تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

دعا ۔۔۔۔۔ جنید جاذب کا افسانہ

by دانش ڈیسک 26/05/2020
written by دانش ڈیسک 26/05/2020
122

موسم میں کچھ خنکی آ گئی تھی لیکن فضا میں موجود خوف و ہراس بدستور اپنے ابال پر تھا۔ بازار، گلیاں، سڑکیں، چوراہے، ہر جگہ وحشت برس رہی تھی۔

علاقے میں ابھی تک بیماری پھیلنے کی کوئی خبر تو نہیں تھی لیکن ڈرکا ماحول بنا ہوا تھا۔ لاک ڈاؤن واحد دستیاب ہتھیار تھا جس کا استعمال دنیا بھر میں کیا جارہا تھا تاکہ لوگوں کے کھلے عام میل جول کو ختم کر کے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا یا کم سے کم کچھ کم کیا جا سکے۔ ہر طرف کرفیو جیسا سماں تھا۔

"صاحب آگے تک لے چلو۔ ۔ ۔ ” میں نے سیلانی پولیس ناکے پر بریک لگائی تو ایک لڑکا بھاگتا ہوا گاڑی کے پاس آ گیا۔

"سر، ہو سکے تولے جاؤ اس کو، سالا صبح سے خواری کررہا ہے، اتنی بار بھگایا ہے لیکن پتہ نہیں کس مٹی کا بنا ہے، پھر آجاتا ہے۔ ڈنڈے کا بھی کوئی اثر نہیں اس پر” پولیس والے نے اس کی برائی بھی کردی اور سفارش بھی۔

گورا، دُبلا پتلا سا، آٹھ نو سالہ لڑکا ، دیکھنے میں تیز طرار سا لگتا تھا ، لیکن شاید اتنا تیز تھا نہیں۔ وہ سِمٹا سِمٹایا، بالکل چپ چاپ سا، اگلی سیٹ پر بیٹھا رہا۔

میں روا روی میں اُسے بٹھا تو لایا تھا لیکن اپنی بے وقوفی پر اب اندر اندر پچھتا بھی رہا تھا۔ احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ کسی انجان سے کوئی ربط نہ رکھا جائے۔ کیا معلوم کون کہاں کسی بیمار سے مل کر آ یا ہو اور، جانےانجانے میں، یہ سوغات آگے سب ملنے والوں میں بانٹتا چلا جارہا ہو۔

"ہاں بھئی کہاں جانا ہے تمھیں؟” دو تین کلو میٹر چلنے کے بعد میں نے قدرےبے رخی سے پوچھا۔
"صاحب آپ نے کہاں تک جانا ہے”
"مجھے تو شہر جانا ہے۔ ۔ ۔ تمھیں؟
"میں بھی شہر جاؤں گا صاحب”
"کیوں جارہے ہو شہر؟ تمھیں حالات کا اندازہ نہیں؟ ہر طرف لاک ڈاؤن ہے”
"صاحب بہت ضروری تھا۔ ماں کی دوائی ختم ہو گئی ہے۔ وہ بہت بیمار ہے”
بیماری کا نام سن کر میری چڑچڑاہٹ تشویش میں بدل گئی۔
"کیوں۔ ۔ ۔ کیا ہوا ہے”
” انھیں گھٹنوں میں درد رہتاتھا، اب بہت ہو گیا ہے۔ چل پھر بھی نہیں سکتیں”

میں نے کچھ سکھ کا سانس لیا۔ دل میں بسورتے غصے اور خفگی کا رخ اس کی بجائے اس کے ماں باپ کی طرف مڑ گیا

"کوئی اور نہیں تھا تمھارے گھر میں، کوئی بڑا ”
"نہیں صاحب بڑی بہن کو چوہدریوں کے بیل نے مار کر زخمی کردیا ہے۔ چھوٹے بھائی بہت چھوٹے ہیں”
"اور تمھارا باپ”
"وہ نہیں ہیں۔ پچھلے سال بس کاایکسیڈنٹ ہوا تھا نا، شہر سے آتے ہوئے، اس میں مارے گئے تھے” اس نے کسی تاثر کے بغیر، باہر دیکھتے ہوئے، کہا۔

میں نے سوچا جب تک آگے کہیں، کسی بہانے سے، اُسے گاڑی سے اُتار دوں، کیوں نہ اس کے ساتھ ٹائم پاس کیا جائے۔

"پڑھتے ہو؟” میں نے اسےباتوں میں لگائے رکھنے کے لئے پوچھا
"ہاں سر جی” وہ ‘ صاحب’ سے اچانک ‘سر’ پر آ گیا
"کس کلاس میں؟
"فورتھ میں سر جی”۔
” تمھیں پتہ ہے دنیا میں خطر ناک بیماری پھیل رہی ہے”

"جی سر جی، بہت خطر ناک بیماری ہے۔ انگلینڈ، نیوزی لینڈ، اٹلی سب میں پہنچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ لوگ امریکہ میں فوت ہو گئے ہیں اس کی وجہ سے” میرے لہجے میں درآئی نرمی کو بھانپ کر وہ کُھل کر بولنے لگا تھا

"واہ بھئی تم تو بڑے اپڈیٹڈ ہو”

تیزی سے دنیا کو اپنے چنگل میں کھینچتی جارہی اس بیماری نے امیر غریب، مرد عورت، چھوٹے بڑے، مشرقی مغربی، کالے گورے، سب کو دہشت زدہ کر رکھا تھا۔ اب تک لاکھوں جانیں جا چکی تھیں اور ہر گزرتا دن مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کرتا جارہا تھا۔ ایک وائرَس نے انسان کو بے بس کر کے رکھ دیا تھا۔ لڑکا کم عمر تھا لیکن اس ساری صورت حال سے آگاہ تھا۔

