تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتراجمسماجیعلم و ادبعلمیکالم

انسانی حِسّیات : ہیلن کیلر —— ترجمہ: تنزیلہ افضل

by دانش ڈیسک 08/05/2020
written by دانش ڈیسک 08/05/2020
221

(ہیلن کیلرایک امریکی لکھاری تھیں جو قوتِ گویائی اور سماعت سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ قوتِ بصارت سے بھی محروم تھیں۔ درج ذیل حصہ انکے ایک طویل مضمون ’’بینائی کے تین روز‘‘ سے لیا گیا ہے جو انہوں نے۱۹۳۳ء میں تحریر کیا)


ہم میں سے اکثر لوگ زندگی ناشکر گزاری میں ہی گزار دیتے ہیں۔ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ہمیں ایک دن مر جانا ہے لیکن عموماً ہم اس دن کو دور کے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب ہم اچھی صحت میں ہوں تو موت تقریباً ناقابلِ تصور چیز ہوتی ہے۔ ہم اسکے بارے میں خال خال ہی سوچتے ہیں۔ ہمارے سامنے دِن لا محدود تسلسل کے طور پر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا ہم اپنے غیر اہم چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگے رہتے ہیں اور زندگی کے بارے اور اپنے اس لایعنی روّیے کے بارے میں کم ہی با خبر ہوتے ہیں۔

میں نے اس بارے میں اکثر سوچا ہے کہ اگر ہر انسان اپنی ہوش کے ابتدائی سالوں میں اندھا یا بہرا ہوجائے تو یہ ایک نعمت ہو گی، اندھیرا اسے روشنی کا زیادہ معترف کر دے گا، خاموشی اسے آواز کی خوشیاں کا ادراک کروائے گی۔
بارہا میں یہ دریافت کرنے کے لیے کہ وہ کیا دیکھتی ہیںاپنی بصار ت کی صلاحیت رکھنے والی دوستوں کا امتحان لیتی ہوں۔ حال ہی میں میری ایک دوست جو جنگل کی طویل سیر سے لوٹی تھی اور مجھ سے ملنے آئی تھی، اس سے میں نے پوچھا کہ اس نے کیا مشاہدہ کیا؟ ’’کچھ خاص نہیں‘‘ اسکا جواب آیا۔ مجھے شاید بے یقینی سی ہوتی اگر میں اس سے پہلے بھی اسطرح کے جوابات کی عادی نہ ہوچکی ہوتی۔ کیونکہ بہت عرصہ پہلے سے ہی مجھے یہ یقین ہوگیا تھا کہ بینائی درحقیقت بہت کم چیزوں کو دیکھتی ہے۔

’’یہ کیسے ممکن ہے؟ ‘‘ میں نے اپنے آپ سے پوچھا، ’’کہ آپ ایک گھنٹہ درختوں کے بیچ میں سے سیر کریں اور کوئی قابلِ غور چیز نہ دیکھیں؟‘‘ میں خود جو دیکھ نہیں سکتی محض چھونے سے ہی سینکڑوں ایسی چیزیں پاتی ہوں جو میری دلچسپی کا باعث ہوں۔ میں ایک پتّے کا نازک تناسب محسوس کرتی ہوں۔ میں نقرئی سندر کے درخت کی ملائم کھال یا پھر صنوبر کی کھردری روئیں دار چھال پر محبت سے ہاتھ پھیرتی ہوں۔ موسمِ بہار میں نئی کونپلوں کی تلاش کی اُمید پر درختوں کی شاخوں کو چھوتی ہوں، جب فطرت موسمِ سرما کی نیند کے بعد جاگتی ہے تو یہ اسکی پہلے علامت ہے۔میں ایک پھول کی مسرت بخش مخملی ساخت کو محسوس کرتی اور اسکے غیر معمولی پُرپیچ انداز کو دریافت کرتی ہوں، اسطرح سے فطرت کے کچھ معجزے مجھ پر عیاں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار جب میں خوش قسمت محسوس کر رہی ہوں تو میں اپنا ہاتھ نرمی سے چھوٹے درخت پر رکھتی ہوں اور پوری محویت سے گنگناتے پرندے کی خوشگوار تھرتھراہٹ محسوس کرتی ہوں۔ میں ازحد خوشی محسوس کرتی ہوں جب ایک ننھی ندی کا ٹھنڈا پانی میری کھلی ہوئی انگلیوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔ میرے لیے صنوبر کی سوئی نما گھاس کا شاداب قالین یا نرم گھاس مہنگے ترین ایرانی غالیچے سے کہیں بڑھ کر ہے۔میرے لیے موسموں کا پُرشکوہ منظر ایک پرُجوش اور نا ختم ہونے والا سوانگ ہے، جسکے افعال میری انگلیوں کی پوروں میں سے گزرتے ہیں۔

