تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالممعیشت

نوجوان اور حکومت کا ترتیب شدہ بجٹ —- ڈاکٹر محمد زمان

by دانش ڈیسک 05/07/2020
written by دانش ڈیسک 05/07/2020
178

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 2013 کے الیکشن میں پہلی بار مقبول ترین جماعت بنی جس نے نوجوانوں میں خاصی پذیرائی حاصل کی، جب کہ پی ٹی آئی کی 2018 کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے جیتنے کی اصل وجہ پاکستان کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام سر انجام دیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے 2020-19 اور 2021-2020 میں جو بجٹ پیش کیا اس میں ان نوجوانوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے جنکی وجہ سے جماعت الیکشن جیتی۔ انکے موجودہ بجٹ نے نوجوانوں کو معیشت میں حصہ بننے اور وسائل پیش کرنے کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے، یوں نوجوانوں کو کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے جسے کھونے سے ہر کوئی ڈرتا ہے لیکن پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق آبادی کا 64 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہے جبکہ بجٹ میں ان کے لیے 2 ارب کا حصہ مختص کیا گیا جو کہ بہت کم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق27-20 کی عمر کے 9۔7 لاکھ مرد جبکہ 9۔1 لاکھ خواتین ہیں جنکی کل تعداد 18۔8 لاکھ بنتی ہے، جبکہ ان نوجوانوں کی اصل ضروریات تعلیم و روزگار پر منحصر ہے۔

اگر 18۔8 لاکھ نوجوانوں کی آبادی کے لیے 2 ارب رقم کے استعمال کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں سال 2020-21 تک کے لئے ہر شخص کو فی 106 روپے دینے ہونگے۔ یہ ایک ایسی رقم ہے جو ایک سال کے لئے مختص کی گئی ہے جسکی حیثیت مونگ پھلی میں دانے برابر بھی نہیں کہ اس سے مونگ پھلی کیا ضروریات زندگی کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔ حکومت کی نااہلی ایسی ہے کہ اس نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ نوجوان اس رقم کو کس طرح استعمال کر سکتے ہیں اور کس قسم کی مالی اعانت کے لیے یہ رقم مستفید رہے گی۔ اگرچہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جماعت نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے نعرے لگائے تھے، لیکن جب بجٹ مختص کرنے کی بات آتی ہے تو انکی ترجیحات یکسر تبدیل ہوگئی ہیں۔ مجھے اس بجٹ کے حوالے سے نوجوانوں کے رد عمل کا اندازہ نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نوجوانوں کے خواب اور امیدیں ٹوٹ چکی ہیں۔

سابقہ ​​حکومت کی جانب سے جو بجٹ مختص کیا گیا تھا وہ بھی مثالی نہیں تھا: انھوں نے 19-2018 میں 22 ارب تک مختص کیے؛ تاہم، یہ رقم موجودہ رقم سے قدرے زیادہ تھی اور ہر نوجوان کو سال 2018 کے لئے 1، 170 روپیہ ملے۔ میرے خیال کے مطابق اس رقم کی حیثیت بھی مونگ پھلی برابر نہیں لیکن سابقہ حکومت کی جانب سے ایسے متعدد اقدامات بھی کیے گئے تھے جن کا مقصد نوجوانوں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا؛ جیسے کہ پچھلی حکومت نے انٹرنشپ پروگرام شروع کروائے، اسکے علاوہ لیپ ٹاپ سکیم شروع کی (اگرچہ کم معیار کے تھے) اور نوجوانوں کو کچھ قرضے بھی فراہم کیے، لیپ ٹاپ اسکیم ایک اہم قدم تھا جسکا استعمال کویڈ-19 کے دوران آن لائن کلاسوں کے لئے کیا جاسکتا ہے، اسی طرح انٹرنشپ نے روزگار کے نئے راستے ہموار کیے۔ بہر حال، پچھلی حکومت کے دور حکومت میں بھی نوجوانوں کی بہتری کے لئے بہت محدود مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

