تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

کورونا وائرس : حکمرانوں کی نااہلی اور میڈیا کی بے حِسی —- غازی سہیل خان

by دانش ڈیسک 24/05/2020
written by دانش ڈیسک 24/05/2020
83

کورونا وائرس نے دنیا میں ہاہا کار مچا دی ہے۔ ہندوستانی میڈیاسے مختلف طرح کی خبریں آرہی ہیں کہیں لوگ بندشوں کے بیچ شراب کی دکانوں کے باہر شراب خریدنے میں ایسے مست ہیں کہ جیسے زندگی کی بقا کے لئے جام مفت میں تقسیم کئے جا رہے ہوں۔ اور کہیں شراب نوش کرنے کے بعد نالیوں اور سڑک پہ مدہوشی کی حالت میں پڑے پیر وجواں۔ سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ کہیں مزدوروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بچوں کے ہمراہ پیدل سفر کرتے دیکھا گیا تووہیں گھر پہنچنے کے چکر میں 124سے زائدمزدور اپنی زندگی سے ہی نجات حاصل کرگئے۔ ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی فیس بک پہ گردش کر رہی ہیں جن میں غریب اور مجبور دو وقت کی روٹی کے لئے بلک بلک کے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے دُہایاں دے رہے ہیں، مریضوں اور بزرگوں نے جیسے اب جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ہو۔ چند سماجی تنظیمیں اور ادارے مخلصانہ اندازمیں قوم و ملت کی خدمت میں دن رات لگے ہوئے ہیں وہیں چند ضمیر فروش سماجی خدمت کے نام پر اپنے اپنے مفادات کی آبیاری میں مست ہو کے چہرے کا ایک عدد ماسک تھمانے کے بعد موبائل فونوں سے سیلفیاں کھینچ کے لوگوں پہ احسان جتانے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر ساری دنیا میں ریاستیں اور حکومتیں اس بیماری کے دوران عوام کی مشکلات کو دور کرنے میں ابھی تک ناکام ہوتے دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ اگراس طرح کی آفات سے پہلے ہی دنیا نے اپنی اپنی چودھراہٹ کو قائم رکھنے کی زد نہ کی ہوتی تو آج انسانیت اس طرح سے پریشان نہ ہوتی۔ اس بیماری سے شرح اموات تو خاصی کم ہیں اور آج نہیں تو کل اس بیماری سے دنیا کو نجات حاصل ہو جائے لیکن دنیا میں جو انسانیت کو اصل چلینج ہے وہ دنیا میں بم و بارود سے مرنے والوں کو بچانا ہے، شورش زدہ علاقوں میں انسانیت کے بچائو کی سبیل کرنا ہے۔

آج بھی دنیا میں اس مہلک بیماری سے زیادہ افراد سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھ رہیں ہیں وہ چاہے افغانستان میں سکھوں اور مسلمانوں پہ حملے ہوں یا عراق اور فلسطین میں انسانیت کو مٹانے کا عمل۔ اسی طرح سے برصغیر میں ایک شورش زدہ خطہِ کشمیر میں آج کی تاریخ میں بھی کورونا وائرس کی بیماری سے نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے سبب انسانیت تباہی کی اور جا رہی ہے۔ تا دم تحریر جموں کشمیر میں اس وبائی بیماری کے سبب 17؍افراد وفات پا چُکے ہیں دوسری اور رواں سال ماہ جنوری سے لے مئی تک 115سے زاید افراد گولیوں سے مارے گئے ہیں۔ جن میں سے 25؍ سے زاید فورسز اہلکار، 74؍ سے زاید عسکریت پسند اور 10؍ عام شہری تنازعہ کشمیر کی نذر ہو گئے ہیں۔

