تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترین

شیخ زہران: قرآن کے آہنگ شناس —– شریف اعوان

by دانش ڈیسک 22/05/2020
written by دانش ڈیسک 22/05/2020
96

208غالباً نومبر/ دسمبر 1986 میں مجھے شیخ عبدالحئ احمد زھران کی زیارت کا شرف حاصل ھوا۔ میں حقیقی معنوں میں external student تھا۔ اس لیے کہ میں در اصل اسلامی یونیورسٹی کا طالب علم تھا ھی نہیں۔ نیا نیا 85-CSS اور لاھور سروس اکیڈمی سے کامن ٹریننگ حاصل کر کے وزارت خارجہ جوائن کر چکا تھا۔ اسلام آباد آنے پر اسلامی یونیورسٹی میں جانا ھوا۔ میرے عزیز دوست علی احمد مہر وھیں لیکچرار تھے۔ وہ مجھے میرے جنون کے باعث شیخ کے پاس لے گئے۔ اور خصوصی اجازت دلوائی کہ میں ان کے لیکچر میں شریک ہوا کروں۔ شیخ نے تکلفاََ ایک انٹرویو بھی لیا۔ مجھ سے کچھ آیات کی تلاوت کروائی اور یہ بھی پوچھا کہ تم لوگوں (یعنی پاکستانیوں) کے پاس فلاں، فلاں (بلکہ فلاں ابن فلاں!) قاری صاحبان موجود ھیں تو یہاں کیوں آئے ھو؟ مجھے نہیں یاد کہ میں نے کیا جواب دیا۔ یا پھر کچھ جواب دیا بھی کہ نہیں۔ جب انہیں یہ پتہ چلا کہ میں اس وقت تک تقریباً تمام بڑے اساتذہء قرآت کی ریکارڈنگ اکٹھی کر چکا ھوں اور شب و روز ان کو سنتا ھوں اور الشیخ مصطفی اسماعیل المصری سے عقیدت رکھتا ھوں۔ تو شیخ فورا مجھے اپنے حلقے میں لینے پر راضی ہو گئے۔

دو ایک سال پر محیط محبت اور عقیدت کی یہ کہانی "فی نفسہا” بہت طولانی ھے۔ فارن آفس ھاسٹل اور اسلامی یونیورسٹی کے درمیان 12-10 کلومیٹر کی مارگلہ روڈ ھے، جسے میں نے روز ناپنا شروع کر دیا۔ جوانی کیا کمال کی دیوانی ھوتی ھے! میرا اسلام آباد کا قیام تھوڑا ھی تھا۔ اس دوران میں بسلسلہء تعلیم محترم قاری بزرگ شاہ الازھری کے ھاں بھی حاضر ھوتا رھا۔ جن کو شیخ بہت پسند کرتے تھے۔ یہ تحدیث نعمت کسی اور وقت کے لئے چھوڑتا ھوں۔ میرا اسلامی یونیورسٹی میں اس قدر آنا جانا ھوا کہ میرے معاصر مجھے وھیں کا طالب علم سمجھنے لگے۔

میرے پاس ایک عدد کیسٹ ریکارڈر تھا جس سے میں شیخ کے پورے پورے لیکچر ریکارڈ کر لیتا تھا۔ یہ لیکچر عمومآ ان کے دفتر ھی میں ھوتے تھے۔ مجھ سمیت کل طلبہ کی تعداد پانچ سات سے زیادہ نہ تھی۔ سبع عشرہ روایات کے عقدے لمحوں میں کھلتے تھے۔ اور ھم لوگ باگ اپنی خوش بختی پر نازاں ھوتے تھے۔

ایک دن قرآن کے آھنگ کو بیان کرتے ھوئے ھاتھ سے میز پر باقائدہ تال دینے لگے۔ میں نے فوراً "تسجیل” کی اجازت چاھی تو شیخ نے منع کر دیا۔ وہ لمحہ تاریخی تھا۔ اگر ریکارڈ ھو جاتا تو اور بھی تاریخی ھو جاتا!

