تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینفلمکلچر، آرٹ

پاکستانی فلمیں جو ہم نے سینما ہال میں دیکھیں — اظہر عزمی

by دانش ڈیسک 01/01/2020
written by دانش ڈیسک 01/01/2020
211

ٹی وی والے گھر میں فلم دیکھنے کون کون آتا؟

(ایک اشتہاری کی باتیں)

کوئی بہت ہی بڑا عابد و زاہد ہی ہوگا جو یہ کہہ دے کہ اس نے بچپن میں کوئی فلم ہی نہیں دیکھی۔ پہلے پی ٹی وی پر اتوار کو دوپہر میں پاکستانی فلم آتی تھی جس کے لئے پہلے سے تیاریاں مکمل کر لی جاتیں۔ فوتگی کے علاوہ ہر پروگرام بعد کے لئے رکھ لیا جاتا۔ اکثر گھروں میں دوپہر کا کھانا پہلے ہی پکا لیا جاتا۔ گھر گھر ٹی وی نہیں تھا۔ اس لئے جس جس گھر میں ٹی وی ہوتا ہے۔ اس گھر کی عورتیں گھر کی اوپری صفائی پر دھیان دیتیں اور آنے والیوں کی اندورنی نظروں پر نظر رکھتیں۔

فلمیں دیکھنے کی شوقین لڑکیاں اور عورتیں جس عورت کے گھر ٹی وی ہوتا اس سے دوستی گانٹھ لیتیں۔ چھوٹے موٹے سلائی کڑھائی کے کام بھی کردیا کرتیں اور ساتھ ساتھ سنا بھی دیتیں "ارے اس گھر کو تو ہم اپنا ہی گھر سمجھتے ہیں”۔ یہ تو چھوڑیں خاندان کے وہ رشتہ دار جو مہینوں سالوں میں منہ دکھاتے وہ بھی اتوار کو نہ صرف اپنا منہ لے آتے بلکہ دوپہر کا کھانا منہ تک بھر کے تناول کرتے

جہاں ٹی وی رکھا ہوتا اس کی اتوار کے لئے وی آئی پی صفائی ہوتی۔ گھر والی صفائی کرتے ہوئے بڑبڑاتی جاتی”ایک تو شیطان کی آنت ٹی وی کیا گھر میں آیا ہے۔ روز روز کوئی نہ کوئی بہانے بہانے سے ڈرامہ دیکھنے چلا آتا ہے۔ گھر نہ ہوگیا سینما گھر ہوگیا”۔ بات صحیح تھی شام سے رات تک کوئی نہ کوئی ٹی وی والے گھر میں آدھمکتا۔ یہ میں آپ سے 70 کی دھائی کی باتیں کر رہا ہوں۔

ٹی وی والے گھر کی عورت صفائی ستھرائی کرتی تو دوسری طرف فلم دیکھنے کے لئے آنے والی بچیاں ٹافیاں، سپاریاں اور دیگر چیزیں رات یا پھر صبح صبح خرید کر رکھ لیتیں کہ فلم دیکھتے ہوئے چپکے چپکے کھائیں گے۔ سہلیاں کوشش کرتیں کہ ساتھ ساتھ بیٹھیں اور جہاں موقع ملے کھی کھی کرتی رہیں، ڈانٹ کھاتی رہیں۔ بچے اور جوانوں کے لئے نیچے سفید یا کسی اور رنگ کی چادر بچھا دی جاتی۔ بڑی عمر کے مرد و خواتین کرسیوں اور صوفہ پر براجمان ہوتے۔ ٹی وی کی گھر والی فلم سے زیادہ یہ دیکھتی کہ آنے والی عورتوں (جن میں سے دو ایک آگ لگاوا ہوتیں) میں سے کس کی نظر گھر کے کس حصہ پر ہے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ فلم کے بعد اس کے گھر کی ایک فلم چلنی ہے جس میں اس کے پھوڑپن کو فلم کی بڑی اسکرین کی طرح بڑھا چڑھا پیش کیا جائے گا۔

فلم دیکھنے بھی بڑے ڈرامے ہوتے۔ ہیروئن پر کوئی ظلم ہو رہا ہوتا تو ہیروئن سے زیادہ دیکھنے والیوں کا حال پروین شاکر کے اس مصرعہ جیسا ہوتا

اور ہم نے روتے روتے دوپٹہ بھگو لئے

اسی طرح قہقہہ بھی خوب نکلتے۔ ایسے میں چھوٹی لڑکیوں کو عورتیں چٹکیاں نوچتیں۔ اگر وہ تب بھی نہ مانتیں تو کوئی بڑی عمر کی عورت ڈانٹتے ہوئے کہتی "بڑی بے کہنے کی ہوتی جارہی ہیں یہ لڑکیاں۔ اب اگر کوئی ہنسی تو ساری بتیسی نکال کر رکھ دوں گی”۔ فلم میں اگر اس وقت کے حساب سے کوئی ایسا ویسا منظر آجاتا تو بزرگ پہلو بدلنے لگتے یا پھر کھنکھارنے لگتے۔ اب تو خیر زمانہ ہی بدل گیا جو کچھ فلموں میں اب دکھایا جا رہا ہے، اس وقت کے بزرگ ہوتے تو ٹی وی ہی توڑ دیتے۔ میں نے تو اب یہ دیکھا کہ فلم میں کوئی ایسا ویسا منظر اجائے تو بڑی عمر کے لوگ وہاں سے اٹھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ باقی تو کوئی اٹھنے کا سوچتا بھی نہیں۔ فلموں کو چھوڑیں پہلے ہم انڈیا ڈراموں کی بے حیائئ کا رونا روتے تھے۔ اپنے ڈرامے دیکھکر آپ بلاتامل کہہ سکتے ہیں۔۔۔ ہم کسی سے کم نہیں۔