جب ہم اس تنازعہ کو انسانی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں رہتی کہ بحیثیت انسان جہاں ایک عسکریت پسند اور عام شہری کے مارے جانے بعد اُن کے لواحقین پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے وہیں ایک فورسز اہلکار کی نعش جب ہندوستان کے کسی شہر میں انکے آبائی گھر پہنچتی تو وہ بھی اُنکے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ جہاں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کے گھر اور خاندان ہوتے ہیں وہیں فورسز اہلکاروں کے بچے بھی یتیم ہو جاتے ہیں۔ یعنی سیاسی تنازعات کے بیچ بس انسان مرتے ہیں۔ کشمیر کا تنازعہ بھی بڑا پیچیدگی اختیار کر گیا ہے جہاں ایک ملک کو ایک عسکریت پسند کو مارنے کے لئے فوجیوں کے ساتھ ساتھ ہتھیار کے استعمال میں لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں وہیں اُن لوگوں کو اپنے آشیانوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جن میں یہ عسکریت پسند پناہ لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور پھر ایک ہنستا بستا گھر فناہ ہو کے یہی محتاجی کی زندگی گُزارنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔ دنیا میں اکثر یہی مشاہدے میں آیا ہے کہ مفاد پرست حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر دنیا میں انسانوں کو زندگی جینے سے محروم کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے وزیر داخلہ امیت شا نے گذشتہ برس یہ کہتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے ریاست کو دو لخت کر دیا اور یہ کہا کہ اب کشمیر میں امن آئے گا اور کشمیر میں ملی ٹنسی ختم ہو گی وغیرہ، لیکن یہ ہم سب نے دیکھ لیا کہ خصوصی پوزیشن کی منسوخی سے بھی کشمیرمیں نہ ہی ملی ٹنسی ختم ہو پائی اور نہ اس مسئلے کی وجہ سے عام شہروں کے ساتھ ساتھ فورسز اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع بند ہوا۔ بھاجپا سرکار کی جانب سے دعوی کیا گیا تھا کہ ان دفعات کی منسوخی سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے اور کشمیر میں ملی ٹنسی کی بنیادی وجہ یہی خصوصی پوزیشن تھی۔ لیکن اب جموں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو واپس لینے کا ایک سال مکمل ہونے کے قریب بھی حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں، جیسے ۵ اگست سے قبل تھے۔ گویا کسی کو انسانوں کے مرنے یا جینے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ملکی میڈیا بھی صحافتی اُصولوں کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ کشمیر میں انسانوںکے مرنے پہ اپنے اسٹیڈیوز کو میدان جنگ بنا دیا جاتا ہے، گھروں کے برباد ہونے پہ خوشیاں منائی جاتی ہیں، میڈیا کا کام تو امن اور انسانیت کی بقا، تعمیر و ترقی، مظلوموں کی آواز بن کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش ہوتی ہے، بھارتی میڈیا کا حال اس مہا ماری میں بھی قابل افسوس ہے۔ جہاں کورونا وائرس کو میڈیا اداروں کی جانب سے مذہب یعنی مسلمانوں کا لباس پہنا دیا گیا ہے وہیںدوسری طرف سے ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب میڈیا کے اس جانبدار رویہ پہ ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے کھلے عام ان کی حمایت میں آگئے اور تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف کیس درج کر کے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ وبائی بیماری کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ تاہم جب ملک کے مختلف شہروں میں شراب کی دکانوں کو کھولنے کا حکم دیا گیا تو وہاں جمع ہزاروں کی بھیڑاور سماجی دوری کے اُصولوں کی دھجیاں اُڑانے کے باوجود بھارتی میڈیا کے کیمروں میں وہ مناظر قید نہیں ہو پائے۔ مجموعی طور پہ دنیا میں سیاسی چودھریوں کو ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال اور انسانی خون کے چسکے کے سبب انسانوں کی حالت قابل رحم بن گئی ہے، اسی لئے تو ملکی عوام کودو وقت کی روٹی کے لئے ترسنا اور تڑپنا پڑتا ہے، بیماروں کو اپنے علاج کے لئے بھیک مانگنی پڑتی ہے، بچوں کو اچھی تعلیم سے محروم ہونا پرتا ہے، سماجی اور معاشی نظام تباہ ہو جانے کی کگار پہ ہے۔ دنیا کے حکمرانوں کی انسانیت کی بقا کے لئے سنجیدگی کم ہی دکھائی رہی ہے بلکہ بس انسانیت کی تباہی کے لئے تباہی کے سامان جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ سب تلخ حقائق میڈیا دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا بس ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا کام بس یہ رہ گیا ہے کہ جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ لگے۔ میں نے اپنے ایک گذشتہ مضموں میں ہندوستان میں شعبہ صحت کی حالت کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’ جہاں ایک طرف عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہرملک اپنی GDPکا 4-5% شعبہ صحت پر خرچ کرے، وہیں ہندوستان آج محض% 1.4ہی خرچ کررہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پورے ہندوستان میں سرکاری ہسپتالوں میں 7,13,986 بیڈ ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ 0.55 بیڈ ایک ہزار کی آبادی کے لئے دستیاب ہیں۔ ۔ اب اس وبائی مرض کے سبب آج ہندوستان میں 5سے 10فی صد تک کورونا کا شکار ہوئے مریضوں کو وینٹی لیٹرس کی ضرورت ہے 24مارچ کو center for disease dynamics,economics and policies کے نام کے ایک امریکی تحقیقی ادارے نے کہا ہے کہ ہندوستان میںاس بیماری سے لڑنے کے لئے آئی سی یوز اور وینٹی لیٹریس کی کمی ہے۔ اس مہا ماری میں ملک کے مختلف شہروں سے مزدروں کی گھر واپسی کے لئے انکا ہزاروں میل پیدل چلنا حکومت کی نا اہلی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ملکی میڈیا امن کی خاطر، غریبی اور بیماری کے خلاف لڑتی ملک کی تعمیر و ترقی میں رول ادا کرتا اورحکمران تعصب اور فرقہ پرستی کو چھوڑ کے انسانیت کو بچانے کا کام کرتی، بھوکھوں کے کھانے کا انتظام کرتی، گھروں کو زمین بوس کرنے کے بجائے گھروں کو تعمیر کرتی، مسائل کو فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں بلکہ حقیقی جمہوری طریقے سے حل کرتی۔ پھر کسی کا بچہ یتیم نہیں ہوتا، کسی بہن کو اپنا بھائی نہیں کھونا پڑتا، کسی بُزگ باپ اپنے سہارے کو نہ کھوتاپڑتا ملک کے کسی شہری کو اپنے بیٹے کی نعش فوجی وردی میں نہ ملتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وبائی بیماری میں میڈیا اور اقتدار کی کرسیوں پہ براجمان حکمرانوں کو چاہے کہ بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب و ذات انسانیت کو راحت کا سامان مہیا کیا جائے تاکہ انسانیت سسک سسک کہ فناہ نہ جائے۔ reneesrealm nude amateur Renee

Facebook Comments Box
AJKIOKJ&KKashmirکشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
’اگر مولانا مودودی یہی فیصلہ کرتے تو وہ بھی غلط کرتے‘۔ عبدالکریم عابد
next post
لاجواب سروس —— جاوید ملک

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.