تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبکتابوں پر تبصرے

”جہان گم گشتہ”: نگہت سلیم کی کہانیوں کا موضوعاتی مطالعہ —- حمیرا اشفاق

by دانش ڈیسک 16/04/2020
written by دانش ڈیسک 16/04/2020
182

نگہت سلیم کی کہا نیو ں کا مجموعہ ”جہان گم گشتہ” کے عنوان سے 2017 میں الطارق پبلی کیشنز کراچی سے شائع ہوا۔ چھے افسانوں اور تین ناولٹس پر مبنی اس کتاب کا دیباچہ اردو فکشن کا معتبر حوالہ ؛خالدہ حسین نے تحریر کیا۔ کتاب کے سرورق پر ڈاکٹر شاہین مفتی اور محمد حمید شاہد جیسی علمی اور ادبی شخصیات کےمختصر اور جامع تبصرے درج ہیں۔

نگہت سلیم کی کہا نیاں اپنے مو ضوع اور کلاسیکی اسلوب بیان کی وجہ سے معاصر فکشن میں منفرد مقام رکھتی ہیں۔ افسانو ں میں زندگی اپنی اداسیو ں اور خوشیوں کے بھرپور سنگم کے ساتھ سانس لیتی نظر آتی ہے۔

افسانہ ”جشن مرگ” میں وقت کے بہاؤ کو کہا نی کار نے اگہرے مشاہدے اور فنی ندرت کے پیش کیا ہے۔ ۔ افسانے میں کہیں روزنامچے اور کہیں فلیش بیک کی تکنیک کے ذریعے مو ضوع کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ کردارو ں کو ان کے علاقائی اور ثقافتی خدوخال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ”جشن ِ مرگ”میں اساطیری حوالے بھی جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں جو کہا نی کو فلسفیا نہ مبا حث کی وجہ سےبوجھل نہیں ہو نے دیتے۔ مقامیت کا رنگ کہا نی کو زمین کے ساتھ جو ڑ کر حقیقت کے قریب کرتا ہے۔ ذیل میں افسانے کے اقتباسات ان کی فنی کمالات کے غماز ہیں:

”لوگ آخری عمر کے تحفظ کے لیے مال و منال جمع رکھتے ہیں۔ جب کہ آخر آخر میں محبت کی ضرورت رہ جاتی ہے، محبت جسے تازہ کرنے کے لیے لہو کا چھڑکاؤ ضروری ہے اور چھڑکاؤ کے لیے صحیح وقت اور صحیح مقدار کا تعین لا زمی ہے لیکن ہر کسی کی حسیات میں اتنی پیمائشوں کے آلے کہا ں مو جود ہو تے ہیں، کبھی کبھی تو انسان تا حیات محبت کرنے اور کروانے کے ہنر سے نا واقف رہتا ہے۔ بہر طور ایسے میں کہ جب آگے دیکھنا مشکل ہو جائے اور مڑ کے تکنا ہی روزوشب کا عمل بن جائے تب گزرے موسموں کے راز پانے اور پچھتاؤں کی گرہیں کھولنے میں وقت اچھا کٹتا ہے۔”
(جشن مرگ ص19)

” ہم وقت کو صرف ایک رخ سے دیکھ پا تے ہیں اور عمر بھر اس کی گنتی کرتے رہتے ہیں۔ دوسری چیز جگہ یا فاصلہ ہے جس کی حقیقت ایک ہی دائرے کے گرد چکر لگانے سے زیادہ نہیں ہیں اور پھر مادہ جس کا اندازہ ہم ناپ ناپ کے لگاتے ہیں۔ یہ اکائیاں ہمیں تھکاتی ہیں ہمارے گزرنے کا احساس دلاتی ہیں۔ دادا کہتے تھے، قدرت بہت فطین ہے، وہ اپنے تخلیقی و کیمیائی اجزائ کو بابار استعمال میں لاتی ہے، انہیں ضائع نہیں ہو نے دیتی۔ ”(جشن مرگ، ص 15)

