تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

اور یوں تعلیمی ادارے کھل گئے — اے وسیم خٹک

by دانش ڈیسک 18/09/2020
written by دانش ڈیسک 18/09/2020
136

کورونا لاک ڈاؤن میں اساتذہ کے حوالے سے ایک ٹک ٹاک ویڈیو بہت زیادہ مشہور ہوگئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ وہ واحد ادارہ ہے جس میں اساتذہ نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ ہمارے سکول کب کھل رہے ہیں۔ اسی طرح ایک بچے کی ویڈیو ہر کسی کے وٹس اپ سٹیٹس کی زینت بنی تھی جس میں دعا مانگی جارہی ہے اور آخر میں سکول کھولنے کی بات کی جاتی ہے تو بچہ رونے لگتا ہے۔ خیر جو بھی ہوا۔ حکومت نے آخر کار تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔ اور یوں آج سے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوگئیں ہیں۔ اساتذہ اور بچے سکول پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہ واحد خبر ہوا کرتی تھی کہ عوام اس کے لئے انتظار میں ہوتے تھے کہ کب سکول، کالجز، یونیورسٹیاں کھلیں گی۔ اس میں کچھ لوگوں کا موقف تھا کہ جب تک کورونا کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوجاتا وہ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے جبکہ کچھ والدین کہہ رہے تھے کہ بچوں نے گھر میں اُن کا جینا حرام کردیا ہے اور جو انہوں نے پڑھا تھا وہ بھی بھول گئے ہیں، کیوں کہ گھر میں شرارتوں، ویڈیو گیمز، ٹی وی اور ان ڈور گیمز کے علاوہ وہ کچھ بھی نہیں کررہے تھے۔ ٹیوشن پڑھنے جانا، دینی سبق جانا بھی موقوف ہوگیا تھا۔ اور خود جب پڑھانے بیٹھتے تو کہتے کہ آپ صحیح نہیں پڑھاتے مس ہمیں ٹھیک پڑھاتی، میرے ساتھ خود یہ ہوا ہے، بچوں کو پڑھانا شروع کیا تو ایک دن بیٹے ضیاف نے کہا کہ میں آپ کی بات بالکل بھی نہیں پک کر رہا، اور ضوباش نے بھی ہاں میں ہاں ملائی کہ آپ یونیورسٹی والوں کو پڑھا سکتے ہو۔ ہمیں نہیں پڑھاسکتے ہمیں مس بہت اچھا پڑھاتی ہے۔ سو پھر چارونا چار ہم نے انہیں پڑھانا بند کردیا اور انہیں انکی مس کی منت سماجت کرتے ہوئے راضی کیا کہ بچے ہیں سب بھول چکے ہیں اس لئے آپ ہی آخری امید ہو۔ یہ سب صرف میرے ساتھ نہیں ہوا بلکہ سب کے ساتھ یہی مسئلہ تھا۔ اب جوں توں کرکے یونیورسٹیاں، تعلیمی ادارے کھل گئے۔ اب یہ بعد کی باتیں ہیں کہ بچوں کا یہ دن کیسا رہا کیونکہ وہ چھ مہینوں سے گھر میں تھے۔ میں نے سویرے گھر کال کی تو چھ مہینے پہلے کی صورت حال تھی۔ یعنی حالات پہلے کی جانب رواں دواں ہوگئے ہیں۔

تعلیمی ادارے کے کھلنے کے لئے کل پورا دن ساری تعلیمی اداروں کے نوٹیفیکیشن سوشل میڈیا کی زینت بنے جس میں ہر تعلیمی ادارے کے انتظامیہ نے گلکاریاں کی تھیں شاید تعلیمی اداروں کے انتظامی امور والے اس نوٹیفیکشن کے لئے مہینوں انتظار میں تھے کہ ہم کس قسم کا نوٹیفیکشن میدان میں لائیں گے جو کہ دیگر اداروں سے انہیں ممتاز حیثیت دے۔ میرے پاس قریبا پندرہ بیس تعلیمی ادارواں کے نوٹیفیکیشن سامنے آئے جس میں خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک کا ایک کمپری ہینسو دو صفحات پر مشتمل نوٹیفیکیشن تھا جس میں ہر چیز کے بارے میں تفصیل لکھی گئی تھی۔ ان سب نوٹیفیکیشن کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہائیر ایجوکیشن کے جانب سے دیئے گئے ایس اوپیز کو فالو کیا گیا تھا۔ اور ہر شق میں ماسک، سینیٹائزر، سوشل ڈسٹنس کی بات کی گئی تھی۔ اب ان سب پر عمل کیا جائے گا کہ نہیں یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ اور اس پر کافی ڈی بیٹ ہوسکتی ہے۔ کچھ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو کووڈ 19کے ٹیسٹ کرائے گئے۔ خوش قسمتی سے سب ابھی تک کوئی بھی مثبت کیس سامنے نہیں آیا۔ ہمیں بھی اس ٹیسٹ سے کچھ دن پہلے گزارا گیا۔ حالانکہ ہم اس ٹیسٹ سے بہت ڈر رہے تھے۔ مگر ضروری تھا اس لئےمشکل مرحلے سے گزرنا پڑا۔

