تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلمیکالم

مسعود مفتی کا قومی طرزِ احساس — فتح محمد ملک 

by دانش ڈیسک 12/08/2020
written by دانش ڈیسک 12/08/2020
265

مسعود مفتی ایک منفرد و ممتاز پاکستانی دانشور ہیں۔ اُن کی پاکستانیت کا جلی عنوان جغرافیائی سے کہیں آگے بڑھ کر نظریاتی ہے۔ اُن کی پاکستانیت بانیانِ پاکستان اقبال اور قائداعظم کے فکر و عمل سے پھوٹی اور پروان چڑھی۔ اُن کی تخلیقی شخصیت کی تعمیر اور ارتقاء تصورِ پاکستان، تحریکِ پاکستان اور آج کے پاکستان سے اٹوٹ نظریاتی وابستگی کا کرشمہ ہے۔ وہ گزشتہ چھیاسٹھ برس سے اردو کے نثری ادب کی ناول، افسانہ اور رپورتاژ کی سی مختلف اور متنوع اصناف کو ثروتمند بنانے میں منہمک ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے گہری علمی بصیرت اور منفرد تخلیقی اندازِ نظرسے اپنی چشم دید رواں پاکستانی تاریخ کی تفہیم و تعبیر کا کارنامہ بھی سرانجام دیا ہے۔ زیرِ نظر رپورتاژ بعنوان ’’دو مینار‘‘ میں انھوں نے پاکستان کی عوامی جمہوری تحریک، پاکستان کے ’’قیام‘‘ اور پاکستان کے ’’انہدام‘‘ سے متعلق اپنے تجربات و مشاہدات کو تجزیہ و تنقید کا موضوع بنایا۔ اس کتاب میں اُنھوں نے اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات پر آفاقی انسانی اندازِ نظر سے پھوٹنے والے اپنے قومی طرزِ احساس سے نتائج اخذ اور پیش کیے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو یہ کتاب بیک وقت اُن کی ذاتی سرگزشت بھی ہے اور ہماری قومی تاریخ بھی۔ چنانچہ انھوں نے کتاب کے ’’ابتدائیہ‘‘ میں یہ بتانا ضروری سمجھا ہے: ’’یہ میری آپ بیتی نہیں ہے یہ تو صرف میرے وطن کی بیتی کا تھوڑا سا حصہ ہے۔‘‘

مسعود مفتی نے اپنے دردمند دل اور بیدار دماغ کے ساتھ ہماری قومی تاریخ کے تین وقفہ ہائے زماں کے مشاہدات پر ازسرِنو دادِ تحقیق دی ہے۔ پہلا وقفۂ زماں وہ ہے جب قائداعظم کی بے لوث اور ولولہ انگیز قیادت میں اقبال کا تصورِ پاکستان تحریکِ پاکستان بن کر پھلنے پھولنے لگا تھا۔جب قائداعظم نے علامہ اقبال کے فکر و عمل اور علامہ مشرقی کے فیضِ تربیت میں یونینسٹ پنجاب کی سامراج پرستی کے زہر کو امرت بنا دیا تھا۔ اس جہادِ حریت میں مسلمان نوجوان قائداعظم کے دست و بازو تھے۔ چنانچہ:

’’قرارداد کے ایک برس بعد لاہور میں پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے قائداعظم کی زیرِ صدارت پاکستان کانفرنس منعقد کی۔ یہاں طلبا کی صفوں میں مستقل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور دیہاتوں میں پاکستان ریزولیوشن کا مطالبہ پھیلانے والی کمیٹی کے صدر حمید نظامی تھے۔ اس کمیٹی نے ایک ہی سال میں پنجاب میں ایک سو اڑتیس شاخیں قائم کیں اور ۱۴۸۲۳ممبران بنا دیے۔ پھر بھی مسلم لیگ کے مارچ میں خاصی آہستہ روی تھی۔ مگر قرارداد کی مخالفت تیز رو بھی تھی اور پُرشور بھی جس میں مولویوں کے فتوے بھی شامل ہونے لگے جو ماضی میں علامہ مشرقی کی طرح اب قائداعظم کو کافر کہتے تھے۔ حتیٰ کہ دیوبند کے مولانا حسین احمد مدنی نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ مسلم لیگ میں مسلمانوں کی شرکت حرام ہے اور قائداعظم دراصل کافرِ اعظم ہے۔‘‘۱

