تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

بے گھر ہونا ——– شہزاد حنیف سجاول

by دانش ڈیسک 07/05/2020
written by دانش ڈیسک 07/05/2020
82

"دسمبر کے مہینے میں نیوبارک میں ہونا اور بے گھر ہونا کسی لعنت سے کم نہیں”۔ کرسٹوفر کو اپنے لعنتی ہونے کا کامل یقین ہو چکا تھا اسے نہیں یاد اس نے جملہ کہاں پڑھا تھا لیکن وہ اس بات پر صدقِ دل سے یقین رکھتا تھا خون جما دینے والی سردی میں رات کے چوری شدہ بن اور باسی پنیر کا نوالہ اس کے کپکپاتے ہاتھ اس کے منہ تک بمشکل پہنچا رہے تھے اس کے دانت ان کی سختی کو بمشکل چبا پاتے تھے سردی کی شدت نے انھیں بھی پتھر بنا دیا تھا۔ اس سال شائد گزشتہ سو برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ سردی پڑ رہی تھی یا بے در ہونے کے باعث اُسے محسوس ہو رہی تھی۔ اُس نے بمشکل تمام ناشتے سے فراغت پائی جو فرحت بخش نہیں بلکہ ایک انتہائی اذیت ناک عمل تھا۔ اس کے جبڑے دُکھ گئے تھے۔ پُل کی جُھری سے درآمدہ روشنی نوید تھی کہ آج سورج نکلے گا اور اس بات نے کرسٹوفر کو مسکرانے پر مجبور کردیا تھا۔ نامعلوم کس سن اور کس دن کا اخبارتھا جو اس نےاپنے سامنے ایسا پھیلا لیا تھا جیسے آج ہی کا ہو اور ابھی ابھی آیا ہو۔ کچھ دیر کے بے سود مطالعے کے بعد اس نے پتھر کی سل کے ساتھ سر ٹکا لیا اور اپنی بے دری کی وجوہات تلاش کرنے لگا۔
اُس کا بچپن کسی بھی امریکی بچے کی طرح انتہائی پُر مسرت تھا۔ اُس کے والدین اگرچہ باہم دست و گریبان رہتے تھے لیکن وہ اس سے بہت پیار کرتے تھے اسے ہر وہ شے میسر تھی جو اسے خوشی دے سکتی تھی اس کی ماں بہت محنتی عورت تھی وہ ملازمت بھی کرتی تھی اور گھر کے کام بھی کرتی تھی لیکن اس کا باپ پتا نہیں کیا کام کرتا تھا شاید کو ٹرک چلاتا تھا لیکن انتہائی کاہل اور سست الوجود شخص تھا جو گھر آ کر صرف واش روم تک جاتا تھا اس کے علاوہ اپنے کائوچ سے ہلتا بھی نہیں تھا اور ہر منٹ پر کسی نہ کسی چیز کا مطالبہ کرتا رہتا تھا اس بات پر میاں بیوی میں تُو تُکار ہوتی اور کبھی کبھی وہ ماں کو کچھ نہ کچھ مار بھی دیتا تھا لیکن کرسٹوفر کے ساتھ اس رویہ مشفقانہ تھا اس کے لیے وہ چاکلیٹ لاتا تھا کھلونے لاتا تھا اسے ویک اینڈ پر باہر گھمانے بھی لے جاتا تھا اور بالخصوں جن دنوں ڈیٹرائٹ ٹائیگرز کا میچ ہوتا اس دن تو خاص اہتمام ہوتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کرسٹوفر کے باپ کی شراب نوشی کی مقدار اور اپنی بیوی کے ساتھ جھگڑوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا کرسٹو فر کا باپ اب زیادہ وقت گھر سے باہر رہتاتھا جب گھر آتا کسی نہ کسی بات پر جھگڑا کرتا کرسٹوفر کی ماں کو مارتا پیٹتا اور چلا جاتا تھا۔ ایک دن جب باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی کرسٹوفر کی والدہ کچن میں سوپ بنا رہی تھی جب جانسن نشے میں دھت گھر آیا اور چپ چاپ ٹی وی دیکھنے لگا۔ کرسٹوفر اپنے کمرے میں کوئی گیم کھیل رہا تھا اور وہ ان دونوں کی بات چیت سے یکسر بے خبر تھا ماریہ جب کھانا بنا چکی تو اُسے لینے اس کے کمرے میں آئی تو وہ سو چکا تھا اسے نہیں معلوم کہ اصل وجہ کیا تھی جس پر دونوں میں جھگڑا ہوا جانسن کرسٹوفر کے باپ نے اس کی ماں کا گلہ اس شدت کےساتھ دبایا اور اس وقت تک دبائے رکھا جب تک کہ اس کا انتقال نہیں ہو گیا۔ نہ معلوم کب پولیس آئی جو اس کے باپ کو گرفتار کر لے لے گئی۔ یہ تو ان کی پڑوسن تھی جس نے اسے بیدار کرایا اور اپنے ساتھ لے گئی تھی اُس دن سرما کی پہلی برف باری ہوئی تھی اور وہ پہلی بار اپنے گھر سے باہر رہا تھا۔

