تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیصنف/ جینڈرکالم

لنڈے کی دانشوری اور عورت مارچ کی ٹوٹی جوتی ——– خرم شہزاد

by Editor Daanish 09/03/2020
written by Editor Daanish 09/03/2020
122

ایک پرانی کہانی ہے شائد آپ نے سنی ہو کہ کہیں تین حضرات بیٹھے تھے جن میں سے ایک ڈاکٹر، ایک انجنیئر اور ایک پہلوان تھا۔ ان کے سامنے ایک شخص لنگڑاتا ہوا آرہا تھا جسے دیکھ کر تینوں نے اپنے خیالات پیش کئے۔ ڈاکٹر نے اس لنگڑے شخص کو دیکھ کر کہا، مان لو کہ اس شخص کے ٹخنے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے اور اس کے پنجے کو بھی کافی نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ لنگڑا کر چل رہا ہے۔ انجنیئر صاحب نے کہا کہ نہیں دوستو مجھے لگ رہا ہے کہ سڑک کے جس طرف یہ چل رہا ہے وہاں سے سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، کچھ اونچ نیچ اور کھڈوں کی وجہ سے اس کی چال ایسی ہو گئی ہے۔ پہلوان نے دونوں سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ صادر کر دیا کہ اس کی ٹانگ کے پٹھے کھچ گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ شخص ایسے چل رہا ہے۔ ابھی اس بات پر بحث کا کوئی فیصلہ ہوتا کہ وہ شخص قریب آگیا تو تینوں نے اسے روک کر پوچھا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہوا ہے جس کی وجہ سے آپ ایسے چل رہے ہیں۔ اس شخص نے کہا جناب میری جوتی ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے میں ٹوٹی جوتی گھسیٹ کر ایسے چل رہا ہوں۔

ہمیں یہ واقعہ عورت مارچ پر مرد حضرات کی پوسٹوں کے بعد یاد آیا۔ بہت سے مرد حضرات بھی اس مارچ کے حق میں ہیں اور اس بارے وہ اپنی اپنی رائے دے رہے ہیں جو یقینا ان کا حق اور ذاتی اختیار ہے جس میں مداخلت کرنے والے ہم بھلا کون ہوتے ہیں ۔ اس وقت عورت مارچ کا چہرہ ماروی سرمد ہیں جن کا بنیادی نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے، جسے اس وقت عورت مارچ کا بنیادی ایجنڈا بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی میرا جسم میری مرضی کی مختلف تشریحات کرتے ہوئے مرد حضرات اپنی ہمدردیاں بھی عورت مارچ کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ کچھ حضرات میرا جسم میری مرضی کے الفاظ کو بدل کر میرا جسم میری ملکیت لکھتے ہیں اور پھر عقل و دانش کے دریا بہانے لگ جاتے ہیں کہ جناب اس نعرے کا مطلب ہے کہ کوئی عورت کا استحصال نہیں کر سکتا، رش میں عورتوں کے جسم کو چھونے کی کوشش نہ کرئے اور نہ اس کے سینے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی کوشش کرئے۔ شادی کے بعدوہ خاوند کی جنسی غلام نہیں ہوتی کہ جب خاوند کا دل چاہے وہ پاس چلا آئے لیکن عورت کی رضااور خوشی کے بغیر اس کے پاس آنا بھی میریٹل ریپ میں شمار کیا جائے۔ ان صاحبان سے کوئی پوچھے کہ جناب یہ سب تو مذاہب کی بنیادی تعلیمات ، ملکی قوانین اور اخلاقیات میں شامل ہے تو الگ سے میرا جسم میری ملکیت کا نعرہ لگانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا کان کو اِدھر کے بجائے اُدھر سے پکڑتے ہوئے آپ سب مذاہب کا پرچار کرنے اور ملکی قوانین پر عمل درآمد کرواتے ہوئے لوگوں کو ایک اچھا شہری بنانے کے لیے مارچ کر رہے ہیں؟ اس سوال کا مارچ کے حمایتی حضرات کے پاس کوئی جواب نہیں ۔دنیا کے کسی مذہب، کسی ملکی قانون اور کسی بھی اخلاقی معیار میں خواتین کے استحصال کی اجازت نہیں، انہیں رش میں ٹٹولنے کی اجازت نہیں اور نہ ان سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح شادی کے بعد عورت کی خوشی اور رائے کے احترام پر بھلا کس نے پابندی لگائی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ سب کچھ موجود ہونے کے باوجود ایک الگ نعرہ لگانے کی صرف اور صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ آپ نہ کسی مذہب کو مانتے ہیں، نہ کسی ملکی قانون کو اور نہ اخلاقیات کے قائل ہیں۔

اسی طرح کچھ لوگ میرا جسم میری مرضی کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ کہ سب کو اپنی اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔ ہر ایک کو دوسرے کی پرائیویسی کا خیال کرنا چاہیے اور کام کاج میں دوسروں کو پرسنل سپیس بھی دینی چاہیے تاکہ وہ اجنبیت کا شکار نہ ہوں۔ ایسے افراد سے جب پوچھا جائے کہ پرائیویسی اور پرسنل سپیس تو ذاتی باتیں ہیں۔ آپ خود ان پر عمل کریں اور اگر کوئی آپ کے حوالے سے محتاط نہیں تو اس شخص سے بات کریں، کیا یوں سڑکوں پر مارچ کرنے سے پرائیویسی مل جاتی ہے؟ خاموشی اس سوال کا بھی مقدر ہوتی ہے۔

