تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

مقبوضہ کشمیر اور بھارت کا مقدمہ —– سلمان عابد

by دانش ڈیسک 03/08/2020
written by دانش ڈیسک 03/08/2020
186

پانچ اگست2019 کو بھارت میں موجود ہندوتوا کی پالیسی پر مبنی مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35-A کو بنیاد بنا کر جو وہاں پر تقسیم پیدا کی اس کا نتیجہ ایک بڑی مزاحمت کے طور پر دیکھنے کو ملا ہے۔ بھارت کا خیال تھا کہ ان آئین کی شقوں کا سہارا لے کر وہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک کو کمزور کرسکے گا، درست تجزیہ ثابت نہ ہوسکا۔ اس آئینی مداخلت کا بھارت کو بڑا نقصان ہوا۔ پہلے مقبوضہ کشمیر، بھارت یا پاکستان کے اس کے فریق تھے۔ لیکن جو کچھ بھارت نے لداخ میں کیا تو اب خود چین بھی ایک بڑے فریق کے طور پر سامنے آگیا ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا بدترین کرفیو ہے جو ایک برس سے جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی عملی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے اور ہر وہ بنیادی انسانی حقوق جو مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے لوگوں کا حق ہے اس کی حق تلفی طاقت کے زور پر کی جارہی ہے۔ بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی پالیسی میں سیاسی بنیاد پر حکمت کم اور طاقت یا بندوق کے زور پر حکمت عملی زیادہ غالب نظر آتی ہے۔

داد دینی ہوگی کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں نے جس جرات کے ساتھ بھارتی جارحیت یا بربریت کا سامنا کیا وہ واقعی قابل تعریف ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے اپنی اس مقامی تحریک کو ایک عالمی حیثیت کی شکل دے دی ہے۔ بالخصوص انسانی حقوق کی پامالی کی بنیاد پر یہ تحریک اب عالمی دنیا کی سیاست اور رائے عامہ سمیت انسانی حقوق سے جڑے اداروں کا اہم موضوع ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل، یورپی یونین، ہیومین رائٹس واچ، یو این او، بی بی سی، سی این این، گلوبل پیس نیٹ ورک، امریکہ اور برطانیہ کے اہم اداروں نے ہر سطح پر اپنی اپنی رپورٹس میں یہ تسلیم کیا ہے کہ بھارت بطور ریاست مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی کابڑا مرتکب ہوا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں نقل وحمل، مواصلات، انٹر نیٹ، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی تک رسائی، جیسے معاملات عملی طور پر بند ہیں۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں موجود کشمیری اپنے ہی پیاروں سے رابطوں سے بھی محروم ہیں۔ نمازاور عبادات کی آدائیگی سے بھارتی سیکورٹی اہلکار طاقت کی بنیاد پر ان کو روک رہے ہیں۔ خاص طور پر کشمیری نوجوانوں میں بھارت کے خلاف ردعمل بہت بڑھ رہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شائد کشمیر کا مسئلہ سیاست سے نہیں بلکہ جنگ یا طاقت کے استعمال سے ہی حل ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کے حل میں سیاست کو بنیاد بنا کر اپنا کردار یا مسئلہ کا حل تلاش نہ کیا تو اس کا بڑا نتیجہ جنگ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ آج جو نوجوان سیاسی بنیادوں پر جنگ کو لڑرہے ہیں وہ کل بندوق بھی اٹھاسکتے ہیں۔

بھارت کی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ محض کشمیر یا پاکستان وبھارت تک محدود نہیں بلکہ ایک طرف یہ پورے خطہ کی سیاست، ترقی و خوشحالی سے جڑا ہوا ہے وہیں عالمی دنیا بالخصوص رائے عامہ تشکیل دینے والے ادارے بھی خود کو کشمیر کی صورتحال سے علیحدہ رکھ کر سیاسی تنہائی اختیار نہیں کریں گے۔ ابھی تک تو بھارت اپنی سیاسی اور معاشی طاقت کی بنیاد پر عالمی دنیا کو مجبور کیے ہوئے ہے کہ یہ مسئلہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے۔ لیکن اب جو مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے وہ مسئلہ کی عالمی حیثیت کو بھی اجاگر کرتا ہے اور بھارت لمبے عرصہ تک مقبوضہ کشمیر میں موجودہ صورتحال کو برقرار نہیں رکھ سکے گا۔

پاکستان نے کئی بار کوشش کی کہ وہ پاک بھارت مزاکرات کی بحالی سمیت کشمیر کے مسئلہ پر دو طرفہ بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے، لیکن بھارت کا رویہ جارحانہ بھی ہے اور عملا اس نے اس مسئلہ پر بات چیت کے دروازے بند کرکے ڈیڈ لاک پیدا کیا ہوا ہے۔ بھارت کا یہ فیصلہ بھی پاکستان کو کسی صورت قبول نہیں کہ ہم کشمیر کے مسئلہ کو نظرانداز کرکے دیگر مسائل پر بات چیت کریں، لیکن مسئلہ کشمیر تو ایک طرف وہ کسی بھی مسئلہ پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے پاکستان کو مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر ایک بڑی سیاسی اور سفارتی جنگ لڑنی ہے۔ اس میں ہمیں عالمی طاقتوں سمیت علاقائی طاقتوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ کیونکہ بھارت پر جب تک علاقائی یا عالمی دباو کشمیر کی صورتحال پر نہیں بڑھے گا وہ کوئی بڑا فیصلہ کشمیر کے حق میں نہیں کرے گا۔