اب تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں تو کیا وہ سارے انتظامات جو حکومت کہہ رہی ہے وہ تعلیمی اداروں میں پورے کرددیئے گئے ہیں۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ کچھ دن پہلے سکولوں کے حوالے سے تمام سربراہاں کو کہا گیا کہ وہ حکومتی احکامات کو پورا کرنے کے لئے سکول کا فنڈ استعمال کریں، اور جن سکولوں میں فنڈ نہیں ہیں وہ اساتذہ اپنے جیبوں سے وہ انتظامات کرلیں۔ بچوں کو روزانہ ایک گھنٹہ کووڈ پر لیکچر دیں، انہیں پانی کی سہولت دیں۔ صابن رکھیں، ماسک رکھیں، جو کہ میرے خیال کے مطابق ایک ناممکن عمل ہے کیونکہ تمام سرکاری سکولوں میں یہ انتظامات نہیں ہوسکتے۔ بند ائیر کنڈیشن کمروں میں پالیسیاں بنتی ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی میل نہیں ہوتا۔ سرکاری سکولوں میں انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ یونیورسٹیوں کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ایک کروڑ روپے اس بابت دیئے ہیں کہ وہ کووڈ19 کے حوالے سے انتظامات کریں۔ جس میں آن لائن کلاسز، سینٹیائزر، ہاتھ دھونے کے پوائنٹس، ہر کلاس روم کے سامنے ماسک رکھنے سمیت سب کو انٹرنیٹ کی فراہمی جس میں اساتذہ اور طلباءبھی شامل ہیں۔ یہ سب لازم قرار دیا گیا ہے۔ اب یونیورسٹی انتطامیہ نے ان پیسوں کو کس طرح یوٹیلائز کرنا ہے اس کے لئے کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں جو ان سارے عوامل کو دیکھے گی اور تب یونیورسٹیاں کھلیں گی۔ جب تک یہ سارے عوامل پورے نہیں ہوتے یونیورسٹی ایجوکیشن کے لئے نہیں کھولی جائے گی۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ ہر یونیورسٹی انتظامیہ نے ان پیسوں کو اس مقصد کے لئے ابھی تک استعمال کیا ہے۔

کورونا ٹیسٹ تو یونیورسٹیوں میں ہوگئے ہیں۔ فیکلٹی کے لئے یونیورسٹیاں کھل بھی گئی ہیں، مگر ملک بھر کی تعلیمی اداروں میں وہ capacity نہیں کہ تمام حکومتی ایس او پیز کو فالو کیا جاسکے، یونیورسٹیوں کی اگر بات کریں تو طلبہ یونیورسٹی میں تو تمام ایس او پیز فالو کرلیں گے مگر یونیورسٹی کے باہر وہ کوئی بھی ایس او پیز فالو نہیں کرتے، نہ ہی اساتذہ ایس اور پیز کو باہر فالو کریں گے کیونکہ انہیں وہ ماحول باہر نہیں ملتا۔ تو اس سے میرے خیال میں کوئی فائدہ سامنے نہیں آنے والا۔ دوسری جانب دو سمسٹروں والے طلبہ کو یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت ہوگی باقی آن لائن کلاسز لیں گے۔ جس کے لئے بھی میکنزم بن رہا ہے۔ کہ کس طرح اس کو آگے لے کر جاناہے۔ فرسٹ سمسٹر اور آخری سمسٹر، ایم فل، پی ایچ ڈی والوں سے بیان حلفی لی جارہی ہے کہ وہ مکمل طور پر ٹھیک ہیں۔ مگر اس کے برعکس باقی سمسٹر کے طالب علم پریشانی کا شکار ہیں وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی یونیورسٹی بلایا جائے وہ گھر میں بور ہوگئے ہیں اور انہیں آن لائن کلاسز کی سمجھ نہیں آتی ایک سمسٹر تو جوں توں کرکے گزر گیا مگر اب مزید وہ آن لائن نہیں پڑھنا چاہتے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جدید عورت کے نقسیاتی مسائل — لالہ صحرائی
next post
راکا پوشی زندہ ہے: ایک سفرنامہ (قسط 1) —- یاسر رضا آصف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.