کسی مرجھائی ہوئی بیل کا حصہ لگنے لگی تھی، یکدم کھِل اُٹھی۔۔۔۔۔

آپ نے لکھا کہ ہمارے تصورات میں ہم آہنگی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائے گی تو مجھے لگا ہماری روح جس کا ساتھ چاہتی ہے، قرب چاہتی ہے، تو کوئی نہ کوئی بہانہ بن جاتا ہے اور فاصلے سمٹنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔

مجھے خوشی ہے کہ ہماری دوستی اور محبت کی اولیں وجہ اردو ادب بنا، اور کیا ہی خوب کہا آپ نے کہ محبوب ایک ہو تو رقابت کا احساس پیدا نہ ہو گا۔۔۔۔ تو سنیے میرا تو یہ حال ہے کہ اردو کی محبت دن بہ دن جڑ پکڑتی جا رہی ہے سو رقابت کا سوال پیدا نہیں ہوتا کہ یہ تکون اب ایسی ہیت اختیار کر چکی ہے کہ آپ روٹھے ہم سے تو آپ کی چاہ میں ہم اردو سے مزید جڑتے جائیں گے، لکھیں گے، پڑھیں گے، مانو یہ تو اب سہارا لگتی ہے کہ ہمیں آپ کی دوری اور خفگی میں تھامے رکھے گی۔۔۔۔۔

آپ کے شوق کی بابت جان کر بے پایاں مسرت ہوئی، آپ نے ٹھیک ہی تو کہا تھا ہم ذوق سہیلی (مسکراہٹ)۔۔۔۔۔

میں چاہتی ہوں میری روح پہ اترا ہر رنگ ایسے الفاظ کا پیراہن پہن لے جو پڑھیں تو سب لیکن سمجھے صرف۔۔۔۔۔۔۔ اجی چھوڑئیے۔۔۔۔ (مسکراہٹ)

عہدِ حاضر کے نثر نگار ہوں یا شاعر خود رو پودوں کی طرح اُگ رہے ہیں، ایسے میں معیاری شاعری اور نثر نگاری وہ رنگ نہیں چھوڑ پا رہی جسے مٹایا نہ جا سکے۔۔۔۔

آج کوئی مولانا ابوالکلام آزاد کے پائے کا متنوع موضوعات و خصوصیات پہ مشتمل بہترین نثر پارہ اگر نظر سے نہیں گزرتا تو غالب اور میر سی شعری بے ساختگی اور اشعار میں برجستگی بھی ناپید ہے۔۔۔۔۔

اب تو یہ حال ہے کہ آج کل کی شاعری پڑھ کر شرارتاً یہ کہنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔

دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالب۔۔۔۔

ارے ہاں بھئی شاعری کا حال دیکھ کر یہی ذہن میں آتا ہے کہ غالب کی روح تو کلپتی ہو گی (مسکراہٹ)

آپ نے خوب یاد دہانی کروائی زبانِ زد عام فقروں کی بابت۔۔۔۔

پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر کٹے نہ کٹے میرا جگر کٹنے لگتا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سکھ کی میٹھی پُروا سے آشنائی اجنبی ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ اپنی ذات کی گھمن گھیریاں یوں لپیٹ میں لئے رکھتی ہیں کہ میر تقی میر کی شاعری دل پہ اترنے لگتی ہے۔۔۔

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا

یا پھر۔۔۔۔۔

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انساں نکلتے ہیں

سخن کے بادشاہ غالب بھی کچھ اس طرح اپنے اشعار کی صورت یاد رہتے ہیں کہ آج کل کے شعراء کا کلام کبھی زیر مطالعہ رہا ہی نہیں۔۔۔۔

دل کی ان کہی باتیں جو ہم سامنے کرنے سے شرما جاتے ہیں ان کے لیے خطوط کسی ایسی سہیلی کا کام دیتے ہیں جو چپکے سے سب راز جان کر مقابل کے سامنے یوں خوبصورتی سے بکھیر دے کہ سُچے موتیوں سی چمک اور گلاب سی مہک لیے الفاظ ذہن کے کسی گوشے میں نرماہٹ سے بھرپور یاد بن کر محفوظ ہو جائیں۔۔۔۔

ایسے میں دل مزید قریب کیسے نہ ہوں؟

ہم خیال لوگوں کی قربت، من چاہے لوگوں کی قربت، وہ جن سے دل کے تار جڑ جائیں یوں جیسے جنم جنم کا ساتھ ہو ان کی قربت کے سامنے سب نعمتیں ہیچ لگتی ہیں۔۔۔۔۔ لیکن میں ڈر جاتی ہوں کہ اس قربت سے حاصل ہونے والے ابدی سکون کے سامنے جب دیگر انعام محسوس نہ ہوں تو کہیں رب العالمین ناراض نہ ہو جائے؟ کہ یہ کفرانِ نعمت نہ کہلائے؟

شب و روز پہ موسموں کی تبدیلی اثر انداز ہوتی ہے لیکن میرا عجب معاملہ ہے میرے شب و روز میرے دل کے تاروں سے جڑے رہتے ہیں۔۔۔۔ دل کا موسم اچھا ہو تو سب طرف بہار معلوم ہوتی موسم چاہے کوئی سا بھی ہو۔۔۔ اور اندر پت جھڑ نے ڈیرے جمائے ہوں تو باہر کھلے پھول بھی مجھے اداس رکھتے ہیں۔۔۔۔۔

جی بس ایسی ہی ہوں میں۔۔۔۔

ناسازیِ طبع کے باعث جواب تاخیر کا شکار ہوا۔۔۔۔ اس کے لیے معذرت قبول کیجیے۔۔۔۔

اور سلیم ناز بریلوی کے اس شعر کے ساتھ اجازت دیجیے کہ

نامہ بر مہکے ہوئے خط کا روز لفافہ جب لاتا ہے
کسے خبر ہے، کون اور کس کو کب اور کتنا یاد آتا ہے

آپکی اپنی

مدیحۃ الرحمن

22 ستمبر 2020
از راولپنڈی

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی یاد میں —- عطا محمد تبسم
next post
ماسک کی اجازت ہے، حجاب کی نہیں — وحید مراد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.