تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

اشتراکیت کی نشاۃِ ثانیہ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی شکست —- ادریس آزاد

by دانش ڈیسک 03/06/2020
written by دانش ڈیسک 03/06/2020
193

آپ نے غور کیا کہ پاکستان کو دُوسری مرتبہ ایک ہی جیسی صورتحال کا سامناہے؟ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ قدرے زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان لڑائی فی الحقیقت دو مُلکوں کے درمیان لڑائی سے کہیں زیادہ دو نظریات کے درمیان لڑائی تھی۔ سوویت یونین کمیونزم کا مُلک تھا اور امریکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا۔ اب پھر وہی لڑائی جنم لے چکی ہے۔ چین کمیونسٹ مُلک ہے اور امریکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت۔ سوویت یونین سے سرد جنگ کے وقت پاکستان نے کھُل کر امریکہ کا ساتھ دیا اور اپنے پڑوسی اور ایشیائی برادر مُلک کو ’’دہریے، کمیونسٹ اور منکرینِ خدا‘‘ کہہ کر امریکہ کی جنگ خود لڑنا شروع کردی اور وہ بھی جہاد کے نام پر۔ یہ جنگ پاکستان نے اُس وقت تک لڑی جب تک امریکہ رُوس سے جیت نہیں گیا تھا۔ اور جب امریکہ روس سے جیت گیا تو اُس نے پاکستان سے مُنہ پھیر لیا اور پاکستان کو آتش و آہن اور بارود میں اکیلا چھوڑ کر خود دوسرے ممالک پر چڑھائی کرنے نکل گیا۔

ویسے تو اب ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان امریکہ کے لیے دوبارہ جہاد کرنے کی غلطی نہیں کرےگا، لیکن اِس حوالے سے صورتحال ایک جیسی ہے کہ اب پھرکمیونزم اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے درمیان لڑائی ہے۔ اور اِس بار کی یہ لڑائی اکیسویں صدی میں ہورہی ہے اس لیے یہ لڑائی دنیا کا ہر ملک نہیں بلکہ ہرشہری لڑےگا۔ چین کے موجودہ صدر ’’شی جِن پِنگ‘‘ نے اپنی پہلی تقریر میں علی الاعلان کہا تھا کہ وہ چینی سوشلزم کے ارتقأ کے نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ گویا سوشلزم کی نشاۃ ثانیہ کا باقاعدہ اعلان تھا۔

رُوسی کمیونزم اور چینی کمیونزم میں بنیادی فرق طریق کار کاہے کیونکہ دونوں ملکوں کا پِسا ہوا طبقہ مختلف نوعیت کا تھا اس لیے اشتراکیت کا اطلاق بھی مختلف طریقہ کار کا متقاضی تھا۔ اپنی آسانی کے لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ رُوس میں مزدوروں کا انقلاب آیا تھااور چین میں کِسانوں کا۔ لیکن روس نے سٹالن کے بعد فوری طورپرعدم تشدد کا راستہ اختیار کرنا چاہا جبکہ چین نے سٹالن کے ہی طریقہ کار کو اختیار کیے رکھا۔ روس نے البتہ عالمی منڈی کے ساتھ جُڑنے میں تاخیر کردی اور جدید دور میں بھی زرمبادلہ کے عالمی نظام کو سرمایہ دارانہ نظام کہہ کر زرمبادلہ کے فوائد سے محروم رہا، جبکہ چین نے 1980 میں عالمی منڈی کے ساتھ جُڑنے کی طرف اقدامات کرنا شروع کردیے تھے۔

روس البتہ دیر تک اس نظریے کا مالک رہا کہ کمیونزم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ساتھ چل سکتا ہے۔ یعنی یہ گویا ایک ایسی سوچ تھی جس میں کمیونزم کی مزید دعوت و تبلیغ کا راستہ روکا جا رہا تھا اور گویا ’’اُدھر تُم، اِدھرہم‘‘ والی پالیسی اختیار کی جارہی تھی کہ کوئی ملک اگر سرمایہ درانہ جمہوریت پر ہی کاربند رہنا چاہتا ہے تو بے شک رہے، روس اس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرےگا۔ روس کے ایسے خیالات کی وجہ دوسری جنگِ عظیم کے اس کے حواری یعنی امریکہ اور برطانیہ وغیرہ تھے۔ لیکن چین نے ایسا کبھی تسلیم نہ کیا۔ چین کا یہ مؤقف رہا کہ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم ایک ساتھ دنیا میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اس مختلف مؤقف میں ایک بڑی دعوت و تبلیغ اور دنیا کو بدلنے کا سپنا صاف دیکھا جاسکتاہے۔ چین چونکہ نظریاتی طورپر یہ تسلیم کرنے سے انکاری تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم ایک ساتھ دنیا میں چل سکتے ہیں اس لیے چین کو اپنی اشتراکیت میں اجتہاد کا دروازہ کھولنا پڑا۔ اس اجتہاد میں دو باتیں بڑی تھیں۔