"امیر ملکوں میں زیادہ پھیل رہی ہے سر جی”
"اوہوں ں ں ”
” اور اس کی کوئی دوائی بھی نہیں ہے سرجی”
"یہ تمھیں کس نے بتایا”
"دادی نے بتایا سر جی”
"اچھا”
"جی سر۔ وہ کہتی ہیں یہ بیماری دوا سے نہیں دعا سے جائے گی”
"اچھا”
"وہ سب کے لئے دعا کرتی ہیں”

ہوا کچھ تیز ہو گئی تھی اور آسمان صاف ہوتا جارہاتھا۔ گھنٹہ بھر پہلے تک چاروں اور چھائے بادل اب تقریباًچھٹ چکے تھے۔ میں نے گاڑی کے شیشے اوپر چڑھا لئے۔ سڑک کے دونوں اطراف کی فضا صاف شفاف ہو گئی تھی۔ اتنی صاف کہ سامنے برف سے لدی پیر پنجال کی چوٹیاں اور ڈھلوانیں بہت واضح اور قدرے پاس نظر آرہی تھیں۔ لوگ گھروں سے باہر نکلنا مناسب سمجھتے تھے نہ محفوظ اس لئے وقفے وقفے سے اکا دکا گاڑی نظر آ جاتی تو آ جاتی، ورنہ سڑک بھی خالی تھی۔

"سر شہر میں تو بیماری نہیں آئی نا”
” ابھی تک تو نہیں”
” دادی شہر کے لئے بھی دعا کرتی ہے ”
"اچھا”

"آپ کے گھر میں کون کون ہے سرجی” وہ حد پھلانگنے لگا تھا۔ میں نے اس کی بات ان سنی کردی تو اس نے اپنی جھینپ چھپانے کے لئے اگلا سوال داغا۔

"یہ سڑک اب اچھی ہو گئی سر۔ پہلے اس میں بھی بہت کھڈے ہمارے گاؤں کی سڑک کی طرح”
"تمھارے گھر تک سڑک جاتی ہے”
"نہیں سر، سکول تک جاتی ہے۔ مکتب تک بھی ہے۔ ہمارا گھر اوپر پڑ جاتا ہے سڑک سے تھوڑا ہی دور ہے”
"سر اگر یہ بیماری رکی نہ تو کیا ہو گا” اس نے اپنی بات پر میرا کوئی ردعمل نہ پا کر پھر موضوع بدلا۔ لیکن میرے پاس اس کے اس سوال کا تو واقعی کوئی جواب نہیں تھا۔

"نہیں نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ عرصے بعد یہ بیماری بھی ختم ہو جائے گی”
"لیکن سر تب تک کتنے لوگ مر جائیں گے نا” لڑکا واقعی باتونی تھا۔
‘ہاں وہ تو ہے”

سڑک کے دونوں طرف چیڑ اور بلوط کے چھتنار پیڑوں کے ساتھ دھوپ کی اٹکھیلیاں جاری تھیں لیکن موسم میں ابھی خنکی برقرار تھی۔ شاہراہ سے متصل ایک مسجد کے پاس میں نے گاڑی روک دی۔

"نماز پڑھتے ہو؟”۔
"جی”اس نے فوراً جیب سے ایک ٹوپی نکالی اور سر پر پھیلا لی۔

میں مسجد سے نکلا تو باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔ لڑکا ابھی فارغ نہیں ہوا تھا۔ میں سیدھا گاڑی کی طرف بڑھا۔

"سر ۔ ۔ ۔ ایک منٹ رُکیں گے آپ” وہ بھاگتا ہوا آ یا۔
"کیوں بھئی پڑھ لی نماز”
"نہیں۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ ہاں پڑھ لی۔ ۔ ۔ لیکن تھوڑا سا ابھی۔ ۔ ۔ آپ رُکیں گے؟” اس کی آواز میں لجاجت تھی
"بولو کیا بات ہے۔ نماز پڑھ چکے ہو تو چلو بیٹھو گاڑی میں” حالانکہ میں اسے وہیں چھوڑ کر نکل جانا چاہتا تھا۔
"وہ تھوڑی سی دعا ابھی اور کرنا تھی مجھے۔ ۔ ۔ ۔ "وہ کچھ ہچکچاتا ہوا بولا۔
"کیوں، نماز کے بعد دعا نہیں کی”
"نہیں نہیں سر وہ۔ ۔ ۔ وہ میں نے اپنے لئے کی، آپ کے لئے بھی کی۔ ۔ ۔ پورےملک کے لئے بھی کی لیکن۔۔۔۔”
"واہ بھئی کیا بات ہے”
"نہیں وہ وہ۔ ۔ ۔ امریکہ کے لئے اور اٹلی کے لئے دعا کرنا بھول گیا۔ ۔ ۔ ابھی سب سے زیادہ بیماری وہیں پھیلی ہے نا اس لئے۔ ۔ ۔ میں کر کے آ جاؤں” اس نے پھر بڑی عاجزی سے کہا۔

نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کے انتظار میں بندھا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دوڑتا ہوا واپس آگیا اور دھیرے سے کار کا دروازہ کھول کر، سمٹتے ہوئے، میرے سامنے بیٹھ گیا۔ اس کے نوخیز چہرے پربے پناہ اطمینان تھا۔ "چلو سر” اُسے دیکھ کر، لمحہ بھر کے لئے مجھے لگا جیسے دنیا سے اس جان لیو ابیماری کاخاتمہ شروع ہو چکا ہو۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
"دانش” کیلئے احمد جاوید صاحب کے مشورے: اک جہان معنی
next post
چارلس ٹیلر کی کتاب Secular Age اور ہمارے سیکولرلائز صنم خانے — اطہر وقار

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.