اسلام کے مقدس نام پرقیامِ پاکستان کی مخالفت کی یہ کانگریسی مہم مسلمان عوام نے ناکام بنا کر رکھ دی تھی اور یوں ’’حصولِ منزل نے ایک ایسے سماوی احساسِ تحفظ کو جنم دے دیا تھا کہ ناقابلِ برداشت مجبوریوں سے کامیاب پنجہ آزمائی شروع ہو گئی۔ پہاڑوں جیسے ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی بوجھ جلد ہی ہلکے ہونے لگے۔ لطف و انبساط کی لہریں نہ سہی مگر کہیں نہ کہیں سے امیدوں کی کرنیں پھوـٹنے لگیں اور زندگی کے روندے ہوئے لوگ جلد ہی زندگی کے ہم قدم ہونے لگے۔……۱۹۴۷ء میں قائداعظم نے اس علاقے میں ہاری مزارعوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی مقرر کی، تو آخری رپورٹ میں محمد مسعود خان نے ہاریوں کی حمایت میں ایسا تاریخی اختلافی نوٹ لکھا کہ یہ ـ’’مسعود ہاری‘‘ کہلانے لگے۔ یہ رپورٹ ۱۹۴۹ء میں حکومت کو پیش کی گئی، تو قائداعظم فوت ہو چکے تھے۲۔‘‘ طلوعِ پاکستان کے ساتھ ہی قائداعظم نے مسلم لیگ کے پہلے کونسل اجلاس میں زرعی اصلاحات کی دولتانہ کمیٹی قائم کی تھی جس کی سفارشات پر صرف صوبہ مشرقی پاکستان نے عمل کیا تھا۔ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں نے وزیراعظم لیاقت علی خان کی بار بار کی یاددہانی کے باوجود عمل کرنے سے گریز کا رویہ اپنایا تھا۔ نتیجہ یہ کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی:

’’یہ وڈیرے وہی رہے، جو گزشتہ ایک صدی میں ان کی تین چار پشتیں رہی تھیں کہ غیروں کے مفاد میں اپنوں کا خون چوس چوس کر مچھروں کی طرح موٹے بھی ہوتے رہیں اور اپنی توصیف میں ہر وقت بھن بھن بھی کرتے رہیں۔ چنانچہ پاکستان کے روزِ اوّل سے ہی جب مغربی پاکستان کی تمام صوبائی اسمبلیوں میں ان جاگیرداروں کا غلبہ تھا اور قومی اسمبلی میں مغربی پاکستان کی نشستوں پر بھی ان کا مضبوط گروپ قابض تھا تو وطن کی تعمیر میں خرابی کی ایک یقینی صورت اپنا اصل روپ… یعنی عوام دشمن سرشت…چھپائے مضمر ہو گئی۔‘‘ ۳

مسعود مفتی کو ان عوام دشمن وڈیروں کی اس سرشت کا فقط نظریاتی ہی نہیں عملی تجربہ اور مشاہدہ کرنے کے متعدد مواقع نصیب ہوئے۔ لکھتے ہیں کہ:

’’ملکی تاریخ کے اس روشن مرحلے پر پنڈی گھیب سب ڈویژن میں تعیناتی میرے جواں سال آئیڈیلزم کے لیے ایک مہمیز بن گئی۔ کیونکہ میری ناتجربہ کاری کو اس باہمی تبادلے کے منفی پہلوؤں کا پورا ادراک نہ تھا کہ سیاسی مداخلت کے ان اوّلین جھونکوں کے پیچھے کتنی آندھی آ رہی ہے…… اُس دن سے ایک گھبرایا اور سہما ہوا فرد اتنی عجلت سے میری عدالت میں داخل ہو کر فریاد کرنے لگا کہ کمرے میں سب لوگ اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ پہلے پولیس اسٹیشن پر گیا تھا، مگر وہاں کوئی شنوائی نہ ہوئی تو کسی خیر خواہ نے اسے عدالت میں بھیج دیا۔ وہ جو کچھ بتانے لگا وہ ہم سب کے لیے نیا تھا۔ میرے لیے بھی اور کمری میں موجود وکلاء اور دیگر لوگوں کے لیے بھی۔ اس نے بتایا کہ صدر ایوب کی نئی زرعی اصلاحات پر عمل ہوا تو اس کے چھوٹے سے گاؤں میں چند مزارعوں کی قسمت جاگ گئی، کیونکہ اس علاقے کے بڑے زمیندار کی جاگیر کا جو تھوڑا سا حصہ حکومت نے ضبط کیا تھا اس کا گاؤں اس حصے میں تھا۔ اس لیے وہاں کے سابق مزارعوں کو تھوڑا ہی عرصہ پہلے حقوقِ ملکیت مل گئے تھے۔ مگر چند روز پہلے جاگیردار نے بیس پچیس نئے مالکان کو اغوا کر کے اپنی نجی جیل میں ڈال دیا تھا اور اب مجبور کر رہا تھا کہ وہ کئی کاغذوں پر انگوٹھے لگائیں جن سے ثابت ہو سکے کہ انھوں نے بہ رضا و رغبت اپنی اپنی زمین زمیندار کو بیچ دی ہے۔ وہ بڑی مشکل سے اس جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ مگر باقی لوگ ابھی تک اس ناجائز قید میں بند ہیں۔ اس لیے وہ ان کی رہائی اور داد رسی کے لیے سرکاری مدد مانگنے آیا تھا۔‘‘۴

اسی زمانے میں جب مسعود مفتی نے راجہ غضنفر علی خان سے ’’ انصاف کے تقاضوں اوردیگر شہریوں کی توقعات کا ذکر کیا تو ان کی پگڑی کا بلند اور کھڑا کھڑا شملہ، خوش باش لہجہ اور اونچا قہقہہ صرف یہی کہہ پایا: ’’توقعات کی بجائے ان لوگوں کو اپنی حیثیت کا بھی احساس ہونا چاہیے۔‘‘ میں خاموش تو ہو گیا مگر قائل نہ ہوا۔۵‘‘ یہ اُن برائے نام سی زرعی اصلاحات کا تذکرہ ہے جن کا اعلان جنرل محمد ایوب خاں نے اقتدار سنبھالتے ہی کیا تھا لیکن

’’پھر خود ہی انھی جاگیرداروں کی سرپرستی کرنے لگے تاکہ ان کی مدد سے وہ اپنے اقتدار کو دوام دے سکیں۔ چنانچہ انھوں نے خود تو ساڑھے دس برس حکومت کر لی، مگر اس دوران ان جاگیرداروں کے نہ صرف پرانے پنجے تیز کر دیے بلکہ صنعت و تجارت کے کئی نئے پنجے مہیا کر دیئے اور وہ عوام پر اس طرح مسلط ہو گئے جس طرح چیتا اپنے شکار کو دبوچ لیتا ہے۔ مگر مستقبل کا یہ منظرنامہ ابھی میرے عینی اور ذہنی افق کے پار تھا اور میرے احساس و شعور سے بالکل اوجھل تھا۔۶ ‘‘

مسعود مفتی نے اپنی اس کتاب میں اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ صدر ایوب کے برسرِ اقتدار آتے ہی قائداعظم کا تصورِ پاکستان فراموش ہو کر رہ گیا تھا اور اُس کی جگہ ’’صدر ایوب کا تصورِ پاکستان‘‘ روبعمل آنے لگا تھا۔ مفتی صاحب نے بہ اعادہ و تکرار اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ ایوب خان کے تصورِ پاکستان میں سے مشرقی پاکستان غائب کر دیا گیا تھا مزید برآں:

’’۱۹۵۸ء کے بعد دوسری منزل کی تعمیر جنرل محمد ایوب خان کے تصورِ پاکستان کے متعلق بدلنے لگی، جو فوجی چھاؤنی کی فضا کی کشید تھا اور عسکریت کی بالادستی اور باقی سب کی زیردستی پر مبنی تھا۔….. اس دور کی تینوں حکومتوں کی خود غرضانہ حکمت عملی ان کے اپنے حق میں اتنی فائدہ مند رہی کہ ان کے ذاتی اور گروہی مفادات کو ریاستی اور قومی مفادات پر ہر دم ترجیح ملنے لگی۔ اس لیے ان کے بعد آنے والی تمام حکومتیں بھی انھی پالیسیوں کی نقالی بڑی شد و مد سے کرنے لگیں جن کے تسلسل نے غیروں کی غلامی سے بصد مشکل آزاد ہونے والے عوام کو ایک دفعہ پھر اپنے ہی خواص کا غلام بنا دیا۔‘‘۷۔۸