افسانہ ”محبت اور طاعون”میں کسی بھی معاشرے کی تاریخ کے گم ہو جانے کے المیے کی طرف توجہ دلائی گئی۔ کہانی کا تارو پود مشرقی اور مغربی طرز فکر کی کشاکش، رشتوں میں محبت اور خلوص کی جگہ لیتا ہوا بیوپار، آخرکار شہر میں وبا بن کر موت کا رقص شروع کر دیتا ہے۔ کہا نی کا مرکزی کردار ”شہر بانو ” تاریخ کی استاد ہے جس کی کتابوں کی الماری میں رکھی تاریخ کی نایاب کتابیں چوہے کتر جاتے ہیں۔ شہر بانو کا باپ تاسف کا اظہار کرتے ہو ئے کہتا ہے کہ

”بیٹی!تاریخ کبھی مستند نہیں ہو تی، ہر قوم کا مؤرخ اسے اپنے نکتہ ء نگاہ اور مفاد کے پیشِ نظر تحریر کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ مؤرخوں کا ایک گروہ تاریخ کو روشن خیالی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسرا انتہا پسندی کی طرف گھسیٹ رہا ہے، جب کہ دوسرا انتہا پسندی کی طرف گھسیٹ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ بابا ! کیا ہم تاریخ کے بغیر ہیں ؟۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ اس کے شعور کے بغیر ہیں۔”
(محبت اور طاعون، ص 33)

شہر بانو کا باپ حکیم ہے جو شہر میں پھیلنی والی عجیب و غریب جان لیوا وبائی مرض کا علاج کرنے کے لیے دیسی ادویات اور شہر کو خبردار کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر تیمور اس طریقہ علاج کے بالکل مخالف اور جدید خیالات رکھنے والا نو جوان ہے۔ جو اپنے تئیں اس وباء کا علاج کرنے میں دن رات مصروف ہے۔ شہر بانو ان دونوں میں سےکسی کو نیچا نہیں دیکھنا چاہتی۔

”تیمور بھی حکیم صاحب کو دیکھتے ہی مشکی گھوڑے کی طرح بدک جاتا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اکیسویں صدی میں حکیم کا کیا کام۔ تہمور کا فلسفہ محبت شہر بانو کے فلسفہ ء محبت سے اتنا ہی مختلف جتنا مرد کا فلسفہ عورت سے مختلف ہو تا ہے۔” ( محبت اور طاعون ص:34 )

اس افسانے میں وبا کے دنوں میں رشتوں کی کھردری حقیقتوں کا کھلنا قدرے آسان مگر تلخ تجربہ ہو تا ہے۔ تقریباَدوسال پہلے لکھے گئے اس افسانے میں ایک خالص تقدیر پریقین رکھنے والے اور دوسرا سائنس کی عقلیت پسند رویوں کے حامی افراد کے مابین ہو نے والی بحثوں کو بھی مو ضوع بنایا گیا ہے۔

وہ پھیلتی ہو ئی ہوائے ہوس کو ایک وبا سے تعبیر کرتے ہو ئے لکھتی ہیں کہ

”اب پردہء تصویر پر منظر بدلنے لگے۔ ۔ ۔ ایک شہر سے دوسرا شہر، ایک ملک سے دوسرا ملک پھر ایک بر اعظم سے دوسرا بر اعظم۔ ۔ ۔ کترنیے بحر ِ منجمد شمالی سے لے کر دوسرے سرے تک پھیلے ہوئے دکھائی دینے لگے۔ ان کی ترت پھرت کے آگے زمینیں سکڑنے لگیں، بر اعظم معدوم ہو نے لگے۔” (محبت اور طاعون، ص37)