ان کی قرآت ایک "کلاسیک” چیز ھوتی تھی، جو ایک سنجیدہ اور باوقار تقدیم یا "الاپ” سے شروع ھو کر آیات میں آنے والے مضامین کے مدوجذر کی پرخیال شکل پیش کرتے ھوئے ایک انتہائی فکر انگیز صورت میں ختم ھوتی تھی۔

ان کی تعلیم کا انداز بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طرح سے تھا۔ ان دنوں الشیخ عنتر سعید المسلم کا بڑا چرچا ھوا جن کی قرآت میں حد درجہ موسیقیت تھی۔ علمائے ازھر نے ان پر نیا نیا فتویٰ جاری کیا تھا کہ وہ خلاف سنت پڑھتے ھیں اور غیر ضروری بلکہ ناجائز ‘سکتہ’ کرتے ھیں۔ میں نے بچگانہ سا سوال کر دیا اور شیخ کی رائے چاھی۔ مختصراً بولے: صوتہ جمیل و ادائہ قبیح۔۔ (آواز ان کی حسین و جمیل اور ادائیگی میں نقص اور قباحت ھے)۔۔ اور سبق میں آگے بڑھ گئے۔

شیخ مصطفی اسماعیل سے ان کا تعلق قلبی تھا کہ ان ھی کے مکتبہء فکر سے تھے۔ شیخ منشاوی (محمد صدیق المنشاوی) اور ان کے بھائی (محمود صدیق المنشاوی) کو بھی بہت اچھا کہتے تھے۔ اور بس۔۔۔

شیخ زھران کی قرآت میں تدبر اور تفکر تھا۔ تحقیق کے ساتھ آگے بڑھتے تھے۔ کسی آیت یا اس کے حصے کا حق ادا کئے بغیر آگے بڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ان کو نچلی "سپتک” کے سروں پر بے مثال عبور حاصل تھا۔ کسی ایک نشست کے لئے مضمون کی مناسبت سے چند آیات کا انتخاب کرتے تھے، جس کا کسی رکوع وغیرہ کی تقسیم سے کوئ تعلق نہ ھوتا تھا۔ گویا پیراگراف کو سامنے رکھتے تھے۔ ایک داستان سرائی اور داستان گوئی کی کیفیت ھوتی تھی۔ اندرونی معنویت اور بیرونی موسیقیت کا لحاظ رکھتے تھے۔۔۔ ان کی قرآت ایک "کلاسیک” چیز ھوتی تھی، جو ایک سنجیدہ اور باوقار تقدیم یا "الاپ” سے شروع ھو کر آیات میں آنے والے مضامین کے مدوجذر کی پر خیال شکل پیش کرتے ھوئے ایک انتہائی فکر انگیز صورت میں ختم ھوتی تھی۔ یہ مروجہ اور روایتی "جواب” اور "جواب الجواب” سے بہت آگے کی چیز ھوتی تھی۔۔۔

اس فقیر کے علم میں آیا کہ شیخ 2007 میں وصال کر گئے تھے۔ جب عزیزہ نجمہ ثاقب Najma Saqib نے ان پر ایک عمدہ تحریر پوسٹ کی۔ ھماری زندگیوں میں وہ آج بھی زندہ ھیں اور لگتا ھے کہ بے تحاشہ اور بے محابہ "تدخین” کے مزے اڑا رھے ھیں۔ اور پھر وھیں پر ایک حسین آیت کے کسی حسین ٹکڑے کو ایک مصرعے کے طور اٹھاتے ھیں۔۔۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔۔۔

Facebook Comments Box
شیخ منشاویقرآن کی قراتقراقراتمحمود صدیق المنشاویمصری قاری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
وے صورتیں الہی : شیخ زہران —— نجمہ ثاقب
next post
ارطغل: سوال تو بہت ہیں —– خرم شہزاد

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.