مسعود مفتی ہماری اس نظریاتی ترمیم پسندی کو ’’مینار پاکستان کے ارد گرد چھائی ہوئی اینگلو امریکن دھند‘‘ قرار دیتے ہیں اور صدقِ دل کے ساتھ اس سامراجی دھند کو صاف کر کے اسلام کی اُس انقلابی روح کو پاکستانی زندگی میں کارفرما دیکھنے کے تمنائی ہیں جو بانیانِ پاکستان کے فکر و عمل میں کارفرما تھی۔ اُن کی اوّلیں مخاطب ہماری نوجوان نسل ہے جس کو ہمارے درس و تدریس کے اداروں نے امریکہ کی غلامی پر گامزن رکھنے کی خاطر گمراہ کر رکھا ہے۔ اُنھوں نے کیا خوب تجزیہ کیا ہے کہ:

’’ہماری آج کی نسل کا المیہ یہ ہے کہ وہ دائیں بائیں مشرق و مغرب کی طرف تو دلچسپی اور ذہانت سے دیکھتے رہتے ہیں مگر پیچھے مڑ کر اپنے قومی سفر کے نقوشِ پاک کو نہیں دیکھ سکتے۔ کیونکہ مفاد پرست عناصر شرم و غیرت سے منھ موڑ کر انھیں دانستہ مناتے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہماری نئی نسل کو ان مشکلات کا ذرّہ بھر بھی اندازہ نہیں جن سے نحیف و نزار قائد اعظم اُس وقت دو چار تھے….. ہمارے تعلیمی اداروں کے نصاب کی دانستہ بیخ کنی، بگاڑ اور کجی کی وجہ سے ہماری نئی نسل ان حقائق سے بے بہرہ ہے اور بڑی آسانی سے ہندوستانی پروپیگنڈا کا شکار ہو کر قیامِ پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتی ہے۔‘‘ ۹

مسعود مفتی صدر ایوب کے تصورِ پاکستان کورد کر کے پھر سے بانیانِ پاکستان کا تصورِ پاکستان اپنانے اور پاکستان کے جغرافیائی وجود کے اندر پاکستان کے اس حقیقی انقلابی تصور کو رائج کرنے کے تمنائی ہیں۔وہ پاکستان کی نئی نسل کو اپنی اس تمنا کا حقیقی وارث سمجھتے ہیں اور اپنی اس سرگزشت کا اوّلیں مخاطب قرار دیتے ہیں۔ امید و بیم کی یہ کہانی دراصل ہماری قومی سرگزشت ہے جسے پڑھنے، سمجھنے اور جس پر عمل کرنے میں ہمارے قومی مستقبل کا انحصارہے۔ آئیے اس آپ بیتی کو بار بار پڑھیں اور اس میں دکھائے ہوئے راستے پر عمل پیرا ہو جائیں!

حواشی

۱۔ دومینار (رپورتاژ)، مسعود مفتی، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، ۲۰۲۰، صفحات ۹۸۔۹۹
۲۔ ایضاً، صفحہ۱۹۰۔
۳۔ ایضاً، صفحہ۲۰۱۔
۴۔ ایضاً، صفحات ۲۴۸تا۲۵۰۔
۵۔ ایضاً، صفحہ ۲۴۷۔
۶۔ایضاً، ص ۲۴۳۔
۷۔ ایضاً، صفحات۲۳۳۔۲۳۵۔ ۲۵۹
۸۔ایضاً، اختتامیہ صفحات ۳۲۲۔۳۲۳۔
۹۔ ایضاً، صفحات۔ ۱۰۴۔۱۰۵

Facebook Comments Box
Fateh Muhammad Malikfeaturedmasood muftiپاکستاندو مینارفتح محمد ملکقومی طرز احساسمسعود مفتی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
وہ کہاں گئے —– نعیم الرحمٰن
next post
اقبال اور منیر نیازی کے تصور کا پاکستان — ڈاکٹر غلام شبیر

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.