کبھی کبھار میرا دل ان سب چیزوں کو دیکھنے کی خواہش میں تڑپتا ہے۔ اگر میں محض چھونے سے ہی اسقدرلُطف لے سکتی ہوں تو دیکھنے کی صلاحیت کے بعد کس قدر مزید خوبصورتی عیاں ہوگی! اسکے بر عکس جو لوگ بظاہر دیکھ سکتے ہیں وہ درحقیقت بہت ہی کم دیکھتے ہیں۔ رنگوں اور افعال کا مسلسل بہاؤ جو کائنات میں جاری و ساری ہے اسکو لوگ محض سطحی لیتے ہیں۔ شاید یہ انسانی فطرت ہے کہ جو چیز ہمارے پاس ہو اسکی ہم خال ہی قدر دانی کرتے ہیں اور جو چیز موجود نہ ہواسکے حصول کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن یہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے کہ اس روشن کائنات میں ہم بصارت کی نعمت کو محض اپنی آسانی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور زندگی کی خوبصورتی کی تکمیل کے لیے نہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اگر آپکو نابینا ہونے کا خطرہ ہو تو آپ اپنی آنکھوں کو ایسے استعمال کریں گے جیسے پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ آپ جو کچھ دیکھیں گے اسے عزیز رکھیں گے، آپکی آنکھ ہر اس چیز کو چھوئے گی اور قریب تر کر لے گی جو اسکی بصارت کے احاطہ میں آجائے۔ تب کم از کم آپ چیزوں کو حقیقتاً دیکھنے لگیں گے اور خوبصورتی اور دلکشی کی ایک نئی دنیا آپ کے سامنے عیاں ہو جائے گی۔

میں جو خود نابینا ہوں ان لوگوں کو جو دیکھ سکتے ہیں ایک اشارہ دے سکتی ہوں کہ اپنی آنکھوں کو ایسے استعمال کیجیے گویا کہ کل آپ بصارت سے محروم ہونے جا رہے ہیں، اور یہی طریقہ کار دیگر حسّوں پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔ آوازوں کی موسیقی کو سنیے، ایک پرندے کے گیت کو، آرکسٹرا کے تاروں کو، اسطرح سے گویا آپ کل سماعت سے محروم ہونے جا رہے ہوں۔ ہر چیز کو ایسے چھوئیں گویا کہ آنے والے کل آپکے لمس کا احساس ختم ہو جائے گا۔ پھولوں کی خوشبو کو سونگھیں، ہر لقمے کو لطف سے چکھیں، گویا آپ کبھی دوبارہ کبھی اس چیز کو سونگھ یا چکھ نہیں پائیں گے۔ہر حِس کا بہترین استعمال کیجیے۔ انبساط اور خوبصورتی کی ہر حال میں توصیف کیجیے جو کہ کائنات آپ پرعیاں کرتی ہے۔ لیکن تمام حسّوں سے زیادہ مجھے یقین ہے کہ بینائی سب سے زیادہ مسرت بخش ہوگی۔

Facebook Comments Box
3 days to seehelen kelerThree days to seeاندھا پنتین دن کی بصارتہیلن کیلر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ککو بھائی: شادی شہداء کا ایک تاریک ساز کردار — اظہر عزمی
next post
ڈائیاسپورک ادب اور ہجرت کے دکھ درد —- لالہ صحرائی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.