نمبرایک یہ کہ چینی شہریوں کو اُن کے کوٹے کے مطابق حقِ ملکیت دے دیا گیا جس کے تحت وہ چھوٹے کاروبار خود کرسکتے تھے اور اپنے کاروباروں کے مالک کہلواسکتے تھے۔ دوسری بڑی بات تھی، باقی دنیا کےساتھ تجارت کے معاملات میں سرمایہ دارانہ نظام کے بعض اُصول اپنی مرضی سے اختیار کرلینا اور باقی ماندہ کو ٹھکرا دینا۔ یہ چین کا نہایت نپا تُلا اقدام تھا۔ آج ہم مارکیٹ سوشلزم کی جس اصطلاح سے واقف ہیں یہ وہی چینی اقدام ہے جس کا ذکر میں اِس وقت خصوصیت کے ساتھ کررہاہوں۔ آج سے چالیس سال پہلے جب چین نے پہلی بار سرمایہ دارانہ نظام کی بعض معمولی جہات کو اپنے لوگوں کے لیے کھولنا شروع کیا تھا تو دنیا بھر کے سرمایہ داروں نے بغلیں بجائی تھیں اور سمجھ لیا تھا کہ چین میں بھی اشتراکیت کی شکست ہوچکی ہے۔ اس وقت کے سرمایہ داروں نے نظرانداز کیا تو اِس حقیقت کو کہ چین نے اُن کے چند اُصولوں کو فقط اپنے نظام کی بقا کے لیے قبول ہی نہیں کیا بلکہ اجتماعی مقاصد (کولیکٹِو کنسرن) کی حامل اس آبادی نے دراصل پوری دنیا کے سامنے اقتصادیات کا ایک نیا ماڈل بھی رکھ دیا ہے۔

چینی اقتصادیات کا یہ ماڈل نہایت کامیاب رہا اور اس نے تیزی کےساتھ سرمایہ دارانہ نظام کی روایتی اکانومی کو شکستوں پر شکستیں دینا شروع کردیں۔ اسّی کی دہائی کے بعد چین نے بڑی تعداد میں اپنے طلبہ کو ترقی یافتہ ممالک میں بھیجا اور ان کی قابلیتوں سے اپنے ہاں اشیائے صرف کی مصنوعات کا کوہِ ہمالیہ کھڑا کردیا۔ چین روس کی طرح کا ملک نہیں ہےجسے فقط اپنے وطن تک اپنے ذرائع کو محدود رکھنے کا شوق ہو، بلکہ چین اپنے نمونوں کو دنیا بھر سے فقط اسی لیے منواتا رہا ہے کہ وہ ان نمونوں کی شکل میں دراصل سوشلزم کو منوا رہا تھا۔ آج پورے یورپ پر چینی اقتصادیات کا غلبہ ہے اور ہر جگہ چینی صدر یا اس کے نمائندے یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ماڈل ہے۔ ہمارا ماڈل ہر لحاظ سے دنیا کے لیے مثالی ہے۔ ہم نے جو کچھ چین میں کردکھایا وہی سب کچھ ہر غریب ملک میں کرکے دکھا سکتے ہیں اور دکھا رہے ہیں۔ چین نے پاکستان سمیت افریقہ، یورپ اور ایشیا کے متعدد ممالک کو اپنے بزنس ماڈل کی کامیابیوں سے متعارف کرواکے نہ صرف اپنےساتھ شامل کرلیا بلکہ جرمنی جیسے جنگوں میں بدنام ملک کا کاروباری تعلق چین کےساتھ ہزاروں گنا تک جاپہنچا۔