ایک نوجوان شخص تعلیم اور معیشت میں شراکت داری کی اہلیت رکھتا ہے لیکن اگر کسی کو مواقع میسر ہی نہیں ہیں تو وہ کیا کریں گے؟ ان کے پاس ایک اور موقع یہ ہے کہ وہ متشدد رہیں اور غیر سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہوں جائیں۔ وہ تفریح کی غرض سے منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک مشغول ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کی وجہ بھی ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ منشیات کے لیے آپ کو پیسے کی ضرورت ہے اور پیسہ حاصل کرنے کے لیے انکے پاس سوائے انحراف اور مجرمانہ سمت اپنانے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں ہے کیونکہ قانونی راستے حکومت نے بند کر کے رکھے ہوئے ہیں۔ لہذا ہم پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ نوجوان اپنی بقا کے حصول کے لیے مزید ڈکیتی و چوری جیسے جرائم میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

جب معاشرے میں جرائم سے منسلک پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھ جائے تو انکو قابو میں کرنے کے لئے پولیس کی مدد درکار ہوتی ہے اور پولیس اہلکاروں کو دینے کے لیے خاص رقم مختص کی جاتی ہے۔ اگر اس طرح غیر قانونی جرائم میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو یہ بعد میں ایک سفید نایاب ہاتھی بن سکتا ہے جسکو قابو میں کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل چاہیے ہونگے۔ پاکستانی معاشرے میں ریاست اور نوجوانوں کی بدحالی بڑھتی جارہی ہے جیسے کہ تاریخی طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کلچر کا تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن ہم نے کبھی بھی اس کی بنیادی وجہ جاننے اور اس سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی۔ کراچی پچھلی تین دہائیوں میں خونریزی اور قتل و غارت کا تجربہ کر رہا ہے لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ سکی۔

بہترین اقدامات یہ ہونے چاہیے کہ پاکستانی حکومت کو بروقت نوجوانوں کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع شروع کرنے ہونگے، بجائے اس کے کہ وہ سوچیں، یاں نوجوانوں کو مزید صرف اپنی باتوں سے متاثر کریں۔ انہیں نوجوان کو شامل کرنے، ان کو بااختیار بنانے کے لئے نئے اقدامات کا آغاز کرنا ہوگا اور انہیں ملک کا قیمتی اثاثہ سمجھنا ہوگا۔ نوجوانوں کے شامل ہونے سے نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہوگا، بلکہ وہ مثبت اثرات بھی ڈال سکتے ہیں کیونکہ یہی بااختیار اور خودمختار نوجوان دوسرے نوجوانوں کو ملکی معیشت و سرمایہ داری میں شامل کرنے کا سبب بنیں گے اور دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال قائم کر سکیں گے۔

اگر نوجوان حکومت سے قومی بجٹ میں ان کے حصہ اضافے کے لیے مطالبہ کرتے ہیں تو نوجوانوں کا یہ حق ہے، اسی کے ذریعہ تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم ہونگے۔ اگر انہیں اثاثہ کے طور پر سمجھا جائے تو پاکستان کا نوجوان ایک قابل قدر قیمتی ہیرا بن جائے گا لیکن اگر یہ نظرانداز کیا گیا تو حکومت انکی قدر و قیمت بہت جلد کھو دے گی۔ حکومت پاکستان کو اپنے نتائج کے مطابق سرمایہ کاری کرنا چاہئے جو وہ دیکھنا اور لینا چاہتے ہیں۔

لکھاری قائد اعظم یونیورسٹی آف اسلام آباد کے شعبہ سماجیات کے چیئرمین ہیں، وہ پاکستان میں سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، جہاں وہ سماجی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، وہیں وہ ان کے حل کی تجاویز بھی پیش کرتے ہیں۔

(اس کالم کا اردو ترجمہ سعدیہ اسلم اور حفضہ عرفان کی جانب سے کیا گیا، جنکا تعلق قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد سے ہے۔)

Facebook Comments Box
بجٹ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خالی بدن کی خاموشی میں: چند سرسری باتیں —   محمد حمید شاہد 
next post
سرمایہ دارانہ تصورِ ترقی اور مابعدِ نوآبادیاتی معا شرے — طلحہ افتخار

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.