تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

معیشت کا فریم ورک (2) معیشت اور عوام کا نصیب: لالہ صحرائی

by ویب ڈیسک 18/03/2017
written by ویب ڈیسک 18/03/2017
76

[معیشت کے اجزائے ترکیبی]
معاشی قوت کے اجزائے ترکیبی میں اسٹیٹ کی دولت، اسٹیٹ کا نظام، انفرادی دولت، انفرادی وسائل، قدرتی وسائل اور افرادی قوت شامل ہیں۔

[معیشت کیا ہوتی ہے]
ان اجزائے ترکیبی کی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی اجرتیں، ہرقسم کی صنعتی، زرعی و دیگر مصنوعات اور ان کی مقامی و بین الاقوامی ترسیلات یعنی تمام اقسام کی پروڈکشنز، لوکل سپلائیز، امپورٹ ایکسپورٹ، روزگار اور اشیائے صرف و تعیش کا کل سالانہ مالیتی حجم معیشت کہلاتی ہے۔

[معیشت کی سادہ سی تعریف]
کسی جغرافیائی وحدت میں موجود قوم کا ایسا کاروباری نظام جس میں سرمایہ، قدرتی وسائل، انسان کے اپنے پیدا کردہ وسائل، کسی دوسرے کے وسائل جو اس سسٹم میں لائے گئے ہوں، تمام افرادی قوت اور ان تمام فیکٹرز سے حاصل ہونے والی اجتماعی عوامی اور سرکاری آمدنی ملکی معیشت کہلاتی ہے۔

مزید آسان کرنا چاہیں تو یوں سمجھ لیں کہ مچھلی پکڑنے سے لگژری گاڑی تک، مزدور کی دیہاڑی سے لیکر پرتعیش لائف اسٹائل تک ملک کے اندر بننے والی تمام مصنوعات، باھر سے لائی جانے والی مصنوعات، انفرادی و شخصی خدمات، پروفیشنل و نان۔پروفیشنل سروسز اور اپنے پرائے کی ہر تگ ودو سے لین دین، کاروبار اور روزگار کا جو ملک گیر ماحول پیدا ہوتا ہے اس سرگرمی کو ملکی معیشت کہا جاتا ہے۔

[معیشت کا ڈرائیور]
کسی بھی معیشت کا ڈرائیور اس کا سکہ رائج الوقت ہوتا ہے، سکہ اس کا مضبوط ہوگا جس کی معیشت مضبوط ہو گی اسلئے معیشت کی پہچان سکے کی مضبوطی سے ہوتی ہے۔

قدیم دو میں جنس کے بدلے جنس دی جاتی تھی، پھر اس کی جگہ مخصوص اوزان کے قیمتی دھاتوں کے سکے معیار مقرر ہوئے، یعنی سونے اور چاندی کے سکے کی جو قیمت اس وقت موجود تھی اس کے عوض اتنی مالیت کی خریداری کرلی جاتی، یوں جنس کی خریدوفروخت جنس کے بدلے سے آزاد ہوگئی۔

سکے سے خریداری کا تصور بہت قدیم ہے تاہم مسلم دنیا نے اپنے ابتدائی سات سو سال میں اسے درہم اور دینار سے اقوام عالم میں عروج بخشا کیونکہ سکہ ہمیشہ اس کا چلتا ہے جو اپنے وقت کی سپر پاور ہو پھر اس کی جگہ بتدریج کرنسی نوٹ نے لےلی۔

[کرنسی نوٹ کی آمد]
وینس کے مشہور تاجر، سیاح و تاریخدان مارکوپولو جس نے یورپ کو سینٹرل ایشیا اور چین سے متعارف کرایا بلکہ کولمبس سمیت کئی سیاحوں کو بھی سفر کیلئے متاثر کیا وہ لکھتا ہے کہ 1275 میں چین کی یوان ڈائناسٹی کے منگول حکمران قبلائی خان کے ہاں میں نے چار چیزیں بہت عجیب دیکھیں، ڈاک کا نظام، جلنے والا پتھر یعنی کوئلہ، نہ جلنے والا کپڑا یعنی ایسبسٹوس شیٹ اور تجارت میں کاغذی رسید جس کا مطلب تھا کہ آپ جب چاہو اس رسید کے بدلے میں طلائی سکے وصول کر سکتے ہیں۔

یہ رسیدی کاغذ بعد میں، پرومائزری نوٹ یا بیان حلفی کی شکل اختیار کر گیا اور نقد ادائیگی کی جگہ بطور شخصی ضمانت استعمال ہونے لگا، مثال کے طور پر ایک تاجر کسی شہر میں اپنا مال لیکر جاتا ہے اور عبدالجبار کو مال بیچ دیتا ہے، عبدالجبار نقد ادائیگی کی بجائے اسے ایک دستاویز لکھ دیتا ہے جو اس شہر میں ہر جگہ قابل قبول ہے، پھر وہ تاجر واپسی پر اپنے شہر کیلئے کچھ اجناس عبدالغفار سے خریدتا ہے اور اسے نقد ادائیگی کی بجائے عبدالجبار کی دستاویز تھما دیتا ہے اور بقایا سکے لے کر واپس چلا آتا ہے، اب عبدالغفار اپنی رقم عبدالجبار سے جب چاہے وصول کرلے گا، یہ طریقہ سکے لینے دینے اور سنبھالنے کی نسبت قدرے آسان تھا اس لئے دن بدن مقبول ہوتا چلا گیا۔