یہ امتحان ہر ہفتہ ہوتا۔ کہیں نہ کہیں گھر کی صفائی ستھرائی میں کوئی کمی رہ ہی جاتی اور ٹی وی والی کو کوئی نہ کوئی کسی کا تبصرہ سنا ہی دیتی۔ بیوی شوہر سے کہتی کہ میں اتوار کے اتوار اس شو سے تنگ آگئی ہوں۔ شوہر سمجھاتا "ارے دو ڈھائی کی تو بات ہے۔ کیا لیتے ہیں۔ فلم دیکھتے اور چلے جاتے ہیں۔” بیوی کا تو پارہ چڑھ جاتا "کیا لیتے ہیں، کیامطلب؟ ارے میری جان لے لیتے ہیں۔ وہ منہ بسورتی روتی گاتی ہیروئن سے زیادہ تو میری جان عذاب میں ہوتی ہے۔ صفائی ستھرائی کرو اور پھر کسی نہ کسی کو پانی پلاتی رہو۔ اور وہ جو آپ کی چچی امی ہیں ناں۔ چائے پیئے بغیر تو جیسے فلم دیکھنا گناہ ہے۔ ان کے گھر جاو تو بھوٹے منہ پانی کا نہیں پوچھتیں۔ ۔ ۔ اور وہ منیر خالو۔ ۔ ۔ ۔ ارے شوگر کے مریض ہیں تو گھر میں بیٹھیں۔ گھڑی گھڑی پانی اور پھر واش روم۔ پانی بھی صحیح طرح نہیں بہاتے۔

دیکھیں بات شروع کی تھی فلم دیکھنے سے اور لے کے بیٹھ گیا گھروں میں فلم دیکھنے کی کہانیاں۔ ماضی کا یہی تو مسئلہ ہے بات شروع کرنا اور پھر اس کو ایک ڈگر پر رکھنا خود ایک بڑا مسئلہ ہے۔

زندگی میں پہلی فلم جو ہم نے نایاب سینما ناظم آباد میں اپنے والد اور چھوٹے بھائی بزمی کے ساتھ دیکھی وہ تھی روڈ ٹو سوات۔ یہ فلم پورے محلہ میں مشہور تھی جس میں موٹر سائیکل کے کمالات بچوں میں بڑے مقبول تھے۔ فلم اس وقت تو بہت ہلکی سی یاد ہے۔ بعد میں جب بڑے ہوئے تو ایک بار پوری فلم دیکھی کہ بچپن کا سرمایہ تھی۔ اتنا یاد ہے کہ ہم دونوں بھائی والد کے ہاتھ پکڑے جارہے ہیں۔

روڈ ٹو سوات کے اداکاروں میں کمال، نسیمہ خان، مقصود ملک (موٹر سائیکلسٹ)، ماہ پارہ، لہری اور حنیف شامل تھے۔ اس فلم کا دو گانے مجھے آج بھی یاد ہیں۔
1۔ چلے ہیں دل والے روڈ ٹو سوات
2۔ یہ ادا یہ ناز یہ انداز آپ کا دھیرے دھیرے پیار کا بہانہ بن گیا۔
یہ فلم غالبا 1970 میں ریلیز ہوئی تھی۔

یہ سینما ہال کی پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد طویل تریں وقفہ یا بندش ہی کہہ لیں۔ میٹرک کے بعد عرشی سینما (اب ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ نیچے دکانیں اور اوپر فلیٹ بن چکے ہیں) عائشہ منزل میں فلم بندش دیکھ کر یہ بندش ختم ہوئی جب والد صاحب نے کہا کہ تم اب اپنے چچا زاد (اطہر نجمی) اور ماموں زاد بھائی (فضل عباس عرف دنی) کے ساتھ فلم دیکھنے جا سکتے ہو۔ فلم بندش (ریلیز 1980) واقعی بہت اچھی، صاف ستھری فلم تھی جس کے ستارے ندیم شبنم، غیر ملکی اداکارہ ڈائینا کرسٹینا، طالش، علاوالدین اور طلعت حسین تھے۔ ڈائریکٹر نذر الاسلام تھے۔ اس فلم کے بھی دو گانے پہت مشور ہوئے۔ موسئقار روبن گھوش تھے۔

اچھا اچھا لاگو رے (نیرہ نور، اے نیر)
سونا نہ چاندی نہ کوئی محل ( اخلاق احمد)
یہ فلم لگاتار دو دن دیکھی۔