مِشی گن سے وہ نیویارک کیسے آیا کرسٹوفر کو کچھ یاد نہیں تھا اُس گھر کا کیا بنا جس میں وہ رہتا تھا وہ اکثر سوچتا تھا لیکن نیو یارک آکر وہ بے گھر تو نہیں تھا جہاں وہ رہا کرتا تھا وہ اُس کی خالہ کا گھر تھا لیکن وہ وہاں سے کیسے نکلا کیا واقعہ پیش آیا کب آیا اسے کچھ یاد نہیں آتا تھا اور اس بات پر وہ جھنجھلا جایا کرتا تھا اور اپنے بال نوچنےلگتا تھا اس کی سانسین تیز ہو جاتی تھیں اور پھر بے بسی میں رونے لگتا تھا روتے روتے اس کی ہچکی بندھ جاتی تھی اور اس بات پر اسے مزید رونا آتا تھا کہ اسے چپ کرانے والا بھی کوئی نہیں۔ کبھی کبھی کسی خواب کی مانند اسے یاد آنے لگتا تھا وہ خود کو کسی سکول میں دیکھتا تھا کبھی کبھی اسے کچھ شناسا سے چہرے بھی دکھنے لگتے تھے لیکن وہ انھیں مکمل طور پر پہچان نہیں پاتا تھا۔ وہ دراصل شیزوفرینیا اور Dissociative Amnesia کا شکار تھا اسے آج جو کچھ یاد آتا کل بھول جاتا تھا اس کے ذہن کی سلیٹ پر یاد نام کی کوئی تحریر زیادہ دیر تک محفوظ نہ رہ سکتی تھی وہ بہت سے نفسیاتی عوارض کا شکار تھا اور کوئی اس کی دیکھ بھال کربے والا نہیں تھا۔ کوئی اسے یہ بتانے والا بھی نہیں تھا کہ وہ بیمار ہے اسے علاج کی ضرورت ہے۔ واقعی نیویارک میں ہونا بے گھر ہونا اور بیمار ہونا لعنت سے کم نہیں۔

