تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

انٹرنیشنل پورن مارکیٹ، پاکستانی لڑکیاں اور عورت مارچ: سوال اور خدشات —– فرحین شیخ

by دانش ڈیسک 06/03/2020
written by دانش ڈیسک 06/03/2020
341

لکھاری کی حیثیت سے میرا تعلق ہر شعبہ زندگی کے افراد سے رہتا ہے، چناں چہ جاننے والے کو قانونی مسئلہ درپیش ہو، طبی معاملہ یا کسی کاروباری معاملے میں مشاورت، مجھ سے رابطہ کیا اور توقع رکھی جاتی ہے کہ میرے سماجی حلقے میں کہیں نہ کہیں کام بن جائے گا۔ کچھ دن قبل میرے پاس ایک جاننے والے کا فون آیا۔ اس کو شوٹ کے لیے کچھ ماڈل لڑکیوں کی ضرورت تھی۔ پیکیج بھی اچھا خاصا تھا۔ یہ شوٹ ویسٹرن ڈریسز کی تھی اور بیرونِ ملک ہونی تھی۔ یہ ماڈل ارینج کرنا میرے بس کی بات نہ تھی سو میں نے معذرت کرلی۔ کچھ دن قبل پھر اس سے بات ہوئی تو میں نے اس بارے میں سوا ل کیا تو اس نے بتایا کہ ”بھئی پاکستانی لڑکیوں کے بہت نخرے ہیں اور کام بھی یہ اپنی مرضی اور شرائط پر کرنا چاہتی ہیں پھر معاوضہ بھی زیادہ مانگتی ہیں۔”

”نخرے کیسے؟” پوچھنے پر پتا چلا کہ ”شوٹنگ کے دوران چھوئی موئی کا پودا بنی رہتی ہیں، یہاں سے کوئی چھو نہ لے اور وہاں سے کوئی پکڑ نہ لے۔ ارے! کام تو بس کام ہوتا ہے ناں! اس میں یہ سب تو نہیں دیکھا جاتا۔ جاب کوئی بھی ہو اس میں بہت سنسیرٹی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پاکستانی لڑکیوں کے بہت مزاج ہیں بھئی۔” سامنے والے کی پوری تقریر تحمل سے سن کر میں نے کہا کہ ”بھیا، بھلا کیا ضرورت ہے پاکستانی لڑکیوں کے نخرے اٹھانے کی؟ پہلے ان کے ویزے لگواؤ، پھر یہاں سے لے کر جاؤ، لگژری ہوٹل میں ہفتے بھر کے مفت قیام طعام کا بندوبست کرو، شوٹنگ کے دوران نخرے بھی برداشت کرو؟ کیا ضرورت ہے یہ بلا اپنے سر لینے کی؟ جس ملک میں بیٹھے ہو وہاں لڑکیاں مر گئی ہیں کیا؟”

جواب ملا، ”یہ سچ ہے کہ وہاں ایک آواز پر لڑکیوں کی لائن لگ جاتی ہے، اور اتنے کم معاوضے میں کام کرنے پر تیار ہوجاتی ہیں کہ جتنی رقم کا مطالبہ ایک پاکستانی لڑکی کرتی ہے اس میں تو چار چار تھائی، کمبوڈین، ملائی، فلپائنی یا روہنگی لڑکیاں مل جاتی ہیں۔”
”تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ تمہارا پیسہ بھی بچے گا اور وقت بھی؟ انہی کو لے کر کام شروع کرو۔”
میں نے مخلصانہ مشورہ دیا تو جھٹ جواب آیا،
”مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی بیوٹی کی انٹرنیشنل مارکیٹ میں ڈیمانڈ بہت ہے؟”
میرے دماغ میں یہ بات کُھب گئی اور میں نے اس بارے میں تحقیق شروع کردی۔ اس تحقیق نے میرے ہوش اڑا دیے اور ایسے ایسے انکشافات کیے جو بعض قارئین کے لیے ہوسکتا ہے نئے نہ ہوں لیکن میرے لیے ناقابل یقین اور نئے تھے۔

ماڈلنگ اور شوٹ کے نام پر بیرون ملک جا کر کام کرنے والی پاکستانی لڑکیوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر بڑھتی جارہی ہے۔ ان ممالک میں دبئی سرفہرست ہے۔ پہلے وزٹ کے بعد ہی ان لڑکیوں کا لائف اسٹائل واضح طور پر بدلنا شروع ہوجاتا ہے۔ پاکستان آکر گھر، گاڑی، پیسہ سب کی مالکن بن جاتی ہیں۔ یہ لڑکیاں صرف ڈریسز کی شوٹ ہی نہیں کرتیں بلکہ بکنی اور نیوڈ شوٹ تک کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ مغربی دنیا، عرب ممالک اور ایشیا پیسیفک میں پاکستانی لڑکیوں کی پورن موویز کی ڈیمانڈ بھی بڑھتی جارہی ہے۔ کیا پاکستانی لڑکیاں پورن انڈسٹری میں بھی مارکیٹ بنا چکی ہیں؟ اس کا جواب بدقسمتی سے ”ہاں“ میں ہے۔ یہ انکشافات میرے لیے کسی جھٹکے سے کم نہ تھے لیکن مزید معلومات پر پتا چلا کہ زیادہ پیسے کی وجہ سے یہاں سے ماڈلنگ کے نام پر جانے والی پاکستانی لڑکیاں پورن ویڈیوز میں کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں، جس کے بدلے وہ کیش رقم تو لیتی ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ پراپرٹی اور گاڑی تک کا مطالبہ کر دیتی ہیں جو ان کو وعدے کے مطابق فراہم کیا جاتا ہے۔

