111
کوئی دستک کوئی آہٹ کوئ آواز
نہیں کوئی نہیں
کوئی چہرہ کوئی مہتاب صفت
کوئی دل داری کا انداز
نہیں کچھ بھی نہیں
ایک تنہائ کی دیوار
کہ اس پار
کوئی دم ساز
نہیں کوئی نہیں
سرد پیشانی پہ چمکے نہ ستارہ نہ کرن
نہ کسی نرم ہتھیلی کا لکھا حرف دعا
نہ کوئی دست حنا
کوئی آنچل کہ گھنی دھوپ میں سایہ سا بنے
کوئی قلقاری بھرے
میرے کاندھوں پہ چڑھے
خوب ہنسے
چائے کی آدھی پیالی پہ ہزاروں باتیں
شیلف میں رکھی پرانی یادیں
چشم نم ناک میں آ بیٹھے ہیں کتنے منظر
حالت وقت نزاع
درد کی تیز لہر
سانس کی نالی کی تنگی سے نکلتا دھواں
اور اکیلا کمرہ
دوسرا کوئی نہیں
دم عیسی بھی نہیں
دست مسیحا بھی نہیں
قربتیں خواب ہوئیں
لمس اشارہ ٹھہرا
Facebook Comments Box
