تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

طب میں غذا كی اہمیت اور كرونا —- محمد شاہ جہان اقبال

by دانش ڈیسک 09/04/2020
written by دانش ڈیسک 09/04/2020
100

(اس سلسہ مضامین کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجیے)


طب میں علاج کے مدارج کی ترتیب تین صورتوں پر محیط ہے۔

1۔ علاج بالتدبیر علاج با الدوا علاج بالید علاج بالتدبیر میں اسباب سته ضروریہ کو اہم گردانا جاتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ ہوا اور روشنی
2۔ ماکولات و مشروبات
3۔ حرکت و سکون بدنی
4۔ حرکت و سکون نفسیاتی
5۔ نیند وبیداری
6۔ استفراغ و احتباس-

اس وقت صرف ماکولات و مشروبات (كھانا، پینا) یعنی غذا کو زیر بحث لایا گیا ہے غذا کی اہمیت اس وقت دو چند هو جاتی ہے جب ہمارے علم میں یہ بات آجاتی ہے کہ غذا سے خون اور خون سے پورا جسم اور جسم کے تمام خلیات نشونما پاتے ہیں۔ ان پر الگ الگ بحث کا وقت نہیں ہے اس لیے اس کو کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں اور صرف خون میں موجود ایک قوت جسے قوت مدافعت كہا جاتا ہے۔ اس پر مختصر روشنی ڈال کر آگے بڑھتے ہیں تاکہ ہم امراض کے علاج میں غذا کی اہمیت سے مکمل طور پر واقف ہوجائے – میڈیکل سائنس ایمونٹی سسٹم میں دو دفاعی ہتھیاروں كا ذکر آتا ہے ایك "امیون سیل” اور دوسرے کو "پروٹین” كہتے هیں ایمون سیلز میں ‏ ایك نان سٹاپ (Non stop) سیل اور دوسرے سپیسفک سیل (specific cell)، اسی طرح پروٹین میں بھی نان سٹاپ پروٹین اور اسپیشل پروٹین ان کے افعال کی جامعیت کو جانے بغیر صرف اتنا واضح کردینا ضروری ہے کہ امیون سیل باہر سے آئے یا اندر پیدا شدہ وائرسسز یا بیكٹریز کو فنا کر دیتے ہیں۔ سپیسفك خلیے میں "ٹی خلیے” اور "بی خلیے” جو دفاع كے بعد اینٹی باڈیز بناتے ہیں جس سے انسان تندرستی کی طرف گامزن هو جاتا ہے – بعض اوقات اینٹی باڈیز بنانے میں دیر لگ سکتی ہے جیسا کہ وائرس کے امراض میں اور اس وقت کی کرونا کے مریضوں میں دیکھنے میں آیا ہے اس صورت میں ایمونٹی کو بو سٹ اپ کرنے کے لیے سپیسفك پروٹین جو ایمون سسٹم هی کا حصہ ہے اس کو بہتر رکھنا از حد ضروری ہو جاتا ہے اور وه غذا ہی سے ممکن ہے نہ کہ ادویات سے، اب تو میڈیكل سائنس بھی اس بات كو تسلیم كر چكی هے كه امیونٹی كو بہتر ركھنے كے لیے اسباب سته ضروری هیں-مگر اس وقت بات صرف ماكولات و مشروبات پہ ركھتے هیں۔

اب تھوڑا سا ذكر وائرسسز كی ساخت خصوصا كرونا كا جسم میں داخل هو كر فعل و انفعال كا جائزه ضروری هے تاكه ان امراض میں بھی غذا كی اصل اهمیت سامنے آسكے-

وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (bio-synthetic machinery) نہیں ہوتی۔ جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا۔ یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا۔ یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا۔ حرکت نہیں کر سکتا۔ وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے۔

جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا۔ یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا۔ یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا۔ حرکت نہیں کر سکتا۔ وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں۔ عمل تولید کر سکتے ہیں۔ انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا۔ وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے۔ ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے۔ وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے۔ سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے۔ ایک سے دو۔ دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے۔ اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے۔ ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں۔ ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں۔ اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں۔ ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے۔ کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے۔ ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے-اب چونکہ وائرس سیل میں پناہ لیتا ہے اور سیل کی مختلف اقسام ہیں جس میں الحاقی خلیے (connective Tissue)، عصبی خلیے (Nerves Tissue)، عضلاتی خلیے (Muscular Tissue) اور قشری (Epithilair Tissue) اور یہ سارے خلیے خون سے غذا حاصل کرتے ہیں۔ سانس، اور تولید کے عمل کو جاری رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے خوراک کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ خلیے کے لیے غذا کے بغیر عمل جاری رکھنا ممکن نہیں۔ اور غذا ہی خلیوں میں نفوذ پذیر هوسكتی ہے۔ اب اگر غذا کی مفرد اعضاء سے تطبیق کو مکمل طور پہ سمجھ لیا گیا ہو گا۔ تو وائرس کے ایک خلیہ سے دوسرے خلیے میں پھیلنے کے عمل کو غذا کے ذریعے اور غذائی ادوایات سے تلف کرنا ممکن ہو سکے گا۔ غذا کی مفرد خلیوں اور مفرد اعضاء سے تطبیقی سائنس کو ہزاروں سالوں سے انسانی جسم پہ تجربات کے بعد قلم بند کر دینا طب مفرد اعضاء کا کمال ہے۔ چونکہ کائنات کا یہ عمومی اصول ہے کہ گرمی سے سردی اور تری سے خشکی اسی طرح کھاری پن کو ترشی سے اور ترشی کو نمک سے بدلا جا سکتا ہے۔

