تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

پی ٹی وی اور ہم: یادیں ہیں کچھ ایسی تیرے نام سے وابستہ — غزالہ خالد

by دانش ڈیسک 19/06/2020
written by دانش ڈیسک 19/06/2020
74

طارق عزیز کی وفات نے افسردہ کردیا۔
"ہائےلوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے”

وہ صرف نیلام گھر کے میزبان ہی نہیں علم و ادب کا خزانہ بھی تھے۔ شاعری، نثر، محاورے، ضرب الامثال اور سب سے بڑھ کر انداز بیان اتنا اچھا کہ عام سی بات بھی خاص لگنے لگتی تھی۔ نیلام گھر کے مقابلہ بیت بازی میں اگر کوئی غلط شعر پڑھ دیتا تو ایسا لگتا طارق عزیز کو تکلیف پہنچی ہے وہ فوراً اس کی تصحیح کرتے بلکہ اگر کسی اچھے شعر کو پڑھنے والا سپاٹ انداز میں کسی سبق کی طرح سناتا تو طارق عزیز اس شعر کو ایسے دلکش انداز میں دوبارہ پڑھتے کہ شعر کا لطف دوبالا ہو جاتا۔

ہمارے بچپن سے جوانی تک کا عرصہ پی ٹی وی کا ایسا عروج کا زمانہ تھا کہ جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ نیلام گھر کے نام سے ہی ذہن میں یادوں کا خزانہ امڈ آتا ہے۔ وہ دور جب ہمارا پورا خاندان ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ کر نیلام گھر نہایت شوق سے دیکھا کرتا تھا۔ میرے دادا جو خود بھی شاعر تھے ہمارے ساتھ نیلام گھر دیکھا کرتے اور وہ زمانہ ایسا تہذیب و تمدن والا تھا کہ کبھی کبھی جب نیلام گھر میں نئے شادی شدہ جوڑوں کو بلایا جاتا اور کوئی کھیل کھلوایا جاتا اور ہنسی مذاق ہوتا تو میرے دادا کو وہ بےہودگی لگتی اور وہ اونہہ کہکر رخ موڑ لیا کرتے اور ہم بھی دل ہی دل میں شرمندہ ہوجاتے۔ آجکل کے "عامر لیاقت” ٹائپ کے شوز دیکھ کر مجھے نجانے کتنی بار یہ خیال آیا ہے کہ اگر میرے دادا یہ سب دیکھتے تو کیا کرتے؟

طارق عزیز کی وفات نے ذہن میں بسی پاکستان ٹیلیویژن کی یادوں کو تازہ کردیا
"یادیں ہیں کچھ ایسی ترے نام سے وابستہ”

پی ٹی وی کا دور تو میری پیدائش سے پہلے شروع ہوچکا تھا لیکن میری یادوں میں سنہ انیس سو اٹھہتر سے لیکر اسی کی دہائی کے پروگرام ہیں جو بلا شبہ پی ٹی وی کے عروج کا زمانہ تھا۔ بلیک اینڈ وائٹ کے زمانے کی نہایت دھندلی یادیں میرے ذہن میں ہیں جب ہمارے گھر ٹی وی بھی نہیں ہوتا تھا اور ہم شروع میں کبھی کبھی اپنے ابو کے چھوٹے چچا کے گھر ٹی وی دیکھنے جایا کرتے تھے جہاں ہمیں زمین پر بٹھایا جاتا۔ ہم اس عزت افزائی کے باوجود شوق کی خاطر پھر”کرن کہانی” یا "انکل عرفی” دیکھنے چلے جاتے اس وقت ہم اتنے چھوٹے تھے کہ ہمیں ڈراموں کی کہانی سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا تھا صرف ٹیلیویژن پر چلتی پھرتی تصویریں دیکھنے کا شوق ہوا کرتا۔ البتہ ہماری امی ڈرامے بہت شوق سے دیکھا کرتی تھیں۔ وہ تو شکر ہے کہ ہماری پھپو کے گھر جلد ہی ٹیلی ویژن آگیا اور یوں ہم عزت کے ساتھ ٹی وی دیکھنے لگے۔

وہ بھی کیا دن تھے جب بھی کوئی اچھا ڈرامہ یا پروگرام آنا ہوتا تھا ہماری پھپو ہماری شوقین امی کو پہلے سے دن وقت وغیرہ بتا دیتی تھیں۔ اس زمانے میں اتوار کو دن کے وقت فیچر فلم آتی تھی ہماری امی صبح ہی کھانا پکا کر ناشتے دان میں پیک کرتیں اور ہم تینوں بہن بھائیوں کو لیکر ناشتے دان سمیت پھپو کے گھر پہنچ جاتیں۔ پھپو کا کمرہ پہلے سے ہی ان کے مختلف سسرالی رشتے داروں سے بھرا ہوتا۔ بڑی دیدہ ریزی سے فلم دیکھی جاتی ہنسی کے سین پر گلے پھاڑے جاتے اور رونے کے سین دیکھ کر ایک دوسرے سے چھپ کر آنسو بہائے جاتے۔ جب فلم ختم ہوجاتی تو دوسرے لوگ تو اپنے اپنے گھر چلے جاتے اور ہم دستر خوان لگا کر جو پھپو نے پکایا ہوتا وہ اور جو امی لیکر گئی ہوتیں وہ پھپو اور ان کے بچوں کے ساتھ مل جل کر کھاتے، بڑا مزہ آتا۔ ہمارے پھپھا اور پھپھو اتنے مہمان نواز اور محبت والے کہ ہمارے روز روز جانے سے بھی کبھی ان کے ماتھے پربل نہ آیا بلکہ ہمارے نہ جانے پر وہ باقاعدہ امی کو بلوایا کرتے تھے۔