۔ ۔ ۔ ۔ جب خد ا چاہتا ہے کہ اپنی قضا و تقدیر کا نفاذ فرمائے تو ان اسبابِ شرور کی معرفت، اس کے تصور اور اس کی ارادت سے بندے کے قلب کو غافل کر دیتا ہے، پھر اسے اس کا شعور ہی نہیں رہتا، نہ کبھی اس کے ازالے کا اسے ارادہ ہی ہوتا ہے اور پھر باری تعالیٰ کی قضاء کے احکام پورے ہو جاتے ہیں۔ ۔
(محبت اور طاعون ص 36 )

”محبت اور طاعون” میں معاشرتی اقدار، تاریخ، اخلاص اور محبت سب لالچ کی وبا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یو ں ہر طرف موت کہیں سیم وزر، کہیں تیل کے کنووں اور کہیں دل کی گہرائیوں میں طاعون بن کر ناچنے لگتی ہے۔ اس موت کے ننگے ناچ پر بھی سیاست دان، میڈیا کے نمائندے اور دانش ور تماش بین بن کر حظ اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ معاصر کرونائی صورت حال میں وبا کے دنوں میں یہی رویے ہمارے تجربات اور مشاہدات کا حصہ بن رہے ہیں۔ نگہت سلیم صاحبہ نے ایک سچے فنکار کی طرح تخیل کی اعلی سطح پر جا کرہماری سماجی نفسیات اور وبا میں پیدا ہونے رد عمل کو بڑی باریکی اور تجزیاتی انداز میں تقریبا” دو سال قبل ہی پیش کر دیا تھا۔

”ماہ بے سایہ ” میں مخلص رشتو ں کو پرانے سامان کی طرح سٹور روم میں رکھ کر بھول جا نے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اور جب کبھی ان رشتوں کے وارث واپس لو ٹتے ہیں تو وقت کی دیمک انہیں چاٹ چکی ہو تی ہے

یہ ایک ایسی ماں کی داستان سناتا ہو ا افسانہ جس کو زندگی میں اپنے قریبی رشتو ں سے بے توجہی ملتی ہے۔ وہ شوہر کی بے وفائی کو اپنے علم اور قرینے کو ڈھال بنا کر سہہ لیتی ہےمگربڑھاپے کی تنہائی اس پر رشتوں کے جھوٹے بھرم کھول دیتی ہے۔ جب لاڈ سے پالے ہو ئے بیٹے اور محبت سے آغوش میں پالی ہو ئی بیٹیاں، دور دیسوں میں ترقی کے تیزی سے چڑھتے ہو ئے زینو ں پر اس کی نحیف آواز میں چھپے دکھ کو محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ لا حاصلی کے کرب کو سہتے سہتے وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے۔ کہا نی میں پرانے خطو ں کا حوالہ الفاظ اور وقت کے فلسفے کو بھی واضح کرتا ہے کہ کیسے لفظ اور اپنے زماں کا پابند ہے۔ اگر وقت گزر جائے تو لفظ بےمعنی ہو تے ہیں یا ان کی معنویت بدل جاتی ہے۔ وقت، لفظ اور معنی ایک تکون کی شکل اختیار کر جاتے ہیں جن کا متصل ہوکر محبت کے قالب بسا اوقت ناممکن سا ہو جاتا ہے۔ مناظر کے بدلنے، ہواؤں کے چلنے، خطوں کے اڑ جانے، خزاں کے موسم اور باغ کی ویرانی کو علامت بن کر قاری پر موضوع کہ تہہ در تہہ پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ رمزیت اور ابلاغ کا یہ سنگم نگہت سلیم کے فن کا خاصہ ہے۔