اس کے بعد جب حکومتوں کے نظام مختلف محکموں کے ذریعے باقائدہ ڈاکومنٹڈ ہونے لگے تو یہی دستاویز مختصر ہو کر کرنسی نوٹ قرار پائی اور حکومتی ضمانت کیساتھ بین الاقوامی ٹریڈ میں بھی قابل قبول ہوگئی، اس قبولیت کی وجہ وہ ضمانت ہے جو ہر اسٹیٹ اپنے نوٹ کے صارفین کو دیتی ہے کہ ہم آپ کو بوقت تقاضا اس نوٹ کے بدلے میں سونا یا چاندی فراہم کر سکتے ہیں، یہی بات کرنسی نوٹ چھاپنے کا معیار ہے کہ جس حکومت کے پاس جتنا پریشئیس میٹل یا قیمتی دھاتیں یا سونا چاندی بوقت ضرورت بدلے میں دینے کیلئے موجود ہو وہ اتنی مالیت کے نوٹ چھاپ سکتی ہے، اسی لئے کرنسی نوٹوں پر یہ عبارت لکھی جاتی ہے کہ "حامل ہذا کو مطالبے پر ادا کرے گا” ساری دنیا اسی اصول پر نوٹ چھاپتی ہے۔

[معیشت کا حجم]
ملکی معیشت کا کل سالانہ حجم جی۔ڈی۔پی سے معلوم کیا جاتا ہے، اسی سے معیشت کے استحکام، ترقی یا تنزلی کا پتا چلتا ہے، اسی سے پتا چلتا ہے کہ مختلف حکومتی اقدامات سے کس بزنس سیکٹر میں کیا بہتری یا تنزلی آئی ہے، اور مجموعی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے، اسی چیز سے بعض دیگر تخمینہ جات یا فیوچر پرڈِکشنز بھی حاصل کی جاتی ہیں۔

[جی۔ڈی۔پی کیا ہے]
کسی ملک کی جغرافیائی حدود میں ایک سال کے اندر تیار ہونے والی تمام اشیاء کی کل مالیت کو گراس ڈومیسٹک پروڈکشن، جی۔ڈی۔پی یا کل ملکی پیداوار کہا جاتا ہے، ہر ملک اپنی معیشت کا جائزہ لینے کیلئے جی۔ڈی۔پی کو باقائدہ ریکارڈ کرتا ہے اور اعدادوشمار کو پبلک کرتا ہے، ملکی اور غیر ملکی سطح پر اسی کی بنیاد پر معیشت میں استحکام، ترقی یا تنزلی کا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔

[سیکٹر وائز جی۔ڈی۔پی]
کل ملکی پیداوار کے علاوہ سیکٹر وائز پیدا وار کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے تاکہ فورکاسٹ اور پلاننگ میں آسانی رہے نیز حکومتی پالیسوں سے سیکٹر وائز اثرات کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔

[جی۔ڈی۔پی کی ریکارڈنگ]
یہ مقدار معلوم کرنے کیلئے مختلف ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں، جن میں انفرادی، صنعتی و دیگر اداروں کی ڈیکلئیریشنز، یعنی سالانہ تجارتی گوشوارے، ریوینیو بورڈ، منسٹری آف اسٹیٹکس اور وزارت پیداوار و تجارت کے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں، تاہم جو لوگ ان۔رجسٹرڈ کام کرتے ہیں وہ ان اعداد و شمار میں شامل نہیں ہو پاتے اس لحاظ سے تیسری دنیا میں جتنی مقدار آفیشئیل جی۔ڈی۔پی کی ہوتی ہے اس کے برابر یا زیادہ مقدار کالے دھن کی بھی ہوتی ہے۔

[کالا دھن کیا چیز ہے]
بلیک منی یا کالا دھن صرف وہی نہیں جو بلیک مارکیٹنگ، اسمگلنگ اور منشیات سے کمایا جائے بلکہ اس میں وہ پیسہ بھی شامل ہے جس پر ٹیکسز ادا نہ کئے گئے ہوں، وہ تمام کاروبار جو ٹیکسیشن کے نظام میں رجسٹرڈ نہ ہوں یا جو لوگ اپنی ماہانہ تجارتی خریدوفروخت پر سیلز ٹیکس، خدمات پر سروسزٹیکس، نوکری پر سیلریز ٹیکس، جائداد کے کرایہ جات پر رینٹل ٹیکس اور سالانہ انکم پر انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے وہ بھی اسی کیٹگری میں آتے ہیں اور قانونی اعتبار سے قابل مواخذہ بھی ہیں بلکہ قومی مجرم ہیں۔

۔۔۔۔۔
اگلے چیپٹر میں معیشت کے مرکزی انڈیکیٹر جی۔ڈی۔پی کا جائزہ پیش کریں گے۔

 

مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمائیں

Facebook Comments Box
معیشت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
گنہگارآپ کے پیٹی بھائی ہیں – محمود فیاض
next post
پنجاب میں حجاب: عائشہ نور

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.