ہم نے سینما میں بہت ہی کم فلمیں دیکھی ہیں شاید ہمارے بڑے ہونے تک فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہوگئی تھی اور پی ٹی وی کا سنہرا دور چل رہا تھا۔ ہمارے گھر ٹی وی ذرا دیر سے آیا لیکن "ففٹی ففٹی” تک ہمارے گھر میں ٹی وی آچکا تھا اب ہمیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ وارث، ان کہی، سلور جوبلی، نیلام گھر کے ساتھ مسٹر جیدی کا "انتظار فرمائیے” بھی اس زمانے میں بہت شوق سے دیکھا گیا۔ اطہر شاہ خان جیدی (اللّٰہ غریق رحمت کرے) نے جن کا پچھلے دنوں انتقال ہوا ایک نئی طرح کے مزاح کی بنیاد ڈالی۔ ان کے ڈرامے بھی اس زمانے میں بہت پسند کیے جاتے تھے۔ علی اعجاز کا "دبئی چلو” بے انتہا مقبول ہوا۔ اس زمانے میں بہت پاکستانی دبئی جانے کے خواہشمند ہوتے تھے اس لئے اس ڈرامے کو بہت پذیرائی ملی۔ الف نون دوبارہ شروع ہوا تھا۔ کہانی کے ساتھ ساتھ کمال احمد رضوی اور ننھے کی اداکاری لاجواب تھی۔ منو بھائی کا "سونا چاندی "بھی ہم بڑے شوق سے دیکھا کرتے پھر یونس جاوید کا "اندھیرا اجالا "شروع ہوا اور سب کا پسندیدہ بن گیا۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے ڈرامے اس عمر میں اتنے سمجھ میں نہیں آتے تھے لیکن اچھے لگتے، حسینہ معین، فاطمہ ٹریا بجیا کے ڈراموں کے وقت سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔

اسی طرح شاندار موسیقی کے پروگرام آیا کرتے تھے۔ سہیل رعنا کے پروگرام "ہم کلیاں ہم تارے” اور "سنگ سنگ چلیں” کے گیت ہمیں اج بھی یاد ہیں۔ اسی کی دہائی کے ملی نغمے بھی بہت مشہور ہوئے۔ عالمگیر اور محمد علی شہکی ہمارے پسندیدہ ہوا کرتے، غلام علی کا "چپکے چپکے رات دن” محمد جمن کا "یار ڈاڈی عشق آتش” پٹھانے خان کا "مینڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں” ریشماں کا "میری ہمجولیاں” مسرت نذیر کے شادی کے ٹپے اور گیت، مہناز اور ناہید اختر کے نغمے، عابدہ پروین کی کافیاں، نور جہاں اور فریدہ خانم کی غزلیں غرض کیا کیا یاد کریں۔ پھر نازیہ حسن اور زوہیب حسن آۓ اور چھا گئے۔ نئ نسل جس میں ہم بھی شامل تھے انکی دیوانی ہوگئی۔

کیا کیا یاد کریں۔ اس زمانے میں تو نو بجے کا خبرنامہ دیکھنا بھی اچھا لگتا تھا۔ ارجمند شاہین، ثریا شہاب، خالد حمید، ظہیر الدین، شائستہ زیدی، اظہر لودھی، ماہ پارہ صفدر اور کچھ نام جو ذہن میں نہیں رہے لیکن ان کی شکلیں یاد ہیں بہترین تلفظ اور لہجے کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ خبریں پڑھا کرتے تھےاب تو سب کچھ قصہ پارینہ بن گیا۔

ایک واضح فرق جو مجھےاس زمانے کے اداکار، صدا کار، گلوکار، موسیقار، ہدایت کار، پیش کار میں نظر آتا ہے وہ ان کی حد سے زیادہ محنت اور اپنے کام سے محبت تھی جو اب ناپید ہے اب تو سب کچھ کمرشل ہوگیا ہے” آؤ اور پیسہ کماؤ”, ڈرامے تعداد میں بہت بن رہے ہیں لیکن کہانی اور معیار کے لحاظ سے کچھ ہی ڈرامے پسند کیے جاسکتے ہیں، موسیقی کا برا حال ہے، نیوز چینلز کی بھرمار ہے لیکن پڑھنے والوں میں بھی کچھ ہی نیوز کاسٹرز تلفظ اور لہجے پر قابو پانے والے ہیں۔

حال یہ ہے کہ اول تو ٹی وی دیکھنے کا دل ہی نہیں چاہتا اور جب ٹی وی کھولو تو صرف الزامات، لڑائی، مار دھاڑ، گالم گلوچ والی خبریں سننے کو ملتی ہیں یا بے تکے ڈرامے۔ اسی لئے طارق عزیز صاحب کی وفات نے ہمارے ذہن کے دریچوں سے ماضی کی یادیں تازہ کرنے کا موقع فراہم کردیا جو بہت اچھا لگا۔ اتنی پیاری یادیں ہیں کہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یاد ماضی عذاب ہےکیونکہ یہ یادیں تو اتنی شاندار ہیں کہ بار بار انہیں دہرانے کا جی چاہتا ہے۔

Facebook Comments Box
ol days of PTVOld PTV DramaPTVTariq Azizان کہیپی ٹی ویپی ٹی وی ڈرامہطارق عزیزغزالہ خالدنیلام گھر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ہرمینوٹکس – نصوص: پس منظر، تعبیرات میں مقامی، سماجی و کاسمولوجیکل اثرات — طیب عثمانی
next post
اج دی رات میں کلّا واں —– افضل رضوی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.