سورج اب پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا پاس پڑوس کی عمارتوں کے شیشوں کے عکس اس کی آنکھیں چندھیا رہے تھے ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کی بلندی اسے حیرت میں ڈال دیتی تھی اور وہ سوچنے لگتا کہ جب افقی استحصال کے راستے مسدود ہونے لگے تو لوگوں نے عمودی استحصال کا راستہ پیدا کر لیا۔ خود کو اونچا کرنےکیے لیے کتنوں کو اپنے پیروں تلے دفن کردیا۔ وہ سوچنے لگتا یہ کیسی رفعت ہے جو تہذیب کو پست کر رہی ہے اقدار مٹا رہی ہے اس پر جنجھلاہٹ طاری ہونے لگتی تھی اس کا پورا وجود کپکپانے لگا تھا کچھ دیر وہ وہاں بیٹھا خود سے لڑتا رہا اور پھر وہ وہاں سے چل دیا۔ بے ارادہ قدموں سے وہ ڈگماگاتا کپکپاتا چل رہا تھا اور نہیں جانتا تھا کدھر جا رہا ہے کوریا ٹاؤن پہنچ کر وہ کچھ دیر کے لیے رک گیا اسے وہان ایک جانی پہچانی صورت نظر آئی جسے دیکھ کر وہ کافی دیر تک سوچتا رہا یہ کون ہے کیا وہ اسے جانتا ہے۔ اس نے اسے کہا دیکھ رکھا ہے۔اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا وہ جنجھلا گیا۔ وہ بار بار سر کو جھٹکتا رہا لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا پھر وہ زور زور سےسر کو جھٹکنے اور بال نوچنے لگالیکن کچھ دیر اس حالت میں گزارنے کے بعد وہ یہ بھی بھول چکا تھا کی وہ کیا یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ دیر ایک بنچ پر بیٹھے بیٹھے اسے اونگھ سی آ گئی اس کا وجود اب سورج کی گرمی سے نرم ہو رہا تھا۔ وہی شکل اسے دوبارہ دکھی۔ وہ کرسٹی تھی پچھلے دسمبر وہ اس کے گھر رہا تھا وہ صدر دروازے اور چوبی سیڑھیوں کے درمیان سوتا تھا۔ کرسٹی کوئی غیر قانونی کام کرتی تھی۔ اکثر اوقات اسے عجیب و غریب طرح کے لوگ ملنے آیا کرتے تھے۔ وہ اسے روز کھانا دیتی تھی اور بہت بے ہودہ عورت تھِی گھر میں ننگی گھومتی تھی۔ کرسٹو فر نےزیر لب اسے موٹی سی گالی دی اور پھر یاد کرنے لگا کہ ایک روز جب بارش ہو رہی تھی تو اس نے اسے گھر سے نکال دیا تھا اس لیے کہ وہ اسے آسودہ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اس نے پھر سے غلیظ گالی دی۔ اور سورج کی جانب رخ موڑ کر بیٹھ گیا۔

36th ایونیو پر چلتے چلتے وہ ناردرن بلیوارڈ تک پہینچ گیا لیکن سمتوں زاویوں اور راستوں سے بے خبر وہ نہیں جانتا تھا کہ کدھر جا رہا ہے۔ ایک جگہ وہ بیٹھ گیا اس کی سانس پھول رہی تھی اور اسے سینے میں درد بھی محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر قبل ہی اسے کسی ایک برگر کھانے کو دیا تھا وہ اس نکال کر کھانے لگا۔ بادلوں کی آنکھ مچولی شروع ہو گئ تھی مشرق سے آتی خنک ہوائیں عندیہ دے رہی تھیں رات کو پھر بارش ہو گی۔ برگر کھا چکنے کے بعد اس پر کچھ غنودگی سی طاری ہو گئی اور وہ وہیں ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے کچلنے کو شش کر رہا ہے۔ لیکن اس کے اس پاس کوئی نہیں تھا اس کے سینے میں شدید درد تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لکین گر گیا۔ دوسری بار تیسری بار لیکن چوتھی بار جب وہ گرا تو کسی نے اسے گرتے دیکھ لیا وہ نہیں جان سکا کہ کون تھا اور کیسے اسے ہاسپٹل لے گیا۔ کارڈیک اریسٹ کا شدید حملہ ہوا اور پسپا ہو گیا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ دسمبر کے مہینے میں نیویارک میں ہونا اور بے گھر ہونا کسی لعنت سے کم نہیں۔

Facebook Comments Box
افسانہبے گھرکہانی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کورونا، تخلیقی عمل اور بیگ احساس —- محمد حمید شاہد
next post
کان پھاڑ دینے والی سرگوشی —- شاہد شوقؔ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.