عرب مالک میں پاکستانی لڑکیوں کی مارکیٹ بڑھتی جارہی ہے، جن میں زیادہ تر لڑکیوں اور عورتوں کا تعلق پنجاب کے چھوٹے شہروں سے ہے۔ یہ نہ صرف پورن فلموں میں کام کرتی ہیں بلکہ سیکس ورکر کے طور پر بھی مامور کی جاتی ہیں۔ ان لڑکیوں کا تعلق بہت عام سے گھرانوں سے ہوتا ہے، فیملی بیک گراونڈ بھی عموماً دیہات کا ہوتا ہے لیکن یہ لڑکیاں بیرونِ ملک کے ایک دو وزٹ کے بعد ہی اس قدر گرومڈ ہوچکی ہوتی ہیں کہ ان کو پہلی نظر میں دیکھنے پر کسی اداکارہ یا ماڈل کا گمان ہوتا ہے۔ بیرون ملک پاکستانی لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ نے پیسے کی لالچ میں اس انڈسٹری کی طرف پاکستانی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کو جھونک دیا ہے۔ یہ لڑکیاں اغواشدہ نہیں ہوتیں نہ انہیں جبراً لے جایا جاتا ہے بلکہ یہ اپنی مرضی سے جاتی ہیں۔ ان میں دیہات اور شہر سب جگہ کی لڑکیاں شامل ہیں۔ کام کرنے والی ایک لڑکی ہی دوسری لڑکی کے لیے رابطے کا ذریعہ بنتی ہے، جو عموماً اس کی کوئی سہیلی، جاننے والی یا پھر رشتے دار ہوتی ہے۔ اس رابطے کے بدلے وہ اچھا خاصا کمیشن وصول کرتی ہے۔ نئی لڑکی کو یہاں سے لے جانے سے لے کر کام پر لگانے تک کا سارا عمل وہاں موجود دلالوں کے ہاتھوں پورا ہوتا ہے۔ یہ دلال ان لڑکیوں کو مکمل سہولیات فراہم کرتے ہیں، سودے کرواتے ہیں اور پھر انہی کی کمائی پر پلتے بھی ہیں۔ ویزوں سمیت بہت سے قانونی مسئلے حل ہونے تک یہ دلالوں کے ہاتھوں میں کھیلتی ہیں اور اس کے بعد اسی راستے پر تعلقات بنا کر اونچی اڑان بھر جاتی ہیں۔

”دبئی اس وقت پاکستانی لڑکیوں کا سب سے بڑا گڑھ بن چکا ہے۔” تحقیق کے دوران یہ جملہ میری سماعت سے گزرا تو میں نے کتنی ہی بار اکیلے میں دہرا کر خود کو یقین دلانے کی کوشش کی اور ہر بار یقین کی سرحد کے پاس تھک کر گر پڑی۔ لیکن پھر ماننا پڑا کہ یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔ دبئی میں ہونے والے ایونٹس میں پاکستانی لڑکیوں کو آن ڈیمانڈ بلوایا جاتا ہے۔ یہ لڑکیاں وزٹ ویزے پر جاتی ہیں اور وہاں کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں مقیم مہمانوں کی ’خدمت‘ پر مامور کر دی جاتی ہیں۔ ان لڑکیوں کو درہم کی صورت میں بھاری معاوضے ملتے ہیں تو انہیں اس کا چسکا لگ جاتا ہے اور یہ خود اگلے ایونٹ کے انتظار میں دن گننے لگتی ہیں۔ صرف ایونٹس ہی نہیں بلکہ دنیا کے مشہور سیاحتی مقامات پر پاکستانی لڑکیوں کی طلب بھی بہت زیادہ ہے، جہاں یہ نہ صرف غیرملکی مردوں کے لیے تسکین کا سامان ہیں بلکہ خود پاکستانی مرد سیاحوں کے لیے بھی پرکشش ہوتی ہیں۔ کرونا وائرس نے چینی لڑکیوں کو انٹرنیشنل سیکس مارکیٹ سے بالکل باہر دھکیل دیا ہے، اس خلا کو پاکستانی لڑکیوں کے ذریعے پر کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے۔

اس بھیانک حقیقت کے باوجود یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ایک عام عورت اب بھی محفوظ ہے۔