اب آتے پہلی ہندوستانی فلم جو جناب ہم نے وی سی آر پر نہیں بلکہ سینما کی سلور اسکرین پر دیکھی۔ ہندوستان کے ایک اداکار شیخ مختار تھے انہوں نے ایک وہاں ایک فلم بنائی نورجہاں، شیخ صاحب اس کے فلم کے پروڈیوسر بھی تھے وہ پاکستان آئے۔ یہاں حکومت سے بات کی اور ہندوستانی فلموں پر پابندی کے باوجود اس فلم کی خصوصی طور پر اجازت دے دی گئی۔ سلور اسکرین پر ہمارے ہوش میں پہلی ہندوستانی فلم تھی۔ مجمع ٹوٹ پڑا اور ہم بھی۔ فلم واقعی بہت شاندار تھی کیوں نہ ہوتی اس میں مینا کماری (نورجہاں) جو تھیں۔ ان کے مقابل تھے پردیپ کمار (شہزادہ جہانگیر)۔ شیر افگن کا کردار لحیم شحیم شیخ مختار نے ادا کیا تھا۔ ہندوستان میں یہ فلم 1967 میں ریلیز ہوئی۔ یہاں سالوں بعد سینما کی زینت بنی اور خوب چلی۔

اس کے بعد اطہر نجمی اور فضل عباس دنی کے ساتھ عرشی سینما ہی میں ٹینا (محمد علی، بابرہ شریف، فیصل، وسیم عباس وغیرہ) اور ہانگ کانگ کے شعلے (جاوید شیخ، بابرہ شریف، مصطفی قریشی، رنگیلا اور ادیب)۔ لیجئے جناب ! اپنے وقتوں کی کامیاب تریں فلم آئینہ کا ذکر نہ کروں تو گناہ کے زمرے میں آجاوں گا۔ مجھے بھی یہ فلم دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ آئینہ شاید پاکستان کی فلمی تاریخ میں کسی بھی ایک سینما (اسکالا) پر سب سے زیادہ عرصہ لگی رہنے والی فلم کا اعزاز رکھتی ہے۔

یقین جانیئے بس پوری زندگی یہی چند ایک فلمیں یا ایک دو انگریزی فلمیں سینما ھال میں دیکھی ہیں جو میرا خیال ہے بہت زیادہ "قابل تعریف” ریکارڈ نہیں۔ یہ میرا "اثاثہ کمتری” ہے۔ بس جو کچھ دیکھا ہے وہ سب انگلیوں پر یاد ہے۔ ہمارے زمانہ میں فلم دیکھنا ایک ایونٹ ہوا کرتا تھا۔ سینما ہال فیش شو کا منظر پیش کیا کرتے تھے۔ کچھ لڑکے اور لڑکیاں تو ہیرو ہیروئن سے زیادہ سج دھج کر آتے۔ کچھ لوگ جو فیملی کے ساتھ آتے پہلے سے بکنگ کرا لیتے۔ چھڑے چھانٹ یا لڑکوں کا گروپ فلم شروع ہونے سے پہلے آتا اور لائن میں لگ کر یا دھکم پیل سے ٹکٹ خریدتا۔ ٹکٹیں بلیک میں فروخت بھی کی جاتیں۔ ھال میں ٹکٹیں خریدنے والی لائن کو سیدھا رکھنے کے لئے اکثر سینما گھروں میں مکرانی بھائی موجود ہوتے۔ کبھی کبھی ناخوشگوار صورت حال بھی پیش آجاتی۔ 80 کی دھائی میں ملک بھر میں انڈین فلموں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ایسے میں پاکستانی فلمیں کون دیکھتا۔ شاید پاکستانی سینما کسی حد تک مقابلہ کر جاتا مگر رہی سہی کسر جنرل ضیا کے زمانے کی سخت پالیسیوں نے کردی۔

اب کراچی کا پرانا سینما کلچر ختم ہوگیا ہے۔ نئے نئے سینما ھالز بن گئے ہیں مگر ابھی تک ان سینما ھالز میں فلم دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ دیکھیں کب نصیب یاوری کرے اور کوئی پاس مل جائے۔ اپنے پلے سے تو فلم دیکھنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ ویسے بھی اب دو ڈھائی گھنٹے کی فلم دیکھنے کی ہمت بھی نہیں رہی ہے۔

یہ بھی دیکھئے: دانشِ عصر: احمد جاوید۔۔۔۔۔۔۔ (فلم، سوشل میڈیا، ٹکنالوجی اور گلوبل ولیج) گفتگو: خرم سہیل
Facebook Comments Box
featuredOld Urdu FilmsPakistani Cinemapakistani filmsاچھا اچھا لاگو رےپاکستانی فلمڈائینا کرسٹیناروڈ ٹو سواتسونا نہ چاندی نہ کوئی محلسینما کلچرطالشعائشہ منزلعلاوالدین
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اسلام یا سیکولرازم: اسلامی یونیورسٹی میں مکالمہ، ایک تبصرہ — عمر جرار
next post
کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟ — عاطف ملک

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.