اس صورت میں غذا كی كیفیات اور اخلاط (Essential Tissue Fluid) كے مد نظر غذائی رد و بدل سے نه صرف ایمونٹی كو بوسٹ اپ كیا جا سكتا هے بلكه وائرسسز كی ڈوپلیكیشن كو بھی روكا جا سكتا هے اور اعضاء كی سوزش اور افعال كو بھی درست كیا جا سكتا هے-

غذا اور غذائیت كا جو تجزیاتی جائزه میڈیكل سائنس نے پیش كیا هے اس كا گوشواره كچھ اس طرح هے-پروٹین، كاربوهائیڈریٹس، فیٹس، معدنی نمكیات، وٹامنز، پانی اس گوشوارے كو اگر مزید سمرائیز كیا جایے تو، آكسیجن، كاربن، نایٹروجن، هائیڈوجن اور سلفر میں بیان كرنا ممكن هے-
اس غذایی تجزیے میں كوئی عیب یا برائی نهیں هے- مگر ان كی الگ الگ تجزیے سے الله كےپیدا پھل یا سبزیوں كے كیمیایی كمپاونڈ كی درست تفهیم ممكن نهیں یا بدیگر الفاظ ان جیسا كملیمنٹ تیار كرنا انسانی بساط میں كہاں – اس طرح ان كا جزوا جزوا بیان كرنا ایك چیز اور ان كے كمپننٹ كا استعمال دوسری چیز- همارے هاں وٹامنز اور فوڈ سپلیمنٹ كا جو رواج اور رویه هے اس كا جائزه اس نكته نظر سے لینے سے بات واضح هو جاتی هے-

طب میں ماكولات و مشروبات كا نه صرف بلكه جڑی بوٹیوں كا استعمال بھی ان كی فطری حالت میں كرنے كاچلن صدیوں سے چلا آرها هے- جو فطرت كے اصولوں كے عین مطابق هے كیونكه اسی حالت میں استعمال بدن كے استحاله اور انہضام كے لیے بہتر هے، بدن خود اس قدرتی كمپاونڈ كو توڑے جس سے موثر اجزاء كے ضیاع كا خدشه ختم هو جایے- چونكه كسی بھی شے كی فطری كمبینیشن میں اس سے كے اجزاء سے كچھ زیاده هوتا هے-جس كا بدن میں ڈی كمپوز هونا نه صرف ان اجزاء كو بلكه اس كل كو بھی اپنی قوت سے انجام دے-

اس كے علاوه ایك اور ابہام كه جی سبز پتوں والی سبزیوں میں فلاں فلاں عنصر موجود، قطع نظر كه هر سبزی كے خواص و اثرات مختلف هونے كو بالائے طاق ركھ دیا جاتا هے حالانكه همارا روزانه كا تجربه بهی اس كی تصدیق كرتا هے- مگر طب اس فرق كو مٹاتی نهیں بلكه ان كو مد نظر ركھ کر غذا تجویز كرتی هے- اس بات كو آپ مختلف پروٹینز، روغنیات په بهی اپلائی كر كے دیكھے گے تب بھی آپ كو جد ید میڈیكل میں كوئی خاص تمیز نهیں نظر آئے گی- اس لیے صابر ملتانی رحمة الله نے جدید غذائی سیٹ اپ په 10 سوالات اٹهایے جو ان كی كتاب "تحیقات علاج بالغذاء” میں درج هیں-  آخر میں ایك بات كی وضاحت كر دوں جس كی طرف صابر ملتانی رحمة الله نے بھی اشارہ فرمایا ہے كه سائنس ایك علم هے، ایك طریق اور منهج هے جس كا تعلق حقائق سے هے كسی قوم یا ملك سے نهیں – اور كائنات كے اصولوں و ضوابط كو هی پیش كرنا سائنس هے- صابر ملتانی رحمة الله ایك جگه فرماتے هیں-

"حیرت كی بات یه كه جدید سائنس جس قدر ترقی كرتی جا رهی هے، انهیں مسائل كی طرف لوٹ رهی هے جن كو هزاروں سال قبل طب قدیم بیان كرتی هے”

اس اقتباس كو آج كے حالات سے جب كه كرونا كو مات دینے كے لیے قوت مدافعت اور قوت مدافعت كا دارو مدار خوراك پر کے مطالعے کو ماہرین زیرِ بحث لا رہےهیں۔

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانی

Facebook Comments Box
Coronavirusfeaturedطبغزاکورونا وایرسمحمد شاہجہان اقبال
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
احسان دانش: انقلابی امنگو ں کا مزدور شاعر (قسط اول) —- افضل رضویؔ
next post
جامعات میں تحقیق: ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد سے گفتگو

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.