عورت مارچ کے حمایتی اور اس میں شریک لنڈے کے فیمنسٹ عورتوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے جائیداد سے عورتوں کو محروم کئے جانے کے حوالے سے جذباتی ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ’آئی ایم فیمنسٹ‘ کا پلے کارڈ اٹھانے کے بجائے اگر یہ لوگ اپنی والدہ، بہن، بیٹی اور بیوی کے نام لکھی ہوئی جائیداد کے اسٹام پیپر لے کر شامل ہوتے تو ہمیں بات سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے میں بھی خوشی ہوتی۔ اسی طرح پاکستا ن میں ہر سال ہزاروں لڑکیاں اور خواتین ریپ ہو جاتی ہیں لیکن کسی لنڈے کے فیمنسٹ میں کبھی یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ عدالتوں اور تھانوں کے چکر کاٹنے کے لیے تیار ہوجائے اور خواتین کو ان کے حق دلانے میں اپنی واقعی سنجیدگی کا اظہار کرئے۔ چلیں اگر خود ساتھ کھڑے ہونے کی جرات نہیں تو ایسی خواتین کو مفت وکیل ہی مہیا کروا دیں جو عدالت میں ان کی عزت اتارنے کے بجائے انہیں انصاف دلانے کی کوشش کرئے لیکن ایسا فیمنسٹ آپ کو کم از کم پاکستان میں نہیں ملے گا ۔ پاکستان میں ہزاروں بچیاں سکول نہیں جاتیں لیکن کسی لنڈے کے فیمنسٹ کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ کم سے کم ایک بچی کے تعلیمی اخراجات ہی اٹھا لے ۔ اسی طرح ہزاروں بچیاں اور خواتین بھٹہ مالکان ، سرداروں، جاگیر داروں کے پاس صرف چند ہزار قرض کے عوض گروی ہو کر مزدوری کر رہی ہوتی ہیں لیکن آج تک ایک بھی بچی یا خاتون کا قرض چکانے والا سامنے نہیں آیا۔

بات بہت چھوٹی سی ہے کہ جن کے مسائل ہوتے ہیں وہ ان کے حل کے لیے کوشش کرتے ہیں لیکن جن کے مسائل نہیں ہوتے وہ ڈرامے کرتے ہیں، شور کرتے ہیں اور شو کرتے ہیں۔ کیا کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے ضروری قانون سازی کے بارے کسی نے کوئی بات کی؟ کیا جن کو رش میں ٹٹولے جانے کی تکلیف ہوتی ہے وہ ’میں آوارہ میں بد چلن‘ کا پلے کارڈ اٹھاتی ہیں؟ کیا جن کے جسم سے لوگ آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں وہ یہ کہتی ہیں کہ دوپٹہ تمہیں اتنا ہی پسند ہے تو خود پہن لو؟ کیا جنہوں نے گھر بسانے ہوتے ہیں وہ یہ کہتی ہیں کہ ’سبھی مرد پگ‘ ہوتے ہیں؟ کیا سڑکوں پر ناچنے کا اختیار مانگنے سے جائیداد میں حصہ مل جاتا ہے؟ آپ کی تاویلیں، تجزئیے اور فیصلے کہانی کے ڈاکٹر، انجنیئر اور پہلوان کی طرح جتنے مرضی مستند ہوں ، آپ کی حمایت جس قدر بھی خالص ہولیکن جب عورت مارچ کی ٹوٹی جوتی آپ کے منہ پر پڑے گی تب پتہ چلے گا کہ جی ہاں میرا جسم میری مرضی کا وہی مطلب تھا جو مارچ کرنے والوں کے اپنے ذہن میں تھا اور اس مطلب کی بہت سی وضاحت عورت مارچ کرنے والیوں کے افعال و انداز اور گفتگو سے بخوبی ہوتی رہتی ہے۔ بس اب انتظار ٹوٹی جوتی کا ہے کہ وہ کب پڑتی ہے تاکہ حمایت کرنے والوں کو آئینہ ہو سکے۔

Facebook Comments Box
featuredfeimisimFeminismKhalilir Rahman QamatMarvi sarmadwome marcWomen's Daywomen's marcwomen's rightsWomen’sآزادی نسواںاپنا کھانا خود گرم کرواپنے موزے خود تلاش کروپاکستانی عورتحقوق مرداںخلیل الرحمان قمرخیبر پختونخواہ ڈاکٹرزڈاکٹرڈاکٹرزسوشل میڈیاشعبہ صحتشوہرعورتعورت مارچعورت مارچ اور مردعورتوں کی عاداتعورتوں کے مسائلغیر ملکی ایجنڈافیمنسٹماروی سرمدمرد مارچمردوں کے حقوقمیڈیکلمیرا جسم میری مرضیمیرا زبان میری مرضی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor Daanish

دانش ڈیسک سروس

previous post
مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں؟ ——– رانا محمد آصف
next post
عورت مارچ اور دانش کی وفات ——– عامر ظہور سرگانہ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.