عرب کے پانی تک رسائی کے لیے چین نے پاکستان سے گوادر مانگا لیکن ایسی مہارت کے ساتھ کہ پوری کی پوری پاکستانی قوم اور پوری کی پوری پاکستانی فوج صرف ایک شاہراہ یعنی سی پیک کے تحفظ کے لیےاپنی جانیں لڑانے لگی۔ پاکستان کوئی مصنوعات تیار نہیں کرتا لیکن پھر بھی اسے سی پیک سے ملنے والے فوائد، روزگار، پیسے کی ریل پیل اور احساسِ تحفظ نے مجبور کردیا کہ وہ اپنی تمام تر طاقتیں صرف کرکے چین کی اس شاہراہ کی حفاظت کرے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس دوران جب چین یہ سب کچھ کررہا تھا، یعنی 1980 سے آج تک، امریکہ دوسروں کی سرزمینوں کو اپنے فوجی بوٹوں اورٹینکوں سے روند رہا تھا۔ امریکہ کو جنگوں میں مصروف دیکھ کر چین کو اور بھی زیادہ کھل کر بزنس بزنس کھیلنے کا موقع مل گیا۔ چین کا یہ بزنس بزنس کھیلنا کسی صورت بھی سرمایہ دارانہ شیطانی نہ تھی، بلکہ کمیونسٹ شیطانی تھی۔ کیونکہ چین نے اپنی اجتماعی نظریاتی ساخت میں کبھی کمپرومائز قبول نہیں کیا۔ اگر کسی کو اس حقیقت میں شک ہو تو وہ سنکیانگ میں چین کا سٹالنی تشدد دیکھ سکتا ہے یا پھر ایسی ہی بے شمار مثالیں چین کے اندر سے دی جاسکتی ہیں جہاں چین نے اپنے قدیم کلچر کے خلاف ہی تلوار سونت کر نہ رکھی بلکہ کسی بھی قسم کی مذہبیت کو کبھی بھی کوئی راستہ نہیں ڈھونڈنے دیا۔ مذہبیوں، سرمایہ دارانہ جمہوریت کے حامیوں اور قدیم چینی ثقافت کے عاشقوں کے خلاف نہایت سختی سے پیش آنا والا چین اِن سارے معاملات میں آج تک اُسی سختی کا مظاہرہ کرتا ہے جس کے لیے سٹالن کے عہد کا روس مشہور تھا۔

الغرض جب امریکہ دوسروں کی سرزمینوں پر جنگیں لڑنے میں مصروف تھا چین نے امریکہ سمیت دنیا کے ہر ملک میں اپنی مصنوعات پھیلا دیں۔ اور جب امریکیوں کو اپنے اس دیوالیہ پن کا خیال آیا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے انہوں نے بدقسمتی سے ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب کیا کہ ممکن ہے یہ شخص امریکی بزنس کو واپس اپنے پیروں پر کھڑا کرسکتے، لیکن تاحال یہ دکھائی دیتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ایسی کوششوں میں کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ یورپ کے ساتھ اقتصادی رشتے کم ہوجانے کا امریکی غم ابھی وہیں کا وہیں موجود تھا کہ کورونا وائرس نے اِنٹری ماردی۔ امریکہ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے لگا اور ٹرمپ نے براہِ راست چین پر کوورنا وائرس کی پیدائش اور اس کے ذریعے امریکہ پر حملہ کرنے کا الزام لگا دیا۔ ٹرمپ کے الفاظ یہ تھے،

’’یہ حملہ تو پرل ہاربر سے بھی بڑا ہے اور یہ حملہ تو ورلڈ ٹریڈ سینٹرکےحملے سے بھی بڑا ہے اور چین اس کا ذمہ دار ہے۔ اور اس کے ذریعے چین نے دنیا بھر کو نقصان پہنچایا ہے۔ ‘‘

اور پھر ایسے عالم میں جب پوری دنیاکے لوگ کورونا وائرس کی بلاسے ڈرے، سہمے، اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوئے بیٹھے ہیں، امریکی عوام اچانک سڑکوں پر نکل آئی ہے اور کوئی کورونا ورونا اُن کا راستہ نہیں روک پایا۔ امریکی اقتصادیات جس برے حال کا شکار تھی، اس مقام پر ایسے ہنگامے، قتل و غارت گری کے گرم بازار اور ٹرمپ کے سخت سخت بیانات جہاں اس بات کی طرف کھلا اشارہ ہیں کہ امریکہ اب خلیج سے بیڑے واپس بلانے پرشاید مجبور ہوجائےگا، وہاں اس بات کا بھی واضح اشارہ ہیں کہ روس میں کمیونزم کی شکست کے بعد کمیونزم کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوچکاہے۔ اور یہی نہیں بلکہ اس بار پاکستان کمیونسٹ ملک کا ساتھ دے گا اور سابقہ اینالوجی بتاتی ہے کہ پاکستان وہ مُلک ہے جو اپنی آرمی سمیت جس کا ساتھ دیتا ہے، وہ جیت جاتاہے کیونکہ پاکستان کےپاس بعض اہم حوالوں سے دنیا کی بہترین آرمی ہے۔

Facebook Comments Box
featuredPak AmericaPak ChinaPakistan With China and America
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مشفق خواجہ —- عطا محمد تبسم
next post
پی۔ فون: کیا یہ آپ کے پاس ہے ۔ ممکن ہے ہو —- اظہر عزمی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.