ان سب کارگزاریوں کی اجازت پاکستان کا قانون نہیں دیتا۔ یہ ایک بڑا جرم ہے۔ لیکن اس کو دھڑلے سے بالکل ایسے ہی انجام دیا جارہا ہے جیسے پاکستان میں دیگر جرائم کو۔ جی ہاں، یعنی با اثر افراد کی سرپرستی میں۔ اس چَین میں شامل یہ بااثر افراد ایسے ہی نامعلوم ہیں جیسے ماضی میں کراچی کو بوری بند لاشوں کی وحشت سے سجانے والے افراد نامعلوم تھے۔

اس بھیانک حقیقت کے باوجود یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں ایک عام عورت اب بھی محفوظ ہے۔ یہاں راہ چلتا کوئی مرد آج بھی کسی عورت کو ہاتھ لگانے کی جرا ¿ت نہیں کر سکتا۔ انٹرنیشنل سیکس مارکیٹ میں جگہ بنانے والی پاکستانی لڑکیوں نے بنا جبر اپنی مرضی سے اس راستے کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان میں اب بھی ایک عام عورت کے ساتھ اگر کوئی ظلم ہوتا ہے تو پورا معاشرہ اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ انصاف کے لیے آوازیں اٹھتی ہیں اور قانون بھی ساتھ دیتا ہے۔

اس پوری تحقیق میں دو جملے مجھے بری طرح کاٹتے رہے اور میں ان دو جملوں کا آپس میں ربط جوڑتی رہی۔ پہلا یہ کہ ”پاکستانی لڑکیاں تو چھوئی موئی کا پودا بنی رہتی ہیں، بہت نخرے دکھاتی ہیں، ہاتھ لگانے نہیں دیتیں۔” دوسرا یہ ”انٹرنیشنل سیکس مارکیٹ میں پاکستانی لڑکیوں کی ڈیمانڈ بڑھتی جارہی ہے۔” ان دو جملوں کا ربط جوڑنے میں میرے ذہن میں بس ایک نعرے کی گونج رہی ”میرا جسم میری مرضی۔” ظلم تو عورت پر پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ امریکا سے لے کر بھارت، چین سے لے کر سعودی عرب، عورت پر سانحات تو ہر طرف بیت رہے ہیں بس وہاں کہانیاں دبا دی جاتی ہیں یا ہم تک پہنچ نہیں پاتیں۔ اس کے باوجود کہیں عورتیں ایسے مطالبات لیے سڑکوں پر نہیں نکلتیں، کیوں کہ عورت کے ساتھ ہونے والے جرائم کا تعلق معاشرتی اقدار سے نہیں بلکہ بیمار ذہنیت اور مریض نفسیات سے ہے اور یہ بیمار مرد دنیا کے ہر معاشرے میں موجود ہیں، جن کی حمایت کوئی معاشرہ نہیں کرتا الٹا ان کے لیے سزائیں مقرر ہیں۔ میں اس بات کو اب بھی پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان میں عورت جس قدر محفوظ ہے اس کی مثال دنیا کے بہت کم معاشروں میں ملتی ہے۔

پھر بھی اگر یہاں ضرورت پڑتی ہے کہ عورت کی آزادی کے لیے تحریک چلائی جائے اورکھلے ڈلے نعروں سے سجے بینر ہاتھوں میں لیے مارچ کیے جائیں تو یہ کسی ایجنڈے پہ کام ہورہا ہے یا محض اتفاق؟ کیا یہ خدشہ غلط ہے کہ انٹرنیشنل پورن مارکیٹ میں پاکستانی لڑکیوں کو ان کے جسم کے معاملے میں بولڈ کرنے کے نام پر اس قدر غیرمحتاط اور بے حس بنا دیا جائے کہ اس سے آگے کچھ باقی نہ رہے؟ چھوئی موئی کا پودا نہ بنیں بلکہ اپنے کام سے ”سنسئیر” ہوں تاکہ مارکیٹ میں جلد اپنی جگہ بنا سکیں۔
 (8 مارچ کو عورت مارچ کے لیے بینر ہاتھوں میں اٹھائے نکلنے والے مرد اور خواتین سے معذرت کے ساتھ)

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ہرگز لازم نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سنو ماروی و خلیل! تم نے نقصان تو ہمارا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سحرش عثمان
یہ بھی پڑھیں: آپ بےشک فیمنسٹ نہ بنیں مگر۔۔۔ فخر عالم


Facebook Comments Box
feimisimwome marcWomen's Daywomen's rightswomens marchاپنا کھانا خود گرم کرواپنے موزے خود تلاش کروآزادی نسواںپاکستانی پورن انڈسٹریزپاکستانی پورن موویُپاکستانی سیکس ورکرزپورن موویحقوق مرداںحقوق نسواںسوشل میڈیاشوہرعورتعورت مارچغیر ملکی ایجنڈامرد مارچمردوں کے حقوقمیرا جسم میری مرضیمیرا زبان میری مرضییوم نسواں
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
آپ بےشک فیمنسٹ نہ بنیں مگر۔۔۔ فخر عالم
next post
فیمینزم ایک اعتقادی بحث —– حسیسب احمد حسیب

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.