”کو ئلہ، بھٹی نہ راکھ ” عورت کے ساتھ معاشرتی رویو ں کی کہا نی ہے جس میں انتہائی مدلل اور حقیقت پسندانہ انداز میں گھٹن زدہ ما حول اور اس سے جڑی نفسیاتی اور سماجی الجھنو ں کو پیش کیا گیا ہے۔ اس افسانے میں دو مختلف مردانہ ذہنیتوں کاتقابل بھی نظر آتا ہے، ایک طرف مولوی عبدالرشید کا کردار ہے جو ”عورت کو بیڑیاں ڈال کر رکھتے ہیں کہ ان کے پاؤں بھاگنے کے تو کیا چلنے کے بھی قابل نہ رہیں اور شہر یار جیسے مرد۔ ۔ ۔ لمبے کانوں والے چرخ اور لگڑ بھگڑ کی طرح اپنے شکار کو بھگا بھگا کے ادھ موا کر دیتے ہیں۔ "مولوی عبدالرشید کا کردار اس انتہا پسند مفکر کی بھی نمائندگی کرتا ہے جس میں پا بندی کو ہی عورت کا مقدر بنا کر مقید کر دیا جاتا ہے۔ مگر بہتے پا نی اپنا راستہ ضرور بنا لیتے ہیں جو کبھی کبھار سیلاب بن کر شہر کے شہر برد کر دیتے ہیں۔ اسی تباہی کی کہا نی کومولوی عبدالرشید کی بیٹیوں صالحہ، صابرہ اور عفیفہ کے کرداروں کے ذریعے اپنے پورے جواز واستدلال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں ایک چوتھی عورت عبدالرشید کی مرحومہ بیوی کا کردار ہےجو بظاہر متشکل نہیں ہو تا مگر اس کی سلگتی خواہشوں کا دھواں گاہے بگاہے اٹھتا رہتا ہے۔

کہا نی کا عنوان ”کوئلہ، بھٹی نہ راکھ” اُن کرداروں کی پوری داستان بیان کرتا ہے۔ خواہشوں کی اس سلگتی بھٹی میں تپ کر نہ کو ئلہ رہتے ہیں نہ ہیرا بن پاتے ہیں۔

اسی طرح ان کا افسانہ”زنگاری”میں بھی پدرسری معاشرے میں ہو نے والے بعض جرائم کی پاداش میں خواتین کی بے حرمتی کیے جا نے کے خلاف بھرپور مزاحمت نظر آتی ہے۔ لیکن نگہت سلیم کا قلم ادبی اور صحافتی پیرائہ اظہار کا فرق خوب جانتا ہے۔ وہ اس مو ضوع کو ایسے نفاست اور پر اثر ادبی اسلوب میں پیش کرتی ہے کہ قاری موضوع کی حساسیت کو بھی سمجھتا ہے اور ادبی فن پارے کے رمز سے حظ بھی اٹھاتا ہے۔ نگہت سلیم اس افسانے کے ذریعے معاشرے کے انسانیت کوسر نگوں کرنے والے زنگار کو اپنے تئیں کھرچنے کی کو شش کرتی ہیں۔

نگہت سلیم کے افسانے فرد کے ساتھ جڑے رشتے، اس کی معاشرتی تاریخ، اس کی نفسیاتی الجھنیں اور وقت کے حصار میں قید ہونے کے المیے کو بڑی عمدگی سے سامنے لاتے ہیں۔ ان کا اسلوب انہیں قرۃ العین حیدر اور جیلانی بانو کے قبیلے کے قریب کرتا ہے۔ وہ ایک متوازن اور انفردی و اجتماعی تشخص کے حامل معاشرے کا خواب دیکھتے ہو ئے قاری کو حقیقتوں سے فرار کی بجائے سامنا کرنے کا ہنر عطا کرتی ہیں۔ ان کے ناولٹس ایک باقاعدہ تحقیق کے مقتضی ہیں تاکہ افسانہ نگار کے سیاسی اور سماجی شعور کا بھرپور انداز میں تجزیہ کیا جاسکے۔

Facebook Comments Box
اردو ادبتنقیدجہان گم گشتہنگہت سلیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ایک اور جھوٹ —- عتیق احمد کا افسانہ
next post
شمشان گھاٹ کی شام —- لالہ صحرائی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.