تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ریٹائرمنٹ کی عمر اور کرسی کی محبت —- اے خالق سرگانہ

by دانش ڈیسک 14/05/2020
written by دانش ڈیسک 14/05/2020
94

یوں تو فرنیچر ہر گھر کی ضرورت ہے اور گھر کی خوبصورتی اور کمفرٹ میں اضافہ کرتا ہے لیکن فرنیچر کا ایک آئٹم ایسا ہے جس کی محبت عالمگیر ہے وہ ہے کرسی۔ کرسی یوں تو فرنیچر کا چھوٹا سا آئٹم ہے اور زیادہ آرام دہ بھی نہیں ہوتا تھا اگرچہ اب آرام دہ کرسیاں بھی آ گئی ہیں بلکہ کرسی کے اتنے ڈیزائن آ گئے ہیں کہ ہر گریڈ کے حساب سے کرسی دستیاب ہے۔ کرسی کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک دفعہ آدمی اس پر بیٹھ جائے پھر وہ کسی صورت میں اُٹھنا نہیں چاہتا ہاں اگر بڑھاپے اور کمر درد کی وجہ سے بیٹھا نہ جا سکے تو کوئی بات نہیں ایسی کرسیاں آگئی ہیں جن پر آپ لیٹ بھی سکتے ہیں۔ دستخطوں کیلئے آپ کو پشت سیدھی کرنا پڑے گی۔ بہرحال آدمی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اس کے سامنے اُس کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ کرسی کیلئے تاریخ میں جنگیں بھی ہوئیں، قتل و غارت ہوئی خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں لیکن آج کے مہذب دور میں بھی قتل نہ سہی سردھڑ کی بازی تو لگ جاتی ہے۔ دشمنیاں بن جاتی ہیں، سازشیں ہوتی ہیں اور بڑا کچھ دائو پر لگ جاتا ہے۔ بات بہت دور تک پہنچتی ہے۔

بڑی کرسی کیلئے تو کیا کچھ نہیں ہوا پھانسی تک نوبت جا پہنچی یہ تو تاریخ ہے ضمیروں کے سودے ہوئے۔ مفادات کی خریدوفروخت ہوئی، بڑے بڑے جھوٹ بولے گئے لیکن کرسی بڑی ظالم ہے کسی سے وفا نہیں کرتی پھر بھی لوگ اس پر مرے جا تے ہیں۔ اس میں تھوڑے سے عرصے کے لئے بھی جھولا جھولنا اتنا مزہ دیتا ہے کہ انسان سب کچھ اس کے لئے قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ یادش بخیر محترمہ بینظیر بھٹو اکثر تسبیح ہاتھ میں رکھتی تھیں، دشمنوں نے اُڑائی ہوئی تھی کہ وہ تسبیح پر کرسی کرسی کا ورد کرتی ہیں۔ بڑی کرسی کی قیمت بھی بڑی دینی پڑتی ہے لیکن چھوٹی سے چھوٹی کرسی کا بھی اپنا مزہ ہے کرسی پر بیٹھنے کیلئے ساٹھ سال کی عمر تو بہت تھوڑی لگتی ہے اُسی وقت تو مزہ آنے لگتا ہے اور ادھر سے ریٹائرمنٹ کا پروانہ آ جاتا ہے۔ خیر عقلمند لوگوں نے اپنے لئے ہی نہیں آنے والوں کیلئے بھی کچھ اضافی کرسیوں کا انتظام کر رکھا ہوتا ہے۔ کرسی ہونی چاہئے، جگہ یا عہدہ بدلنے پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر کسی حکومت کو ہدایت دیتا تو وہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا 75 کر دیتی لیکن موجودہ حکومت کی تو شاید مت ماری گئی ہے کہ وہ عمر کی حد گھٹا کر 58 سال کرنے کا سوچ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا ظلم ہے جسے کرسی نشین قیامت تک معاف نہیں کریں گے ویسے بھی کرسی نشین تو اپنے ساتھ جھوٹی موٹی کھلواڑ پر اُس حکومت اور اُس کے سربراہ کو مرتے دم تک معاف نہیں کرتے کیونکہ کرسی کا استحکام ہی تو اُن کی دکھتی رگ ہوتی ہے وہ بھلا کرسی کو ہلانے والے کو کیسے معاف کر سکتے ہیں۔ روایت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چین میں ہمارے ایک سفیر جو اتفاق سے جنرل تھے بار بار ملازمت میں توسیع مانگ رہے تھے جب فائل بھٹو نے دیکھی تو انہوں نے آخر ی توسیع دیتے ہوئے لکھا "Let him die in the chair” انہوں نے تو شاید طنز کا مظاہرہ کیا تھالیکن انہیں کیا پتہ کہ کرسی میں تو مرنے کا بھی مزہ اور ہے۔ (بھٹو فیملی کا ذکر محض اتفاقاً ہے کوئی اور مطلب نہ نکالا جائے۔)

کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے اِن دونوں چیزوں کا کرسی سے گہرا تعلق ہے، کرسی سے محبت تو کوئی راز نہیں اور پھر اس پہلی اور آخری محبت کیلئے جنگیں تو لڑنی پڑتی ہیں۔ ہمارے ہاں اگر فوجی حکمران آ جاتے ہیںتو اُن سے کرسی چھڑوانے میں کم از کم دس سال لگ جاتے ہیں البتہ سویلین حکمران کو ہم پانچ سال سے پہلے ہی چلتا کرتے ہیں۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ جلدازجلد کرسی سے الگ کر دیا جائے کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے کرسی سے اُن کی محبت گہری ہوتی جاتی ہے لہٰذا وقت سے پہلے یہ کام کرنے میں کرسی نشین ہی کا بھلا ہے کیونکہ اس طرح اُسے کرسی کی بے وفائی اور ناپائیداری کا احساس رہتا ہے اور جدائی کے وقت صدمہ زیادہ شدید نہیں ہوتا۔ بہرحال بہت سے تو اس صورتحال سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور اپنے لئے مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ بیوقوفی میں یہی سمجھتے ہیں کہ صرف وہی ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں آجکل بھی کرسی نشین اور اُن کے حامیوں کا یہی خیال ہے کہ وہی آخری اُمید ہیں اس کے بعد خدانخواستہ گھپ اندھیرا ہے۔ خیر قوم کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے ہمارے پاس گھپ اندھیرے کی صورت میں متبادل انتظام کی سہولت بھی موجود ہے۔ Taylor Vixxen only fun

Facebook Comments Box
ریٹائرمنٹ کی مدتعبدالخالق سرگانہکرسیمدت ملازمت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
دنیا کا پڑوس، افسردہ چراغ اور شعلہ سامانئِ دل — عزیز ابن الحسن
next post
استعانت، انسان دوستی اور وبا کا دور —-احمد جاوید

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.