مسئلہ محض پاکستان اور بھارت کی نہیں ہے۔ اصل فیصلہ کشمیر ی قیادت اور ان کی عوا م نے کرنا ہے۔ کیونکہ اس بحران کے حل میں بڑا فریق عملا کشمیری لوگ ہیں۔ جو بھی فیصلہ ہونا ہے اس میں کشمیری قیادت کا فیصلہ اہم ہوگا اور ہمیں ان کو ساتھ ملا کر ہی بڑے فیصلوں کی طرف بڑھنا ہوگا۔ پاکستان نے اگر یہ جنگ سیاسی اور سفارتی محاذ پر لڑنی ہے تو اسے پہلے اپنے داخلی مسائل کو کم کرنا ہوگا۔ خود کو کشمیریوں کی جدوجہد میں ایک بڑے سفیر کے طور پر خود کو پیش کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے سفارت کاروں، سفیروں سمیت سفارت خانوں کو زیادہ متحرک اور فعال کرنا ہوگا۔ پاکستان کو کشمیر کی صورتحال پر ایک ایسا بیانیہ بھی ترتیب دینا ہوگا جو عالمی دنیا میں اپنی قبولیت منوا سکے۔ اس کا بنیادی نکتہ انسانی حقوق کی پامالی کا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ عالمی دنیا کی توجہ کا بڑا نکتہ انسانی حقوق کی پامالی ہوسکتا ہے۔ بھارت کا انسانی حقوق کی پامالی کا ریکارڈ مقبوضہ کشمیر میں شدید تنقید کی زد میں ہے اور ہمیں اسے اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنانا ہوگا۔

اس وقت بھارت کے داخلی محاذ سے بھی ایسے فریق، ادارے اور انفرادی سطح پر لوگ سامنے آرہے ہیں جو مودی کی کشمیر پالیسی کی مخالفت کو بنیاد بنا کر ان پر سخت تنقید کررہے ہیں۔ ان میں مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارت نواز فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں اور سب اسی نکتہ پر زور دے رہے ہیں کہ مودی کی کشمیر پالیسی نے بھارت کو طاقت ور بنانے کی بجائے کمزور کردیا ہے۔ اس وقت بھارت میں موجود سابق سفارت کار، سابق فوجی افسران، دانشور، لکھاری، شاعر، ادیب، فن کار، صحافی سمیت ایک بڑا گروہ ہے جو سمجھتا ہے کہ موجودہ صورتحال سے ہمیں سپریم کورٹ ہی نکال سکتی ہے۔ ان کے بقول سپریم کورٹ کو ہی مودی حکومت کی کشمیر میں جاری بدترین پالیسی کو مسترد کرکے امن وسلامتی کا راستہ دینا ہوگا۔

یہاں عالمی بڑی طاقتوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ وہ بھی کب تک بھارت کی کشمیر پالیسی کے دفاع میں کھڑا رہے گا یا اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرے مسئلہ کی شدت میں اور زیادہ اضافہ کرے گا۔ کیونکہ یہ عالمی طاقتیں ہی ہیں جو کشمیر کی پرامن سیاسی جدوجہد کو بنیاد بنا کر بھارت پر دباو بڑھاسکتی ہیں کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ کرنا ہوگا جو کشمیر سمیت تمام فریقین کے قابل قبول ہو۔ وگرنہ دوسری صورت میں جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے وہ مستقبل کی سیاست، امن اور ترقی کے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ ڈر یہ ہے کہ اس جنگ سے جو انتہا پسندی اور طاقت کے جس کھیل کو بڑھایا جارہا ہے اس سے محض مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے خطہ کی سیاست پر اس کے منفی اثرات نمودار ہونگے۔ ایسی صورتحال کی ذمہ داری جہاں بھارت کی آمرانہ پالیسی پر عائد ہوگی وہیں عالمی بڑی طاقتیں بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہونگی جو صورتحال میں بہتری پیدا کرنے کی بجائے بگاڑ کی سیاست کا حصہ دار بنے جو خطہ کے مفاد میں نہیں ہوگی۔

Facebook Comments Box
Azad Kashmirfeaturedindian occupied kashmirKashmirsalman abidآزادی کشمیرسری نگرسلمان عابدکشمیرکشمیر پالیسیمقبوضہ کشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
زمین تنگ ہورہی ہے! —— ڈیوڈ ویلس ویلز
next post
بازدید، اردو کے یادگار خاکوں کا مجموعہ —– نعیم الرحمٰن

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.